بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 25 از 60
حدیث نمبر: 14592 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَهُوَ أَبُو إِبْرَاهِيمَ الْمُعَقِّبُ ، عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، مُجَالِدٍ ، الشَّعْبِيِّ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَهُوَ أَبُو إِبْرَاهِيمَ الْمُعَقِّبُ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" السَّائِبَةُ، وقَالَ خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ: السَّائِمَةُ جُبَارٌ، وَالْجُبُّ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ"، قَالَ: قَالَ الشَّعْبِيُّ الرِّكَازُ الْكَنْزُ الْعَادِي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: چراگاہ میں چرنے والے جانور یا بتوں کے نام پر چھوڑے ہوئے جانور سے مارا جانے والا رائیگاں گیا کنوئیں میں مرنے والا کا خون رائیگاں گیا کان میں مرنے والے کا خون رائیگاں گیا اور زمین کے دفینے میں بیت المال کا پانچواں حصہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14592]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد بن سعيد
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد بن سعيد
حدیث نمبر: 14593 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ ، مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، الشَّعْبِيُّ ، جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي الشَّعْبِيُّ ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَنَّ الْجَزُورَ وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ طریقہ مقرر کیا ہے کہ سات آدمیوں کی طرف سے ایک اونٹ اور سات ہی کی طرف سے ایک گائے ذبح کی جاسکتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14593]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد بن سعيد، وانظر: 14116 و 14127
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد بن سعيد، وانظر: 14116 و 14127
حدیث نمبر: 14594 مسند احمد
يُونُسُ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ الْغَسِيلِ ، شُرَحْبِيلُ أَبُو سَعْدٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ الْغَسِيلِ ، حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ أَبُو سَعْدٍ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يُصَلِّي، فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، وَحَوْلَهُ ثِيَابٌ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ، قَالَ: قُلْتُ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، تُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَهَذِهِ ثِيَابُكَ إِلَى جَنْبِكَ؟! قَالَ: أَرَدْتُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيَّ الْأَحْمَقُ مِثْلُكَ، فَيَرَانِي أُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، أَوَكَانَ لِكُلِّ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَانِ؟ قَالَ: ثُمَّ أَنْشَأَ جَابِرٌ يُحَدِّثُنَا، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا مَا اتَّسَعَ الثَّوْبُ، فَتَعَاطَفْ بِهِ عَلَى مَنْكِبَيْكَ، ثُمَّ صَلِّ، وَإِذَا ضَاقَ عَنْ ذَاكَ، فَشُدَّ بِهِ حَقْوَيْكَ، ثُمَّ صَلِّ مِنْ غَيْرِ رِدَاءٍ لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شرحبیل کہتے ہیں ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے یہاں گئے وہ ایک کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھ رہے تھے حالانکہ دوسرے کپڑے ان کے قریب پڑے ہوئے تھے جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں نے ان سے کہا کہ اے عبداللہ اللہ تعالیٰ آپ کی بخشش فرمائے آپ ایک کپڑے میں نماز پڑھ رہے ہیں جبکہ آپ کے پہلو میں اور بھی کپڑے موجود ہیں انہوں نے فرمایا کہ میں نے یہ اس لئے کیا ہے کہ تم جیسے احمق بھی دیکھ لیں پھر فرمایا کہ میں ایک کپڑے میں نماز پڑھ رہاہوں کیا صحابی کے پاس دو کپڑے ہوتے تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز پڑھنے لگو اور تمہارے جسم پر ایک ہی کپڑا ہواور وہ کشادہ ہو تو اسے خوب اچھی طرح لپیٹ لو اور اگر تنگ ہو تو اس کا تہنبد بنالو اور پھر نماز پڑھو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14594]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وأخرج المرفوع منه ضمن حديث طويل مسلم: 3010، وهذا إسناد ضعيف لضعف شرحبيل بن سعد المدني
الحكم: حديث صحيح، وأخرج المرفوع منه ضمن حديث طويل مسلم: 3010، وهذا إسناد ضعيف لضعف شرحبيل بن سعد المدني
حدیث نمبر: 14595 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" غِلَظُ الْقُلُوبِ وَالْجَفَاءُ فِي أَهْلِ الْمَشْرِقِ، وَالْإِيمَانُ فِي أَهْلِ الْحِجَازِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دلوں کی سختی اور ظلم وجفا مشرقی لوگوں میں ہوتا ہے اور ایمان اہل حجاز میں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14595]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 53
الحكم: إسناده صحيح، م: 53
حدیث نمبر: 14596 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَزْعُمُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الصُّوَرِ فِي الْبَيْتِ، وَنَهَى الرَّجُلَ أَنْ يَصْنَعَ ذَلِكَ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ زَمَنَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِالْبَطْحَاءِ، أَنْ يَأْتِيَ الْكَعْبَةَ فَيَمْحُوَ كُلَّ صُورَةٍ فِيهَا، وَلَمْ يَدْخُلْ الْبَيْتَ حَتَّى مُحِيَتْ كُلُّ صُورَةٍ فِيهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گھر میں تصویریں رکھنے سے منع فرمایا ہے اور فتح مکہ کے زمانے میں جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مقام بطحا میں تھے تو سیدنا عمر کو حکم دیا کہ خانہ کعبہ پہنچ کر اس میں موجود تمام تصویریں مٹا ڈالیں اور اس وقت تک آپ خانہ کعبہ میں داخل نہیں ہوئے جب تک اس میں موجود تمام تصویروں کو مٹا نہیں دیا گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14596]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14597 مسند احمد
