بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 19 از 60
حدیث نمبر: 14472 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ بِمَكَّةَ، وَهُوَ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَامَ الْفَتْحِ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ وَالْخِنْزِيرِ وَالْأَصْنَامِ"، فَقِيلَ لَهُ عِنْدَ ذَلِكَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ، فَإِنَّهُ يُدْهَنُ بِهَا السُّفُنُ، وَيُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ، وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ؟ قَالَ:" لَا، هُوَ حَرَامٌ"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ:" قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا حَرَّمَ عَلَيْهَا الشُّحُومَ، جَمَّلُوهَا، ثُمَّ بَاعُوهَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فتح مکہ کے سال فرمایا: اللہ اور اس کے رسول شراب، مردار، خنزیر اور بتوں کی بیع کو حرام قرار دیتے ہیں۔ کسی شخص نے پوچھا: یا رسول اللہ! یہ بتائیے کہ مردار کی چربی کا کیا حکم ہے؟ کیونکہ اس سے کشتیوں میں تیل ڈالا جاتا ہے، جسم کی کھالوں پر ملا جاتا ہے اور لوگ اس سے چراغ جلاتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ بھی حرام ہے، پھر فرمایا کہ یہو دیوں پر اللہ کی مار ہو، اللہ نے جب ان پر چربی کو حرام کر دیا تو انہوں نے اسے پگھلا کر بیچنا اور اس کی قیمت کھانا شروع کر دی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14472]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2236، م: 1581
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2236، م: 1581
حدیث نمبر: 14473 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَحَجَّاجٌ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وَحَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُسْأَلُ عَنْ رُكُوبِ الْهَدْيِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ إِذَا أُلْجِئْتَ، إِلَيْهَا حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی نے ہدی کے جانور کے متعلق پوچھا: تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر تم مجبور ہو جاؤ تو اس پر اچھے طریقے سے سوار ہو سکتے ہو، تا آنکہ تمہیں کوئی دوسری سواری مل جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14473]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1324
الحكم: إسناده صحيح، م: 1324
حدیث نمبر: 14474 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطَاءٍ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ حَدَّثَ فِي مَجْلِسٍ بِحَدِيثٍ، فَالْتَفَتَ، فَهِيَ أَمَانَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی مجلس میں کوئی بات بیان کر ے اور بات کرتے وقت دائیں بائیں دیکھے تو وہ بات امانت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14474]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد حسن فى الشواهد من أجل عبدالرحمن بن عطاء المدني
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد حسن فى الشواهد من أجل عبدالرحمن بن عطاء المدني
حدیث نمبر: 14475 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَيْوَةُ ، أَبُو هَانِئٍ ، أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، يَقُولُ: إِنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فِرَاشٌ لِلرَّجُلِ، وَفِرَاشٌ لِلْمَرْأَةِ، وَفِرَاشٌ لِلضَّيْفِ، وَالرَّابِعُ لِلشَّيْطَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایک بستر مرد کا ہوتا ہے اور ایک بستر عورت کا ہوتا ہے اور ایک بستر مہمان کا ہوتا ہے اور چوتھا بستر شیطان کا ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14475]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2084
الحكم: إسناده صحيح، م: 2084
حدیث نمبر: 14476 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، عَمْرُو بْنُ جَابِرٍ أَبُو زُرْعَةَ الْحَضْرَمِيُّ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ مِنْ حِفْظِهِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ جَابِرٍ أَبُو زُرْعَةَ الْحَضْرَمِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَدْخُلُ فُقَرَاءُ الْمُسْلِمِينَ الْجَنَّةَ قَبْلَ الْأَغْنِيَاءِ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسلمان فقراء مالداروں سے چالیس سال قبل جنت میں داخل ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14476]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عمرو بن جابر الحضرمي، ولہ شاھد من حدیث عبداللہ بن عمرو عند مسلم، برقم: 2979
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عمرو بن جابر الحضرمي، ولہ شاھد من حدیث عبداللہ بن عمرو عند مسلم، برقم: 2979
حدیث نمبر: 14477 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَعِيدٌ ، عَمْرُو بْنُ جَابِرٍ الْحَضْرَمِيُّ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ جَابِرٍ الْحَضْرَمِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَسِتًّا مِنْ شَوَّالٍ، فَكَأَنَّمَا صَامَ السَّنَةَ كُلَّهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص ماہ رمضان کے روزے رکھنے کے بعد ماہ شوال کے چھ روزے رکھ لے تو یہ ایسے ہے جیسے اس نے پورا سال روزے رکھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14477]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه، وهو مكرر: 14302
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه، وهو مكرر: 14302
حدیث نمبر: 14478 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَعِيدٌ ، عَمْرُو بْنُ جَابِرٍ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْفَارُّ مِنَ الطَّاعُونِ كَالْفَارِّ مِنَ الزَّحْفِ، وَالصَّابِرُ فِيهِ كَالصَّابِرِ فِي الزَّحْفِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: طاعون سے بھاگنے ولا شخص میدان جنگ سے بھاگنے والے شخص کی طرح ہے اور اس میں ڈٹ جانے والا شخص میدان جنگ میں ڈٹ جانے والے شخص کی طرح ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14478]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 14479 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، عَاصِمٍ ، أَبِي نَضْرَةَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: مُتْعَتَانِ كَانَتَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَهَانَا عَنْهُمَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، فَانْتَهَيْنَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں دو طرح کا متعہ ہوتا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللّٰہ عنہ نے ہمیں ان دونوں سے روک دیا اور ہم رک گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14479]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1249
الحكم: إسناده صحيح، م: 1249
حدیث نمبر: 14480 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ ابْتَاعَ بَعِيرًا بِثَلَاثَةَ عَشَرَ دِينَارًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِكَمْ أَخَذْتَهُ؟" قَالَ: بِثَلَاثَةَ عَشَرَ دِينَارًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِعْنِيهِ بِمَا أَخَذْتَهُ، وَلَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے تیرہ دینار میں ایک اونٹ خریدا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ کتنے کا لیا؟ انہوں نے بتایا تیرہ دینار کا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جتنے کا تم نے لیا ہے یہ مجھے اتنے ہی کا بیچ دو اور مدینہ منورہ تک تم اس پر سواری کر سکتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14480]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد التيمي، لكنه توبع عند المصنف برقم: 15004، وانظر: 14195
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد التيمي، لكنه توبع عند المصنف برقم: 15004، وانظر: 14195
حدیث نمبر: 14481 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، مَهْدِيٌّ ، وَاصِلٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، يَقُولُ:" لَا يَمُوتَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ الظَّنَّ بِرَبِّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو وصال سے تین دن پہلے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم میں سے جس شخص کو بھی موت آ جائے وہ اس حال میں ہو کہ اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھتا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14481]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2877
الحكم: إسناده صحيح، م: 2877
حدیث نمبر: 14482 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةَ"، قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا الْحَجُّ الْمَبْرُورُ؟ قَالَ:" إِطْعَامُ الطَّعَامِ، وَإِفْشَاءُ السَّلَامِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حج مبرور کی جزاء جنت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! حج مبرور کیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کھانا کھلانا اور سلام پھیلانا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14482]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف من أجل محمد بن ثابت، وسواء كان هو البناني أو العبدي، فكلاهما ضعيفان، وفي أحاديثهما ما ينكر، وانظر: 14582
الحكم: إسناده ضعيف من أجل محمد بن ثابت، وسواء كان هو البناني أو العبدي، فكلاهما ضعيفان، وفي أحاديثهما ما ينكر، وانظر: 14582
حدیث نمبر: 14483 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، عُقَيْلٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنَا عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" ثُمَّ فَتَرَ الْوَحْيُ عَنِّي فَتْرَةً فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي، سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ، فَرَفَعْتُ بَصَرِي قِبَلَ السَّمَاءِ، فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ الْآنَ قَاعِدٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَجُئِثْتُ مِنْهُ فَرَقًا حَتَّى هَوَيْتُ إِلَى الْأَرْضِ، فَجِئْتُ أَهْلِي فَقُلْتُ: زَمِّلُونِي، زَمِّلُونِي، زَمِّلُونِي، فَزَمَّلُونِي، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ سورة المدثر آية 1 - 5، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: الرُّجْزُ الْأَوْثَانُ، ثُمَّ حَمِيَ الْوَحْيُ بَعْدُ وَتَتَابَعَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انقطاع وحی کا زمانہ گزرنے کے بعد ایک دن میں جارہا تھا تو آسمان سے ایک آواز سنی، میں نے سر اٹھا کر دیکھا، "تو وہی فرشتہ جو غار حراء میں میرے پاس آیا تھا آسمان و زمین کے درمیان فضاء میں اپنے تخت پر نظر آیا"، یہ دیکھ کر مجھ پر شدید کپکپی طاری ہو گئی، اور میں نے خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آ کر کہا کہ مجھے کوئی موٹا کمبل اوڑھا دو، چنانچہ انہوں نے مجھے کمبل اوڑھا دیا، اس موقع پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: «يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ٭ قُمْ فَأَنذِرْ ٭» الی آخرہ۔ اس کے بعد وحی کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ شروع ہو گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14483]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3238، م: 161
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3238، م: 161
حدیث نمبر: 14484 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ: جَاءَ عَبْدٌ لِحَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ أَحَدِ بَنِي أَسَدٍ يَشْتَكِي سَيِّدَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَيَدْخُلَنَّ حَاطِبٌ النَّارَ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَذَبْتَ، لَا يَدْخُلُهَا، إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ کا ایک غلام اپنے آقا کی شکایت لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! حاطب ضرور جہنم میں داخل ہو گا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم غلط کہتے ہو وہ جہنم میں نہیں جائیں گے کیونکہ وہ غزوہ بدر و حدیبیہ میں شریک تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14484]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2495
الحكم: إسناده صحيح، م: 2495
حدیث نمبر: 14485 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يُسْأَلُ هَلْ بَايَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنْ صَلَّى بِهَا، وَلَمْ يُبَايِعْ عِنْدَ الشَّجَرَةِ إِلَّا الشَّجَرَةَ الَّتِي باِلْحُدَيْبِيَةِ وأَخْبَرَنَا، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا دَعَا النبي صلى الله عليه و آله وسلم عَلَى بِئْرِ الْحُدَيْبِيَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے کسی نے سوال پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں بیعت لی تھی؟ انہوں نے فرمایا: نہیں۔ وہاں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صرف نماز پڑھی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سوائے حدیبیہ کے درخت کے کسی اور درخت کے نیچے بھی بیعت نہ لی تھی، خود سیدنا جابر رضی اللہ عنہ حدیبیہ کے کنویں پر دعاء کیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14485]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1856
الحكم: إسناده صحيح، م: 1856
حدیث نمبر: 14486 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، إِسْرَائِيلُ ، جَابِرٍ ، الشَّعْبِيِّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتًى شَابٌّ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ، فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ أَرْنَبًا فَحَذَفْتُهَا، وَلَمْ تَكُنْ مَعِي حَدِيدَةٌ أُذَكِّيهَا بِهَا، وَإِنِّي ذَكَّيْتُهَا بِمَرْوَةٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بنوسلمہ کا ایک نوجوان آیا اور کہنے لگا کہ میں نے ایک خرگوش دیکھا، اسے پتھر اور کنکریاں ماریں، میرے پاس اس وقت لوہے کی دھاری دار کوئی چیز نہیں تھی جس سے میں اسے ذبح کرتا اس لئے میں نے اسے تیز دھاری دار پتھر سے ذبح کر لیا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم اسے کھا سکتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14486]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر بن يزيد الجعفي
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر بن يزيد الجعفي
حدیث نمبر: 14487 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يُسْأَلُ عَنْ رُكُوبِ الْهَدْيِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ إِذَا أُلْجِئْتَ إِلَيْهَا، حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سےکسی نے ہدی کے جانور پر سوار ہو نے کے متعلق پوچھا: تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر تم مجبور ہو جاؤ تواس پر اچھے طریقے سے سوار ہو سکتے ہو، تاآنکہ تمہیں کوئی دوسری سواری مل جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14487]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1324
الحكم: إسناده صحيح، م: 1324
حدیث نمبر: 14488 مسند احمد
أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ ، هِشَامٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِهِ دَخَلَ النَّارَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو , وہ جنت میں داخل ہو گا جو اس حال میں مرے میں کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو, وہ جہنم میں داخل ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14488]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وهو حديث متواتر، م: 93
