بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 46 از 60
حدیث نمبر: 15012 مسند احمد
أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، إِسْحَاقُ بْنُ حَازِمٍ ، ابْنِ مِقْسَمٍ يَعْنِي عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ مِقْسَمٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، أَخْبَرَنِي إِسْحَاقُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنِ ابْنِ مِقْسَمٍ يَعْنِي عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ مِقْسَمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْبَحْرِ:" هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ، الْحِلُّ مَيْتَتُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سمندر کے متعلق فرمایا کہ اس کا پانی پاکیزہ اور اس کا مردار (مچھلی) حلال ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15012]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وھذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وھذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 15013 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، سُلَيْمَانَ يَعْنِي التَّيْمِيَّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي التَّيْمِيَّ , عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: كُنْتُ أَسِيرُ عَلَى نَاضِحٍ لِي فِي أُخْرَيَاتِ الرِّكَابِ، فَضَرَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرْبَةً، أَوْ قَالَ: فَنَخَسَهُ نَخْسَةً، قَالَ: فَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ يَكُونُ فِي أَوَّلِ الرِّكَابِ، إِلَّا مَا كَفَفْتُهُ , قَالَ: فَأَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَتَبِيعُنِيهِ بِكَذَا وَكَذَا , وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ؟"، قَالَ: قُلْتُ: هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَزَادَنِي، قَالَ:" أَتَبِيعُنِيهِ بِكَذَا وَكَذَا، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ؟"، قَالَ: قُلْتُ: هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ سُلَيْمَانُ: فَلَا أَدْرِي كَمْ مِنْ مَرَّةٍ، قَالَ:" أَتَبِيعُنِيهِ بِكَذَا وَكَذَا؟"، ثُمَّ قَالَ:" هَلْ تَزَوَّجْتَ بَعْدَ أَبِيكَ؟"، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا؟"، قَالَ: قُلْتُ: ثَيِّبًا، قَالَ:" أَلَا تَزَوَّجْتَهَا بِكْرًا تُلَاعِبُكَ وَتُلَاعِبُهَا , وَتُضَاحِكُكَ وَتُضَاحِكُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں ایک مرتبہ کسی سفر میں شریک تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ اچانک چلتے چلتے میرا اونٹ ایک جگہ کھڑا ہو گیا اب وہ حرکت بھی نہیں کر رہا مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آواز سنائی دی کہ جابر رضی اللہ عنہ تمہارے اونٹ کو کیا ہوا ہے میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ اسے کیا ہوا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے پکڑ کر رکھو اور مجھے کو ڑادو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کوڑا دیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے ایک ضرب لگائی اور وہ مجھے سب سے آگے لے گیا اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جابر رضی اللہ عنہ کیا تم اپنا اونٹ مجھے بیچتے ہو میں نے عرض کیا: جی یا رسول اللہ! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مدینہ پہنچ کر۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اپنے والد صاحب کی شہادت کے بعد شادی کر لی میں نے عرض کیا: جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: کنواری سے یا شوہر دیدہ سے میں نے عرض کیا: شوہر دیدہ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کنواری سے کیوں نہیں کی کہ وہ تم سے کھیلتی اور تم اس سے کھیلتے وہ تمہیں ہنساتی اور تم اسے ہنساتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15013]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2718، م: 715
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2718، م: 715
