بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 9 از 60
حدیث نمبر: 14272 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ الْمَكْتُوبَةَ، نَزَلَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نوافل اپنی سواری پر ہی مشرق کی جانب رخ کر کے بھی پڑھ لیتے تھے، لیکن جب فرض پڑھنے کا ارادہ فرماتے تو سواری سے اتر کر قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14272]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 400، وانظر: 14156
الحكم: إسناده صحيح، خ: 400، وانظر: 14156
حدیث نمبر: 14273 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، يُقَالُ لَهُ: أَبُو مَذْكُورٍ أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ، يُقَالُ لَهُ: يَعْقُوبُ، عَنْ دُبُرٍ، لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَنْ يَشْتَرِيهِ، مَنْ يَشْتَرِيهِ؟" فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّحَّامُ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ، فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ، وَقَالَ:" إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فَقِيرًا، فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ، وَإِنْ كَانَ فَضْلًا، فَعَلَى عِيَالِهِ، وَإِنْ كَانَ فَضْلًا فَعَلَى ذَوِي قَرَابَتِهِ، أَوْ قَالَ: عَلَى ذِي رَحِمِهِ، وَإِنْ كَانَ فَضْلًا، فَهَهُنَا وَهَهُنَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک انصاری آدمی جس کا نام مذکور تھا، اپنا غلام جس کا نام یعقوب تھا یہ کہہ کر آزاد کر دیا جس کے علاوہ اس کے پاس کسی قسم کا کوئی مال نہ تھا کہ میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کی حالت زار کا پتہ چلا تو فرمایا کہ یہ غلام مجھ سے کون خریدے گا؟ نعیم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسے اٹھ سو درہم کے عوض خرید لیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ پیسے اس شخص کو دے دیئے اور فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص تنگدست ہو تو وہ اپنی ذات سے صدقے کا آغاز کرے، اگر بچ جائے تو اپنے بچوں پر، پھر اپنے قریبی رشتہ داروں پر اور پھر دائیں بائیں خرچ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14273]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 997
الحكم: إسناده صحيح، م: 997
حدیث نمبر: 14274 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، الْأَجْلَحُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الْأَجْلَحُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ، فَلَمْ يُصَلِّ حَتَّى أَتَى سَرِفَ، وَهِيَ تِسْعَةُ أَمْيَالٍ مِنْ مَكَّةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مرتبہ مکہ سے غروب آفتاب کے وقت روانہ ہوئے، لیکن نماز مقام سرف میں پہنچ کر پڑھی، جو مکہ سے نو میل کی مسافت پر واقع ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14274]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات رجال الصحيح، غیر الأجلح الكندي، وھو صدوق، وأبو الزبیر لم یصرح بسماعه من جابر عند أحد ممن خرج ھذا الحدیث
الحكم: رجاله ثقات رجال الصحيح، غیر الأجلح الكندي، وھو صدوق، وأبو الزبیر لم یصرح بسماعه من جابر عند أحد ممن خرج ھذا الحدیث
حدیث نمبر: 14275 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ الْمَكْتُوبَاتِ، كَمَثَلِ نَهَرٍ جَارٍ بِبَابِ أَحَدِكُمْ، يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پانچوں فرض نمازوں کی مثال اس نہر کی سی ہے، جو تم میں سے کسی کے دروازے پر بہہ رہی ہو، اور وہ اس میں روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14275]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، م: 668
الحكم: إسناده قوي، م: 668
حدیث نمبر: 14276 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ، فَلَا يَفْتَرِشْ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو اپنے بازو کتے کی طرح نہ بچھائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14276]
حکم دارالسلام
إسناده قوي كسابقه
الحكم: إسناده قوي كسابقه
