بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 7 از 60
حدیث نمبر: 14232 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، مُحَارِبٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَارِبٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ لَيْلًا أَنْ يُخَوِّنَهُمْ، أَوْ يَلْتَمِسَ عَثَرَاتِهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رات کے وقت بلا اطلاع گھر واپس آنے سے (مسافر کے لئے) منع فرمایا ہے کہ انسان ان سے خیانت کرے یا ان کی غلطیاں تلاش کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14232]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 715
الحكم: إسناده صحيح، م: 715
حدیث نمبر: 14233 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ، وَأُهْرِيقَ دَمُهُ"، قَالَ: وَسُئِلَ أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" طُولُ الْقُنُوتِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے زیادہ افضل جہاد کون سا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کا جس کے گھوڑے کے پاؤں کٹ جائیں اور اس کا اپنا خون بہہ جائے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ کون سی نماز سب سے افضل ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ لمبی نماز۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14233]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 14234 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شُعْبَةَ ، مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: اشْتَرَى مِنِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا، فَوَزَنَ لِي ثَمَنَهُ، وَأَرْجَحَ لِي، قَالَ: فَقَالَ لِي:" هَلْ صَلَّيْتَ؟ صَلِّ رَكْعَتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے میرا اونٹ خرید لیا، اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے وزن کر کے پیسے دیئے اور جھکتا ہوا تولا، اور مجھ سے فرمایا کہ کیا تم نے دو رکعتیں پڑھ لیں ہیں؟ جا کر دو رکعتیں پڑھو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14234]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2604، م: 715
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2604، م: 715
حدیث نمبر: 14235 مسند احمد
وَكِيعٌ ، مِسْعَرٌ ، مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" كَانَ لِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ، فَقَضَانِي، وَزَادَنِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر میرا کچھ قرض تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ مجھے ادا کر دیا اور زائد بھی عطاء فرمایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14235]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 443، م: 715، وانظر ماقبله
الحكم: إسناده صحيح، خ: 443، م: 715، وانظر ماقبله
حدیث نمبر: 14236 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، نُبَيْحٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ نُبَيْحٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشُونَ أَمَامَهُ إِذَا خَرَجَ، وَيَدَعُونَ ظَهْرَهُ لِلْمَلَائِكَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر تشریف لاتے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کے آگے چلا کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پشت مبارک کو فرشتوں کے لئے چھوڑ دیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14236]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14237 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدِ الْمَلِكِ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ ، عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَطَاءٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ . ح وَإِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا جَابِرُ، أَتَزَوَّجْتَ؟" قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" بِكْرًا أَوْ ثَيِّبًا؟" قَالَ: قُلْتُ: ثَيِّبًا، قَالَ:" أَلَا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا!"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُنَّ لِي أَخَوَاتٌ، فَخَشِيتُ أَنْ تَدْخُلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُنَّ، فَقَالَ:" إِنَّ الْمَرْأَةَ تُنْكَحُ لَدِينِهَا، وَمَالِهَا، وَجَمَالِهَا، فَعَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ، تَرِبَتْ يَدَاكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم نے شادی کر لی میں نے عرض کیا: جی ہاں، پوچھا کہ کنواری سے یا شوہر دیدہ سے؟ میں نے عرض کیا، شوہر دیدہ سے۔ کیونکہ میری چھوٹی بہنیں اور پھوپھیاں ہیں، میں نے ان میں ان ہی جیسی بیوقوف کو لانا مناسب نہ سمجھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ کنواری سے نکاح کیوں نہ کیا کہ تم اسے سے کھیلتے؟ پھر فرمایا کہ عورت سے نکاح اس کے دین، مال اور حسن و جمال کی وجہ سے کیا جاتا ہے، تم دین دار کو اپنے لئے منتخب کیا کرو، تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14237]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2406، م: 3636