حدیث نمبر: 15014 مسند احمد
كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، هِشَامٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الْبَصَلِ وَالْكُرَّاثِ، فَغَلَبَتْنَا الْحَاجَةُ فَأَكَلْنَا مِنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْمُنْتِنَةِ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ الْإِنْسُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پیاز اور لہسن کھانے سے منع فرمایا: تھا لیکن جب ہم اپنی ضرورت سے مغلوب ہو گئے تو ہم نے اسے کھالیا اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اس بدبودار درخت سے کچھ کھائے وہ ہماری مساجد کے قریب نہ آئے کیونکہ جن چیزوں سے انسانوں کو اذیت ہو تی ہے فرشتوں کو بھی ہو تی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15014]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 854، م: 564، وأبو زبیر قد صرح بالسماع عند أبي عوانة: 411/1، وھو متابع أیضاً
الحكم: إسناده صحيح، خ: 854، م: 564، وأبو زبیر قد صرح بالسماع عند أبي عوانة: 411/1، وھو متابع أیضاً
حدیث نمبر: 15015 مسند احمد
كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، هِشَامٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَغْلِقُوا الْأَبْوَابَ بِاللَّيْلِ، وَأَطْفِئُوا السُّرُجَ، وَأَوْكُوا الْأَسْقِيَةَ، وَخَمِّرُوا الطَّعَامَ وَالشَّرَابَ، وَلَوْ أَنْ تَعْرُضُوا عَلَيْهِ بِعُودٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ رات کو سوتے ہوئے دروازے بند کر لیا کر و برتنوں کو ڈھانپ دیا کر و خواہ ایک لکڑی ہی رکھ دو چراغ بجھادیا کر و اور مشکیزوں کا منہ باندھ دیا کر و۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15015]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2012، وأبو زبیر قد صرح بالسماع عند غیر المصنف
الحكم: إسناده صحيح، م: 2012، وأبو زبیر قد صرح بالسماع عند غیر المصنف
حدیث نمبر: 15016 مسند احمد
كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، هِشَامٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَقِيَ اللَّهَ يُشْرِكُ بِهِ دَخَلَ النَّارَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتاہو وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو اللہ سے اس حال میں ملاقات کر ے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتاہو تو وہ جہنم میں داخل ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15016]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 93
الحكم: إسناده صحيح، م: 93
حدیث نمبر: 15017 مسند احمد
كَثِيرٌ ، هِشَامٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا كَثِيرٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَمْسِكُوا عَلَيْكُمْ أَمْوَالَكُمْ، وَلَا تُعْمِرُوهَا , فَإِنَّ مَنْ أَعْمَرَ شَيْئًا حَيَاتَهُ فَهُوَ لَهُ حَيَاتَهُ وَبَعْدَ مَوْتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشا فرمایا: اپنے مال کو اپنے پاس سنبھال کر رکھو کسی کو مت دو اور جو شخص زندگی بھر کے لئے کسی کو کوئی چیز دے دیتا ہے تو وہ اسی کی ہو جاتی ہے زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15017]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1625
الحكم: إسناده صحيح، م: 1625
حدیث نمبر: 15018 مسند احمد
كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ صَاحِبُ الدَّسْتُوَائِيِّ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ , قَالَ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ , فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصْحَابِهِ , فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى جَعَلُوا يَخِرُّونَ , ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ , ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ , ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ , ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ , ثُمَّ جَعَلَ يَتَقَدَّمُ، ثُمَّ جَعَلَ يَتَأَخَّرُ , فَكَانَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ , وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ , ثُمَّ قَالَ:" إِنَّهُ عُرِضَ عَلَيَّ كُلُّ شَيْءٍ تُوعَدُونَهُ , فَعُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ حَتَّى لَوْ تَنَاوَلْتُ مِنْهَا قِطْفًا أَخَذْتُهُ" أَوْ قَالَ" تَنَاوَلْتُ مِنْهَا قِطْفًا، فَقَصُرَتْ يَدِي عَنْهُ"، شَكَّ هِشَامٌ (حديث مرفوع) ،" وَعُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ، فَجَعَلْتُ أَتَأَخَّرُ رَهْبَةَ أَنْ تَغْشَاكُمْ , فَرَأَيْتُ فِيهَا امْرَأَةً حِمْيَرِيَّةً سَوْدَاءَ طَوِيلَةً تُعَذَّبُ فِي هِرَّةٍ لَهَا رَبَطَتْهَا، فَلَمْ تُطْعِمْهَا، وَلَمْ تَسْقِهَا، وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ , وَرَأَيْتُ أَبَا ثُمَامَةَ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ , وَإِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُرِيكُمُوهَا , فَإِذَا خَسَفَتْ فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ"،" وَعُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ، فَجَعَلْتُ أَتَأَخَّرُ رَهْبَةَ أَنْ تَغْشَاكُمْ , فَرَأَيْتُ فِيهَا امْرَأَةً حِمْيَرِيَّةً سَوْدَاءَ طَوِيلَةً تُعَذَّبُ فِي هِرَّةٍ لَهَا رَبَطَتْهَا، فَلَمْ تُطْعِمْهَا، وَلَمْ تَسْقِهَا، وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ , وَرَأَيْتُ أَبَا ثُمَامَةَ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ , وَإِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُرِيكُمُوهَا , فَإِذَا خَسَفَتْ فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں شدید گرمی میں سورج گرہن ہو گیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ کو نماز پڑھائی اور طویل قیام کیا حتی کہ لوگ مرنے لگے پھر اتنا ہی طویل رکوع کیا پھر سر اٹھا کر طویل قیام کیا دوبارہ اسی طرح کیا دو سجدے کئے اور پھر کھڑے ہوئے اور دوسری رکعت بھی اسی طرح پڑھائی پھر دوران نماز ہی آپ پیچھے ہٹنے لگے کچھ دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آگے بڑھ کر اپنی جگہ پر کھڑے ہو گئے۔ اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم سے جس جس چیز کا وعدہ کیا گیا ہے وہ سب چیزیں میں نے اپنی اس نماز کے دوران دیکھی ہیں چنانچہ میرے سامنے جنت کو پیش کیا گیا میں اگر اس کے پھلوں کا کوئی گچھا توڑنا چاہتا تو توڑ سکتا تھا پھر میرے سامنے جہنم کو بھی لایا گیا یہ وہی وقت تھا جب تم نے مجھے پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھا تھا کیونکہ اندیشہ تھا کہ کہیں اس کی لپٹ تمہیں نہ لگ جائے۔ میں نے جہنم میں اس بلی والی عورت کو بھی دیکھا جس نے اسے باندھ دیا تھا خود اسے کچھ کھلایا اور نہ ہی اس کو چھوڑا کہ وہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھا کر اپنا پیٹ بھر لیتی حتی کہ اس حال میں وہ مرگئی اسی طرح میں نے ابو ثمامہ عمرو بن مالک کو بھی جہنم میں اپنی انتڑیاں کھینچتے ہوئے دیکھا اور چاند سورج اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جو اللہ تمہیں دکھاتا ہے لہذاجب انہیں گہن لگ جائے تو نماز پڑھا کر و یہاں تک کہ یہ روشن ہو جائیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15018]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م : 904، وأبو زبیر لم یصرح بالسماع، لکن تابعه عطاء بن أبيرباح، انظر: 14417
الحكم: حديث صحيح، م : 904، وأبو زبیر لم یصرح بالسماع، لکن تابعه عطاء بن أبيرباح، انظر: 14417
حدیث نمبر: 15019 مسند احمد
كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، هِشَامٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَخْلٍ، فَصَلَّى بِأَصْحَابِهِ صَلَاةَ الظُّهْرِ، قَالَ: فَهَمَّ بِهِمُ الْمُشْرِكُونَ، قَالَ: فَقَالَ:" دَعُوهُمْ، فَإِنَّ لَهُمْ صَلَاةً بَعْدَ هَذِهِ هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَبْنَائِهِمْ"، قَالَ: فَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ،" فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصْحَابِهِ، فَصَفَّهُمْ صَفَّيْنِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ , فَكَبَّرُوا جَمِيعًا , ثُمَّ سَجَدَ الَّذِينَ يَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ، فَلَمَّا رَفَعَ الَّذِينَ سَجَدُوا رُءُوسَهُمْ، سَجَدَ الْآخَرُونَ، فَلَمَّا قَامُوا فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ تَأَخَّرَ الَّذِينَ يَلُونَ الصَّفَّ الْأَوَّلَ، فَقَامَ أَهْلُ الصَّفِّ الثَّانِي , وَتَقَدَّمَ الْآخَرُونَ إِلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ , فَرَكَعُوا جَمِيعًا , فَلَمَّا رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ مِنَ الرُّكُوعِ , سَجَدَ الَّذِينَ يَلُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ , فَلَمَّا رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ سَجَدَ الْآخَرُونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ وادی نخلہ میں تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ کو نماز ظہر پڑھائی مشرکین نے مسلمانوں پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا اور کہنے لگے کہ انہیں چھوڑ دو اس نماز کے بعد یہ ایک اور نماز پڑھیں جوان کے نزدیک ان کی اولاد سے بھی زیادہ عزیز ہے سیدنا جبرائیل نے نازل ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس سے مطلع کیا چنانچہ اس مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں دو صفوں میں تقسیم کر دیا اور خود سب سے آگے کھڑے ہو گئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تکبیر کہی ہم نے بھی آپ کے ساتھ تکبیر کہی پھر رکوع کیا اور ہم سب نے بھی آپ کے ساتھ رکوع کیا پھر جب رکوع سے سر اٹھا کر سجدے میں گئے تو آپ کے ساتھ صرف پہلی صف والوں نے سجدہ کیا جبکہ دوسری صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور پہلی صف کے لوگ کھڑے ہوئے تو پچھلی صف والوں نے سجدہ کیا اس کے بعد پچھلی صف کے لوگ آ گئے اور اگلی صف کے لوگ پیچھے آ گئے پھر ہم سب نے اکٹھے ہی رکوع کیا اور جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سجدہ کیا تو اب پہلی صف والوں نے بھی سجدہ کیا اور جب وہ لوگ بیٹھ گئے تو پچھلی صف والوں نے بھی سجدہ کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15019]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ - معلقا -: 4130، م: 840
الحكم: إسناده صحيح، خ - معلقا -: 4130، م: 840
حدیث نمبر: 15020 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَخِي بَنِي سَلِمَةَ، وَمَعِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَأَبُو الْأَسْبَاطِ مَوْلًى لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ كَانَ يَتْبَعُ الْعِلْمَ، قَالَ: فَسَأَلْنَاهُ عَنِ الْوُضُوءِ، مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ مِنَ الطَّعَامِ، فَقَالَ: خَرَجْتُ أُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِهِ، فَلَمْ أَجِدْهُ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ، فَقِيلَ لِي: هُوَ بِالْأَسْوَافِ عِنْدَ بَنَاتِ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ أَخِي بَلْحَارِثِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، يَقْسِمُ بَيْنَهُنَّ مِيرَاثَهُنَّ مِنْ أَبِيهِنَّ , قَالَ: وَكُنَّ أَوَّلَ نِسْوَةٍ وَرِثْنَ مِنْ أَبِيهِنَّ فِي الْإِسْلَامِ , قَالَ: فَخَرَجْتُ حَتَّى جِئْتُ الْأَسْوَافَ وَهُوَ مَالُ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صُورٍ مِنْ نَخْلٍ قَدْ رُشَّ لَهُ فَهُوَ فِيهِ , قَالَ: فَأُتِيَ بِغَدَاءٍ مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ قَدْ صُنِعَ لَهُ، فَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَكَلَ الْقَوْمُ مَعَهُ، قَالَ: ثُمَّ بَالَ , ثُمَّ تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلظُّهْرِ , وَتَوَضَّأَ الْقَوْمُ مَعَهُ , قَالَ: ثُمَّ صَلَّى بِهِمُ الظُّهْرَ , قَالَ: ثُمَّ قَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَا بَقِيَ مِنْ قِسْمَتِهِ لَهُنَّ، حَتَّى حَضَرَتِ الصَّلَاةُ، وَفَرَغَ مِنْ أَمْرِهِ مِنْهُنَّ , قَالَ: فَرَدُّوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضْلَ غَدَائِهِ مِنَ الْخُبْزِ وَاللَّحْمِ , فَأَكَلَ وَأَكَلَ الْقَوْمُ مَعَهُ , قَالَ: ثُمَّ نَهَضَ، فَصَلَّى بِنَا الْعَصْرَ، وَمَا مَسَّ مَاءً وَلَا أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن محمد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میرے ساتھ محمد بن عمرو اور اسباطھی تھے جو حصول علم کے لئے نکلے تھے ہم نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کا مسئلہ پوچھا: انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو نے کے لئے مسجد نبوی پہنچا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہاں نہ ملے میں نے دریافت کیا تو بتایا گیا کہ وہ مقام اسوف میں سعد بن ربیع کی بچیوں کے پاس گئے ہیں تاکہ ان کے درمیان ان کے والد کی وراثت تقسیم کر یں یہ پہلی خواتین تھیں جنہیں زمانہ اسلام میں اپنے والد کی میراث ملی۔ میں وہاں سے نکل کر مقام اسوف میں پہنچا جہاں سعد بن ربیع کا مال تھا میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے کھجور کا ایک بستر پر پانی چھڑک کر اسے نرم کر دیا گیا اور آپ اس پر تشریف فرما ہیں اتنی دیر میں کھانا لایا گیا جس میں روٹی اور گوشت تھا جو خاص طور پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے تیار کیا گیا تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے تناول فرمایا: اور دوسرے لوگوں نے بھی کھایا پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پیشاب کر کے نماز ظہر کے لئے وضو کیا لوگوں نے بھی وضو کیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں نماز ظہر ادا کر وائی نماز سے فراغت ہو نے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دوبارہ بیٹھ گئے اور تقسیم وراثت کا جو کام بچ گیا تھا اسے مکمل کر لیا یہاں تک کہ نماز کا وقت آگیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی ان کے معاملے سے فارغ ہو گئے پھر ان لوگوں نے بھی کھایا پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اٹھ کر ہمیں نماز پڑھائی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پانی کو ہاتھ لگایا اور نہ ہی لوگوں میں سے کسی نے اسے ہاتھ لگایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15020]
حکم دارالسلام
إسناده محتمل للتحسین لأجل عبد اللہ بن محمد بن عقیل، وحديثه حسن في المتابعات والشواھد
الحكم: إسناده محتمل للتحسین لأجل عبد اللہ بن محمد بن عقیل، وحديثه حسن في المتابعات والشواھد
حدیث نمبر: 15021 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، بَشِيرُ بْنُ أَبِي بَشِيرٍ ، جَابِرٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي بَشِيرُ بْنُ أَبِي بَشِيرٍ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ , يَسْأَلُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ أَخَا بَنِي سَلِمَةَ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَقَالَ جَابِرٌ :" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْرِفُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ غَرَفَاتٍ بِيَدَيْهِ، ثُمَّ يُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى جِلْدِهِ"، قَالَ: فَقَالَ لَهُ الْحَسَنُ: إِنَّ شَعْرَ رَأْسِي كَثِيرٌ، وَأَخْشَى أَنْ لَا تَغْسِلَهُ ثَلَاثُ غَرَفَاتٍ بِيَدَيَّ، فَقَالَ لَهُ جَابِرٌ: رَأْسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَكْثَرَ وَأَطْيَبَ مِنْ رَأْسِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ حسن بن محمد نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے غسل ت کے متعلق پوچھا: انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تین مرتبہ اپنے ہاتھوں سے اپنے سر پر پانی بہاتے تھے پھر باقی جسم پر پانی ڈالتے تھے وہ کہنے لگے کہ میرے تو بال بہت لمبے ہیں؟ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر مبارک میں تعداد کے اعتبار سے بھی تم سے زیادہ بال تھے اور مہک کے اعتبار سے بھی سب سے زیادہ تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15021]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة بشیر بن أبي بشیر، لكنه قد توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة بشیر بن أبي بشیر، لكنه قد توبع