حدیث نمبر: 14277 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، هِشَامٍ ، الْحَسَنِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا سِرْتُمْ فِي الْخِصْبِ، فَأَمْكِنُوا الرِّكَابَ أَسْنَانَهَا، وَلَا تُجَاوِزُوا الْمَنَازِلَ، وَإِذَا سِرْتُمْ فِي الْجَدْبِ، فَاسْتَجِدُّوا، وَعَلَيْكُمْ بِالدَّلْجِ، فَإِنَّ الْأَرْضَ تُطْوَى بِاللَّيْلِ، وَإِذَا تَغَوَّلَتْ لَكُمْ الْغِيلَانُ، فَنَادُوا بِالْأَذَانِ، وَإِيَّاكُمْ وَالصَّلَاةَ عَلَى جَوَادِّ الطَّرِيقِ، وَالنُّزُولَ عَلَيْهَا، فَإِنَّهَا مَأْوَى الْحَيَّاتِ وَالسِّبَاعِ، وَقَضَاءِ الْحَاجَةِ، فَإِنَّهَا الْمَلَاعِنُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم سرسبز و شاداب علاقے میں سفر کرو، تو اپنی سواریوں کو وہاں کی شادابی سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا کرو اور منزل سے آگے نہ بڑھا کرو، اور جب خشک زمین میں سفر کرنے کا اتفاق ہو تو تیزی سے وہاں سے گزر جایا کرو اور اس صورت میں رات کے اندھیرے میں سفر کرنے کو ترجیح دیا کرو کیونکہ رات کے وقت ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا زمین لپٹی جا رہی ہے اور اگر راستے سے بھٹک جاؤ، تو اذان دیا کرو، نیز راستے کے بیچ میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنے اور وہاں پڑاؤ کرنے سے گریز کیا کرو، کیونکہ وہ سانپوں اور درندوں کے ٹھکانے ہوتے ہیں، اور یہاں قضاے حاجت بھی نہ کیا کرو کیونکہ یہ لعنت کا سبب ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14277]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قوله: « وإذا تغولت لكم الغيلان فبادروا بالأذان » ، رجاله ثقات رجال الصحيح، لكن الحسن البصري لم يسمع من جابر
الحكم: صحيح لغيره دون قوله: « وإذا تغولت لكم الغيلان فبادروا بالأذان » ، رجاله ثقات رجال الصحيح، لكن الحسن البصري لم يسمع من جابر
حدیث نمبر: 14278 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، جَعْفَرٍ ، أَبِيهِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ، قَالَ جَعْفَرٌ، قَالَ أَبِي: وَقَضَى بِهِ عَلِيٌّ بِالْعِرَاقِ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: كَانَ أَبِي قَدْ ضَرَبَ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: وَلَمْ يُوَافِقْ أَحَدٌ الثَّقَفِيَّ عَلَى جَابِرٍ، فَلَمْ أَزَلْ بِهِ حَتَّى قَرَأَهُ عَلَيَّ وَكَتَبَ عَلَيْهِ صَحَّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک گواہ کی موجودگی میں مدعی سے قسم لے کر اس کے حق میں فیصلہ کر دیا (گویا قسم کو دوسرا گواہ تسلیم کر لیا)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14278]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح،
الحكم: إسناده صحيح،
حدیث نمبر: 14279 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، حَبِيبٌ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ ، عَطَاءٍ ، جَابِرٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قال: حَدَّثَنِي جَابِرٌ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ هو وَأَصْحَابُهُ بِالْحَجِّ، وَلَيْسَ مَعَ أَحَدٍ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ هَدْيٌ إِلَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَلْحَةَ، وَكَانَ عَلِيٌّ قَدِمَ مِنَ الْيَمَنِ وَمَعَهُ الْهَدْيُ، فَقَالَ: أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً وَيَطُوفُوا ثُمَّ يُقَصِّرُوا وَيَحِلُّوا، إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ"، فَقَالُوا: نَنْطَلِقُ إِلَى مِنًى وَذَكَرُ أَحَدِنَا يَقْطُرُ! فَبَلَغَ ذَلك النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَوْ أَنِّي أَسْتَقْبِلتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتُدْبِرَتُ، مَا أَهْدَيْتُ، وَلَوْلَا أَنَّ مَعِي الْهَدْيَ، لَأَحْلَلْتُ"، وَأَنَّ عَائِشَةَ حَاضَتْ، فَنَسَكَتْ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا غَيْرَ، أَنَّهَا لَمْ تَطُفْ بِالْبَيْتِ، فَلَمَّا طَهُرَتْ طَافَتْ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَنْطَلِقُونَ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ، وَأَنْطَلِقُ بِالْحَجِّ؟! فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَنْ يَخْرُجَ مَعَهَا إِلَى التَّنْعِيمِ، فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ فِي ذِي الْحِجَّةِ، وَأَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَقَبَةِ وَهُوَ يَرْمِيهَا، فَقَالَ: أَلَكُمْ هَذِهِ خَاصَّةً يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" لَا، بَلْ لِلْأَبَدِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے حج کا احرام باندھا، اس دن سوائے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے کسی کے پاس ہدی کا جانور نہ تھا، البتہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تھے، تو ان کے پاس بھی ہدی کا جانور تھا اور انہوں نے کہا تھا کہ میں نے اسی نیت سے احرام باندھا ہے جس نیت سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے باندھا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے صحابہ کو حکم دیا تھا کہ اسے عمرہ کا احرام قرار دے کر طواف و سعی کر لیں، پھر بال کٹوا کر حلال ہو جائیں، البتہ جن کے پاس ہدی کا جانور ہو، وہ ایسا نہ کریں، اس پر لوگ آپس میں کہنے لگے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ہم منیٰ کی طرف روانہ ہوں تو ہماری شرمگاہوں سے ناپاک قطرات ٹپک رہے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا کہ اگر میرے سامنے وہ بات پہلے ہی آ جاتی جو بعد میں آئی تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ ہدی کا جانور نہ ہوتا تو میں بھی حلال ہو جاتا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس دوران مجبوری میں تھیں، چنانچہ انہوں نے سارے مناسک حج تو ادا کر لئے البتہ طواف نہیں کیا اور جب فارغ ہو گئیں، تو طواف کر لیا اور کہنے لگیں، یا رسول اللہ! آپ لوگ حج اور عمرے کے ساتھ روانہ ہوں اور میں صرف حج کے ساتھ؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے بھائی عبدالرحمن کو حکم دیا کہ وہ انہیں تنعیم لے جائیں، چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حج کے بعد ذی الحجہ میں ہی عمرہ کیا۔ اور سراقہ بن مالک ج رضی اللہ عنہ مرہ عقبہ کی رمی کے وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے، یا رسول اللہ! یہ حکم آپ کے لئے خاص ہے؟ فرمایا: یہی حکم ہمیشہ کے لئے ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14279]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، خ: 1651، م: 1216
الحكم: إسناده قوي، خ: 1651، م: 1216
حدیث نمبر: 14280 مسند احمد
أَبُو قَطَنٍ ، وَرَوْحٌ ، هِشَامٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، وَرَوْحٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، قَالَ رَوْحٌ: ابْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، مِنْ وَثْءٍٍ كَانَ بِوَرِكِهِ، أَوْ ظَهْرِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حالت احرام میں اپنے کولہے کی ہڈی یا کمر میں موچ آ جانے کی وجہ سے سینگی لگوائی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14280]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، أبو الزبير لم يصرح بسماعه من جابر
الحكم: صحيح لغيره، أبو الزبير لم يصرح بسماعه من جابر
حدیث نمبر: 14281 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، سُلَيْمَانَ يَعْنِي التَّيْمِيَّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي التَّيْمِيَّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِقَلِيلٍ أَوْ بِشَهْرٍ:" مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ أَوْ مَا مِنْكُمْ مِنْ نَفْسٍ الْيَوْمَ مَنْفُوسَةٍ يَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ، وَهِيَ يَوْمَئِذٍ حَيَّةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے وصال سے چند دن یا ایک ماہ قبل فرمایا تھا کہ آج جو شخص زندہ ہے، سو سال نہیں گزرنے پائیں گے کہ وہ زندہ رہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14281]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2538
الحكم: إسناده صحيح، م: 2538
حدیث نمبر: 14282 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ فِي أَصْلِ شَجَرَةٍ، أَوْ قَالَ إِلَى جِذْعٍ ثُمَّ اتَّخَذَ مِنْبَرًا، قَالَ: فَحَنَّ الْجِذْعُ، قَالَ جَابِرٌ: حَتَّى سَمِعَهُ أَهْلُ الْمَسْجِدِ، حَتَّى أَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَسَحَهُ، فَسَكَنَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَوْ لَمْ يَأْتِهِ، لَحَنَّ أَبَدًا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک درخت کی جڑ یا تنے پر سہارا لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے، جب منبر بن گیا تو لکڑی کا وہ تنا اس طرح رونے لگا کہ مسجد میں موجود سارے لوگوں نے اس کی آواز سنی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے پاس چل کر آئے اور اپنا دست مبارک اس پر رکھا تو وہ خاموش ہوا، بعض راوی یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے پاس نہ جاتے تو وہ قیامت تک روتا ہی رہتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14282]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر: 14119
