بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 51 از 60
حدیث نمبر: 15112 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" خِيَارُ النَّاسِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ , خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سے جو زمانہ جاہلیت میں بہترین تھے وہ زمانہ اسلام میں بھی بہترین ہیں جب کہ علم دین کی سمجھ بوجھ پیدا کر لیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15112]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر: 14945
الحكم: إسناده صحيح، وانظر: 14945
حدیث نمبر: 15113 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" غِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا , وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ قبیلہ غفار کی بخشش فرمائے اور قبیلہ اسلم کو سلامتی عطاء فرمائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15113]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2515
الحكم: إسناده صحيح، م: 2515
حدیث نمبر: 15114 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْر ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْر ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أَرْجُو أَنْ يَكُونَ مَنْ يَتَّبِعُنِي مِنْ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ رُبْعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ"، قَالَ: فَكَبَّرْنَا , قَالَ:" أَرْجُو أَنْ يَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ"، قَالَ: فَكَبَّرْنَا، قَالَ:" أَرْجُو أَنْ يَكُونُوا الشَّطْرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن میری پیروی کرنے والے میری امتی تمام اہل جنت کا ایک ربع ہوں گے اس پر ہم نے نعرہ تکبیر بلند کیا پھر فرمایا: مجھے امید ہے کہ وہ تمام لوگوں کا ایک ثلث ہوں گے اس پر ہم نے دوبارہ نعرہ تکبیر بلند کیا پھر فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ وہ تمام لوگوں کا ایک نصف ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15114]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15115 مسند احمد
رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَسْأَلُ عَنِ الْوُرُودِ , قَالَ:" نَحْنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى كَذَا وَكَذَا" , انْظُرْ أَيْ ذَلِكَ فَوْقَ النَّاسِ , قَالَ:" فَتُدْعَى الْأُمَمُ بِأَوْثَانِهَا وَمَا كَانَتْ تَعْبُدُ , الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ , ثُمَّ يَأْتِينَا رَبُّنَا بَعْدَ ذَلِكَ , فَيَقُولُ: مَنْ تَنْتَظِرُونَ؟، فَيَقُولُونَ: نَنْتَظِرُ رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ، فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَيَقُولُونَ: حَتَّى نَنْظُرَ إِلَيْكَ، فَيَتَجَلَّى لَهُمْ يَضْحَكُ"، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" فَيَنْطَلِقُ بِهِمْ وَيَتَّبِعُونَهُ , وَيُعْطَى كُلُّ إِنْسَانٍ مُنَافِقٍ أَوْ مُؤْمِنٍ نُورًا، ثُمَّ يَتَّبِعُونَهُ , عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ كَلَالِيبُ، وَحَسَكٌ تَأْخُذُ مَنْ شَاءَ اللَّهُ , ثُمَّ يُطْفَأُ نُورُ الْمُنَافِقِ , ثُمَّ يَنْجُو الْمُؤْمِنُونَ فَتَنْجُو أَوَّلُ زُمْرَةٍ , وُجُوهُهُمْ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ , سَبْعُونَ أَلْفًا لَا يُحَاسَبُونَ , ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ كَأَضْوَإِ نَجْمٍ فِي السَّمَاءِ , ثُمَّ كَذَلِكَ , ثُمَّ تَحِلُّ الشَّفَاعَةُ , حَتَّى يَخْرُجَ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ شَعِيرَةً , فَيُجْعَلُونَ بِفِنَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَيَجْعَلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ يَرُشُّونَ عَلَيْهِمِ الْمَاءَ , حَتَّى يَنْبُتُونَ نَبَاتَ الشَّيْءِ فِي السَّيْلِ , ثُمَّ يَسْأَلُ حَتَّى يُجْعَلَ لَهُ الدُّنْيَا وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهَا مَعَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوزبیر نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے ورود کے متعلق سوال کیا انہوں نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قیامت کے دن ہم تمام لوگوں سے اوپر ایک ٹیلے پر ہوں گے درجہ بدرجہ تمام امتوں اور ان کے بتوں کو بلایا جائے گا پھر ہمارا پروردگار ہمارے پاس آ کر پوچھے گا کہ تم کس کا انتظار کر رہے ہو لوگ جواب دیں گے کہ ہم اپنے پروردگار کا انتظار کر رہے ہیں وہ کہے گا کہ میں ہی تمہارا رب ہوں لوگ کہیں گے کہ ہم اسے دیکھنے تک یہیں ہیں چنانچہ پروردگار ان کے سامنے اپنی ایک تجلی ظاہر فرمائے گا جس میں وہ مسکرا رہا ہو گا اور ہر انسان کو خواہ منافق ہو یا پکا مومن ایک نور دیا جائے گا پھر اس پر اندھیرا چھا جائے گا پھر مسلمانوں کے ساتھ منافق بھی پیچھے پیچھے پل صراط پر چڑھیں گے جس میں کانٹے اور چبھنے والی چیزیں ہوں گی جو لوگوں کو اچک لیں گی اس کے بعد منافقین کا نور بجھ جائے گا اور مسلمان اس پر پل صراط سے نجات پاجائیں گے نجات پانے والے مسلمانوں کا پہل اگر وہ اپنے چہروں میں چودہو یں رات کے چاند کی طرح ہو گا یہ لوگ ستر ہزار ہوں گے اور ان کا کوئی حساب نہ ہو گا دوسرے نمبر پر نجات پانے والے اس ستارے کی مانند ہوں گے جو آسمان میں سب سے زیادہ روشن ہوں پھر درجہ بدرجہ یہاں تک کہ شفاعت کی اجازت دیدی جائے گی اور لوگ سفارش کر یں گے جس کی بناء پر ہر وہ شخص جہنم سے نکال لیا جائے گا جس کے دل میں جو کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو گا اور اسے صحن جنت میں لے جایا جائے گا اور اہل جنت اس پر پانی بہانے لگیں گے حتی کہ وہ اس طرح اگ آئیں گے جیسے سیلاب میں خودرو پودے اگ آتے ہیں اور ان کے جسم کی جلن دور ہو جائے گی پھر اللہ ان سے پوچھے گا کہ اور انہیں دنیا اور اس سے دس گنا زیادہ عطا فرمائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15115]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 191، وقوله: « نحن يوم القيامة ... فوق الناس » تصحیف وتغیر واختلاط في اللفظ، وصوابه: نجیئ یوم القيامه علی کوم
الحكم: إسناده صحيح، م: 191، وقوله: « نحن يوم القيامة ... فوق الناس » تصحیف وتغیر واختلاط في اللفظ، وصوابه: نجیئ یوم القيامه علی کوم
حدیث نمبر: 15116 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ:" لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ قَدْ دَعَا بِهَا فِي أُمَّتِهِ , وَخَبَّأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر نبی کے لیے ایک (خاص) دعا تھی جو اس نے اپنی امت کے حق میں (دنیا ہی میں) مانگ لی، اور میں نے اپنی وہ دعا قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے چھپا کر (محفوظ کر کے) رکھی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15116]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 201
الحكم: إسناده صحيح، م: 201
حدیث نمبر: 15117 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ , أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" يَأْكُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ , وَلَا يَتَمَخَّطُونَ , وَلَا يَتَغَوَّطُونَ , وَلَا يَبُولُونَ , وَيَكُونُ طَعَامُهُمْ ذَلِكَ جُشَاءً , وَيُلْهَمُونَ التَّسْبِيحَ وَالْحَمْدَ كَمَا يُلْهَمُونَ النَّفَسَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جنت میں اہل جنت کھائیں پئیں گے لیکن پاخانہ پیشاب نہ کر یں گے اور نہ ہی ناک صاف کر یں گے یا تھوک پھینکیں گے ان کا کھانا ایک ڈکار سے ہضم ہو جائے گا اور ان کا پسینہ مشک کی مہک کی طرح ہو گا اور وہ اس طرح تسبیح وتحمید کرتے ہوں گے جیسے بےاختیار سانس لیتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15117]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2835
الحكم: إسناده صحيح، م: 2835
حدیث نمبر: 15118 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" قَدْ يَئِسَ الشَّيْطَانُ أَنْ يَعْبُدَهُ الْمُسْلِمُونَ , وَلَكِنْ فِي التَّحْرِيشِ بَيْنَهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس بات سے شیطان مایوس ہو گیا کہ اب دوبارہ نمازی اس کی پوجا کر سکیں گے البتہ وہ ان کے درمیان اختلافات پیدا کرنے سے درپے ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15118]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2812
الحكم: إسناده صحيح، م: 2812