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2406، م: 3636
حدیث نمبر: 14238 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَطَاءٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ بِالْحَجِّ،" فَأَمَرَنَا أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً"، فَضَاقَتْ بِذَلِكَ صُدُورُنَا وَكَبُرَ عَلَيْنَا، فَبَلَغَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَحِلُّوا، فَلَوْلَا الْهَدْيُ الَّذِي مَعِي، لَفَعَلْتُ مِثْلَ مَا تَفْعَلُونَ" فَفَعَلْنَا وَطِئْنَا النِّسَاءَ مَا يَفْعَلُ الْحَلَالُ، حَتَّى إِذَا كَانَ عَشِيَّةُ التَّرْوِيَةِ أَوْ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ جَعَلْنَا مَكَّةَ بِظَهْرٍ، وَلَبَّيْنَا بِالْحَجِّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ ذی الحجہ کی چار تاریخ کو گزرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ سے حج کا احرام باندھ کر روانہ ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے عمرہ کا احرام بنا لیں، اس پر ہمارے دل کچھ بوجھل ہوئے اور یہ بات ہمیں بری محسوس ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معلوم ہوا تو فرمایا کہ لوگو! احرام کھول کر حلال ہو جاؤ، اگر میں اپنے ساتھ ہدی کا جانور نہ لایا ہوتا تو وہی کرتا جو تم کر و گے، چنانچہ ہم نے ایسا ہی کیا حتیٰ کہ ہم نے اپنی عورتوں سے بھی وہی کچھ کیا جو غیر محرم کر سکتا ہے، حتیٰ تک کہ جب آٹھ ذی الحجہ کی شام یا دن ہوا تو ہم نے مکہ مکرمہ کو اپنی پشت پر رکھا اور حج کا تلبیہ پڑھ کر روانہ ہو گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14238]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، كسابقة خ: 1568، م: 1216
الحكم: إسناده صحيح، كسابقة خ: 1568، م: 1216
حدیث نمبر: 14239 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَطَاءٍ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمِينَ بِالْحَجِّ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ، وَقَالَ: فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ، جَعَلْنَا مَكَّةَ بِظَهْرٍ، ولَبَّيْنَا بِالْحَجِّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14239]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ماقبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ماقبله
حدیث نمبر: 14240 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، عَطَاءً ، جَابِرٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَابِرٌ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ، وَالزَّبِيبِ، وَالتَّمْرِ، أَنْ يُنْبَذَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور، کشمش اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14240]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5601، م: 1986
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5601، م: 1986
حدیث نمبر: 14241 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ عَجْلَانَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مِقْسَمٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مِقْسَمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ" كَانَ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ يَأْتِي قَوْمَهُ، فَيُصَلِّي بِهِمْ تِلْكَ الصَّلَاةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ابتداء نماز عشاء نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ پڑھتے تھے، پھر اپنی قوم میں جا کر انہیں وہی نماز پڑھا دیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14241]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6101، م: 465، وهذا إسناد قوي من اجل محمد بن عجلان، وانظر: 14190
الحكم: حديث صحيح، خ: 6101، م: 465، وهذا إسناد قوي من اجل محمد بن عجلان، وانظر: 14190
حدیث نمبر: 14242 مسند احمد
يَحْيَى ، عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَطَاءٌ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ، أَوْ عَجَزَ عَنْهَا، فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ وَلَا يُؤَاجِرْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کے پاس زمین ہو اسے چاہیے کہ وہ خود اس میں کھیتی باڑی کرے، اگر خود نہیں کر سکتا یا اس سے عاجز ہے تو اپنے بھائی کو ہدیہ کے طور پر دے دے، کرایہ پر نہ دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14242]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2340، م: 1536
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2340، م: 1536
حدیث نمبر: 14243 مسند احمد
يَحْيَى ، هِشَامٍ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْعُمْرَى لِمَنْ وُهِبَتْ لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عمریٰ اس کے لئے جائز ہے جس کے لئے ہبہ کیا گیا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14243]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2625، م: 1625
