بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 1 از 60
حدیث نمبر: 14112 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، زُهَيْرٌ ، زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ أَسْلَمَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ أَسْلَمَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا، قَال: أَشْرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَلَقٍ مِنْ أَفْلَاقِ الْحَرَّةِ وَنَحْنُ مَعَهُ، فَقَالَ:" نِعْمَتِ الْأَرْضُ الْمَدِينَةُ إِذَا خَرَجَ الدَّجَّالُ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْ أَنْقَابِهَا مَلَكٌ، لَا يَدْخُلُهَا، فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ، رَجَفَتْ الْمَدِينَةُ بِأَهْلِهَا ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ، لَا يَبْقَى مُنَافِقٌ وَلَا مُنَافِقَةٌ إِلَّا خَرَجَ إِلَيْهِ، وَأَكْثَرُ يَعْنِي مَنْ يَخْرُجُ إِلَيْهِ النِّسَاءُ، وَذَلِكَ يَوْمُ التَّخْلِيصِ، وَذَلِكَ يَوْمَ تَنْفِي الْمَدِينَةُ الْخَبَثَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيد، يَكُونُ مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنَ الْيَهُودِ، عَلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ سَاجٌ وَسَيْفٌ مُحَلًّى، فَتُضْرَبُ رَقَبَتُهُ بِهَذَا الضَّرْبِ الَّذِي عِنْدَ مُجْتَمَعِ السُّيُولِ"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا كَانَتْ فِتْنَةٌ، وَلَا تَكُونُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ، أَكْبَرَ مِنْ فِتْنَةِ الدّجَّالِ، وَلَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ حَذَّرَ أُمَّتَهُ، وَلَأُخْبِرَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مَا أَخْبَرَهُ نَبِيٌّ أُمَّتَهُ قَبْلِي"، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى عَيْنِهِ، ثُمَّ قَالَ:" أَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بِأَعْوَرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم ایک مرتبہ مقام حرہ کے کسی شگاف سے طلوع ہوئے ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہی تھے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: خروج دجال کے وقت مدینہ منورہ بہترین زمین ہو گی اس کے ہر سوراخ پر فرشتہ مقرر ہو گا جس کی وجہ سے دجال مدینہ منورہ میں داخل نہ ہو سکے گا۔ جب ایسا ہو گا تو مدینہ منورہ میں تین زلزلے آئیں گے اور کوئی منافق (خواہ وہ مرد ہو یا عورت) ایسے نہیں رہیں گے جو نکل کر دجال کے پاس چلا جائے اور ان میں بھی اکثریت خواتین کی ہو گی اسے یوم التخصیص کہا جائے گا کیونکہ یہ وہی دن ہو گا جس دن مدینہ منورہ اپنے میل کچیل کو اس طرح سے نکال دے گا جیسے لوہار کی بھٹی لوہے کے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے۔ دجال کے ساتھ ستر ہزار یہو دی ہوں گے جن میں سے ہر ایک نے سبز رنگ کی ریشمی چادر تاج اور زیورات سے مزین تلوار پہن رکھی ہو گی وہ اس جگہ پر اپنا خیمہ لگائے گا جہاں اب بارش کا پانی اکٹھا ہوتا ہے، پھر فرمایا کہ اب سے پہلے اور قیامت تک دجال سے بڑا کوئی فتنہ ہوا ہے اور نہ ہو گا اور ہر نبی نے اس سے اپنی امت کو ڈرایا ہے اور میں تمہیں اس کے متعلق ایسی بات بتاتا ہوں جو کسی نبی نے مجھ سے پہلے اپنی امت کو نہیں بتائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی آنکھ پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14112]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد منقطع، زيد - وهو ابن أسلم العدوي- لم يسمع من جابر
الحكم: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد منقطع، زيد - وهو ابن أسلم العدوي- لم يسمع من جابر
حدیث نمبر: 14113 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، قَالَ: سَأَلَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى، عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَة؟ فَقَالَ: تَبُلُّ الشَّعْرَ، وَتَغْسِلُ الْبَشَرَةَ، قَالَ: فَكَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ، قَالَ:" كَانَ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا، قَالَ: إِنَّ رَأْسِي كَثِيرُ الشَّعْرِ، قَالَ: كَانَ رَأْسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِنْ رَأْسِكَ وَأَطْيَبَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ حسن بن محمد نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے غسل جنابت کے متعلق پوچھا: انہوں نے فرمایا کہ بالوں کو خوب تربتر کر لو اور جسم کو دھو لو، انہوں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کس طرح غسل فرماتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تین مرتبہ اپنے سر سے پانی بہاتے تھے، وہ کہنے لگے کہ میرے تو بال بہت لمبے ہیں؟ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر مبارک میں تعداد کے اعتبار سے تم سے زیادہ بال تھے اور مہک کے اعتبار سے بھی سب سے زیادہ تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14113]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 14114 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبِي بِشْرٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ قَيْسٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" بَايَعْنَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے صلح حدیبیہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس بات پر بیعت کی تھی کہ ہم میدان جنگ سے راہ فرار اختیار نہیں کر یں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14114]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1856، سليمان بن قيس اليشكري سمع من جابر وكتبه عنه صحيفة ، جعفر بن أبى وحشية لم يسمع منه وإنما حدث عن صحيفة التى عن جابر وعن سلمة بن الأكوع 16509، وقد سئل: "علام بايعتم؟ قال: على الموت" وانظر الفتح: 6/ 117
الحكم: حديث صحيح، م: 1856، سليمان بن قيس اليشكري سمع من جابر وكتبه عنه صحيفة ، جعفر بن أبى وحشية لم يسمع منه وإنما حدث عن صحيفة التى عن جابر وعن سلمة بن الأكوع 16509، وقد سئل: "علام بايعتم؟ قال: على الموت" و
حدیث نمبر: 14115 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: غَزَوْنَا أَوْ سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ يَوْمَئِذٍ بِضْعَةَ عَشَرَ وَمِائَتَانِ فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ فِي الْقَوْمِ مِنْ مَاءٍ؟" فَجَاءَ رَجُلٌ يَسْعَى بِإِدَاوَةٍ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ، قَالَ: فَصَبَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَدَحٍ، قَالَ: فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ انْصَرَفَ، وَتَرَكَ الْقَدَحَ، فَرَكِبَ النَّاسُ الْقَدَحَ تَمْسَحُوا وَتَمْسَحُوا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَى رِسْلِكُم"، حِينَ سَمِعَهُمْ يَقُولُونَ ذَلِكَ، قَالَ: فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَفَّهُ فِي الْمَاءِ وَالْقَدَحِ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِسْمِ اللَّهِ"، ثُمَّ قَالَ:" أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ" فَوَالَّذِي هُوَ ابْتَلَانِي بِبَصَرِي، لَقَدْ رَأَيْتُ الْعُيُونَ، عُيُونَ الْمَاءِ، يَوْمَئِذٍ تَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فما رَفَعها حَتَّى تَوَضَّئُوا أَجْمَعُونَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک غزوہ میں ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ شریک تھے اس وقت ہم لوگ دو سو سے کچھ زائد تھے، نماز کا وقت ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: کسی کے پاس پانی ہے؟ ایک آدمی یہ سن کر دوڑتا ہوا ایک برتن لے کر آیا جس میں تھوڑا سا پانی تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پانی کو ایک پیالے میں ڈالا اور اس سے خوب اچھی طرح وضو کیا وضو کر کے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پیالہ وہیں چھوڑ آئے، لوگ اس پیالے پر ٹوٹ پڑے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی آوازیں سن کر فرمایا: رک جاؤ پھر اس پانی اور پیالے میں اپنا دست مبارک رکھ دیا اور بسم اللہ کہہ کر فرمایا: خوب اچھی طرح کامل وضو کرو اس ذات کی قسم جس نے مجھے آنکھوں کی نعمت عطاء فرمائی ہے، میں نے اس دن دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبارک انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس وقت تک نہ اٹھایا جب تک سب لوگوں نے وضو نہ کر لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14115]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 3013
الحكم: إسناده صحيح، م: 3013
