بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 50 از 60
حدیث نمبر: 15092 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى , عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" أَيُّمَا عَبْدٍ تَزَوَّجَ بِغَيْرِ إِذْنٍ أَوْ قَالَ نَكَحَ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهِ فَهُوَ عَاهِرٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو غلام اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کر لیتا ہے وہ بدکاری کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15092]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، تفرد به عبدالله بن محمد ابن عقيل ولم يتابع عليه، والقاسم بن عبدالواحد المكي مقبول، وهو متابع
الحكم: إسناده ضعيف، تفرد به عبدالله بن محمد ابن عقيل ولم يتابع عليه، والقاسم بن عبدالواحد المكي مقبول، وهو متابع
حدیث نمبر: 15093 مسند احمد
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي , عَمَلُ قَوْمِ لُوطٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے اپنی امت میں سے سب سے زیادہ اندیشہ جس چیز کا ہے وہ قوم لوط کا عمل ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15093]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، القاسم بن عبدالواحد وعبدالله بن محمد بن عقيل يقبل حديثهما عند المتابعة، وقد تفردا بهذا الحديثين فلم يتابعهما عليه أحد
الحكم: إسناده ضعيف، القاسم بن عبدالواحد وعبدالله بن محمد بن عقيل يقبل حديثهما عند المتابعة، وقد تفردا بهذا الحديثين فلم يتابعهما عليه أحد
حدیث نمبر: 15094 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْحَجَّاجُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْحَيَوَانِ اثْنَانِ بِوَاحِدٍ:" لَا بَأْسَ بِهِ يَدًا بِيَدٍ , وَلَا خَيْرَ فِيهِ نَسَاءٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو جانوروں کی ایک کے بدلے ادھار خریدو فروخت سے منع کیا ہے البتہ اگر نقد معاملہ ہو تو پھر کوئی حرج نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15094]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحجاج- وهو ابن أرطاة- وأبو الزبير مدلسان ولم يصرحا بالسماع، وانظر لزاما: 14331
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحجاج- وهو ابن أرطاة- وأبو الزبير مدلسان ولم يصرحا بالسماع، وانظر لزاما: 14331
حدیث نمبر: 15095 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) أَنْبَأَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ مُزَارَعَةٌ فَأَرَادَ أَنْ يَبِيعَهَا , فَلْيَعْرِضْهَا عَلَى صَاحِبِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا بِالثَّمَنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی زمین یا باغ میں شریک ہو تو وہ اپنے شریک کے سامنے پیشکش کئے بغیر کسی دوسرے کے ہاتھ اسے فروخت نہ کر ے اگر اس کی مرضی ہو تو وہ لے لے ورنہ چھوڑ دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15095]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا الإسناد فيه عنعنة الحجاج بن أرطاة وأبي الزبير، لكن حجاجا قد توبع، وأبو الزبير قد صرح بالسماع عند غير المصنف
الحكم: حديث صحيح، وهذا الإسناد فيه عنعنة الحجاج بن أرطاة وأبي الزبير، لكن حجاجا قد توبع، وأبو الزبير قد صرح بالسماع عند غير المصنف
حدیث نمبر: 15096 مسند احمد
يَزِيدُ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الْمَقْبُرِيِّ ، الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ:" كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ , ثُمَّ نَأْتِي بَنِي سَلِمَةَ وَنَحْنُ نُبْصِرُ مَوَاقِعَ النَّبْلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز مغرب پڑھ کر ایک میل کے فاصلے پر اپنے گھروں کو واپس لوٹتے تھے تو ہمیں تیر گرنے کی جگہ بھی دیکھائی دے رہی ہو تی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15096]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15097 مسند احمد
أَبُو قَطَنٍ ، وَكَثِيرُ بنُ هِشَامٍ ، هِشَامٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، وَكَثِيرُ بنُ هِشَامٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ مِنْ وَثْء كَانَ بِوَرِكِهِ أَوْ ظَهْرِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حالت احرام میں اپنے کو ل ہے کی ہڈی یا کمر میں موچ آنے کی وجہ سے سینگی لگوائی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15097]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، أبو الزبير لم يصرح بسماعه من جابر
الحكم: صحيح لغيره، أبو الزبير لم يصرح بسماعه من جابر
حدیث نمبر: 15098 مسند احمد
أَبُو قَطَنٍ ، هِشَامٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ:" خَسَفَتِ الشَّمْسِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ , فَصَلَّى بِأَصْحَابِهِ , فَأَطَالَ الْقَيَّامَ حَتَّى جَعَلُوا يَخِرُّونَ , ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ , ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ , ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ , ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ , ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ , ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ نَحْوًا مِنْ ذَلِكَ , فَكَانَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ , وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں شدید گرمی میں سورج گرہن لگا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے صحابہ کو طویل نماز پڑھائی یہاں تک کہ لوگ گرنے لگے پھر طویل رکوع کیا پھر سر اٹھا کر دیر تک کھڑے رہے پھر طویل رکوع کیا اور پھر دیر تک سر اٹھا کر کھڑے رہے پھر دو سجدے کئے دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا یوں اس نماز میں چار رکوع اور چار سجدے ہوئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15098]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 904، وأبو الزبير قد عنعنه، وهو متابع
الحكم: حديث صحيح، م: 904، وأبو الزبير قد عنعنه، وهو متابع
حدیث نمبر: 15099 مسند احمد
عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَاصِمٌ يَعْنِي الْأَحْوَلَ ، عَامِرٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ , حَدَّثَنَا عَاصِمٌ يَعْنِي الْأَحْوَلَ , عَنْ عَامِرٍ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُزَوَّجَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا أَوْ عَلَى خَالَتِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھوپھی یاخالہ کی موجودگی میں کسی عورت سے نکاح کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15099]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5108
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5108
حدیث نمبر: 15100 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ:" أَرْخَصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رُقْيَةِ الْحُمَةِ لِبَنِي عَمْرٍو".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بنو عمر کے لئے ڈنک سے جھاڑ پھونک کرنے کی رخصت دی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15100]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2199
الحكم: إسناده صحيح، م: 2199
حدیث نمبر: 15101 مسند احمد
عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَطَاءٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عِيدٍ ," بَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ , بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عیدالفطر کے دن میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا انہوں نے بغیر اذان و اقامت کے خطبے سے پہلے نماز پڑھائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15101]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 978، م: 885، وانظر: 15085
الحكم: إسناده صحيح، خ: 978، م: 885، وانظر: 15085
حدیث نمبر: 15102 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ: لَدَغَتْ رَجُلًا مِنَّا عَقْرَبٌ , وَنَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَرْقِيهِ؟، فَقَالَ:" مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَنْفَعْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی کو بچھو نے ڈس لیا دوسرے نے کہا یا رسول اللہ! کیا میں اسے جھاڑ سکتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے بھائی کو نفع پہنچاسکتا ہواسے ایسا ہی کرنا چاہیے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15102]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2199
الحكم: إسناده صحيح، م: 2199
حدیث نمبر: 15103 مسند احمد
رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا عَدْوَى , وَلَا صَفَرَ , وَلَا غُولَ"، وَسَمِعْت أَبَا الزُّبَيْرِ يَذْكُرُ , أَنَّ جَابِرًا فَسَّرَ لَهُمْ قَوْلَهُ:" لَا صَفَرَ"، فَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: الصَّفَرُ الْبَطْنُ، قِيلَ لِجَابِرٍ: كَيْفَ هَذَا الْقَوْلُ؟، فَقَالَ: دَوَابُّ الْبَطْنِ، قَالَ: وَلَمْ يُفَسِّرْ الْغُولَ، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: مِنْ قِبَلِهِ هَذَا الْغُولُ الَّتِي تَغَوَّلُ , الشَّيْطَانَةُ الَّتِي يَقُولُونَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بیماری متعدد ہو نے صفر کا مہینہ منحوس ہو نے اور بھوت پریت کی کوئی حقیقت نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15103]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح كسابقه، م: 2222
الحكم: إسناده صحيح كسابقه، م: 2222
حدیث نمبر: 15104 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الِاثْنَيْنِ , وَطَعَامُ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الْأَرْبَعَةَ , وَطَعَامُ الْأَرْبَعَةِ يَكْفِي الثَّمَانِيَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک آدمی کا کھانا دو آدمیوں کو اور دو کا چار کو چار کا کھانا آٹھ آدمیوں کو کافی ہو جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15104]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2059
الحكم: إسناده صحيح، م: 2059
حدیث نمبر: 15105 مسند احمد
رَوْحٌ ، حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، رَجُلٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ رَجُلٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّ رَجُلًا شَابًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُهُ فِي الْخِصَاءِ , فَقَالَ:" صُمْ , وَسَلْ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ فَضْلِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نوجوان نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا اور کہنے لگا کہ کیا آپ مجھے خصی ہو نے کی اجازت دیتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: روزہ رکھا کر و اور اللہ سے اس کے فضل کا سوال کیا کر و۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15105]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة راويه عن جابر
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة راويه عن جابر