حدیث نمبر: 15022 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ الْمِصْرِيُّ ، خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، أَبِي عَيَّاشٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ الْمِصْرِيُّ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَبَحَ يَوْمَ الْعِيدِ كَبْشَيْنِ، ثُمَّ قَالَ حِينَ وَجَّهَهُمَا:" إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ , لَا شَرِيكَ لَهُ , وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ , بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بقر عید کے دن دو مینڈھے ذبح کئے جب انہیں قبلہ رخ کرنے لگے تو فرمایا: میں نے اپنا چہرہ اس ذات کی طرف متوجہ کر دیا جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا سب سے کٹ کر اور مسلمانوں ہو کر میں مشرکین میں سے نہیں ہوں میری نماز قربانی زندگی اور موت سب اللہ رب العالمین کے لئے جس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان، بسم اللہ، اللہ اکبر اے اللہ یہ تیری جانب سے ہے اور تیرے لئے اسے محمد اور ان کی امت کی طرف سے قبول فرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15022]
حکم دارالسلام
إسناده محتمل للتحسین، أبو عیاض المعافري روی عنه ثلاثة، وابن إسحاق صدوق، حسن الحدیث
الحكم: إسناده محتمل للتحسین، أبو عیاض المعافري روی عنه ثلاثة، وابن إسحاق صدوق، حسن الحدیث
حدیث نمبر: 15023 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبَاهُ ، مُحَمَّدِ بْنِ عِكْرِمَةَ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، حَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السَّلَمِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: وَسَمِعْتُهُ يَذْكُرُ يَعْنِي أَبَاهُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِكْرِمَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، وَعَنْ حَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ , أَنَّهُمَا دَخَلَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السَّلَمِيِّ , وَهُوَ" يُصَلِّي مُلْتَحِفًا وَرِدَاؤُهُ عَلَى جَدْرِ مَسْجِدِهِ"، فَصَلَّى ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْنَا، فَقَالَ لَنَا: إِنَّمَا صَلَّيْتُ لِتَرَيَانِي، إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي هَكَذَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابراہیم بن عبدالرحمن اور حسن بن محمد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے یہاں گئے وہ ایک کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھ رہے تھے حالانکہ دوسری چادر بھی مسجد کے قریب دیوار پر تھی جب انہوں نے سلام پھیرا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے یہ اس لئے کہا ہے کہ تم دونوں دیکھ لو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15023]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن عكرمة المخزومي معروف النسب مجھول الحال، وانظر: 14120
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن عكرمة المخزومي معروف النسب مجھول الحال، وانظر: 14120
حدیث نمبر: 15024 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، مُحَمَّدِ بْنِ عِكْرِمَةَ ، رَجُلٌ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِكْرِمَةَ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ جُهَيْنَةَ , وَنَحْنُ مَعَ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ , عَنْ أَبِيهِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَيُّمَا امْرِئٍ مِنَ النَّاسِ حَلَفَ عِنْدَ مِنْبَرِي هَذَا عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ يَسْتَحِقُّ بِهَا حَقَّ مُسْلِمٍ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّارَ، وَإِنْ عَلَى سِوَاكٍ أَخْضَرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص میرے اس منبر کے پاس جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا حق مارے اللہ اسے جہنم میں ضرور داخل کر ے گا اگرچہ ایک تازہ مسواک ہی کی وجہ سے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15024]
