بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 43 از 60
حدیث نمبر: 14952 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" رُمِيَ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فِي صَدْرِهِ، أَوْ قَالَ: فِي جَوْفِهِ، فَمَاتَ، فَأُدْرِجَ فِي ثِيَابِهِ كَمَا هُوَ"، وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی کے سینے یا پیٹ میں کہیں سے آ کر تیر لگا اور وہ فوت ہو گیا اسے اس کے کپڑوں میں اس طرح لپیٹ دیا گیا اس وقت ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14952]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وأبو الزبير لم يصرح بسماعه من جابر ، وانظر: 14189
الحكم: إسناده صحيح، وأبو الزبير لم يصرح بسماعه من جابر ، وانظر: 14189
حدیث نمبر: 14953 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ: أَفَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَيْبَرَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقَرَّهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا كَانُوا، وَجَعَلَهَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ، فَبَعَثَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ فَخَرَصَهَا عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ:" يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ، أَنْتُمْ أَبْغَضُ الْخَلْقِ إِلَيَّ، قَتَلْتُمْ أَنْبِيَاءَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَكَذَبْتُمْ عَلَى اللَّهِ، وَلَيْسَ يَحْمِلُنِي بُغْضِي إِيَّاكُمْ عَلَى أَنْ أَحِيفَ عَلَيْكُمْ، قَدْ خَرَصْتُ عِشْرِينَ أَلْفَ وَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ، فَإِنْ شِئْتُمْ فَلَكُمْ، وَإِنْ أَبَيْتُمْ فَلِي"، فَقَالُوا: بِهَذَا قَامَتِ السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ، قَدْ أَخَذْنَا، فَاخْرُجُوا عَنَّا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک پیغمبر کو خیبر کے مال غنیمت کے طور پر عطاء فرما دیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہو دیوں کو وہاں ہی رہنے دیا اور اسے لوگوں میں تقسیم کر دیا اس کے بعد سیدنا عبداللہ بن رواحہ کو بھیجا انہوں نے وہاں پہنچ کر پھل کاٹا اور اس کا اندازہ لگالیا پھر ان سے فرمایا کہ اے گروہ یہو د تمام مخلوق میں میرے نزدیک سب سے زیادہ مبغوض تم ہی لوگ ہو تم نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وں کو شہید کیا اور اللہ پر جھوٹ باندھا لیکن یہ نفرت مجھے تم پر زیادہ نہیں کرنے دے گی میں نے بیس ہزار وسق کھجوریں کاٹیں ہیں اگر تم چاہو تو تم لے لو اور اگر چاہو تو میں لے لیتا ہوں وہ کہنے لگے کہ اسی پر زمین آسمان قائم رہیں گے کہ ہم نے انہیں لے لیا اب آپ لوگ چلے جاؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14953]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 14954 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي خَفْقَةٍ مِنَ الدِّينِ، وَإِدْبَارٍ مِنَ الْعِلْمِ، فَلَهُ أَرْبَعُونَ لَيْلَةً يَسِيحُهَا فِي الْأَرْضِ، الْيَوْمُ مِنْهَا كَالسَّنَةِ، وَالْيَوْمُ مِنْهَا كَالشَّهْرِ، وَالْيَوْمُ مِنْهَا كَالْجُمُعَةِ، ثُمَّ سَائِرُ أَيَّامِهِ كَأَيَّامِكُمْ هَذِهِ، وَلَهُ حِمَارٌ يَرْكَبُهُ، عَرْضُ مَا بَيْنَ أُذُنَيْهِ أَرْبَعُونَ ذِرَاعًا. فَيَقُولُ لِلنَّاسِ: أَنَا رَبُّكُمْ. وَهُوَ أَعْوَرُ، وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ، مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ ك ف ر مُهَجَّاةٌ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ، كَاتِبٌ وَغَيْرُ كَاتِبٍ، يَرِدُ كُلَّ مَاءٍ وَمَنْهَلٍ، إِلَّا الْمَدِينَةَ وَمَكَّةَ حَرَّمَهُمَا اللَّهُ عَلَيْهِ، وَقَامَتْ الْمَلَائِكَةُ بِأَبْوَابِهَا، وَمَعَهُ جِبَالٌ مِنْ خُبْزٍ، وَالنَّاسُ فِي جَهْدٍ إِلَّا مَنْ تَبِعَهُ، وَمَعَهُ نَهْرَانِ أَنَا أَعْلَمُ بِهِمَا مِنْهُ نَهَرٌ يَقُولُ: الْجَنَّةُ، وَنَهَرٌ يَقُولُ: النَّارُ، فَمَنْ أُدْخِلَ الَّذِي يُسَمِّيهِ الْجَنَّةَ فَهُوَ النَّارُ، وَمَنْ أُدْخِلَ الَّذِي يُسَمِّيهِ النَّارَ فَهُوَ الْجَنَّةُ"، قَالَ:" وَيَبْعَثُ اللَّهُ مَعَهُ شَيَاطِينَ تُكَلِّمُ النَّاسَ، وَمَعَهُ فِتْنَةٌ عَظِيمَةٌ، يَأْمُرُ السَّمَاءَ فَتُمْطِرُ فِيمَا يَرَى النَّاسُ، وَيَقْتُلُ نَفْسًا ثُمَّ يُحْيِيهَا فِيمَا يَرَى النَّاسُ، لَا يُسَلَّطُ عَلَى غَيْرِهَا مِنَ النَّاسِ، وَيَقُولُ: أَيُّهَا النَّاسُ، هَلْ يَفْعَلُ مِثْلَ هَذَا إِلَّا الرَّبُّ؟"