حدیث نمبر: 14116 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، زُهَيْرٌ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ، مَعَنَا النِّسَاءُ وَالْوِلْدَانُ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ، طُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ"، قُلْنَا: أَيُّ الْحِلّ؟ قَالَ:" الْحِلُّ كُلُّهُ"، قَالَ: فَأَتَيْنَا النِّسَاءَ، وَلَبِسْنَا الثِّيَابَ، وَمَسِسْنَا الطِّيبَ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ، أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ، وَكَفَانَا الطَّوَافُ الْأَوَّلُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَشْتَرِكَ فِي الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ، كُلُّ سَبْعَةٍ مِنَّا فِي بَدَنَةٍ، فَجَاءَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَيِّنْ لَنَا دِينَنَا كَأَنَّا خُلِقْنَا الْآنَ، أَرَأَيْتَ عُمْرَتَنَا هَذِهِ، لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ؟ فَقَالَ:" لا، بَلْ للأَبَدِ"، قال: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَيِّنْ لَنَا دِينَنَا كَأَنَّا خُلِقْنَا الْآنَ، فِيمَا الْعَمَلُ الْيَوْمَ؟ أَفِيمَا جَفَّتْ بِهِ الْأَقْلَامُ، وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ، أَوْ فِيمَا نَسْتَقْبِلُ؟ قَالَ:" لَا، بَلْ فِيمَا جَفَّتْ بِهِ الْأَقْلَامُ، وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ"، قَالَ: فَفِيمَ الْعَمَلُ؟ قَالَ أَبُو النَّضْرِ فِي حَدِيثِهِ: فَسَمِعْتُ مَنْ سَمِعَ مِنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، يَقُولُ، قَالَ:" اعْمَلُوا، فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ"، قَالَ حَسَنٌ، قَالَ زُهَيْرٌ: ثم لم أَفَهَمْ كلامًا تكَلَّمَ به أَبُو الزُّبير، فَسَأَلْتُ يَاسِينَ، فقلتُ: كيف قال أبو الزُّبيرِ في هذا الموضعِ؟ فَقَالَ: سَمِعْتُهُ، يَقُولُ:" اعْمَلُوا، فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حج کا تلبیہ پڑھتے ہوئے روانہ ہوئے ہمارے ساتھ خواتین اور بچے بھی تھے جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو ہم نے خانہ کعبہ کا طواف کیا، صفا مروہ کی سعی کی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے پاس قربانی کا جانور نہ ہو وہ اپنا احرام کھول لے ہم نے پوچھا: اس صورت میں کیا چیزیں حلال ہو جائیں گی؟ فرمایا: سب چیزیں (جو احرام کی وجہ سے ممنوع ہو گئیں تھیں) حلال ہو جائیں گی چنانچہ اس کے بعد ہم اپنی بیویوں کے پاس بھی گئے، سلے ہوئے کپڑے بھی پہنے اور خوشبو بھی لگائی، آٹھ ذی الحجہ کو ہم نے حج کا احرام باندھا اس مرتبہ پہلے ہم نے طواف کیا اور سعی کافی ہو گئی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ایک ایک اونٹ اور گائے میں سات آدمی شریک ہو جائیں اسی دوران سیدنا سراقہ بن مالک بھی آ گئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! ہمارے لئے دین کو اس طرح واضح کر دیجئے کہ گویا ہم ابھی پیدا ہوئے ہیں، کیا عمرہ کا صرف حکم اس سال کے لئے ہے یا ہمیشہ کے لئے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ہمیشہ کے لئے ہے، پھر انہوں نے کہا یا رسول اللہ! ہمارے لئے دین کو اس طرح واضح کر دیجئے کہ گویا ہم ابھی پیدا ہوئے ہیں آج کا عمل کس مقصد کے لئے ہے، کیا قلم اسے لکھ کر خشک ہو چکے اور تقدیر کا حکم نافذ ہو گیا؟ یا پھر ہم اپنی تقدیر خود بناتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قلم اسے لکھ کر خشک ہو چکے ہیں اور تقدیر کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے انہوں نے پوچھا کہ پھر عمل کا کیا فائدہ؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ عمل کرتے رہو کیونکہ ہر ایک کے لئے اس کے عمل کو آسان کر دیا جائے گا جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14116]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1213 و 2648
الحكم: إسناده صحيح، م: 1213 و 2648
حدیث نمبر: 14117 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، زُهَيْرٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا غُولَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بیماری متعدی ہونے، بدشگونی اور بھوت پریت کی کوئی حقیقت نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14117]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2222
الحكم: إسناده صحيح، م: 2222
حدیث نمبر: 14118 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، زُهَيْرٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِر
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِر ، قَالَ يَحْيَى فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ، فَلَا يَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ، حَتَّى يُصْلِحَ شِسْعَهُ، وَلَا يَمْشِ فِي خُفٍّ وَاحِدَةٍ، وَلَا يَأْكُلْ بِشِمَالِهِ، وَلَا يَحْتَبيِ بِالثَّوْبِ الْوَاحِدِ، وَلَا يَلْتَحِفُ الصَّمَّاءَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کسی کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ صرف ایک جوتی پہن کر نہ چلے جب تک دوسرے کو ٹھیک نہ کر لے اور صرف ایک موزہ پہن کر بھی نہ چلے، بائیں ہاتھ سے نہ کھائے، ایک کپڑے میں اپنا جسم نہ لپیٹے اور نہ ہی گوٹ مار کر بیٹھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14118]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2099، وقد صرح أبو الزبير بسماعه من جابر عند المصنف برقم: 14187، فانتفت شبهة تدليسه