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2625، م: 1625
حدیث نمبر: 14244 مسند احمد
يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، مَنْصُورٍ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْأَوْعِيَةِ"، فَقَالَتْ: الْأَنْصَارُ فَلَا بُدَّ لَنَا، قَالَ:" فَلَا إِذًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مختلف برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا، تو انصار کہنے لگے کہ ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14244]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5592، وانظر تفسير الأوعية برقم: 14267
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5592، وانظر تفسير الأوعية برقم: 14267
حدیث نمبر: 14245 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، نُبَيْحٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ نُبَيْحٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَعِينُهُ فِي دَيْنٍ كَانَ عَلَى أَبِي، قَالَ: فَقَالَ:" آتِيكُمْ"، قَالَ: فَرَجَعْتُ، فَقُلْتُ لِلْمَرْأَةِ: لَا تُكَلِّمِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا تَسْأَلِيهِ، قَالَ: فَأَتَانَا، فَذَبَحْنَا لَهُ دَاجِنًا كَانَ لَنَا، فَقَالَ:" يَا جَابِرُ، كَأَنَّكُمْ عَرَفْتُمْ حُبَّنَا للَّحْمَ!"، قَالَ: فَلَمَّا خَرَجَ، قَالَتْ لَهُ الْمَرْأَةُ: صَلِّ عَلَيَّ وَعَلَى زَوْجِي أَوْ صَلِّ عَلَيْنَا، قَالَ: فَقَالَ:" اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ"، قَالَ: فَقُلْتُ لَهَا: أَلَيْسَ قَدْ نَهَيْتُكِ؟ قَالَتْ: تَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْخُلُ عَلَيْنَا، وَلَا يَدْعُو لَنَا!.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اپنے والد صاحب کے قرض کے سلسلے میں تعاون کی درخواست لے کر آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے پاس آؤں گا، میں نے واپس جا کر اپنی بیوی سے کہا کہ تم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس حوالے سے کوئی بات کرنا اور نہ ہی سوال کرنا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، تو ہم نے اپنی ایک بکری ذبح کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جابر! ایسا لگتا ہے کہ تمہیں گوشت کے ساتھ ہمارے تعلق خاطر کا پتہ لگ گیا ہے، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس جانے لگے تو میری بیوی نے کہا: یا رسول اللہ! میرے لئے اور میرے خاوند کے لئے دعاء فرما دیجیے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا فرمائی، میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ کیا میں نے تمہیں منع نہ کیا تھا؟ اس نے کہا کہ دیکھو تو سہی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائیں اور ہمارے لئے دعا نہ فرمائیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14245]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14246 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: الظُّهْرُ كَاسْمِهَا، وَالْعَصْرُ بَيْضَاءُ حَيَّةٌ، وَالْمَغْرِبُ كَاسْمِهَا، وَكُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ نَأْتِي مَنَازِلَنَا وَهِيَ عَلَى قَدْرِ مِيلٍ، فَنَرَى مَوَاقِعَ النَّبْلِ، وَكَانَ يُعَجِّلُ الْعِشَاءَ وَيُؤَخِّرُ، وَالْفَجْرُ كَاسْمِهَا، وَكَانَ يُغَلِّسُ بِهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نماز ظہر اپنے نام کی طرح ہے، نماز عصر سورج کے روشن اور تازہ دم ہونے کا نام ہے، نماز مغرب بھی اپنے نام کی طرح ہے، ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز مغرب پڑھ کر ایک میل کے فاصلے پر اپنے گھروں کو واپس لوٹتے تھے تو ہمیں تیر گرنے کی جگہ دکھائی دیتی تھی، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز عشاء کبھی جلدی اور کبھی تاخیر سے ادا فرماتے تھے، اور نماز فجر بھی اپنے نام کی طرح ہی ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز فجر منہ اندھیرے پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14246]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 14247 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَابِرٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كُنَّ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ يُؤْوِيهِنَّ، وَيَرْحَمُهُنَّ، وَيَكْفُلُهُنَّ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ الْبَتَّةَ"، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنْ كَانَتْ اثْنَتَيْنِ؟ قَالَ:" وَإِنْ كَانَتْ اثْنَتَيْنِ"، قَالَ: فَرَأَى بَعْضُ الْقَوْمِ، أَنْ لَوْ قَالُوا لَهُ: وَاحِدَةً، لَقَالَ:" وَاحِدَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کی تین بیٹیاں ہوں، جن کی رہائش، ان پر شفقت اور کفالت وہ کرتا ہو، اس کے لئے جنت یقینی طور پر واجب ہو جائے گی، کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ! اگر کسی کی دو بیٹیاں ہوں تو؟ فرمایا: پھر بھی یہی حکم ہے، بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اگر وہ ایک کے متعلق سوال کرتے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ بھی فرما دیتے کہ ایک بیٹی ہو تب بھی یہی حکم ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14247]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زید بن جدعان، لكنه قد توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زید بن جدعان، لكنه قد توبع
حدیث نمبر: 14248 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، سَيَّارٌ ، الشَّعْبِيِّ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَلَمَّا رَجَعْنَا، ذَهَبْنَا لِنَدْخُلَ، فَقَالَ:" أَمْهِلُوا حَتَّى نَدْخُلَ لَيْلًا أَيْ عِشَاءً لِكَيْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ، وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ تھے، واپسی پر جب ہم شہر میں داخل ہونے لگے تو فرمایا: ٹھہرو! رات کو شہر میں داخل ہوں گے یعنی مغرب کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جب تم رات کے وقت شہر میں داخل ہو تو بلا اطلاع، تاکہ شوہر کی غیر موجودگی والی عورت اپنے جسم سے بال صاف کر لے اور پراگندہ حال عورت بناؤ سنگھار کر لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14248]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5079، م: 715
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5079، م: 715
حدیث نمبر: 14249 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، حُصَيْنٍ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ، فَسَمَّاهُ الْقَاسِمَ، فَقُلْنَا: لَا نُكَنِّيكَ بِهِ حَتَّى نَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا لَهُ، فَقَالَ:" تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي، فَإِنَّمَا بُعِثْتُ قَاسِمًا بَيْنَكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا، انہوں نے اس کا نام قاسم رکھ دیا ہم نے ان سے کہا کہ ہم تمہیں یہ کنیت نہیں رکھنے دیں گے تاآنکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھ لیں، چنانچہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آ کر دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے نام پر اپنا نام رکھ کیا کرو، لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو کیونکہ میں تمہارے درمیان تقسیم کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14249]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6187، م: 2133، هشيم - وإن لم يصرح بالتحديث - قد توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 6187، م: 2133، هشيم - وإن لم يصرح بالتحديث - قد توبع
حدیث نمبر: 14250 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ، وَيَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک صاع سے غسل اور ایک مد سے وضو فرما لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14250]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد الهاشمي، لكنه متابع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد الهاشمي، لكنه متابع
حدیث نمبر: 14251 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، سَيَّارٌ ، أَبِي هُبَيْرَةَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ ، عَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَاشْتَرَى مِنِّي بَعِيرًا، فَجَعَلَ لِي ظَهْرَهُ حَتَّى أَقْدَمَ الْمَدِينَةَ، فَلَمَّا قَدِمْتُ، أَتَيْتُهُ بِالْبَعِيرِ، فَدَفَعْتُهُ إِلَيْهِ،" وَأَمَرَ لِي بِالثَّمَنِ"، ثُمَّ انْصَرَفْتُ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ لَحِقَنِي، قَالَ: قُلْتُ لعلَّه: قَدْ بَدَا لَهُ، قَالَ: فَلَمَّا أَتَيْتُهُ، دَفَعَ إِلَيَّ الْبَعِيرَ، وَقَالَ:" هُوَ لَكَ" فَمَرَرْتُ بِرَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ، فَأَخْبَرْتُهُ، قَالَ: فَجَعَلَ يَعْجَبُ، قَالَ: فَقَالَ: اشْتَرَى مِنْكَ الْبَعِيرَ، وَدَفَعَ إِلَيْكَ الثَّمَنَ، وَوَهَبَهُ لَكَ؟! قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے میرا اونٹ خرید لیا، اور مجھے مدینہ منورہ تک اس پر سواری کی اجازت دے دی، مدینہ واپسی کے بعد میں وہ اونٹ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا، اور اونٹ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے قیمت ادا کر دی اور میں واپس ہو گیا، راستے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دوبارہ مجھے آ ملے میں نے سوچا کہ شاید آپ کی رائے بدل گئی ہے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ اونٹ میرے حوالے کر کے فرمایا کہ یہ بھی تمہارا ہوا، اتفاقاً میرا گزر ایک یہودی کے پاس سے ہوا، میں نے اسے یہ واقعہ بتایا تو وہ تعجب کرنے لگا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تم سے اونٹ خریدا، پھر اس کی قیمت بھی دے دی اور وہ اونٹ بھی تمہیں ہبہ کر دیا؟ میں نے کہا جی ہاں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14251]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر: 14195
الحكم: إسناده صحيح، وانظر: 14195