، قَالَ: فَيَفِرُّ الْمُسْلِمُونَ إِلَى جَبَلِ الدُّخَانِ بِالشَّامِ، فَيَأْتِيهِمْ فَيُحَاصِرُهُمْ، فَيَشْتَدُّ حِصَارُهُمْ، وَيُجْهِدُهُمْ جَهْدًا شَدِيدًا، ثُمَّ يَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ فَيُنَادِي مِنَ السَّحَرِ، فَيَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تَخْرُجُوا إِلَى الْكَذَّابِ الْخَبِيثِ؟، فَيَقُولُونَ: هَذَا رَجُلٌ جِنِّيٌّ، فَيَنْطَلِقُونَ، فَإِذَا هُمْ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، فَتُقَامُ الصَّلَاةُ، فَيُقَالُ لَهُ: تَقَدَّمْ يَا رُوحَ اللَّهِ، فَيَقُولُ: لِيَتَقَدَّمْ إِمَامُكُمْ فَلْيُصَلِّ بِكُمْ، فَإِذَا صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ، خَرَجُوا إِلَيْهِ"، قَالَ:" فَحِينَ يَرَى الْكَذَّابُ، يَنْمَاثُ كَمَا يَنْمَاثُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ، فَيَمْشِي إِلَيْهِ فَيَقْتُلُهُ، حَتَّى إِنَّ الشَّجَرَةَ، وَالْحَجَرَ يُنَادِي: يَا رُوحَ اللَّهِ، هَذَا يَهُودِيٌّ، فَلَا يَتْرُكُ مِمَّنْ كَانَ يَتْبَعُهُ أَحَدًا إِلَّا قَتَلَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دجال کا خروج اس وقت میں ہو گا جب دین میں سستی اور علم میں تنزل آ جائے گا وہ چالیس راتوں میں ساری زمین پھر جائے گا جس کا ایک دن سال کے برابر دوسرا مہینے کے برابر، تیسرا ہفتے کے برابر اور باقی ایام تمہارے ہی ایام کی طرح ہوں گے اس کے پاس ایک گدھا ہو گا جس پر وہ سواری کر ے گا اور جس کے دونوں کانوں کے درمیان چوڑائی چالیس گز کے برابر ہو گی اور وہ لوگوں سے کہے گا کہ میں تمہارا رب ہی ہوں حالانکہ وہ کانا ہو گا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے۔ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان حروف تہجی سے کافر لکھا ہوا ہو گا جسے ہر مسلمان خواہ لکھنا پڑھنا جانتا ہو یا نہ پڑھ لے گا وہ مدینہ اور مکہ جنہیں اللہ نے اس پر حرام قرار دیا ہے کے علاوہ ہر پانی اور گھاٹ پر اترے گا اس کے ساتھ روٹیوں کے پہاڑ ہوں گے اس کے پیروکار کے علاوہ وہ تمام لوگوں اتنہائی پریشان ہوں گے اس کے ساتھ دو نہریں ہوں گی جن کی در حقیقت میں اس سے زیادہ جانتا ہوں ایک نہر کو وہ جنت اور دوسری نہر کو جہنم کہتا ہو گا جسے وہ اپنی جنت میں داخل کر ے گا وہ درحقیقت جہنم ہو گی اور جسے وہ اپنی جہنم میں داخل کر ے گا وہ جنت ہو گی۔ اللہ اس کے ساتھ شیاطین کو بھیج دے گا جو لوگوں سے باتیں کر یں گے اس کے ساتھ ایک عظیم فتنہ ہو گا وہ آسمان کو حکم دے اور لوگوں کو یوں محسوس ہو گا کہ جیسے بارش ہو رہی ہے وہ ایک آدمی کو قتل کر ے گا پھر لوگوں کی آنکھوں کے سامنے اسے دوبارہ زندہ کر ے گا اور لوگوں سے کہے گا کہ لوگوں یہ کام کوئی ایسا شخص کر سکتا ہے جو پروردگار نہ ہواس وقت حقیقی مسلمان بھاگ جائیں گے اور جا کر شام کے جبل دخان میں پناہ لیں گے دجال ان کا انتہائی سخت محاصرہ کر ے گا اور مسلمان انتہائی پریشان ہوں گے۔ پھر سیدنا عیسیٰ کا نزول ہو گا اور وہ سحری کے وقت لوگوں کو پکار کر کہیں گے لوگو تمہیں اس کذاب خبیث کی طرف نکلنے سے کس چیز نے روک رکھا ہے لوگ کہیں گے یہ کوئی جن معلوم ہوتا ہے لیکن نکل کر دیکھیں گے تو وہ سیدنا عیسیٰ ہوں گے نماز کھڑی ہو گی اور ان سے کہا جائے گا کہ روح آگے بڑھ کر نماز پڑھائیں وہ فرمائیں گے تمہارے امام ہی کو آگے بڑھ کر نماز پڑھانی چاہیے نماز فجر کے بعد وہ دجال کی طرف نکلیں گے جب وہ کذاب سیدنا عیسیٰ کو دیکھے گا تو اس طرح پگھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں پگھل جاتا ہے سیدنا عیسیٰ بڑھ کر اسے قتل کر یں گے اور اس وقت وہ شجر اور حجر پکار اٹھیں گے اے روح اللہ یہ یہو دی یہاں چھپا ہوا ہے چنانچہ وہ دجال کے کسی پیروکار کو نہیں چھوڑیں گے اور سب کو قتل کر دیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14954]
حکم دارالسلام
أبو الزبير لم يصرح بسماعه من جابر
