بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 15 از 60
حدیث نمبر: 14392 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا يَتَوَضَّئُونَ، فَلَمْ يَمَسَّ أَعْقَابَهُمْ الْمَاءُ، فَقَالَ:" وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ لوگوں کو وضو کرتے ہوئے دیکھا کہ ان کی ایڑیوں تک پانی نہیں پہنچا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جہنم کی آگ سے ایڑیوں کے لئے ہلاکت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14392]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 14393 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عن الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: اسْتَأْذَنَتْ الْحُمَّى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَنْ هَذِهِ؟" قَالَتْ: أُمُّ مِلْدَمٍ، قَالَ: فَأَمَرَ بِهَا إِلَى أَهْلِ قُبَاءٍ، فَلَقُوا مِنْهَا مَا يَعْلَمُ اللَّهُ، فَأَتَوْهُ فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْهِ، فَقَالَ:" مَا شِئْتُمْ؟ إِنْ شِئْتُمْ أَنْ أَدْعُوَ اللَّهَ لَكُمْ، فَيَكْشِفَهَا عَنْكُمْ، وَإِنْ شِئْتُمْ أَنْ تَكُونَ لَكُمْ طَهُورًا"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوَتَفْعَلُ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالُوا: فَدَعْهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بخار نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے اجازت چاہی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: کیوں آئے ہے؟ اس نے جواب دیا کہ «ام ملدم» (بخار) ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اہل قباء کے پاس چلے جانے کا حکم دیا، انہیں اس بخار سے جتنی پریشانی ہوئی، وہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے، چنانچہ وہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے اور بخار کی شکایت کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم کیا چاہتے ہو؟ اگر تم چاہو تو میں اللہ سے دعا کر دوں اور وہ اسے تم سے دور کر دے اور اگر چاہو تو وہ تمہارے لئے پاکیزگی کا سبب بن جائے؟ اہل قباء نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا آپ ایسا کر سکتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! اس پر وہ کہنے لگے کہ پھر اسے رہنے دیجئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14393]
حکم دارالسلام
رجالہ رجال الصحیح، و فی متنه غرابة ، وقد صح من حدیث عائشة عند البخاري: 1889، أن رسول اللہ صلى الله عليه و آله وسلم دعا للمدينه أن تنقل حماھا إلی الجحفة، والجحفة میقات أھل مصر والشام، وھی جنوب غرب المدينة قرب مدينة رابغ علی الساحل
الحكم: رجالہ رجال الصحیح، و فی متنه غرابة ، وقد صح من حدیث عائشة عند البخاري: 1889، أن رسول اللہ صلى الله عليه وسلم دعا للمدينه أن تنقل حماھا إلی الجحفة، والجحفة میقات أھل مصر والشام، وھی جنوب غرب المدينة قر
حدیث نمبر: 14394 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، وَابْنُ نُمَيْر ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، وَابْنُ نُمَيْر ، أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النُّعْمَانُ بْنُ قَوْقَلٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ حَلَّلْتُ الْحَلَالَ، وَحَرَّمْتُ الْحَرَامَ، وَصَلَّيْتُ الْمَكْتُوبَاتِ وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ: وَلَمْ أَزِدْ عَلَى ذَلِكَ أَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نعمان بن قوقل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے، یا رسول اللہ! اگر میں حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھوں اور فرض نمازیں پڑھ لیا کروں، اس سے زائد کچھ نہ کروں تو کیا میں جنت میں داخل ہو سکتا ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14394]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 15، وهذا إسناد قوي، وانظر: 14747، وفيه ذكر الصلوات المكتوبات وصيام رمضان
الحكم: حديث صحيح، م: 15، وهذا إسناد قوي، وانظر: 14747، وفيه ذكر الصلوات المكتوبات وصيام رمضان
حدیث نمبر: 14395 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ الصَّلَاةَ فِي مَسْجِدِهِ، فَلْيَجْعَلْ لِبَيْتِهِ نَصِيبًا مِنْ صَلَاتِهِ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَاعِلٌ فِي بَيْتِهِ مِنْ صَلَاتِهِ خَيْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے آئے تو اسے اپنے گھر کے لئے بھی کچھ نماز کا حصہ بھی رکھنا چاہئے، کیونکہ اللہ اس کی نماز کی برکت سے ان کے گھر میں خیروبرکت کا نزول فرما دیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14395]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، وانظر ما بعده
الحكم: إسناده قوي، وانظر ما بعده
حدیث نمبر: 14396 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ"، فَذَكَرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14396]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده قوي، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 14397 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْعُمْرَةِ أَوَاجِبَةٌ هِيَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا، وَأَنْ تَعْتَمِرَ خَيْرٌ لَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا، یا رسول اللہ! مجھے یہ بتائیں کہ کیا عمرہ کرنا واجب ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں البتہ بہتر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14397]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الحجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعن
الحكم: إسناده ضعيف، الحجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 14398 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ سَبْعِينَ بَدَنَةً، قَالَ: فَنَحَرَ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حدیبیہ کے سال اپنے ساتھ ستر اونٹ لے کر گئے تھے، اور ایک اونٹ سات سات آدمیوں کی طرف سے قربان کیا گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14398]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، وأنظر: 14127
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، وأنظر: 14127
حدیث نمبر: 14399 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، أَبِي نَضْرَةَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنَّا الصَّائِمُ، وَمِنَّا الْمُفْطِرُ، فَلَمْ يَكُنْ يَعِيبُ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہم لوگ نکلے تو کچھ نے روزہ رکھ لیا اور کچھ نے نہ رکھا لیکن کسی نے دوسرے کو طعنہ نہیں دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14399]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1117
الحكم: إسناده صحيح، م: 1117
حدیث نمبر: 14400 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اهْتَزَّ عَرْشُ اللَّهِ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی موت پر رحمن کا عرش بھی ہل گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14400]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وإسناده قوي، خ: 3803، م: 2466
الحكم: حديث صحيح، وإسناده قوي، خ: 3803، م: 2466
حدیث نمبر: 14401 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَهْلُ الْجَنَّةِ يَأْكُلُونَ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ، وَلَا يَتَغَوَّطُونَ وَلَا يَبُولُونَ، وَلَا يَمْتَخِطُونَ وَلَا يَبْزُقُونَ، طَعَامُهُمْ جُشَاءٌ وَرَشْحٌ كَرَشْحِ الْمِسْكِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جنت میں اہل جنت کھائیں پئیں گے، لیکن پاخانہ پیشاب کریں گے اور نہ ہی ناک صاف کریں گے، نہ تھوک پھینکیں گے، ان کا کھانا ایک ڈکار سے ہضم ہو جائے گا اور ان کا پسینہ مشک کی مہک کی طرح ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14401]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2835، وهذا إسناد قوي
الحكم: حديث صحيح، م: 2835، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 14402 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، لَيْثٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: جِيءَ بِأَبِي قُحَافَةَ يَوْمَ الْفَتْحِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَأَنَّ رَأْسَهُ ثَغَامَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْهَبُوا بِهِ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ فَلْتُغَيِّرْهُ بِشَيْءٍ، وَجَنِّبُوهُ السَّوَادَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر قحافہ رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، اس وقت ان کے سر کے بال "ثغامہ" بوٹی کی طرح سفید ہو چکے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں ان کے خاندان کی کسی عورت کے پاس لے جاؤ، اور ان کے بالوں کا رنگ بدل دو، البتہ کالے رنگ سے اجتناب کرنا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14402]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، م: 2102، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث بن أبى سليم، لكنه متابع، وأبو الزبير لم يصرح بسماعه من جابر
الحكم: صحيح لغيره، م: 2102، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث بن أبى سليم، لكنه متابع، وأبو الزبير لم يصرح بسماعه من جابر
حدیث نمبر: 14403 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الشُّفْعَةُ فِي كُلِّ شِرْكٍ رَبْعَةٍ، أَوْ حَائِطٍ، لَا يَصْلُحُ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ، فَإِنْ بَاعَ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ حَتَّى يُؤْذِنَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ہر مشترکہ جائیداد اور باغ میں حق شفعہ ہے اور اپنے شریک کو بتائے بغیر اسے بیچنا جائز نہیں ہے، اگر وہ بیچتا ہے تو اس کا شریک اس کا زیادہ حق دار ہے، یہاں تک کہ وہ اسے اجازت دے دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14403]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1608، وقد صرح أبو الزبير بسماعہ من جابر في بعض الطرق عند غیر المصنف
الحكم: إسناده صحيح، م: 1608، وقد صرح أبو الزبير بسماعہ من جابر في بعض الطرق عند غیر المصنف
حدیث نمبر: 14404 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ، هَرَبَ الشَّيْطَانُ حَتَّى يَكُونَ بِالرَّوْحَاءِ" وَهِيَ مِنَ الْمَدِينَةِ ثَلَاثُونَ مِيلًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب مؤذن اذان دیتا ہے تو شیطان اتنی دور بھاگ جاتا ہے جتنا فاصلہ روحاء تک ہے، یہ مدینہ منورہ سے تیس میل دور جگہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14404]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، م: 388
الحكم: إسناده قوي، م: 388
حدیث نمبر: 14405 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: جَاءَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَجَلَسَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ، فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ لِيَجْلِسْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ "سلیک" آئے اور بیٹھ گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو اسے مختصر سی دو رکعتیں پڑھ کر بیٹھنا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14405]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 875
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 875
حدیث نمبر: 14406 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، الْجُرَيْرِيِّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: يُوشِكُ أَهْلُ الْعِرَاقِ أَنْ لَا يُجْبَى إِلَيْهِمْ قَفِيزٌ وَلَا دِرْهَمٌ، قُلْنَا: مِنْ أَيْنَ ذَاكَ؟ قَالَ: مِنْ قِبَلِ الْعَجْمِ، يُمْنَعُونَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: يُوشِكُ أَهْلُ الشَّامِ أَنْ لَا يُجْبَى إِلَيْهِمْ دِينَارٌ وَلَا مُدْيٌ، قُلْنَا: مِنْ أَيْنَ ذَاكَ؟ قَالَ: مِنْ قِبَلِ الرُّومِ، يُمْنَعُونَ ذَاكَ، قَالَ: ثُمَّ سَكَت هُنَيْهَةً، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَكُونُ فِي آخِرِ أُمَّتِي خَلِيفَةٌ، يَحْثُو الْمَالَ حَثْوًا، لَا يَعُدُّهُ عَدًّا"، قَالَ الْجُرَيْرِيُ، فَقُلْتُ لِأَبِي نَضْرَةَ وَأَبِي الْعَلَاءِ أَتَرَيَانِهِ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ؟ فَقَالَا: لَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابونضرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ وہ فرمانے لگے عنقریب ایک زمانہ آئے گا جس میں اہل عراق کے پاس کوئی قفیز اور درہم باہر سے نہیں آسکے گا، ہم نے پوچھا کہ ایسا کیسے ہوگا؟ انہوں نے فرمایا: یہ عجم کی طرف سے ہوگا وہ لوگ ان چیزوں کو روک لیں گے پھر، فرمایا کہ اہل شام پر بھی پھر ایسا وقت آئے گا کہ ان کے یہاں بھی کوئی دینار اور مد باہر سے نہیں آسکے گا، ہم نے پوچھا کہ یہ کن کی طرف سے ہوگا؟ فرمایا کہ رومیوں کی طرف سے ہو گا وہ لوگ چیزوں کو روک لیں گے، پھر کچھ دیر وقفے کے بعد گویا ہوئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے آخر میں ایک ایسا خلیفہ آئے گا جو لوگوں کو بھربھر مال دے گا اور اسے شمار تک نہیں کرے گا۔ جریری کہتے ہیں کہ میں نے ابونضرہ اور ابوالعلاءسے پوچھا کہ آپ کی رائے میں وہ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز رحمۃاللہ ہیں؟ انہوں نے جواب دیا نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14406]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2913
الحكم: إسناده صحيح، م: 2913
حدیث نمبر: 14407 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَمْسِكُوا عَلَيْكُمْ أَمْوَالَكُمْ وَلَا تُعْمِرُوهَا، فَإِنَّهُ مَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا، فَهُوَ لَهُ عمره حَيَاتَهُ وَمَوْتَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنے مال کو اپنے پاس سنبھال کر رکھو، کسی کو مت دو اور جو شخص زندگی بھر کے لئے کسی کو کوئی چیز دے دیتا ہے تو وہ اسی کی ہو جاتی ہے، خواہ وہ زندہ ہو یا مر جائے یا اس کی اولاد کو مل جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14407]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1625