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ، فَإِذَا أَصَبْتَ دَوَاءَ الدَّاءِ، بَرَأَ بِإِذْنِ اللَّهِ تَعَالَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اشاد فرمایا: ہر بیماری کا علاج ہوتا ہے جب دوا کسی بیماری پر جا کر لگتی ہے تو اللہ کے حکم سے شفا ہو جاتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14597]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2204، وأبو الزبير لم يصرح بالسماع من جابر
الحكم: حديث صحيح، م: 2204، وأبو الزبير لم يصرح بالسماع من جابر
حدیث نمبر: 14598 مسند احمد
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرٌو ، بُكَيْرًا ، عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ، أَنَّ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَادَ الْمُقَنَّعَ، فَقَالَ: لَا أَبْرَحُ حَتَّى تَحْتَجِمَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ فِيهِ الشِّفَاءَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ مقنع کی عیادت کے لئے گئے تو فرمایا کہ میں اس وقت تک یہاں سے نہیں جاؤں گا جب تک تم سینگی نہ لگوالو کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس میں شفاء ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14598]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5697، م: 2205
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5697، م: 2205
حدیث نمبر: 14599 مسند احمد
حَسَنٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ مَوْلَى حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ مَوْلَى حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنِ النُّهْبَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوٹ مار کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14599]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله بن لهيعة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله بن لهيعة
حدیث نمبر: 14600 مسند احمد
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرٌو ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَعْمَلُ لِأَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ، أَمْ لِأَمْرٍ نَأْتَنِفُهُ، قَالَ:" لِأَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ"، فَقَالَ سُرَاقَةُ فَفِيمَ الْعَمَلُ إِذًا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ عَامِلٍ مُيَسَّرٌ لِعَمَلِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ! ہمارا عمل کس مقصد کے لئے ہے کیا قلم لکھ کر اسے خشک ہو گئے اور تقدیر کا حکم نافذ ہو گیا پھر ہم اپنی تقدیر خود ہی بناتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قلم اسے لکھ کر خشک ہو چکے ہیں اور تقدیر کا حکم نافذ ہو گیا سیدنا سراقہ نے پوچھا کہ پھر عمل کا کیا فائدہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ عمل کرتے رہو کیونکہ ہر ایک کے لئے اسی عمل کو آسان کر دیا جائے گا جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14600]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2648
الحكم: إسناده صحيح، م: 2648
حدیث نمبر: 14601 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ وَجَدَ سَعَةً فَلْيُكَفِّنْ فِي ثَوْبِ حِبَرَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کے پاس گنجائش ہواسے کفن کے لئے دھاری دار یمنی کپڑا استعمال کرنا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14601]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله بن لهيعة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله بن لهيعة
حدیث نمبر: 14602 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" عُذِّبَتْ امْرَأَةٌ فِي هِرٍّ أَوْ هِرَّةٍ، رَبَطَتْهُ حَتَّى مَاتَ، وَلَمْ تُرْسِلْهُ، فَيَأْكُلَ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ، فَوَجَبَتْ لَهَا النَّارُ بِذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک عورت کو اس بلی کی وجہ سے عذاب ہوا جس نے اسے باندھ دیا تھا خود اسے کھلایا اور نہ ہی اسے چھوڑا کہ وہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھا کر اپناپیٹ بھر لیتی حتی کہ وہ اس حال میں مرگئی تو اس کے لئے جہنم واجب ہو گئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14602]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 904، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
الحكم: حديث صحيح، م: 904، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14603 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا ، أَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ"؟ قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فرمایا: تھا کہ زمین کے دفینے میں بیت المال کے لئے پانچوں حصہ واجب ہے انہوں نے فرمایا: ہاں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14603]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14604 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الْعَبْدُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انسان اسی کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14604]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14605 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَدِّدُوا وَأَبْشِرُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: راہ راست اختیار کر و اور خوشخبری حاصل کر و۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14605]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، وله شاهد من حديث أبى هريرة عند البخاري: 39
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، وله شاهد من حديث أبى هريرة عند البخاري: 39
حدیث نمبر: 14606 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، زَجَرْتُ أَنْ يُسَمَّى بَرَكَةُ وَيَسَارٌ وَنَافِعٍ، قَالَ جَابِرٌ: لَا أَدْرِي ذَكَرَ رَافِعًا أَمْ لَا، إِنَّهُ يُقَالُ لَهُ: هَاهُنَا بَرَكَةٌ؟ فَيُقَالُ: لَا، وَيُقَالُ: هَاهُنَا يَسَارٌ؟ فَيُقَالُ: لَا"، قَالَ: فَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَزْجُرْ عَنْ ذَلِكَ، فَأَرَادَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنْ يَزْجُرَ عَنْهُ ثُمَّ تَرَكَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر میں زندہ رہا تو ان شاء اللہ سختی سے لوگوں کو برکت، یسار اور نافع جیسے نام رکھنے سے منع کر دوں گا اب مجھے یہ یاد نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رافع کا نام بھی ذکر کیا تھا یا نہیں؟ اور وجہ یہ بیان فرمائی کہ کوئی کسی سے پوچھتا ہے کہ یہاں برکت ہے وہ جواب دیتا ہے نہیں کوئی پوچھتا ہے کہ یہاں کوئی یسار (آسانی) ہے وہ جواب دیتا ہے کہ نہیں لیکن اس سے قبل ہی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہو گیا پھر سیدنا عمر نے اسے سختی سے روکنے کا ارادہ کیا لیکن پھر اسے ترک کر دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14606]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2138، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
الحكم: حديث صحيح، م: 2138، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14607 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَخْبَرَنِي جَابِرٌ ، أَنَّ أَمِيرَ الْبَعْثِ كَانَ غَالِبًا اللَّيْثِيَّ، وَقُطْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الَّذِي دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّخْلَ وَهُوَ مُحْرِمٌ ثُمَّ خَرَجَ مِنَ الْبَابِ، وَقَدْ تَسَوَّرَ مِنْ قِبَلِ الْجِدَارِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ الَّذِي سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَقَدْ خَلَتْ اثْنَانِ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْتَمِسْهَا فِي هَذِهِ السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ الَّتِي بَقِينَ مِنَ الشَّهْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی لشکر کے امیر غالب لیثی اور قطبہ بن عامر تھے جو کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک باغ میں آئے تھے جبکہ وہ محرم تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھوڑی دیر بعد دروازے سے نکلے تو دیوار کی جانب آڑ لے کر چلنے لگے ان میں ہی عبداللہ بن انیس بھی تھے جنہوں نے ماہ رمضان کی بائیس راتیں گزرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے شب قدر کے متعلق پوچھا: تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ مہینے کی اب جو سات راتیں بچ گئیں ہیں ان میں ہی شب قدر تلاش کر و۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14607]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف من أجل ابن لهيعة
الحكم: إسناده ضعيف من أجل ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14608 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِذَا تَغَوَّطَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَمْسَحْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء میں جائے تو تین مرتبہ پتھر استعمال کر ے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14608]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الضعف ابن لهيعة، وانظر: 14128
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الضعف ابن لهيعة، وانظر: 14128
حدیث نمبر: 14609 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ السُّجُودِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ أَنْ يُعْتَدَلَ فِي السُّجُودِ، وَلَا يَسْجُدَ الرَّجُلُ وَهُوَ بَاسِطٌ ذِرَاعَيْهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سجدے کی کیفیت کے متعلق سوال پوچھا: انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سجدے میں اعتدال کا حکم فرماتے ہوئے سنا ہے اور کوئی شخص باز بچھا کر سجدہ نہ کر ے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14609]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14610 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا سَمِعَ نِدَاءَ الصَّلَاةِ، فَرَّ بُعْدَ مَا بَيْنَ الرَّوْحَاءِ وَالْمَدِينَةِ لَهُ ضُرَاطٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب مؤذن اذان دیتا ہے تو شیطان اتنی دور بھاگ جاتا ہے جتنا فاصلہ روحاء تک ہے اور وہ پیچھے سے آواز خارج کرتا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14610]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 388، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
الحكم: حديث صحيح، م: 388، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14611 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا أَسَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: فِي كَثْرَةِ خُطَا الرَّجُلِ إِلَى الْمَسْجِدِ شَيْئًا؟ فَقَالَ: هَمَمْنَا أَنْ نَنْتَقِلَ مِنْ دُورِنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لِقُرْبِ الْمَسْجِدِ، فَزَجَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، وَقَالَ:" لَا تُعْرُوا الْمَدِينَةَ، فَإِنَّ لَكُمْ فَضِيلَةً عَلَى مَنْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ بِكُلِّ خُطْوَةٍ دَرَجَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مسجد کی طرف بکثرت چل کر جانے کے متعلق کچھ فرماتے ہوئے سنا ہے انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ ہمارا ارادہ ہوا کہ مسجد کے قریب منتقل ہو جائیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے ہمیں سختی سے روکتے ہوئے فرمایا: مدینہ خالی نہ کر و کیونکہ مسجد کے قریب والوں پر تمہیں ہر قدم کے بدلے ایک درجہ فضیلت ملتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14611]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، وأنظر:14566
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، وأنظر:14566