الحكم: أبو الزبير لم يصرح بسماعه من جابر
حدیث نمبر: 14955 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ امْرَأَةً مِنَ الْيَهُودِ بِالْمَدِينَةِ وَلَدَتْ غُلَامًا مَمْسُوحَةٌ عَيْنُهُ، طَالِعَةٌ نَاتِئَةٌ، فَأَشْفَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكُونَ الدَّجَّالَ، فَوَجَدَهُ تَحْتَ قَطِيفَةٍ يُهَمْهِمُ، فَآذَنَتْهُ أُمُّهُ، فَقَالَتْ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، هَذَا أَبُو الْقَاسِمِ قَدْ جَاءَ، فَاخْرُجْ إِلَيْهِ، فَخَرَجَ مِنَ الْقَطِيفَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا لَهَا قَاتَلَهَا اللَّهُ، لَوْ تَرَكَتْهُ لَبَيَّنَ"، ثُمَّ قَالَ:" يَا ابْنَ صَائِدٍ، مَا تَرَى؟"، قَالَ: أَرَى حَقًّا، وَأَرَى بَاطِلًا، وَأَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ، قَالَ: فَلُبِسَ عَلَيْهِ، فَقَالَ:" أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟"، فَقَالَ هُوَ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ:" آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ"، ثُمَّ خَرَجَ وَتَرَكَهُ، ثُمَّ أَتَاهُ مَرَّةً أُخْرَى، فَوَجَدَهُ فِي نَخْلٍ لَهُ يُهَمْهِمُ، فَآذَنَتْهُ أُمُّهُ، فَقَالَتْ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، هَذَا أَبُو الْقَاسِمِ قَدْ جَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا لَهَا قَاتَلَهَا اللَّهُ، لَوْ تَرَكَتْهُ لَبَيَّنَ"، قَالَ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطْمَعُ أَنْ يَسْمَعَ مِنْ كَلَامِهِ شَيْئًا، فَيَعْلَمُ هُوَ هُوَ أَمْ لَا، قَالَ:" يَا ابْنَ صَائِدٍ، مَا تَرَى؟"، قَالَ: أَرَى حَقًّا، وَأَرَى بَاطِلًا، وَأَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ، قَالَ:" أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟"، قَالَ هُوَ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ"، فَلُبِسَ عَلَيْهِ، ثُمَّ خَرَجَ فَتَرَكَهُ، ثُمَّ جَاءَ فِي الثَّالِثَةِ أَوْ الرَّابِعَةِ، وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، وَأَنَا مَعَهُ، قَالَ: فَبَادَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَيْدِينَا، وَرَجَا أَنْ يَسْمَعَ مِنْ كَلَامِهِ شَيْئًا، فَسَبَقَتْهُ أُمُّهُ إِلَيْهِ، فَقَالَتْ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، هَذَا أَبُو الْقَاسِمِ قَدْ جَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا لَهَا قَاتَلَهَا اللَّهُ، لَوْ تَرَكَتْهُ لَبَيَّنَ"، فَقَالَ:" يَا ابْنَ صَائِدٍ، مَا تَرَى؟"، قَالَ: أَرَى حَقًّا، وَأَرَى بَاطِلًا، وَأَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ، قَالَ:" أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟"، قَالَ: أَتَشْهَدُ أَنْتَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ"، فَلُبِسَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا ابْنَ صَائِدٍ، إِنَّا قَدْ خَبَّأْنَا لَكَ خَبِيئًا، فَمَا هُوَ؟ قَالَ: الدُّخُّ، الدُّخُّ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اخْسَأْ، اخْسَأْ"، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: ائْذَنْ لِي، فَأَقْتُلَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ يَكُنْ هُوَ فَلَسْتَ صَاحِبَهُ، إِنَّمَا صَاحِبُهُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، وَإِنْ لَا يَكُنْ فَلَيْسَ لَكَ أَنْ تَقْتُلَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْعَهْدِ"، قَالَ: فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُشْفِقًا أَنَّهُ الدَّجَّالُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ میں ایک یہو دی عورت کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا جس کی ایک آنکھ پونچھی تو ہوئی تھی اور دوسری روشن ابھری ہوئی تھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں یہ دجال نہ ہو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے ایک چادر میں لیٹے ہوئے دیکھا کہ وہ کچھ گنگنارہا ہے لیکن اس کی ماں نے اسے بروقت مطلع کر دیا کہ عبداللہ یہ ابوقاسم آئے ہیں ان کے پاس آؤ چنانچہ وہ اپنی چادر سے