عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، أَبَا الْمَلِيحِ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، أَنَّ أَبَا الْمَلِيحِ قَالَ لِأَبِي قِلَابَةَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُوكَ عَلَى ابْنِ عُمَرَ فَحَدَّثَنَا، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَأَلْقَى لَهُ وَسَادَةً مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ، وَلَمْ أَقْعُدْ عَلَيْهَا، بَقِيَتْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
خالد الخداء کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ابوالمیلح رحمہ اللہ نے ابوقلابہ رحمہ اللہ سے کہا کہ میں اور آپ کے والد سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے، انہوں نے ہمیں یہ حدیث سنائی کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں چمڑے کا تکیہ پیش کیا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، لیکن میں اس کے ساتھ ٹیک لگا کر نہیں بیٹھا اور وہ تکیہ میرے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے درمیان ہی پڑا رہا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 5710]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.