حدیث نمبر: 15119 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنِ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" عَرْشُ إِبْلِيسَ عَلَى الْبَحْرِ , ثُمَّ يَبْعَثُ سَرَايَاهُ , فَيَفْتِنُونَ النَّاسَ فَأَعْظَمُهُمْ عِنْدَهُ , أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ابلیس پانی پر اپنا تخت بچھاتا ہے پھر اپنے لشکر روانہ کرتا ہے ان میں سب سے زیادہ قرب شیطانی وہ پاتا ہے جو سب سے بڑا فتنہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15119]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2813
الحكم: إسناده صحيح، م: 2813
حدیث نمبر: 15120 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , وَلَمْ يَرْفَعْهُ " أَنَا فَرَطُكُمْ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ , فَإِنْ لَمْ تَجِدُونِي فَأَنَا عَلَى الْحَوْضِ , وَالْحَوْضُ قَدْرُ مَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِلَى مَكَّةَ , وَسَيَأْتِي رِجَالٌ وَنِسَاءٌ فَلَا يَذُوقُونَ مِنْهُ شَيْئًا" مَوْقُوفٌ وَلَمْ يَرْفَعْهُ
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وهو مرفوع، وإن كان صورته صورة الوقف، فمثله لا يمكن أن يقوله إلا النبى صلى الله عليه و آله وسلم
الحكم: إسناده صحيح، وهو مرفوع، وإن كان صورته صورة الوقف، فمثله لا يمكن أن يقوله إلا النبى صلى الله عليه وسلم
حدیث نمبر: 15121 مسند احمد
رَوْحٌ ، زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، جَابِرٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَا عَلَى الْحَوْضِ أَنْظُرُ مَنْ يَرِدُ عَلَيَّ , قَالَ: فَيُؤْخَذُ نَاسٌ دُونِي , فَأَقُولُ: يَا رَبِّ , مِنِّي وَمِنْ أُمَّتِي، قَالَ: فَيُقَالُ: وَمَا يُدْرِيكَ مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ؟ مَا بَرِحُوا بَعْدَكَ يَرْجِعُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ جَابِرٌ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْحَوْضُ مَسِيرَةُ شَهْرٍ , وَزَوَايَاهُ سَوَاءٌ يَعْنِي عَرْضُهُ مِثْلُ طُولِهِ وَكِيزَانُهُ مِثْلُ نُجُومِ السَّمَاءِ , وَهُوَ أَطْيَبُ رِيحًا مِنَ الْمِسْكِ , وَأَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ , مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهُ أَبَدًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں تمہارے آگے تمہارا انتظار کر وں گا اگر تم مجھے نہ دیکھ سکو تو میں حوض کوثر پر ہوں گا جو کہ ایلہ سے مکہ مکرمہ تک کی درمیانی مسافت کا حوض ہو گا اور عنقریب کئی مرد و عورت مشکیزے اور برتن لے کر آئیں گے لیکن اس میں سے کچھ بھی نہ پی سکیں گے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں حوض کوثر پر آنے والوں کا انتظار کر وں گا کچھ لوگوں کو میرے پاس پہنچے سے پہلے ہی اچک لیا جائے گا میں عرض کر وں گا کہ پروردگار یہ میرے ہیں اور میرے امتی ہیں جواب آئے گا کہ آپ کو کیا خبر انہوں نے آپ کے پیچھے کیا کیا یہ تو آپ کے بعد اپنی ایڑیوں کے بل واپس لوٹ گئے تھے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: تھا کہ حوض کوثر ایک ماہ کی مسافت پر پھیلا ہوا ہے اس کے دونوں کونے برابر ہیں یعنی اس کی چوڑائی بھی لمبائی جتنی ہے اس کے گلاس آسمان کے ستاروں کے برابر ہیں اس کا پانی مشک سے زیادہ مہکنے والا اور دودھ سے زیادہ سفید ہو گا جو ایک مرتبہ اس کا پانی پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15121]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وللشطر الأول انظر ما قبله، ويشهد للشطر الثاني حديث عبد الله بن عمرو عند البخاري: 6579، ومسلم: 2212
الحكم: إسناده صحيح، وللشطر الأول انظر ما قبله، ويشهد للشطر الثاني حديث عبد الله بن عمرو عند البخاري: 6579، ومسلم: 2212
حدیث نمبر: 15122 مسند احمد
رَوْحٌ ، زَكَرِيَّا ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ , وَالْمُزَفَّتِ , وَالدُّبَّاءِ , وَالنَّقِيرِ" , وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا لَمْ يَجِدْ لَهُ شَيْئًا يُنْبَذُ لَهُ فِيهِ، نُبِذَ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دبا، نقیر اور مزفت تمام برتنوں سے منع فرمایا ہے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے مشکیزے میں نبیذ بنائی جاتی تھی اور اگر مشکیزہ نہ ہوتا تو پتھر کی ہنڈیا میں بنالی جاتی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15122]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1998، 1999