الحكم: إسناده صحيح، وانظر: 14119
حدیث نمبر: 14283 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، وَيَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ . ح وَيَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، الْمَعْنَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ يَزِيدُ فِي حَدِيثِهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِذَا سَمِعْتُمْ نُبَاحَ الْكِلَابِ، وَنُهَاقَ الْحَمِيرِ مِنَ اللَّيْلِ، فَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ، فَإِنَّهَا تَرَى مَا لَا تَرَوْنَ، وَأَقِلُّوا الْخُرُوجَ إِذَا هَدَأَتْ الرِّجْلُ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبُثُّ فِي لَيْلِهِ مِنْ خَلْقِهِ مَا شَاءَ، وَأَجِيفُوا الْأَبْوَابَ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ بَابًا أُجِيفَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَأَوْكُِوا الْأَسْقِيَةَ، وَغَطُّوا الْجِرَارَ، وَأَكْفِئُوا الْآنِيَةَ"، قَالَ يَزِيدُ: وَأَوْكُِوا القِِرَبَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم رات کے وقت کتے کے بھونکنے یا گدھے کے چلانے کی آواز سنو، تو اللہ کی پناہ مانگا کرو، کیونکہ یہ جانور وہ چیزیں دیکھتے ہیں جو تم نہیں دیکھ سکتے، جب رات ڈھل جائے تو گھر سے کم نکلا کرو کیونکہ رات کے وقت اللہ تعالیٰ اپنی بہت سی مخلوق کو پھیلا دیتا ہے جیسے چاہتا ہے، دروازے بند کرتے وقت اللہ کا نام لے لیا کرو، کیونکہ جس دروازے کو بند کرتے وقت اللہ کا نام لے لیا جائے، اسے شیطان نہیں کھول سکتا، مشکیزوں کا منہ باندھ دیا کرو، مٹکے ڈھک دیا کر و اور برتنوں کو اوندھا کر دیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14283]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، وانظر: 14228 و 14830
الحكم: إسناده حسن، وانظر: 14228 و 14830
حدیث نمبر: 14284 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، قال: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَوُعِكَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَقِلْنِي، فَأَبَى، ثُمَّ أَتَاهُ، فَقَالَ: أَقِلْنِي، فَأَبَى، فَسَأَلَ عَنْهُ، فَقَالُوا: خَرَجَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمَدِينَةَ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا، وَينْْصَعُ طَيِّبَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دست حق پرست پر بیعت کر لی، کچھ ہی عرصے میں اسے بہت تیز بخار ہو گیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میری بیعت فسخ کر دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انکار کر دیا، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا، چوتھی مرتبہ وہ نہ آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے معلوم کیا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے بتایا کہ وہ مدینہ سے چلا گیا ہے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ بھٹی کی طرح ہے، جو اپنے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے اور عمدہ چیز کو چمکدار اور صاف ستھرا کر دیتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14284]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7209، م: 1383
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7209، م: 1383