الحكم: إسناده صحيح، م: 2099، وقد صرح أبو الزبير بسماعه من جابر عند المصنف برقم: 14187، فانتفت شبهة تدليسه
حدیث نمبر: 14119 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي كَرِب ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي كَرِب ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ إِلَى خَشَبَةٍ، فَلَمَّا جُعِلَ مِنْبَرٌ، حَنَّتْ حَنِينَ النَّاقَةِ إِلَى وَلَدِهَا، فَأَتَاهَا، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا، فَسَكَنَتْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک لکڑی پر سہارا لگا کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے، جب منبر بن گیا تو لکڑی کا وہ تنا اس طرح رونے لگا جیسے اونٹنی اپنے بچے کے لئے روتی ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے پاس چل کر آئے اور اپنا دست مبارک اس پر رکھا تو وہ خاموش ہوا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14119]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 918
الحكم: إسناده صحيح، خ: 918
حدیث نمبر: 14120 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14120]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 353، م: 518، وأبو الزبير قد صرح بالسماع عند غير المصنف
الحكم: إسناده صحيح، خ: 353، م: 518، وأبو الزبير قد صرح بالسماع عند غير المصنف
حدیث نمبر: 14121 مسند احمد
يَحْيَى ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ بِشِمَالِهِ، أَوْ يَمْشِيَ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ، أَوْ يَحْتَبيِ بِثَوْبٍ وَاحِدٍ، أَوْ يَشْتَمِلَ الصَّمَّاءَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کسی کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ صرف ایک جوتی پہن کر نہ چلے جب تک دوسری کو نہ ٹھیک کر لے اور صرف ایک موزہ پہن کر بھی نہ چلے، بائیں ہاتھ سے نہ کھائے، ایک کپڑے میں اپنا جسم نہ لپیٹے اور نہ ہی گوٹ مار کر بیٹھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14121]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2099
الحكم: إسناده صحيح، م: 2099
حدیث نمبر: 14122 مسند احمد
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ: رَأَيْتُ أَشْعَثَ بْنَ سَوَّارٍ عِنْدَ أَبِي الزُّبَيْرِ قَائِمًا، وَهُوَ يَقُولُ: كَيْفَ قَالَ؟ وَإِيشِ قَالَ؟.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زہیر کہتے ہیں کہ میں نے اشعث بن سوار کو ابوالزبیر کے پاس کھڑے ہوئے دیکھا اور وہ کہہ رہے تھے کہ انہوں نے کیا فرمایا؟ کیسے فرمایا؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14122]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، والإمام أحمد يورد هذه الحكاية مشيرا إلى أن الزبير المكي كان يجلس فى مجلسه المشاهير والقضاة مثل أشعث بن سوار، قاله أحمد شاكر
الحكم: إسناده صحيح، والإمام أحمد يورد هذه الحكاية مشيرا إلى أن الزبير المكي كان يجلس فى مجلسه المشاهير والقضاة مثل أشعث بن سوار، قاله أحمد شاكر
حدیث نمبر: 14123 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، زَائِدَةُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ الْمُقَدَّمُ، وَشَرُّهَا الْمُؤَخَّرُ، وَشَرُّ صُفُوفِ النِّسَاءِ الْمُقَدَّمُ، وَخَيْرُهَا الْمُؤَخَّرُ"، ثُمَّ قَالَ:" يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، إِذَا سَجَدَ الرِّجَالُ، فَاغْضُضْنَ أَبْصَارَكُنَّ، لَا تَرَيْنَ عَوْرَاتِ الرِّجَالِ مِنْ ضِيقِ الْأُزُرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مردوں کی صفوں میں سب سے بہترین صف پہلی ہوتی ہے اور سب سے کم ترین آخری صف ہوتی ہے، جب کہ خواتین کی صفوں میں سب سے کم ترین صف پہلی ہوتی ہے اور سب سے بہترین صف آخری صف ہوتی ہے، پھر فرمایا: اے گروہ خواتین! جب مرد سجدے میں جایا کریں تو اپنی نگاہ پست رکھیں اور تہبندوں کے سوراخوں میں سے مردوں کی شرمگاہیں نہ دیکھا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14123]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل عبدالله بن محمد بن عقيل
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل عبدالله بن محمد بن عقيل
حدیث نمبر: 14124 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَيْوَةُ ، أَبُو هَانِئٍ ، أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، يَقُولُ: إِنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ بَرَكَ بِهِ بَعِيرٌ قَدْ أَزْحَفَ بِهِ، فَمَرَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ:" مَا لَكَ يَا جَابِر؟" فَأَخْبَرَهُ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَعِيرِ، ثُمَّ قَالَ:" ارْكَبْ يَا جَابِرُ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ لَا يَقُومُ، فَقَالَ لَهُ:" ارْكَبْ" فَرَكِبَ جَابِرٌ الْبَعِيرَ، ثُمَّ ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَعِيرَ بِرِجْلِهِ، فَوَثَبَ الْبَعِيرُ وَثْبَةً لَوْلَا أَنَّ جَابِرًا تَعَلَّقَ بِالْبَعِيرِ، لَسَقَطَ مِنْ فَوْقِهِ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجَابِرٍ:" تَقَدَّمْ يَا جَابِرُ، الْآنَ عَلَى أَهْلِكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، تَجِدْهُمْ قَدْ يَسَّرُوا لَكَ كَذَا وَكَذَا" حَتَّى ذَكَرَ الْفُرُشَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فِرَاشٌ لِلرَّجُلِ، وَفِرَاشٌ لِامْرَأَتِهِ، وَالثَّالِثُ لِلضَّيْفِ، وَالرَّابِعُ لِلشَّيْطَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا اونٹ بیٹھ گیا اور اس نے انہیں تھکا دیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وہاں سے گزر ہوا تو پوچھا: جابر! تمہیں کیا ہوا؟ انہوں نے سارا ماجرا ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتر کر اونٹ کے پاس آئے اور فرمایا: جابر! اس پر سوار ہو جاؤ، وہ کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! یہ تو کھڑا ہی نہیں ہو سکتا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اس پر سوار ہو جاؤ، چنانچہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ اس پر سوار ہو گئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس اونٹ کو اپنے پاؤں سے ٹھوکر ماری اور اونٹ اس طرح اچھل کر کھڑا ہو گیا کہ اگر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ چمٹ نہ گئے ہوتے تو گر جاتے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جابر! اب تم اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ، تم دیکھو گے کہ انہوں نے تمہارے لئے فلاں فلاں چیز تیار کی ہے حتیٰ کہ بستر کا تذکر ہ فرمایا اور فرمایا کہ ایک بستر مرد کا ہوتا ہے اور ایک عورت کا ہوتا ہے، ایک بستر مہمان کا ہوتا ہے اور چوتھا بستر شیطان کا ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14124]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2084
الحكم: إسناده صحيح، م: 2084
حدیث نمبر: 14125 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِثَلَاثٍ، يَقُولُ:" لَا يَمُوتَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ بِاللَّهِ الظَّنَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو وصال سے تین دن پہلے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جس شخص کو بھی موت آئے، وہ اس حال میں ہو کہ اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھتا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14125]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 2877
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 2877
حدیث نمبر: 14126 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمْسِكُوا عَلَيْكُمْ أَمْوَالَكُمْ َلَا تُعْطُوهَا أَحَدًا، فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا، فَهُوَ لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنے مال کو اپنے پاس سنبھال کر رکھو، کسی کو مت دو اور جو شخص زندگی بھر کے لئے کسی کو کوئی چیز دیتا ہے تو وہ اسی کی ہو جاتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14126]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1625
الحكم: إسناده صحيح، م: 1625
حدیث نمبر: 14127 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَرَوْحٌ ، مَالِكٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَرَوْحٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" نَحَرْنَا بِالْحُدَيْبِيَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے مقام حدیبیہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موجودگی میں سات آدمیوں کی طرف سے ایک اونٹ اور سات ہی کی طرف سے ایک گائے ذبح کی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14127]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1318