نکل کر آیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس عورت کو کیا ہو گیا ہے اس پر اللہ کی مار ہواگر یہ اسے چھوڑ دیتی تو یہ اپنی حقیقت ضرور واضح کر دیتا پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ اے ابن صائد تو کیا دیکھتا ہے اس نے کہا میں حق بھی دیکھتاہوں اور باطل بھی اور میں پانی پر ایک تخت دیکھتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اس پر معاملہ مشتبہ ہو گیا پھر پوچھا کہ کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اس نے پلٹ کو پوچھا کہ آپ اس بات کی گواہی دیتے ہیں میں اللہ کا رسول ہوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں تو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہوں پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے چھوڑ کر چلے گئے۔ اس کے بعد ایک مرتبہ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے پاس آئے اور یہی حالات پیش آئے پھر تیسری مرتبہ یا چوتھی مرتبہ مہاجرین انصار کی ایک جماعت کے ساتھ جن میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر بھی تھے اور میں بھی تھا تشریف لائے اور یہی حالات پیش آئے البتہ آخر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اے ابن صائد ہم نے تیرے امتحان کے لئے اپنے ذہن میں ایک چیز چھپائی ہوئی ہے بتاوہ کیا ہے اس نے دخ، دخ، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دور ہواس پر سیدنا عمر کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیجیے میں اسے قتل کر دوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ وہی ہوا تو اس کے اہل نہیں ہواس کے اہل سیدنا عیسیٰ ہیں اور اگر وہ نہیں ہے تو تمہیں کسی ذمی کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی بہرحال نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ہمیشہ یہ اندیشہ رہا کہ کہیں یہ دجال نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14955]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر، وأخرجه مسلم بأخصر مما هنا: 2926، وأبو الزبير لم يصرح بسماعه من جابر
الحكم: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر، وأخرجه مسلم بأخصر مما هنا: 2926، وأبو الزبير لم يصرح بسماعه من جابر
حدیث نمبر: 14956 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ يُحَدِّثُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَتَزَوَّدُ لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ إِلَى الْمَدِينَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم حج کے قربانی کا گوشت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں بھی مدینہ منورہ لے آتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14956]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2980، م: 1972
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2980، م: 1972
حدیث نمبر: 14957 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي الْعَزْلَ"، قَالَ: قُلْتُ لِعَمْرٍو آنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ جَابِرٍ؟، قَالَ: لَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں ہم عزل کرتے تھے آب حیات کا باہر خارج کر دینا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14957]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5208، م: 1440، والواسطة بين عمرو بن دينار و بين جابر، هو عطاء بن أبى رباح، انظر : 14318
الحكم: حديث صحيح، خ: 5208، م: 1440، والواسطة بين عمرو بن دينار و بين جابر، هو عطاء بن أبى رباح، انظر : 14318
حدیث نمبر: 14958 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا يُحَدِّثُ: أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ مَمْلُوكًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ، فَدَعَا بِه النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَاعَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک آدمی نے اپنا غلام یہ کہہ کر آزاد کر دیا کہ میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے بلا کر بیچ دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14958]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2534، م: 997