الحكم: إسناده صحيح، م: 1998، 1999
حدیث نمبر: 15123 مسند احمد
رَوْحٌ ، زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ:" نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَمَسَّحَ بِعَظْمٍ أَوْ بَعْرٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں مینگنی یا ہڈی سے اسنتجا کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15123]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 263
الحكم: إسناده صحيح، م: 263
حدیث نمبر: 15124 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ , عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَأَنْ يُمْسِكَ أَحَدُكُمْ يَدَهُ عَنِ الْحَصْبَاءِ , خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَهُ مِائَةُ نَاقَةٍ , كُلُّهَا سُودُ الْحَدَقَةِ , فَإِنْ غَلَبَ أَحَدَكُمُ الشَّيْطَانُ , فَلْيَمْسَحْ مَسْحَةً وَاحِدَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی کنکر یوں کو چھیڑنے سے اپنا ہاتھ روک کر رکھے یہ اس کے حق میں ایسی سو اونٹیوں سے بہتر ہے جن سب کی آنکھوں کی پتلیاں سیاہ ہوں اگر تم میں سے کسی پر شیطان غالب آہی جائے تو صرف ایک مرتبہ برابر کر لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15124]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شرحبيل بن سعد، وانظر: 14514
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شرحبيل بن سعد، وانظر: 14514
حدیث نمبر: 15125 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَزْعُمُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الصُّوَرِ فِي الْبَيْتِ , وَنَهَى الرَّجُلَ أَنْ يَصْنَعَ ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گھر میں تصویریں رکھنے اور بنانے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15125]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15126 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ , وَإِنِّي اشْتَرَطْتُ عَلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَيُّ عَبْدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ سَبَبْتُهُ أَوْ شَتَمْتُهُ , أَنْ يَكُونَ لَهُ ذَلِكَ زَكَاةً وَأَجْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں بھی ایک انسان ہوں اور میں نے اپنے پروردگار سے یہ وعدہ لے رکھا ہے کہ میرے منہ سے جس مسلمان کے متعلق سخت کلمات نکل جائیں وہ اس کے لئے باعث تذکیہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15126]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2602
الحكم: إسناده صحيح، م: 2602
حدیث نمبر: 15127 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي حَجَّاجٌ , قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ , ظَاهِرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ"، قَالَ:" فَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ , فَيَقُولُ: أَمِيرُهُمْ تَعَالَ صَلِّ بِنَا، فَيَقُولُ: لَا , إِنَّ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ أُمَرَاءُ , تَكْرِمَةَ اللَّهِ هَذِهِ الْأُمَّةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے میری امت کا ایک گروہ قیامت تک ہمیشہ حق پر قتال کرتا رہے گا اور غالب رہے گا یہاں تک کہ سیدنا عیسیٰ نازل ہو جائیں گے تو ان کا امیر عرض کر ے گا کہ آپ آگے بڑھ کر نماز پڑھائیے لیکن وہ جواب دیں گے نہیں تم میں سے بعض بعض پر امیر ہیں تاکہ اللہ اس امت کا اعزاز فرماسکے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15127]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 156
الحكم: إسناده صحيح، م: 156
حدیث نمبر: 15128 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِشَهْرٍ:" تَسْأَلُونِي عَنِ السَّاعَةِ , وَإِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللَّهِ , وَأُقْسِمُ بِاللَّهِ , مَا عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ الْيَوْمَ يَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے وصال سے ایک ماہ قبل یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگ مجھ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں حالانکہ اس کا حقیقی علم تو اللہ ہی کے پاس ہے البتہ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ آج جو شخص زندہ ہے سو سال نہیں گزرنے پائیں گے کہ وہ زندہ رہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15128]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2538