حدیث نمبر: 15106 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ: سَلَّمَ نَاسٌ مِنَ الْيَهُودِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فَقَالَ:" وَعَلَيْكُمْ"، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَغَضِبَتْ: أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا؟، قَالَ:" بَلَى , قَدْ سَمِعْتُ فَرَدَدْتُهَا عَلَيْهِمْ , إِنَّا نُجَابُ عَلَيْهِمْ , وَلَا يُجَابُونَ عَلَيْنَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ یہو دیوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سلام کرتے ہوئے کہا السام علیک یا ابا قاسم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جواب میں صرف وعلیکم کہا سیدنا عائشہ نے پردے کے پیچھے سے غصے میں کہا کہ آپ سن نہیں رہے کہ یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں میں نے سنا بھی ہے اور انہیں جواب بھی دیا ہے ان کے خلاف ہماری بددعا قبول ہو جائے گی لیکن ہمارے خلاف ان کی بددعا قبول نہیں ہو گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15106]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2166
الحكم: إسناده صحيح، م: 2166
حدیث نمبر: 15107 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ: لَبِسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَاءً مِنْ دِيبَاجٍ أُهْدِيَ لَهُ , ثُمَّ أَوْشَكَ أَنْ يَنْزِعَهُ , وَأَرْسَلَ بِهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ , فَقِيلَ: قَدْ أَوْشَكْتَ مَا نَزَعْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ:" نَهَانِي عَنْهُ جِبْرِيلُ"، فَجَاءَهُ عُمَرُ يَبْكِي , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , كَرِهْتَ أَمْرًا وَأَعْطَيْتَنِيهِ , فَمَا لِي؟، فَقَالَ:" لَمْ أُعْطِكَهُ لِتَلْبَسَهُ , إِنَّمَا أَعْطَيْتُكَهُ تَبِيعُهُ"، فَبَاعَهُ بِأَلْفَيْ دِرْهَمٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک ریشمی لباس زیب تن فرمایا: جو آپ کو کہیں سے ہدیہ میں آیا تھا پھر اسے تار سیدنا عمر کے پاس بھجوا دیا کسی نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! آپ نے اسے کیوں اتار دیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے جبرائیل نے اسے منع کیا ہے اسی اثناء میں سیدنا عمر بھی روتے ہوئے آ گئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! ایک چیز کو آپ ناپسند کرتے ہیں اور مجھے دیدیتے ہیں میرا کیا گناہ ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں یہ پہننے کے لئے نہیں دیا میں نے تمہیں یہ اس لئے دیا ہے کہ تم اسے بیچ کر اس کی قیمت اپنے استعمال میں لے آؤ چنانچہ انہوں نے اسے دوہزار درہم میں فروخت کر دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15107]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2070
الحكم: إسناده صحيح، م: 2070
حدیث نمبر: 15108 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ إِنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ , فَذَكَرَ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ وَعِنْدَ طَعَامِهِ , قَالَ الشَّيْطَانُ: مَا مِنْ مَبِيتٍ وَلَا عَشَاءٍ هَاهُنَا، وَإِذَا دَخَلَ وَلَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ , قَالَ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ وَالْعَشَاءَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جب کوئی شخص اپنے گھر میں داخل ہوا اور داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام لے تو شیطان کہتا ہے کہ یہاں تمہارے رات گزارنے کی کوئی جگہ ہے اور نہ کھانا اور اگر وہ گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ کا نام نہ لے تو وہ کہتا ہے کہ تمہیں رات گزارنے کی جگہ تو مل گئی اور اگر کھانا کھاتے وقت بھی اللہ کا نام نہ لے تو وہ کہتا ہے کہ تمہیں ٹھکانہ اور کھانا دونوں مل گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15108]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2018
الحكم: إسناده صحيح، م: 2018
حدیث نمبر: 15109 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَوْمَ الْفَتْحِ , وَهُوَ بِالْبَطْحَاءِ أَنْ يَأْتِيَ الْكَعْبَةَ فَيَمْحُوَ كُلَّ صُورَةٍ فِيهَا , وَلَمْ يَدْخُلِ الْبَيْتَ حَتَّى مُحِيَتْ كُلُّ صُورَةٍ فِيهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فتح مکہ کے زمانے میں جب مقام بطحاء میں تھے سیدنا عمر کو حکم دیا کہ خانہ کعبہ پہنچ کر اس میں موجود تمام تصویریں مٹا ڈالیں اور اس وقت تک آپ خانہ کعبہ میں داخل نہیں ہوئے جب تک اس میں موجود تصاویر کو مٹا نہیں دیا گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15109]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15110 مسند احمد
رَوْحٌ ، زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ: إِنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ أَنَّ رَأْسِي قُطِعَ , فَهُوَ يَتَجَحْدَلُ وَأَنَا أَتْبَعُهُ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ذَاكَ مِنَ الشَّيْطَانِ , فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ رُؤْيَا يَكْرَهُهَا فَلَا يَقُصَّهَا عَلَى أَحَدٍ , وَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا مجھے خواب میں ایسا محسوس ہوا کہ گویا میری گردن ماردی گئی ہو وہ لڑھکتے ہوئے آگے آگے ہے اور میں اس کے پیچھے پیچھے ہوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ شیطان کی طرف سے ہے جب تم میں سے کوئی شخص ناپسندیدہ خواب دیکھے تو وہ کسی کے سامنے اسے بیان نہ کر ے اور شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15110]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2268
الحكم: إسناده صحيح، م: 2268
حدیث نمبر: 15111 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ , أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگ خیر اور شر دونوں میں قریش کے تابع ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15111]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1819
الحكم: إسناده صحيح، م: 1819