حدیث نمبر: 14285 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ مَاتَ لَهُ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَاحْتَسَبَهُمْ، دَخَلَ الْجَنَّةَ"، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاثْنَانِ؟ قَالَ:" وَاثْنَانِ"، قَالَ مَحْمُودٌ: فَقُلْتُ لِجَابِرٍ أَرَاكُمْ لَوْ قُلْتُمْ: وَاحِدٌ؟ لَقَالَ: َوَاحِدٌ، قَالَ: وَأَنَا وَاللَّهِ أَظُنُّ ذَاكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص کے تین بچے فوت ہو جائیں اور وہ ان پر صبر کرے تو جنت میں داخل ہو گا، ہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! اگر کسی کے دو بچے فوت ہو جائیں تو؟ فرمایا: تب بھی یہی حکم ہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ میرا خیال ہے کہ اگر آپ لوگ ایک کے بارے میں پوچھتے، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما دیتے کہ ایک کا بھی یہی حکم ہے، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: واللہ! میر ابھی یہی خیال ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14285]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 14286 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٍ ، وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً ثَلَاثَ مِائَةٍ وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ، فَنَفِدَ زَادُنَا، فَجَمَعَ أَبُو عُبَيْدَةَ زَادَهُمْ، فَجَعَلَهُ فِي مِزْوَدٍ، فَكَانَ يُقِيتُنَا حَتَّى كَانَ يُصِيبُنَا كُلَّ يَوْمٍ تَمْرَةٌ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، وَمَا كَانَتْ تُغْنِي عَنْكُمْ تَمْرَةٌ؟ قَالَ: قَدْ وَجَدْنَا فَقْدَهَا حِينَ ذَهَبَتْ، حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى السَّاحِلِ، فَإِذَا حُوتٌ مِثْلُ الظَّرِبِ الْعَظِيمِ، قَالَ: فَأَكَلَ مِنْهُ ذَلِكَ الْجَيْشُ ثَمَانِ عَشْرَةَ لَيْلَةً، ثُمَّ أَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ ضِلَعَيْنِ مِنْ أَضْلَاعِهِ فَنَصَبَهُمَا، ثُمَّ أَمَرَ بِرَاحِلَِة فَرُحِلَتْ، فَمَرَّتْ تَحْتَهُمَا فَلَمْ يُصِبْهَا شَيْءٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین سو افراد پر مشتمل ایک دستہ بھیجا اور ان پر سیدنا ابوعبید بن جراح رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کر دیا، راستے میں ہمارا زاد سفر ختم ہو گیا، سیدنا ابوعبید رضی اللہ عنہ نے تمام لوگوں کا توشہ ایک برتن میں اکٹھا کیا اور اس میں سے ہمیں کھانے کے لئے دیتے رہے، ہمیں روزانہ کی صرف ایک کھجور ملتی تھی، ایک آدمی نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اے ابوعبداللہ! ایک کھجور سے آپ کا کیا بنتا ہو گا؟ انہوں نے فرمایا: یہ تو ہمیں اس وقت پتہ چلا جب وہ ایک کھجور بھی ملنا ختم ہو گئی، اسی دوران ہمارا گزر بڑے ٹیلے کی مانند ایک بہت بڑی مچھلی پر ہوا، جو سمندر نے باہر پھینک دی تھی، لشکر اسے اٹھارہ دن تک کھاتے رہے، پھر سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس مچھلی کی دو پسلیاں لے کر انہیں نصب کیا، پھر ایک سواری کو اس کے نیچے سے گزارا تو پھر بھی وہ اس کی پسلی سے نہیں ٹکرایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14286]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2483، م: 1935
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2483، م: 1935
حدیث نمبر: 14287 مسند احمد
الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، يَحْيَى ، وَوَكِيعٌ ، عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبَا سَلَمَةَ ، جَابِرٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ يَحْيَى . ح وَوَكِيعٌ ، قال: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، الْمَعْنَى، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ قَبْلُ؟ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ، قَالَ يَحْيَى، فَقُلْتُ لِأَبِي سَلَمَةَ أَوْ اقْرَأْ؟ فَقَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ قَبْلُ؟ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ، فَقُلْتُ: أَوْ اقْرَأْ، فَقَالَ جَابِرٌ : أُحَدِّثُكُمْ مَا حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" جَاوَرْتُ بِحِرَاءَ شَهْرًا، فَلَمَّا قَضَيْتُ جِوَارِي نَزَلْتُ، فَاسْتَبْطَنْتُ بَطْنَ الْوَادِي، فَنُودِيتُ فَنَظَرْتُ أَمَامِي، وَخَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي، وَعَنْ شِمَالِي، فَلَمْ أَرَ أَحَدًا، ثُمَّ نُودِيتُ فَنَظَرْتُ، فَلَمْ أَرَ أَحَدًا، ثُمَّ نُودِيتُ"، قَالَ الْوَلِيدُ فِي حَدِيثِهِ: فَرَفَعْتُ رَأْسِي، فَإِذَا هُوَ عَلَى الْعَرْشِ فِي الْهَوَاءِ، فَأَخَذَتْنِي رَجْفَةٌ شَدِيدَةٌ، وَقَالَا فِي حَدِيثِهِمَا:" فَأَتَيْتُ خَدِيجَةَ، فَقُلْتُ: دَثِّرُونِي، فَدَثَّرُونِي، وَصَبُّوا عَلَيَّ مَاءً، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ سورة المدثر آية 1 - 4.