بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 5722
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 5722
حدیث نمبر: 5722 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَخْبَرَنَا عَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ: كُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ: اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَالَ الْكَلِمَاتِ؟" , فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَيْهَا تَصْعَدُ حَتَّى فُتِحَتْ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ"، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , مَا تَرَكْتُهَا مُنْذُ سَمِعْتُها مِنْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وقَالَ عَوْنٌ: مَا تَرَكْتُهَا مُنْذُ سَمِعْتُهَا مِنَ ابْنِ عُمَرَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اسی دوران ایک آدمی کہنے لگا «الله اكبركبيرا والحمدلله كثيرا وسبحان الله بكرة واصيلا» نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ یہ جملے کس نے کہے ہیں؟ وہ آدمی بولا، یا رسول اللہ! میں نے کہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، میں نے ان کلمات کو اوپر چڑھتے ہوئے دیکھا، حتٰی کہ ان کے لئے آسمان کے سارے دروازے کھول دئیے گئے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے جب سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے، میں نے ان کلمات کو کبھی ترک نہیں کیا اور عون رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے جب سے یہ کلمات سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سنے ہیں، میں نے کبھی انہیں ترک نہیں کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5722]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة.
← پچھلی حدیث (5721) باب پر واپس اگلی حدیث (5723) →