الحكم: إسناده صحيح، م: 2538
حدیث نمبر: 15129 مسند احمد
سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ , حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ , حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: كَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ , فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: يَا لَلْأَنْصَارِ، وَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ: يَا لَلْمُهَاجِرِينَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا مَا بَالُ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ , دَعُوا الْكَسْعَةَ , فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دو غلام آپس میں لڑ پڑے جن میں سے ایک مہاجر کا دوسرا کسی انصاری کا تھا مہاجر نے مہاجرین کو اور انصاری نے انصار کو آوازیں دے کر بلانا شروع کر دیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ آواز سن کر باہر تشریف لائے اور فرمایا: ان بدبودار نعروں کو چھوڑ دو پھر فرمایا: یہ جاہلیت کی کیسی آوازیں ہیں یہ زمانہ جاہلیت کی کیسی آوازیں ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15129]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3518، م: 2584
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3518، م: 2584
حدیث نمبر: 15130 مسند احمد
زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الطُّفَيْلِ ، مَنْصُورٌ ، سَالِمٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الطُّفَيْلِ , قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَسَمِعْت أَبِي مَرَّةً، يَقُولُ: حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الطُّفَيْلِ الْبَكَّائِيُّ الْعَامِرِيُّ , حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ فَسَمَّاهُ مُحَمَّدًا , فَقُلْنَا: لَا نَدَعُكَ تُسَمِّيهِ مُحَمَّدًا بِاسْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى الرَّجُلُ بِابْنِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّهُ وُلِدَ لِي غُلَامٌ , وَإِنِّي سَمَّيْتُهُ بِاسْمِكَ , فَأَبَى قَوْمِي أَنْ يَدْعُونِي، قَالَ:" بَلَى , تَسَمَّوْا بِاسْمِي , وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي , فَإِنِّي قَاسِمٌ أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا انہوں نے اس کا نام محمد رکھ دیا ہم نے ان سے کہا کہ ہم تمہیں یہ کیفیت نہیں دیں گے تاآنکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھ لیں چنانچہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آ کر دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے نام پر نام رکھ لیا کر و لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کر و کیونکہ میں تمہارے درمیان تقسیم کرنے والابنا کر بھیجا گیا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15130]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3114، م: 2133
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3114، م: 2133
حدیث نمبر: 15131 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ , قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ , وَثِيَابٌ لَهُ عَلَى السَّرِيرِ , أَوِ الْمِشْجَبِ ," فَقَامَ مُتَوَشِّحًا بِثَوْبِهِ , ثُمَّ صَلَّى" , ثُمَّ قَالَ لَهُمْ حِينَ انْصَرَفَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى هَكَذَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عاصم بن عبیداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے یہاں گیا نماز کا وقت ہوا تو وہ ایک کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھ رہے تھے حالانکہ دوسرے کپڑے ان کے قریب ہی چار پائی پر پڑے تھے جب انہوں نے سلام پھیرا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15131]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله