بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 39 از 60
حدیث نمبر: 14872 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ ، مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ" نَهَانَا عَنْ أَنْ نَسْتَدْبِرَ الْقِبْلَةَ، أَوْ نَسْتَقْبِلَهَا بِفُرُوجِنَا إِذَا أَهْرَقْنَا الْمَاءَ"، قَالَ: ثُمَّ رَأَيْتُهُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِعَامٍ، يَبُولُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا: تھا کہ جب ہم پانی بہانے کے لئے جائیں تو خانہ کعبہ کی جانب شرمگاہ کا رخ یا پشت کر یں لیکن اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان کے وصال سے ایک سال قبل میں نے خود قبلہ کی جانب رخ کر کے پیشاب کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14872]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل ابن إسحاق
الحكم: إسناده حسن من أجل ابن إسحاق
حدیث نمبر: 14873 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، مُعَاذُ بْنُ رِفَاعَةَ الْأَنْصَارِيُّ، ثُمَّ الزُّرَقِيُّ ، مَحْمُودِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ رِفَاعَةَ الْأَنْصَارِيُّ، ثُمَّ الزُّرَقِيُّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا إِلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ حِينَ تُوُفِّيَ، قَالَ: فَلَمَّا صَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَوُضِعَ فِي قَبْرِهِ، وَسُوِّيَ عَلَيْهِ، سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَبَّحْنَا طَوِيلًا، ثُمَّ كَبَّرَ، فَكَبَّرْنَا، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ سَبَّحْتَ، ثُمَّ كَبَّرْتَ؟، قَالَ:" لَقَدْ تَضَايَقَ عَلَى هَذَا الْعَبْدِ الصَّالِحِ قَبْرُهُ، حَتَّى فَرَّجَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب سیدنا سعد بن معاذ فوت ہو گئے تو ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نکلے جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کی نماز جنازہ سے فارغ ہوئے انہیں قبر میں رکھ کر اینٹیں برابر کر دی گئیں تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیر تک تسبیح کی ہم بھی تسبیح کرتے رہے پھر تکبیر کہی ہم بھی تکبیر کہتے رہے کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ نے یہ تسبیح اور تکبیر کیوں کہی فرمایا کہ اس بندہ صالح پر قبر تنگ ہو گئی تھی بعد میں اللہ نے کشادہ کر دی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14873]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، وانظر: 15029
الحكم: إسناده حسن، وانظر: 15029
حدیث نمبر: 14874 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنِ سَعِيدٍ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" اسْتَكْثِرُوا مِنَ النِّعَالِ، فَإِنَّ الرَّجُلَ لَا يَزَالُ رَاكِبًا مَا انْتَعَلَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جوتی کثرت سے پہنا کر و کیونکہ جب تک آدمی جوتی پہنا رہے گا گویا وہ سواری پر سوار رہتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14874]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، قاله أحمد شاكر، م: 2096، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
الحكم: إسناده حسن، قاله أحمد شاكر، م: 2096، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14875 مسند احمد
قُتَيْبَةُ ، بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَمْرِو بْنِ جَابِرٍ الْحَضْرَمِيِّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ جَابِرٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْفَارُّ مِنَ الطَّاعُونِ، كَالْفَارِّ مِنَ الزَّحْفِ، وَالصَّابِرُ فِيهِ لَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو طاعون کے متعلق فرماتے ہوئے سنا ہے کہ طاعون سے بھاگنے والا شخص میدان جنگ سے بھاگنے والے شخص کی طرح ہوتا ہے اور اس میں صبر کرنے والے شخص کو شہید جیسا ثواب ملتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14875]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عمرو بن جابر الحضرمي
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عمرو بن جابر الحضرمي
حدیث نمبر: 14876 مسند احمد
قُتَيْبَةُ ، الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٍ ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الْمُخَابَرَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ، وَالْمُحَاقَلَةِ، وَبَيْعِ الثَّمَرِ، حَتَّى يُطْعَمَ إِلَّا الْعَرَايَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیع محاقلہ ' مزابنہ ' بٹائی کئی سالوں کے ٹھیکے پر پھلوں کی فروخت منع فرمایا ہے البتہ اس بات کی اجازت دی ہے کہ کوئی شخص اپنے باغ کو عاریۃ کسی غریب کو حوالے کر دے۔ فائدہ: ان فقہی اصطلاحات کے لئے کتب فقہ کی طرف رجوع کیا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14876]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2381، م: 1536
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2381، م: 1536
حدیث نمبر: 14877 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، الْمُنْكَدِرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، أَبِيهِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُنْكَدِرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ، وَإِنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ، وَأَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ أَخِيكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر نیکی صدقہ ہے اور یہ بھی نیکی ہے کہ تم اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے مل لو یا اس کے برتن میں اپنے ڈول سے کچھ پانی ڈال دو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14877]