الحكم: إسناده صحيح، وهو حديث متواتر، م: 93
حدیث نمبر: 14489 مسند احمد
أَبُو نُوحٍ قُرَادٌ ، مَالِكٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ قُرَادٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يَمْشِيَ الرَّجُلُ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ انسان صرف ایک جوتی پہن کر چلے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14489]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2099
الحكم: إسناده صحيح، م: 2099
حدیث نمبر: 14490 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، شَرِيكٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ جَاهَدْتُ بِنَفْسِي وَمَالِي، فَقُتِلْتُ: صَابِرًا مُحْتَسِبًا، مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ، أَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ؟ قَالَ:" نَعَمْ" فَأَعَادَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، قَالَ:" نَعْم، إِنْ لَمْ تَمُتْ وَعَلَيْكَ دَيْنٌ، لَيْسَ عِنْدَكَ وَفَاؤُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ یہ بتائیے کہ اگر میں اپنی جان مال کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کر وں اور ثابت قدم رہتے ہوئے ثواب کی نیت رکھتے ہوئے آگے بڑھتے ہوئے اور پشت پھیرے بغیر شہید ہو جاؤں تو کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! اس نے دو تین مرتبہ یہ بات دہرائی، تیسری مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، جبکہ تم اس حال میں مرو کہ تم پر کچھ قرض ہواور اسے ادا کرنے کے لئے تمہارے پاس کچھ نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14490]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك النخعي، وھو متابع، و عبد اللہ بن محمد بن عقیل حسن الحدیث في المتابعات والشواھد
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك النخعي، وھو متابع، و عبد اللہ بن محمد بن عقیل حسن الحدیث في المتابعات والشواھد
حدیث نمبر: 14491 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، زُهَيْرٌ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا مُيِّزَ أَهْلُ الْجَنَّةِ وَأَهْلُ النَّارِ، فَدَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ، قَامَتْ الرُّسُلُ فَشَفَعُوا فَيَقُولُ: انْطَلِقُوا، أَوْ اذْهَبُوا، فَمَنْ عَرَفْتُمْ فَأَخْرِجُوهُ، فَيُخْرِجُونَهُمْ قَدْ امْتُحِشُوا، فَيُلْقُونَهُمْ فِي نَهَرٍ، أَوْ عَلَى نَهَرٍ، يُقَالُ لَهُ الْحَيَاةُ، قَالَ: فَتَسْقُطُ مَحَاشُّهُمْ عَلَى حَافَةِ النَّهَرِ، وَيَخْرُجُونَ بِيضًا مِثْلَ الثَّعَارِيرِ ثُمَّ يَشْفَعُونَ، فَيَقُولُ: اذْهَبُوا أَوْ انْطَلِقُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ قِيرَاطٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُمْ، قَالَ: فَيُخْرِجُونَ بَشَرًا، ثُمَّ يَشْفَعُونَ، فَيَقُولُ: اذْهَبُوا أَوْ انْطَلِقُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلَةٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ، ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنَا الْآنَ أُخْرِجُ بِعِلْمِي وَرَحْمَتِي، قَالَ: فَيُخْرِجُ أَضْعَافَ مَا أَخْرَجُوا وَأَضْعَافَهُ، فَيُكْتَبُ فِي رِقَابِهِمْ عُتَقَاءُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ، فَيُسَمَّوْنَ فِيهَا الْجَهَنَّمِيِّينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب اہل جنت اور اہل جہنم میں امتیاز ہو جائے گا اور جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں داخل ہو جائیں گے تو پیغمبران گرامی کھڑے ہو کر سفارش کر یں گے ان سے کہا جائے گا جاؤ اور جس جس کو پہنچانتے ہواسے جہنم سے نکال لاؤ چنانچہ وہ انہیں نکال لائیں گے اس وقت ان لوگوں کے چہرے جھلس چکے ہوں گے پھر انہیں نہر حیات میں غوطہ دیا جائے گا جب وہ وہاں سے نکلیں گے تو ان کی ساری کی ساری سیاہی نہر کے کنارے ہی گر جائے گی اور وہ ککڑیوں کی طرح چمکتے ہوئے نکلیں گے۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کرام دوبارہ سفارش کر یں گے ان سے کہا جائے گا کہ جاؤ جس کے دل میں قیراط کے برابر بھی ایمان پاؤ اسے جہنم سے نکال لاؤ چنانچہ وہ بہت سے انسانوں کو نکال لائیں گے پھر سفارش کر یں گے ان سے کہا جائے گا کہ جاؤ جس کے دل میں ایک رائی کے برابر بھی ایمان ہواسے جہنم سے نکال لاؤ چنانچہ وہ بہت سے انسانوں کو نکال لائیں گے اس کے بعد اللہ فرمائے گا اب میں اپنے علم و فضل سے لوگوں کو جہنم سے نکالتا ہوں چنانچہ پہلے سے دگنی تگنی تعداد میں لوگوں کو جہنم سے نکال لایا جائے گا اور ان کی گردن پر لکھ دیا جائے گا کہ یہ اللہ کے آزاد کر دہ غلام ہیں پھر جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو انہیں جہنمی کہہ کر پکارا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14491]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر: 15048 و 14312
الحكم: إسناده صحيح، وانظر: 15048 و 14312