الحكم: إسناده صحيح، م: 1318
حدیث نمبر: 14128 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنِ جُرَيْج ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْج ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ، فَلْيُوتِرْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص پتھروں سے استنجاء کرے تو اسے طاق عدد میں پتھر استعمال کرنا چاہیے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14128]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 239
الحكم: إسناده صحيح، م: 239
حدیث نمبر: 14129 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطَاءٍ ، ابْنَيْ ، جَابِرٍ ، أَبِيهِمَا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطَاءٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَيْ جَابِرٍ يُحَدِّثَانِ عَنْ أَبِيهِمَا ، قَالَ: بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ مَعَ أَصْحَابِهِ، شَقَّ قَمِيصَهُ حَتَّى خَرَجَ مِنْهُ، فَقِيلَ لَهُ! فَقَالَ:" وَاعَدْتُهُمْ يُقَلِّدُونَ هَدْيي الْيَوْمَ، فَنَسِيتُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی قمیص چاک کر دی اور اسے اتار دیا کسی نے پوچھا تو فرمایا کہ میں نے لوگوں سے یہ وعدہ کر رکھا تھا کہ وہ آج ہدی کے جانور کے گلے میں قلادہ باندھیں گے، میں وہ بھول گیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14129]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عبدالرحمن بن عطاء- وهو ابن أبى لبيبة- ليس بذاك القوي، ثم قد اختلف عليه فى إسناده، وانظر: 15298 و 23613، وهذا الحديث يخالف حديث عائشة عند البخاري: 1696، و مسلم: 1321 "فتلت قلائد بدن النبى صلى الله عليه و آله وسلم بيدي ثم قلدها واشعرها واهداها، وما حرم عليه شيي كان احل له" وحديث عائشة ارجع سنداً فيجب تقديمه وترك حديث جابر، والله تعالٰي اعلم
الحكم: إسناده ضعيف، عبدالرحمن بن عطاء- وهو ابن أبى لبيبة- ليس بذاك القوي، ثم قد اختلف عليه فى إسناده، وانظر: 15298 و 23613، وهذا الحديث يخالف حديث عائشة عند البخاري: 1696، و مسلم: 1321 "فتلت قلائد بدن النبى
حدیث نمبر: 14130 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ:" صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَا يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمَدِينَةِ، فَتَقَدَّمَ رِجَالٌ فَنَحَرُوا، وَظَنُّوا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَحَرَ، فَأَمَرَ مَنْ كَانَ قَدْ نَحَرَ قَبْلَهُ أَنْ يُعِيدَ بِنَحْرٍ آخَرَ، وَلَا وَلِيَنْحَرْ حَتَّى يَنْحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ہمیں دس ذی الحجہ کو نماز پڑھائی کچھ لوگوں نے پہلے ہی قربانی کر لی اور وہ یہ سمجھے کہ شاید نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قربانی کر چکے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا کہ جس نے پہلے قربانی کر لی ہے وہ دوبارہ قربانی کرے اور یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قربانی کرنے سے پہلے قربانی نہ کیا کریں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14130]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1964، والجمهور على جواز الذبح بعد الصلاة وإن كان قبل الإمام، وهو ظاهر غالب الأحاديث الواردة فى هذا الباب، ومن الحجة للجمهور فى قولهم: إن حديث جابر قد روي على غير هذا اللفظ كما سيأتي برقم: 14927
الحكم: إسناده صحيح، م: 1964، والجمهور على جواز الذبح بعد الصلاة وإن كان قبل الإمام، وهو ظاهر غالب الأحاديث الواردة فى هذا الباب، ومن الحجة للجمهور فى قولهم: إن حديث جابر قد روي على غير هذا اللفظ كما سيأتي بر
حدیث نمبر: 14131 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" إِنَّمَا الْعُمْرَى الَّتِي أَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يَقُولَ: هِيَ لَكَ وَلِعَقِبِكَ، فَأَمَّا إِذَا قَالَ: هِيَ لَكَ مَا عِشْتَ، فَإِنَّهَا تَرْجِعُ إِلَى صَاحِبِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جس عمریٰ کو جائز قرار دیا ہے وہ یہ ہے کہ انسان کسی سے کہہ دے کہ یہ چیز آپ کی اور آپ کی اگلی نسل کی ہو گئی اور اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ یہ صرف آپ کی زندگی تک کے لئے آپ کی ہو گئی تو وہ چیز مالک کے پاس واپس لوٹ جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14131]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1625
الحكم: إسناده صحيح، م: 1625