الحكم: إسناده صحيح، م: 1625
حدیث نمبر: 14408 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، كَمَثَلِ نَهْرٍ جَارٍ غَمْرٍ عَلَى بَابِ أَحَدِكُمْ، يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ پانچوں فرض نمازوں کی مثال اس نہر جیسی ہے جو تم میں سے کسی کے دروازے پر بہہ رہی ہواور وہ اس میں پانچ مرتبہ روزانہ غسل کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14408]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 668
الحكم: إسناده صحيح، م: 668
حدیث نمبر: 14409 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٍ ، جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ: قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَهْلَلْنَا أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ خَالِصًا لَيْسَ مَعَهُ غَيْرُهُ، خَالِصًا وَحْدَهُ، فَقَدِمْنَا مَكَّةَ صُبْحَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حِلُّوا وَاجْعَلُوهَا عُمْرَةً" فَبَلَغَهُ إِنَّا نَقُولُ: لَمَّا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا خَمْسٌ، أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ، فَيَرُوحَ إِلَى مِنًى، نَاسٌ مِنَّا وَمَذَاكِيرُنَا تَقْطُرُ مَنِيًّا، فَخَطَبَنَا، فَقَالَ:" قَدْ بَلَغَنِي الَّذِي قُلْتُمْ، وَإِنِّي لَأَتْقَاكُمْ وَأَبَرُّكُمْ، وَلَوْلَا الْهَدْيُ لَحَلَلْتُ، وَلَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ، مَا أَهْدَيْتُ، حِلُّوا وَاجْعَلُوهَا عُمْرَةً"، قَالَ: وَقَدِمَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ مِنَ الْيَمَنِ، قَالَ" بِمَ أَهْلَلْتَ؟" فَقَالَ: بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فَأَهْدِهِ وَامْكُثْ حَرَامًا كَمَا أَنْتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم یعنی صحابہ رضی اللہ عنہما نے صرف حج کا احرام باندھا، اور چار ذی الحجہ کو مکہ مکر مہ پہنچے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے صحابہ کو حکم دیا کہ اسے عمرہ کا احرام قرار دے کر حلال ہو جائیں، اس پر لوگ آپس میں کہنے لگے کہ جب عرفات کا دن آنے میں پانچ دن رہ گئے تو ہمیں حلال ہو نے کا حکم دے رہے ہیں تاکہ جب ہم منیٰ کی طرف روانہ ہوں تو ہماری شرمگاہوں سے ناپاک قطرات ٹپک رہے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا کہ اگر میرے سامنے وہ بات پہلے ہی آ جاتی جو بعد میں آئی تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ ہدی کا جانور نہ ہوتا تو میں بھی حلال ہو جاتا، تم حلال ہو جاؤ اور اسے عمرہ بنا لو، وہ مزید کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تم نے کس نیت سے احرام باندھا؟ انہوں نے کہا، جس نیت سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے احرام باندھا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر اس طرح حالت احرام میں ہی رہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14409]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1557، م: 1216
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1557، م: 1216
حدیث نمبر: 14410 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، شُعْبَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَرَأَى زِحَامًا وَرَجُلًا قَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ، فَسَأَلَ عَنْهُ، فَقَالُوا: هَذَا صَائِمٌ، فَقَالَ:" لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تَصُومُوا فِي السَّفَرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی سفر میں تھے، راستے میں دیکھا کہ لوگوں نے ایک آدمی کے گرد بھیڑ لگائی ہوئی ہے اور اس پر سایہ کیا جا رہا ہے، پوچھنے پر لوگوں نے بتایا کہ یہ روزے سے تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14410]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1946، م: 1115
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1946، م: 1115
حدیث نمبر: 14411 مسند احمد
عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، الْحَسَنِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، إِلَّا الْكَلْبَ الْمُعَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سدھارے ہوئے کتے کے علاوہ ہر کتے کی قیمت استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14411]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحسن بن أبى جعفر الجعفري، لكنه متابع، وأبو الزبير مدلس، وقد عنعنه
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحسن بن أبى جعفر الجعفري، لكنه متابع، وأبو الزبير مدلس، وقد عنعنه