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2534، م: 997
حدیث نمبر: 14959 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا يُحَدِّثُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ، فَقَالَ:" إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ وَقَدْ خَرَجَ الْإِمَامُ، فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص اس وقت آئے جب کہ امام نکل چکا ہواسے پھر بھی دو رکعتیں پڑھ لینی چاہئیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14959]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 54، 875
الحكم: إسناده صحيح، م: 54، 875
حدیث نمبر: 14960 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ: كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّ قَوْمَهُ، قَالَ: فَصَلَّى بِهِمْ مَرَّةً الْعِشَاءَ، فَقَرَأَ: سُورَةَ الْبَقَرَةِ، فَعَمَدَ رَجُلٌ فَانْصَرَفَ، فَكَانَ مُعَاذٌ يَنَالُ مِنْهُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" فَتَّانٌ، فَتَّانٌ"، أَوْ قَالَ:" فَاتِنٌ، فَاتِنٌ، فَاتِنٌ"، وَأَمَرَهُ بِسُورَتَيْنِ مِنْ أَوْسَطِ الْمُفَصَّلِ، قَالَ عَمْرٌو: لَا أَحْفَظُهُمَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل ابتدا نماز عشاء نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ پڑھتے تھے پھر اپنی قوم میں جا کر انہیں وہیں نماز پڑھا دیتے تھے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز عشاء کو مؤخر کر دیا سیدنا معاذ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھی اور اپنی قوم میں آ کر سورت بقرہ شروع کر دی ایک آدمی نے یہ دیکھ کر اپنی نماز پڑھی اور چلا گیا بعد میں اسے کسی نے کہا کہ تم منافق ہو گئے ہواس نے کہا کہ میں تو منافق نہیں ہوں پھر اس نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جا کر ذکر کر دی کہ معاذ آپ کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں پھر واپس آ کر ہماری امامت کرتے ہیں ہم لوگ کھیتی باڑی کرنے والے ہیں اور اپنے ہاتھوں سے محنت کرنے والے ہیں انہوں نے آ کر ہمیں نماز پڑھائی تو سورة بقرہ شروع کر دی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے دو مرتبہ فرمایا: معاذ کیا تم لوگوں کو فتنہ میں مبتلا کرنا چاہتے ہو تم سورت اعلی اور سورت الشمس کیوں نہیں پڑھتے؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14960]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 701، م: 465
الحكم: إسناده صحيح، خ: 701، م: 465
حدیث نمبر: 14961 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا جَارِيَةٌ تُلَاعِبُهَا، وَتُلَاعِبُكَ؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کنواری سے نکاح کیوں نہ کیا کہ تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14961]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5080، م: 715
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5080، م: 715
حدیث نمبر: 14962 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَلَغَهُ مَوْتُ النَّجَاشِيِّ قَالَ:" صَلُّوا عَلَى أَخٍ لَكُمْ مَاتَ بِغَيْرِ بِلَادِكُمْ"، قَالَ: فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ، قَالَ جَابِرٌ فَكُنْتُ فِي الصَّفِّ الثَّانِي أَوْ الثَّالِثِ، قَالَ: وَكَانَ اسْمُهُ أَصْحَمَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نجاشی کی موت کی اطلاع ملی تو فرمایا کہ آج حبشہ کے نیک آدمی (شاہ حبشہ نجاشی) کا انتقال ہو گیا ہے آؤ صفیں باندھو چنانچہ ہم نے صفیں باندھ لیں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہم نے ان کی نماز جنازہ پڑھ لی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں دوسری یا تیسری صف میں تھا اور اس کا نام اصحمہ تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14962]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1317، م: 952
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1317، م: 952