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یحییٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں کہ میں نے ابوسلمہ سے پوچھا کہ سب سے پہلے قرآن کا کون سا حصہ نازل ہوا تھا؟ انہوں نے سورۃ مدثر کا نام لیا، میں نے عرض کیا کہ سب سے پہلے سورۃ اقراء نازل نہیں ہوئی تھی؟ انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے یہی سوال کیا پوچھا تھا، تو انہوں نے یہی جواب دیا تھا اور میں نے بھی یہی سوال پوچھا تھا تو انہوں نے فرمایا تھا کہ میں تم سے وہ بات بیان کر رہا ہوں جو خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں بتائی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میں ایک مہینہ تک غار حراء کا پڑوسی رہا، جب میں ایک ماہ کی مدت پوری کر کے پہاڑ سے نیچے اترا اور بطن وادی میں پہنچا تو مجھے کسی نے آواز دی، میں نے اپنے آگے پیچھے اور دائیں بائیں سب طرف دیکھا لیکن مجھے کوئی نظر نہ آیا، تھوڑی دیر بعد پھر وہ آواز آئی، میں نے دوبارہ چاروں طرف دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا، تیسری مرتبہ آواز آئی تو میں نے سر اٹھا کر دیکھا، وہاں جبرائیل علیہ السلام فضاء میں اپنے تخت پر نظر آئے، یہ دیکھ کر مجھ پر شدید کپکپی طاری ہو گئی، اور میں نے خدیجہ کے پاس آ کر کہا کہ مجھے کوئی موٹا کمبل اوڑھا دو، چنانچہ انہوں نے مجھے کمبل اوڑھا دیا اور مجھ پر پانی بہایا، اس موقع پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی «يا ايها المدثر قم فانذر» الی آخرہ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14287]
حکم دارالسلام
إسناداه صحيحان، خ: 4922، م: 161
الحكم: إسناداه صحيحان، خ: 4922، م: 161
حدیث نمبر: 14288 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبَانُ الْعَطَّارُ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حدثنا أَبَانُ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ أَوَّلُ؟ فَقَالَ: يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ سورة المدثر آية 1 فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا، أَنَّهُ قَالَ:" فَلَمَّا قَضَيْتُ جِوَارِي نَزَلْتُ فَاسْتَبْطَنْتُ الْوَادِي، فَنُودِيتُ"، فَذَكَرَ أَيْضًا، قَالَ:" فَنَظَرْتُ فَوْقِي، فَإِذَا هُوَ قَاعِدٌ عَلَى عَرْشٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَجُئِثْتُ مِنْهُ، فَأَتَيْتُ مَنْزِلَ خَدِيجَةَ، فَقُلْتُ: دَثِّرُونِي" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حدیث نمبر: 14289 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، سَمِعَهُ مِنْ جَابِرٍ " كَانَ يُنْتَبَذُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ، فإذا لم يكن سِقَاءٌ، فَتْورٌ مَنْ حِجارَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے ایک مشکیزے میں نبیذ بنائی جاتی تھی، اور اگر وہ مشکیزہ نہ ہوتا تو پتھر کی ہنڈیا میں بنا لی جاتی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14289]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1999
الحكم: إسناده صحيح، م: 1999
حدیث نمبر: 14290 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ، فَقَالَ:" اعْلِفْهُ نَاضِحَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سینگی لگانے کی اجرت کے متعلق سوال پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ان پیسوں کا چارہ خرید کر اپنے اونٹ کو کھلا دینا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14290]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وقد صرح أبو الزبير بالتحديث فيما سيأتي مكررا برقم: 15079
الحكم: إسناده صحيح، وقد صرح أبو الزبير بالتحديث فيما سيأتي مكررا برقم: 15079
حدیث نمبر: 14291 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ، دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقْ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کوئی شہری کسی دیہاتی کے لئے بیع نہ کرے، لوگوں کو چھوڑ دو تاکہ اللہ انہیں ایک دوسرے سے رزق عطاء فرمائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14291]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1522
الحكم: إسناده صحيح، م: 1522