حکم دارالسلام
صحيح بطرقه وشواهده، خ- الشطر الأول-: 6021، وهذا إسناد ضعيف لضعف المنكدر بن محمد بن المنكدر
الحكم: صحيح بطرقه وشواهده، خ- الشطر الأول-: 6021، وهذا إسناد ضعيف لضعف المنكدر بن محمد بن المنكدر
حدیث نمبر: 14878 مسند احمد
قُتَيْبَةُ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" طَائِرُ كُلِّ إِنْسَانٍ فِي عُنُقِهِ"، قَالَ ابْنُ لَهِيعَةَ: يَعْنِي الطِّيَرَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ہر بندہ کا پرندہ (نامہ اعمال) اس کی گردن میں لٹکا ہوا ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14878]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14879 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا أَحَدٌ يَدْعُو بِدُعَاءٍ، إِلَّا آتَاهُ اللَّهُ مَا سَأَلَ، أَوْ كَفَّ عَنْهُ مِنَ السُّوءِ مِثْلَهُ، مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمٍ، أَوْ بِقَطِيعَةِ رَحِمٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے انسان جو دعاء بھی مانگتا ہے اللہ اسے وہ ضرور عطاء فرماتا ہے یا اس سے اسی جیسی کوئی مصیبت یا کوئی پریشانی ٹال دیتا ہے جب تک وہ کسی گناہ یا قطع رحمی کی دعاء نہ کر ے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14879]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14880 مسند احمد
قُتَيْبَةُ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلًا قَدِمَ مِنْ جَيْشَانَ، وَجَيْشَانُ مِنَ الْيَمَن،، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَرَابٍ يَشْرَبُونَهُ بِأَرْضِهِمْ مِنَ الذُّرَةِ، يُقَالُ لَهُ: الْمِزْرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمُسْكِرٌ هُوَ؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، وَإِنَّ عَلَى اللَّهِ عَهْدًا لِمَنْ يَشْرَبُ الْمُسْكِرَ، أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ؟، قَالَ:" عَرَقُ أَهْلِ النَّارِ، أَوْ عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یمن کے علاقے " جیشان " سے ایک آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: وہ لوگ اپنے علاقے میں جو سے بننے والی شراب جسے " مزر " کہا جاتا ہے پیتے ہیں اس کا کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ نشہ آور ہو تی ہے اس نے کہا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہو تی ہے اور نشہ آور چیز پینے والے کے لئے اللہ کے ذمے ہے کہ اسے طینۃ الخبال پلائے صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! طینۃ الخبال سے کیا مراد ہے فرمایا: اہل جہنم کا پسینہ یا پیپ وغیرہ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14880]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر، م: 2002
الحكم: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر، م: 2002
حدیث نمبر: 14881 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَدِينِيُّ ، سُفْيَانُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ السُّلَمِيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، جَابِرٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَدِينِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ السُّلَمِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا جَابِرُ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ أَحْيَا أَبَاكَ، فَقَالَ لَهُ: تَمَنَّ عَلَيَّ، فَقَالَ: أُرَدُّ إِلَى الدُّنْيَا، فَأُقْتَلُ مَرَّةً أُخْرَى، فَقَالَ: إِنِّي قَضَيْتُ الْحُكْمَ أَنَّهُمْ إِلَيْهَا لَا يَرْجِعُونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا: جابر رضی اللہ عنہ کیا تم جانتے ہو کہ اللہ نے تمہارے باپ کو زندگی عطا کی اور اس سے پوچھا کہ کسی چیز کی خواہش ہو تو بتائے؟ اس نے جواب دیا کہ مجھے دنیا میں دوبارہ بھیج دیا جائے تاکہ ایک مرتبہ پھر شہید ہو سکوں اللہ نے فرمایا کہ میں یہ فیصلہ کر چکا ہوں کہ دنیا میں آنے والے دوبارہ لوٹ کر نہیں جائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14881]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، عبدالله بن محمد بن عقيل متابع
الحكم: إسناده حسن، عبدالله بن محمد بن عقيل متابع
حدیث نمبر: 14882 مسند احمد
عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخَطَّابِيُّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو الرَّقِّيَّ ، عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَطَاءٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخَطَّابِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو الرَّقِّيَّ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول نے ارشاد فرمایا: رمضان میں عمرہ کرنا ایک حج کے برابر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14882]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن لأجل عبدالجبار بن محمد الخطابي، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن لأجل عبدالجبار بن محمد الخطابي، وقد توبع
حدیث نمبر: 14883 مسند احمد
عَلِيٌّ ، سُفْيَانُ ، مُجَالِدٍ ، الشَّعْبِيِّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْيَهُودِ:" إِنِّي سَائِلُهُمْ عَنْ تُرْبَةِ الْجَنَّةِ، وَهِيَ دَرْمَكَةٌ بَيْضَاءُ"، فَسَأَلَهُمْ، فَقَالُوا: هِيَ خُبْزَةٌ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْخُبْزَةُ مِنَ الدَّرْمَكِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہو دیوں کے حوالے سے فرمایا کہ میں ان سے جنت کی مٹی کے بارے میں پوچھنے لگا ہوں جو کہ خالص سفید ہو گی چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا: تو وہ کہنے لگے کہ اے بوقاسم وہ روٹی جیسی ہو گی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: خالص روٹی جیسی ہو گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14883]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد بن سعيد
