أَبُو قَطَنٍ ، هِشَامٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ:" خَسَفَتِ الشَّمْسِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ , فَصَلَّى بِأَصْحَابِهِ , فَأَطَالَ الْقَيَّامَ حَتَّى جَعَلُوا يَخِرُّونَ , ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ , ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ , ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ , ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ , ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ , ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ نَحْوًا مِنْ ذَلِكَ , فَكَانَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ , وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں شدید گرمی میں سورج گرہن لگا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے صحابہ کو طویل نماز پڑھائی یہاں تک کہ لوگ گرنے لگے پھر طویل رکوع کیا پھر سر اٹھا کر دیر تک کھڑے رہے پھر طویل رکوع کیا اور پھر دیر تک سر اٹھا کر کھڑے رہے پھر دو سجدے کئے دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا یوں اس نماز میں چار رکوع اور چار سجدے ہوئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15098]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 904، وأبو الزبير قد عنعنه، وهو متابع
الحكم: حديث صحيح، م: 904، وأبو الزبير قد عنعنه، وهو متابع