حدیث نمبر: 14963 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، حُصَيْنٍ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ غُلَامٌ، فَأَرَادَ أَنْ يُسَمِّيَهُ مُحَمَّدًا، فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلُوهُ، فَقَالَ:" سَمُّوا بِاسْمِي، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي، فَإِنِّي بُعِثْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصار کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا اس نے اس کا نام محمد رکھنا چاہا چنانچہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آ کر دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کر و لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت مت رکھا کر و کیونکہ میں تمہارے درمیان تقسیم کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14963]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6196، م: 2133
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6196، م: 2133
حدیث نمبر: 14964 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مَنْصُورٍ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ وُلِدَ لَهُ غُلَامٌ، فَأَرَادَ أَنْ يُسَمِّيَهُ مُحَمَّدًا، فَكَأَنَّهُمْ كَرِهُوهُ، فَحَمَلَهُ عَلَى عَاتِقِهِ، فَأَتَى بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا انہوں نے اس کا نام محمد رکھنا چاہا ہم نے ان سے کہا کہ ہم تمہیں یہ کیفیت نہیں دیں گے تاآنکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھ لیں چنانچہ اس نے اپنے بیٹے کو کندھے پر بٹھایا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آ کر دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے نام پر اپنا نام تو رکھ لو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کر و۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14964]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3114، م: 2133، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3114، م: 2133، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 14965 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، سَعِيدَ بْنَ أَبِي كَرِبٍ، أَوْ شُعَيْبَ بْنَ أَبِي كَرْبٍ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ أَبِي كَرِبٍ، أَوْ شُعَيْبَ بْنَ أَبِي كَرْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ عَلَى جَمَلٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" وَيْلٌ لِلْعَرَاقِيبِ مِنَ النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایڑیوں کے لئے جہنم کی آگ سے ہلاکت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14965]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14966 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَخْطُبُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرَكَعْتَ رَكْعَتَيْنِ؟"، فَقَالَ: لَا، فَقَالَ:" ارْكَعْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک صاحب آئے اور بیٹھ گئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا: کیا تم نے نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں دو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14966]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 930، م: 875
الحكم: إسناده صحيح، خ: 930، م: 875
حدیث نمبر: 14967 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مَطَرٌ ، عَطَاءٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مَطَرٌ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، فَإِنْ عَجَزَ عَنْهَا، فَلْيُزْرِعْهَا أَخَاهُ، وَإِلَّا فَلْيَدَعْهَا وَلَا يُكَارِيهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کے پاس کوئی زمین ہواسے چاہئے کہ وہ خود اس میں کھیتی باڑی کر ے اگر خود نہیں کر سکتا یا اس سے عاجز ہو تو اپنے بھائی کو ہدیہ کے طور پردے دے کرایہ پر نہ دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14967]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2340، م: 1536، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل مطر الوراق
الحكم: حديث صحيح، خ: 2340، م: 1536، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل مطر الوراق
حدیث نمبر: 14968 مسند احمد