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد بن سعيد
حدیث نمبر: 14884 مسند احمد
بَهْزٌ ، سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تُشْقَحَ"، قَالَ: قُلْتُ لِسَعِيدٍ: مَا تُشْقَحُ؟، قَالَ: تَحْمَارُّ، وَتَصْفَارُّ، وَيُؤْكَلُ مِنْهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھل کے خوب پک کر عمدہ ہو جانے سے قبل اس کی بیع سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14884]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2196، م: 1536
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2196، م: 1536
حدیث نمبر: 14885 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ ، وَحُمَيْدٌ ، الْحَسَنِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وَحُمَيْدٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يُتَعَاطَى السَّيْفُ مَسْلُولًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ننگی تلوار (بغیر نیام کے) ایک دوسرے کو پکڑانے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14885]
حکم دارالسلام
إسناده من جهة أبى الزبير صحيح، ومن جهة الحسن منقطع، فإنه لم يسمع من جابر
الحكم: إسناده من جهة أبى الزبير صحيح، ومن جهة الحسن منقطع، فإنه لم يسمع من جابر
حدیث نمبر: 14886 مسند احمد
عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، عَطَاءٍ ، جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْعُمْرَى جَائِزَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عمربھر کے لئے کسی کو کوئی چیز دینا جائز ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14886]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2226، م: 1625
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2226، م: 1625
حدیث نمبر: 14887 مسند احمد
عَفَّانُ ، سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ، كَمَثَلِ رَجُلٍ أَوْقَدَ نَارًا، فَجَعَلَ الْفَرَاشُ وَالْجَنَادِبُ يَقَعْنَ فِيهَا، قَالَ:" وَهُوَ يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا"، قَالَ:" وَأَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ، وَأَنْتُمْ تَفَلَّتُونَ مِنْ يَدِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری اور دیگر انبیاء کی مثال اس شخص کی سی ہے جو آگ جلائے اور پروانے اور پتنگے ادھرادھر اس میں گرنے لگیں اور وہ انہیں اس سے دور رکھے میں بھی اسی طرح تمہاری کمر سے پکڑ کر تمہیں جہنم سے بچا رہا ہوں لیکن تم میرے ہاتھوں سے پھسلے جاتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14887]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2285
الحكم: إسناده صحيح، م: 2285
حدیث نمبر: 14888 مسند احمد
عَفَّانُ ، سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ، كَمَثَلِ رَجُلٍ ابْتَنَى دَارًا فَأَكْمَلَهَا وَأَحْسَنَهَا، إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَدْخُلُونَهَا وَيَعْجَبُونَ، وَيَقُولُونَ: لَوْلَا مَوْضِعُ اللَّبِنَةِ"، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَأَنَا مَوْضِعُ اللَّبِنَةِ جِئْتُ فَخَتَمْتُ الْأَنْبِيَاءَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری اور دیگر انبیاء کی مثال یہ ہے کہ ایک آدمی نے کوئی مکان بنایا ہے اور اسے مکمل کر کے خوبصورت بنایا لیکن ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی لوگ اس گھر میں داخل ہوتے اور خوش ہوتے اور کہتے کہ اگر یہ ایک اینٹ کی جگہ خالی نہ چھوڑی جاتی تو یہ عمارت مکمل ہو جاتی وہ ایک اینٹ کی جگہ میں ہوں کہ میں نے آ کر انبیاء کرام کا سلسلہ ختم کر دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14888]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3534، م: 2287
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3534، م: 2287
حدیث نمبر: 14889 مسند احمد
عَفَّانُ ، سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى عَلَى أَصْحَمَةَ النَّجَاشِيِّ، فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شاہ حبشہ نجاشی اصحمہ کی نماز جنازہ پڑھی اور اس پر چار تکبیریں کہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14889]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1334، م: 952
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1334، م: 952
حدیث نمبر: 14890 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ جَابِرٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ، وَأَذِنَ فِي لُحُومِ الْخَيْلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خیبر کے زمانہ میں پالتو گدھوں سے منع فرمایا: تھا اور گھوڑوں کے گوشت کی اجازت دی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14890]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4219، م: 1941
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4219، م: 1941
حدیث نمبر: 14891 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ أَبُو زُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ أَبُو زُبَيْدٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَيْتِ غَنَمًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیت اللہ کی طرف ہدی کے طور پر بکری بھیجی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14891]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي