بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 30 از 60
حدیث نمبر: 14692 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ أَزْوَاجَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْنَهُ النَّفَقَةَ، فَلَمْ يُوَافِقْ عِنْدَهُ شَيْءٌ، حَتَّى أَحْجَزْنَهُ، فَأَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ فَاسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ، ثُمَّ أَتَاهُ عُمَرُ، فَاسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَا بَعْدَ ذَلِكَ فَأُذِنَ لَهُمَا، وَوَجَدَاهُ بَيْنَهُنَّ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنَةَ زَيْدٍ سَأَلَتْنِي النَّفَقَةَ فَوَجَأْتُهَا، أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ، وَأَرَادَ بِذَلِكَ أَنْ يُضْحِكَهُ، فَضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، وَقَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا حَبَسَنِي غَيْرُ ذَلِكَ"، فَقَامَا إِلَى ابْنَتَيْهِمَا، فَأَخَذَا بِأَيْدِيهِمَا، فَقَالَا: أَتَسْأَلَانِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ؟! فَنَهَاهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمَا، فَقَالَتَا: لَا نَعُدْ، فَعِنْدَ ذَلِكَ نَزَلَ التَّخْيِيرُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج مطہرات نے نفقہ میں اضافے کی درخواست کی اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کچھ نہیں تھا لہذا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایسا نہ کر سکے سیدنا صدیق اکبر کاشانہ نبوت پر حاضر ہوئے اندر جانے کی اجازت چاہی چونکہ کافی سارے لوگ دروازے پر موجود تھے اس لئے اجازت نہ مل سکی تھوڑی دیر بعد سیدنا عمر نے بھی آ کر اجازت چاہی لیکن انہیں بھی اجازت نہ مل سکی تھوڑی دیر بعد دونوں حضرات کو اجازت مل گئی اور وہ گھر میں داخل ہو گئے اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف فرما تھے اور اردگرد ازواج مطہرات تھیں سیدنا عمر کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! اگر آپ بنت زید (اپنی بیوی) ابھی مجھ سے نفقہ کا سوال کرتے ہوئے دیکھیں تو میں اس کی گردن دبادوں گا اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنا ہنسے کہ آپ کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے یہ خواتین جنہیں تم میرے پاس دیکھ رہے ہو یہ مجھ سے نفقہ ہی کا سوال کر رہی ہیں۔ یہ سن کر سیدنا صدیق اکبر اٹھ کر سیدنا عائشہ کو مارنے کے لئے بڑھے اور سیدنا عمر حفصہ کی طرف بڑھے اور دونوں کہنے لگے کہ تم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس چیز کا سوال کر تی ہو جو ان کے پاس نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان دونوں کو روکا اور تمام ازواج مطہرات کہنے لگیں کہ واللہ آج کے بعد ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کسی ایسی چیز کا سوال نہیں کر یں گے جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس نہ ہو۔ اس کے بعد اللہ نے آیت تخییر نازل فرمائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14692]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14693 مسند احمد
سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، ابْنِ أَخِي جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ ابْنِ أَخِي جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمَجَالِسُ بِالْأَمَانَةِ، إِلَّا ثَلَاثَةَ مَجَالِسَ: مَجْلِسٌ يُسْفَكُ فِيهِ دَمٌ حَرَامٌ، وَمَجْلِسٌ يُسْتَحَلُّ فِيهِ فَرْجٌ حَرَامٌ، وَمَجْلِسٌ يُسْتَحَلُّ فِيهِ مَالٌ مِنْ غَيْرِ حَقٍّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجالس امانت کے ساتھ قائم رہتی ہیں سوائے تین قسم کی مجلسوں کے ایک تو وہ مجلس جس میں ناحق خون بہایا جائے دوسری وہ مجلس جس میں کسی پاکدامن کی آبروریزی کی جائے اور تیسری وہ مجلس جس میں ناحق کسی کا مال چھین کر اسے اپنے اوپر حلال سمجھا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14693]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة ابن أخي جابر بن عبدالله
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة ابن أخي جابر بن عبدالله
حدیث نمبر: 14694 مسند احمد
حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخَطَّابِيُّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو الرَّقِّيَّ ، عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَطَاءٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخَطَّابِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو الرَّقِّيَّ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ، وَصَلَاةٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَفْضَلُ مِنْ مِائَةِ أَلْفِ صَلَاةٍ"، قَالَ حُسَيْنٌ:" فِيمَا سِوَاهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری اس مسجد میں دیگر مساجد کے مقابلے میں نماز پڑھنے کا ثواب ایک ہزار نمازوں سے زیادہ افضل ہے سوائے مسجد حرم کے کہ وہاں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازوں سے بھی زیادہ افضل ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14694]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح من جهة حسين بن محمد،وحسن من جهة عبدالجبار بن محمد
الحكم: إسناده صحيح من جهة حسين بن محمد،وحسن من جهة عبدالجبار بن محمد
حدیث نمبر: 14695 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : صَلِّ بِنَا كَمَا رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي،" فَصَلَّى بِنَا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، وَشَدَّهُ تَحْتَ الثَّنْدُوَتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن محمد کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: کہ ہمیں اسی طرح نماز پڑھائیے جس طرح آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پڑھاتے ہوئے دیکھا ہے تو انہوں نے ہمیں ایک کپڑے میں اس طرح نماز پڑھائی کہ اسے اپنی چھاتیوں کے نیچے باندھ لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14695]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عبدالله بن محمد ابن عقيل، فحديثه حسن فى المتابعات والشواهد، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عبدالله بن محمد ابن عقيل، فحديثه حسن فى المتابعات والشواهد، وقد توبع
حدیث نمبر: 14696 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبُو إِسْحَاقَ ، الْأَوْزَاعِيِّ ، أَبُو عَمَّارٍ ، جَارٌ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، جَابِرٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي جَارٌ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَدِمْتُ مِنْ سَفَرٍ، فَجَاءَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، يُسَلِّمُ عَلَيَّ، فَجَعَلْتُ أُحَدِّثُهُ عَنِ افْتِرَاقِ النَّاسِ، وَمَا أَحْدَثُوا، فَجَعَلَ جَابِرٌ يَبْكِي، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ النَّاسَ دَخَلُوا فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا، وَسَيَخْرُجُونَ مِنْهُ أَفْوَاجًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا ایک پڑوسی کہتا ہے کہ میں ایک مرتبہ سفر سے واپس آیا تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ مجھے سلام کرنے کے لئے تشریف لائے میں انہیں یہ بتانے لگا کہ لوگ کسی طرح آپس میں افتراق کا شکار ہیں اور انہوں نے کیا کیا بدعات تیار کر لی ہیں جسے سن کر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ رونے لگے پھر کہنے لگے میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگ اب فوج درفوج اللہ کے دین میں داخل ہو گئے عنقریب اسی طرح فوج درفوج نکل بھی جائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14696]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة جار جابر بن عبدالله
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة جار جابر بن عبدالله
حدیث نمبر: 14697 مسند احمد
سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ ، جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، الْجَعْدُ أَبُو عُثْمَانَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا الْجَعْدُ أَبُو عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: شَْكَا أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ الْعَطَشَ، قَالَ: فَدَعَا بِعُسٍّ، فَصُبَّ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ يَدَهُ، وَقَالَ:" اسْقُوا"، فَاسْتَقَى النَّاسُ، قَالَ: فَكُنْتُ أَرَى الْعُيُونَ تَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پیاس کی شکایت کی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے برتن منگوایا اور اس میں تھوڑا سا پانی تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس برتن میں اپنا دست مبارک رکھ دیا اور فرمایا: خوب اچھی طرح پیو چنانچہ لوگوں نے اسے پیا میں نے اس دن دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبارک انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14697]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن الأجل سيار بن حاتم، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن الأجل سيار بن حاتم، وقد توبع
حدیث نمبر: 14698 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَطَاءٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" كُنَّا نُصِيبُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَغَانِمِنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ الْأَسْقِيَةَ وَالْأَوْعِيَةَ، فَنَقْسِمُهَا وَكُلُّهَا مَيْتَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مشرکین کے مال غنیمت میں سے مشکیزے اور برتن بھی ملتے تھے ہم اسے تقسیم کر دیتے تھے اور یہ سب مردار ہوتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14698]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 14699 مسند احمد
رَوْحٌ ، زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ:" نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَمَسَّحَ بِعَظْمٍ أَوْ بَعْرٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مینگنی یا ہڈی سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14699]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 263
الحكم: إسناده صحيح، م: 263
حدیث نمبر: 14700 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، فُلَيْحٌ ، سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ، وَرَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي حَائِط، وَهُوَ يُحَوِّلُ الْمَاءَ، فَقَالَ:" عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ اللَّيْلَةَ فِي شَنٍّ؟ وَإِلَّا كَرَعْنَا"، فَقَالَ: عِنْدِي مَاءٌ بَائِتٌ، فَانْطَلَقَ إِلَى عَرِيشٍ، فَحَلَبَ لَهُ شَاةً، ثُمَّ صَبَّ عَلَيْهِ مَاءً بَائِتًا ثُمَّ سَقَاهُ، وَصَنَعَ بِصَاحِبِهِ مِثْلَ ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے ساتھی کے ہمراہ کسی انصاری کے گھر تشریف لے گئے اور فرمایا: اگر تمہارے پاس اس برتن میں رات کا بچا ہوا پانی موجود ہے ورنہ ہم منہ لگا کر پی لیتے ہیں اس وقت وہ آدمی اپنے باغ کو پانی لگارہا تھا وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہنے لگا کہ میرے پاس رات کا بچا ہوا پانی ہے اور ان دونوں کو لئے اپنے خیمے کی طرف چل پڑا وہاں پہنچ کر ایک پیالے میں پانی ڈالا اور اس پر بکری کا دودھ دوہا جسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نوش فرمایا: اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد کے ساتھ آنے والے صاحب کے ساتھ اسی طرح کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14700]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، خ: 5613
الحكم: إسناده حسن، خ: 5613
حدیث نمبر: 14701 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ وَهُوَ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ الْغَسِيلِ ، عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ وَهُوَ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ الْغَسِيلِ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنْ كَانَ، أَوْ إِنْ يَكُنْ فِي شَيْءٍ مِنْ أَدْوِيَتِكُمْ خَيْرٌ، فَفِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ، أَوْ شَرْبَةِ عَسَلٍ، أَوْ لَذْعَةٍ بِنَارٍ، تُوَافِقُ دَاءً، وَمَا أُحِبُّ أَنْ أَكْتَوِيَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر تمہاری دواؤں میں سے کسی دوا میں کوئی خیر ہے تو وہ سینگی لگانے میں شہد کے ایک چمچے میں یا اس طرح آگ سے داغنے میں ہے جو مرض کے مطابق ہو لیکن میں داغنے کو اچھا نہیں سمجھتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14701]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5683، م: 2205
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5683، م: 2205
حدیث نمبر: 14702 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ، وأبو الزبير ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ، وأبو الزبير ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ اهْدِ ثَقِيفًا"، قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قبیلہ ثقیف کے لئے دعاء فرمائی کہ اے اللہ قبیلہ ثقیف کو ہدایت عطاء فرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14702]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 14703 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، دَاوُدُ بْنُ بَكْرِ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ بَكْرِ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ، فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ آور ہواس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14703]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 14704 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ ، عَقِيلِ بْنِ جَابِرٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قِرَاءَةً، حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّقَاعِ، فَأُصِيبَتْ امْرَأَةٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَافِلًا، وَجَاءَ زَوْجُهَا وَكَانَ غَائِبًا، فَحَلَفَ أَنْ لَا يَنْتَهِيَ حَتَّى يُهْرِيقَ دَمًا فِي أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ يَتْبَعُ أَثَرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا، فَقَالَ:" مَنْ رَجُلٌ يَكْلَؤُنَا لَيْلَتَنَا هَذِهِ؟" فَانْتَدَبَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَا: نَحْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" فَكُونُوا بِفَمِ الشِّعْبِ"، قَالَ: وَكَانُوا نَزَلُوا إِلَى شِعْبٍ مِنَ الْوَادِي، فَلَمَّا خَرَجَ الرَّجُلَانِ إِلَى فَمِ الشِّعْبِ، قَالَ الْأَنْصَارِيُّ لِلْمُهَاجِرِيِّ: أَيُّ اللَّيْلِ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أَكْفِيَكَهُ، أَوَّلَهُ أَوْ آخِرَهُ؟، قَالَ: اكْفِنِي أَوَّلَهُ، فَاضْطَجَعَ الْمُهَاجِرِيُّ، فَنَامَ، وَقَامَ الْأَنْصَارِيُّ يُصَلِّي، وَأَتَى الرَّجُلُ، فَلَمَّا رَأَى شَخْصَ الرَّجُلِ عَرَفَ أَنَّهُ رَبِيئَةُ الْقَوْمِ، فَرَمَاهُ بِسَهْمٍ فَوَضَعَهُ فِيهِ، فَنَزَعَهُ فَوَضَعَهُ وَثَبَتَ قَائِمًا، ثُمَّ رَمَاهُ بِسَهْمٍ آخَرَ فَوَضَعَهُ فِيهِ، فَنَزَعَهُ فَوَضَعَهُ وَثَبَتَ قَائِمًا، ثُمَّ عَادَ لَهُ بِثَالِثٍ، فَوَضَعَهُ فِيهِ، فَنَزَعَهُ فَوَضَعَهُ، ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ، ثُمَّ أَهَبَّ صَاحِبَهُ، فَقَالَ: اجْلِسْ، فَقَدْ أُوتِيتَ، فَوَثَبَ، فَلَمَّا رَآهُمَا الرَّجُلُ عَرَفَ أَنْ قَدْ نَذَرُوا بِهِ، فَهَرَبَ، فَلَمَّا رَأَى الْمُهَاجِرِيُّ مَا بِالْأَنْصَارِيِّ مِنَ الدِّمَاءِ، قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، أَلَا أَهْبَبْتَنِي؟، قَالَ: كُنْتُ فِي سُورَةٍ أَقْرَؤُهَا، فَلَمْ أُحِبَّ أَنْ أَقْطَعَهَا حَتَّى أُنْفِذَهَا، فَلَمَّا تَابَعَ الرَّمْيَ، رَكَعْتُ فَأُرِيتُكَ، وَايْمُ اللَّهِ، لَوْلَا أَنْ أُضَيِّعَ ثَغْرًا، أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِفْظِهِ، لَقَطَعَ نَفْسِي قَبْلَ أَنْ أَقْطَعَهَا، أَوْ أُنْفِذَهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ غزوہ ذات الرقاع کے سلسلے میں نکلے اس غزوے میں مشرکین کی ایک عورت بھی ماری گئی جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس روانہ ہوئے تو اس عورت کا خاوند واپس آیا اس نے اپنی بیوی کو مرا ہوا دیکھ کر قسم کھائی کہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک اصحاب محمد میں خون نہ بہادے یہ قسم کھا کر وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نشانات قدم پر چلتا ہوا نکل آیا۔ ادھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک منزل پر پہنچ کر پڑاؤ کیا اور فرمایا کہ آج رات کو کون پہرہ دے گا اس پر ایک مہاجر اور ایک انصاری نے اپنے آپ کو پیش کیا اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! ہم کر یں گے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر ایسا کر و کہ اس گھاٹی کے دہانے پر جا کر پہرہ داری کر و کیونکہ وہ لوگ ایک گھاٹی میں پڑاؤ کئے ہوئے تھے جب وہ دونوں وہاں پہنچے تو انصاری نے مہاجر سے پوچھا کہ تمہیں رات کا کون ساحصہ پسند ہے جس میں میں تمہاری طرف سے کفایت کر وں۔ پہلا یا آخری؟ اس نے کہا پہلے حصے میں تم باری کر لو دوسرے حصے میں میں کر لوں گا۔ چنانچہ مہاجر لیٹ کر سو گیا اور انصاری کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگا ادھر وہ مشرک آپہنچا جب اس نے دور سے ایک آدمی کا ہیولا دیکھا تو سمجھ گیا کہ یہ لوگوں کا پہرہ دار ہے چنانچہ اس نے دور ہی سے تاک کر اسے تیر مارا اور اس کے جسم میں اتار دیا انصاری نے کھینچ کر اسے نکالا اور اسے پھینک دیا خود ثابت قدمی کے ساتھ نماز پڑھتا رہا مشرک نے دوسرا تیرمارا اور وہ بھی اس کے جسم میں اتار دیا انصاری نے کھینچ کر اسے نکالا اور اسے پھینک کر خود رکوع سجدہ میں گیا اور اپنے ساتھی کو بیدار کیا اس نے اسے بیٹھنے کے لئے کہا اور خود چھلانگ لگائی جب اس مشرک نے ان دونوں کو دیکھا تو سمجھ کیا کہ لوگوں کو اس کا پتہ چل گیا ہے اس لئے وہ بھاگ کھڑا ہوا۔ پھر مہاجر نے انصاری کے بہتے ہوئے خون کو دیکھ کر تعجب سے سبحان اللہ کہا اور کہا کہ مجھے جگایا کیوں نہیں انصاری نے جواب دیا میں ایک سورت پڑھ رہا تھا میں نے اسے پورا کیے بغیر نماز ختم کرنا اچھا نہیں سمجھا لیکن جب میں نے دیکھا کہ اس نے مجھ پر تیروں کی بوچھاڑ کر دی تب میں نے رکوع کیا اور تمہیں جگا دیا واللہ اگر پہرہ داری ضائع ہو نے کا اندیشہ نہ ہوتا تو جس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے مامور کیا تھا تو اس سورت کو ختم کرنے سے پہلے میری جان ختم ہو تی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14704]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، عقيل ابن جابر فى عداد المجهولين
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، عقيل ابن جابر فى عداد المجهولين
حدیث نمبر: 14705 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ بِشِمَالِهِ، أَوْ يَمْشِيَ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ، وَأَنْ يَشْتَمِلَ الصَّمَّاءَ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ كَاشِفًا عَنْ فَرْجِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ انسان بائیں ہاتھ سے کھائے یا ایک جوتی پہن کر چلے یا ایک کپڑے میں جسم لپیٹے یا اس طرح گوٹ مار کر بیٹھے کہ اس کی شرمگاہ نظر آتی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14705]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2099
الحكم: إسناده صحيح، م: 2099
حدیث نمبر: 14706 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، مَالِكٌ ، هَاشِمِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ نِسْطَاسٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ نِسْطَاسٍ ، يُحَدِّثُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَحْلِفُ أَحَدٌ عَلَى مِنْبَرِي كَاذِبًا، إِلَّا تَبَوَّأَ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص میرے منبر پر جھوٹی قسم کھائے وہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنالے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14706]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 14707 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، وَأَبُو سَعِيدٍ يَعْنِي مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ الْمَدَنِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، وَأَبُو سَعِيدٍ يَعْنِي مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، الْمَعْنَى وَهَذَا لَفْظُ إِسْحَاقَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ الْمَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةَ، كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، يَقُولُ:" إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالْأَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ، ثُمَّ لِيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ هَذَا الْأَمْرَ يُسَمِّيهِ بِاسْمِهِ، خَيْرًا لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: وَمَعِيشَتِي، وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ، ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ، اللَّهُمَّ وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُهُ شَرًّا لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، فَاصْرِفْنِي عَنْهُ، وَاصْرِفْهُ عَنِّي، وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ"، وَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ:" وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي وَبَارِكْ لِي فِيهِ، اللَّهُمَّ وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُهُ شَرًّا لِي، فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، فَاصْرِفْنِي عَنْهُ، وَاصْرِفْهُ عَنِّي، وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ"، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: حَدَّثَنَاه مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں استخارہ کرنے طریقہ اسی طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے آپ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو کوئی اہم کام پیش آ جائے تو اسے چاہیے کہ فرائض کے علاوہ دو رکعتیں پڑھے پھر یہ دعا کر ے کہ اے اللہ میں آپ سے آپ کے علم کی برکت سے خیر طلب کرتا ہوں آپ کی قدرت سے قدرت طلب کرتا ہوں اور آپ سے آپ کا فضل مانگتا ہوں کیونکہ آپ قادر ہیں میں قادر نہیں ہوں آپ جانتے ہیں میں کچھ نہیں جانتا اور آپ علام الغیوب ہیں۔ اے اللہ اگر آپ جانتے ہیں کہ یہ کام یہاں اپنے کام کا نام لے میرے لئے دین معیشت اور انجام کے اعتبار سے بہتر ہے تو اسے میرے لئے مقدر فرما دیجیے اسے میرے لئے آسان کر دیجیے اور مبارک فرمائیے اور اگر آپ جانتے ہیں کہ یہ کام میرے لئے دین، معیشت اور انجام کے اعتبار سے برا ہے تو مجھ سے اور مجھے اس سے پھیر دیجیے اور میرے لئے خیر مقدر فرمادیجیے خواہ کہیں بھی ہواور پھر مجھے اس پر راضی کر دیجیے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14707]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1162
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1162
حدیث نمبر: 14708 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَدَنِيُّ ، سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنِي فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَدَنِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى قَوْمًا مِنَ الْأَنْصَارِ يَعُودُ مَرِيضًا، فَاسْتَسْقَاهُمْ، وَجَدْوَلٌ قَرِيبٌ مِنْهُ، فَقَالَ:" إِنْ كَانَ عِنْدَهُمْ مَاءٌ قَدْ بَاتَ فِي شَنٍّ، وَإِلَّا كَرَعْنَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی انصاری کے گھر اس کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے اس کے قریب ہی ایک چھوٹی نالی بہہ رہی تھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پینے کے لئے پانی منگواتے ہوئے فرمایا: اگر تمہارے پاس اس برتن میں رات کا بچاہوا پانی موجود ہے تو ٹھیک ہے ورنہ ہم منہ لگا کر پی لیتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14708]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل فليح بن سليمان، وانظر: 14519
الحكم: إسناده حسن من أجل فليح بن سليمان، وانظر: 14519
حدیث نمبر: 14709 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، الْمُنْكَدِرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، أَبِيهِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا الْمُنْكَدِرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ، وَمِنَ الْمَعْرُوفِ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ، وَأَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَائِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر نیکی صدقہ ہے اور یہ بھی نیکی ہے کہ تم اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے مل لو یا اس کے برتن میں اپنے ڈول سے کچھ پانی ڈال دو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14709]
حکم دارالسلام
صحيح بطرقه وشواهده ،خ :6021 مختصرا «كل معروف صدقة» ، وهذا إسناد ضعيف لضعف المنكدر بن المنكدر،وقد توبع على بعضه،ولبقية شواهد تصححه
الحكم: صحيح بطرقه وشواهده ،خ :6021 مختصرا «كل معروف صدقة» ، وهذا إسناد ضعيف لضعف المنكدر بن المنكدر،وقد توبع على بعضه،ولبقية شواهد تصححه
حدیث نمبر: 14710 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، عَمْرِو بْنِ جَابِرٍ الْحَضْرَمِيِّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ جَابِرٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَسِتَّةَ أَيَّامٍ مِنْ شَوَّالٍ، فَكَأَنَّمَا صَامَ السَّنَةَ كُلَّهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص ماہ رمضان کے روزے رکھنے کے بعد ماہ شوال کے چھ روزے رکھ لے تو یہ ایسے ہے جیسے اس نے پوراسال روزے رکھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14710]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره،وهذا إسناد ضعيف لضعف عمرو بن جابر الحضرمي، وانظر:14302
الحكم: صحيح لغيره،وهذا إسناد ضعيف لضعف عمرو بن جابر الحضرمي، وانظر:14302
حدیث نمبر: 14711 مسند احمد
هَاشِمٌ ، الْمُبَارَكُ ، بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْمُوجِبَتَانِ مَنْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ يُشْرِكٌ دَخَلَ النَّارَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دو چیزیں واجب کرنے والی ہیں جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو اللہ سے اس حال میں ملاقات کر ے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتاہو تو وہ جہنم میں داخل ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14711]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 93، وهذا إسناد حسن من أجل المبارك، وهو ابن فضالة البصري .
الحكم: حديث صحيح، م: 93، وهذا إسناد حسن من أجل المبارك، وهو ابن فضالة البصري .