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ:" وَنَهَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَلِيطِ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ، وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچی اور پکی کھجوریں کشمش اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14968]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5601، م: 1986، وإسناده حسن فى المتابعات والشواهد كسابقه
الحكم: حديث صحيح، خ: 5601، م: 1986، وإسناده حسن فى المتابعات والشواهد كسابقه
حدیث نمبر: 14969 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ: قَدِمَ الْحَجَّاجُ الْمَدِينَةَ، فَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ، وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ نَقِيَّةٌ، وَالْمَغْرِبَ إِذَا وَجَبَتِ، وَالْعِشَاءَ أَحْيَانًا يُؤَخِّرُهَا، وَأَحْيَانًا يُعَجِّلُ، وَكَانَ إِذَا رَآهُمْ قَدْ اجْتَمَعُوا عَجَّلَ، وَإِذَا رَآهُمْ قَدْ أَبْطَئُوا أَخَّرَ، وَالصُّبْحَ قَالَ: كَانُوا، أَوْ قَالَ: كَانَ يُصَلِّيهَا بِغَلَسٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد بن عمرو کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں حجاج کرام آئے ہم نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اوقات نماز کے متعلق پوچھا: انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز ظہر دوپہر کو پڑھتے تھے عصر اس وقت پڑھتے تھے جب سورج چمک رہا ہوتا مغرب اس وقت پڑھتے تھے جب سورج غروب ہو جاتا نماز عشاء کبھی جلدی اور کبھی تاخیر سے پڑھتے تھے جب دیکھتے کہ لوگ جمع ہو گئے ہیں تو جلد پڑھ لیتے اور جب دیکھتے کہ لوگ اب تک نہیں آئے تو مؤخر کر دیتے اور صبح کی نماز منہ اندھیرے ہی پڑھ لیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14969]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 560، م: 646
الحكم: إسناده صحيح، خ: 560، م: 646
حدیث نمبر: 14970 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: أَعْتَقَ أَبُو مَذْكُورٍ غُلَامًا لَهُ، يُقَالُ لَهُ: يَعْقُوبُ الْقِبْطِيُّ، عَنْ دُبُرٍ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَلَهُ مَالٌ غَيْرُهُ؟"، قَالُوا: لَا، قَالَ:" مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي؟" فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ النَّحَّامِ خَتَنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِثَمَانِ مِائَةٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْفِقْهَا عَلَى نَفْسِكَ، فَإِنْ كَانَ فَضْلٌ فَعَلَى أَهْلِكَ، فَإِنْ كَانَ فَضْلٌ، فَعَلَى أَقَارِبِكَ، فَإِنْ كَانَ فَضْلٌ، فَهَهُنَا وَهَهُنَا وَهَهُنَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک انصاری آدمی جس کا نام مذکور تھا اپنا غلام جس کا نام یعقوب تھا یہ کہہ کر آزاد کر دیا جس کے علاوہ اس کے پاس کسی قسم کا مال نہ تھا کہ میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کی حالت زار کا پتہ چلا تو فرمایا کہ یہ غلام مجھ سے کون خریدے گا؟ نعیم بن عبداللہ نے اسے آٹھ سو درہم کے عوض خرید لیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ پیسے اسے دے دئیے اور فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص تنگدست ہو تو وہ اپنی ذات سے صدقے کا آغاز کر ے اگر بچ جائے تو اپنے بچوں پر پھر اپنے قریبی رشتہ داروں پر اور پھر دائیں بائیں خرچ کر ے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14970]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 997
الحكم: إسناده صحيح، م: 997
حدیث نمبر: 14971 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ نَرْجِعُ إِلَى مَنَازِلِنَا وَهِيَ مِيلٌ، وَأَنَا أُبْصِرُ مَوَاقِعَ النَّبْلِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز مغرب پڑھ کر ایک میل کے فاصلے پر اپنے گھروں کو واپس لوٹتے تھے تو ہمیں تیر گرنے کی جگہ بھی دکھائی دے رہی ہو تی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14971]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل عبدالله بن محمد بن عقيل
الحكم: إسناده حسن من أجل عبدالله بن محمد بن عقيل