حکم دارالسلام
حديث قوي، وهذا إسناد ضعيف لجهالة محمد بن عكرمة، والرجل من جهينة
الحكم: حديث قوي، وهذا إسناد ضعيف لجهالة محمد بن عكرمة، والرجل من جهينة
حدیث نمبر: 15025 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِذَا ذُكِرَ أَصْحَابُ أُحُدٍ:" أَمَا وَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي غُودِرْتُ مَعَ أَصْحَابِ نُحْصِ الْجَبَلِ"، يَعْنِي سَفْحَ الْجَبَلِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بھی اصحاب احد کا ذکر فرماتے تو میں انہیں یہ فرماتے ہوئے سنتا کہ کاش پہاڑ کی چوٹی والوں کے ساتھ دھوکے کے حملے میں شہید ہو نے والوں میں میں بھی شامل ہوتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15025]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، قوله: «أني غودرت» أي لیتني ترکت مع قتلی أحد، وأبقیت فیھم أي لیتني استشھدت معھم، وفيه دلالة على زيادة شرف شھداء أحد من بین الشھداء واللہ تعالی أعلم
الحكم: إسناده حسن، قوله: «أني غودرت» أي لیتني ترکت مع قتلی أحد، وأبقیت فیھم أي لیتني استشھدت معھم، وفيه دلالة على زيادة شرف شھداء أحد من بین الشھداء واللہ تعالی أعلم
حدیث نمبر: 15026 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّقَاعِ مُرْتَحِلًا عَلَى جَمَلٍ لِي ضَعِيفٍ، فَلَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَعَلَتِ الرِّفَاقُ تَمْضِي، وَجَعَلْتُ أَتَخَلَّفُ حَتَّى أَدْرَكَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا لَكَ يَا جَابِرُ؟"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَبْطَأَ بِي جَمَلِي هَذَا، قَالَ:" فَأَنِخْهُ"، وَأَنَاخَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ:" أَعْطِنِي هَذِهِ الْعَصَا مِنْ يَدِكَ"، أَوْ قَالَ:" اقْطَعْ لِي عَصًا مِنْ شَجَرَةٍ" , قَالَ: فَفَعَلْتُ، قَالَ: فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَخَسَهُ بِهَا نَخَسَاتٍ، ثُمَّ قَالَ:" ارْكَبْ"، فَرَكِبْتُ، فَخَرَجَ وَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ يُوَاهِقُ نَاقَتَهُ مُوَاهَقَةً، قَالَ: وَتَحَدَّثَ مَعِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَتَبِيعُنِي جَمَلَكَ هَذَا يَا جَابِرُ؟"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , بَلْ أَهَبُهُ لَكَ، قَالَ:" لَا، وَلَكِنْ بِعْنِيهِ"، قَالَ: قُلْتُ: فَسُمْنِي بِهِ، قَالَ:" قَدْ قُلْتُ أَخَذْتُهُ بِدِرْهَمٍ"، قَالَ: قُلْتُ: لَا , إِذًا يَغْبِنُنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فَبِدِرْهَمَيْنِ"، قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَلَمْ يَزَلْ يَرْفَعُ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَلَغَ الْأُوقِيَّةَ , قَالَ: قُلْتُ: فَقَدْ رَضِيتُ، قَالَ:" قَدْ رَضِيتَ؟"، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" نَعَمْ"، قُلْتُ: هُوَ لَكَ، قَالَ:" قَدْ أَخَذْتُهُ"، قَالَ: ثُمَّ قَالَ لِي:" يَا جَابِرُ , هَلْ تَزَوَّجْتَ بَعْدُ؟"، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" أَثَيِّبًا أَمْ بِكْرًا؟"، قَالَ: قُلْتُ: بَلْ ثَيِّبًا، قَالَ:" أَفَلَا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ؟"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ أَبِي أُصِيبَ يَوْمَ أُحُدٍ , وَتَرَكَ بَنَاتٍ لَهُ سَبْعًا , فَنَكَحْتُ امْرَأَةً جَامِعَةً تَجْمَعُ رُءُوسَهُنَّ , وَتَقُومُ عَلَيْهِنَّ، قَالَ:" أَصَبْتَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ"، قَالَ:" أَمَا إِنَّا لَوْ قَدْ جِئْنَا صِرَارًا، أَمَرْنَا بِجَزُورٍ فَنُحِرَتْ، وَأَقَمْنَا عَلَيْهَا يَوْمَنَا ذَلِكَ، وَسَمِعَتْ بِنَا فَنَفَضَتْ نَمَارِقَهَا"، قَالَ: قُلْتُ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَنَا مِنْ نَمَارِقَ، قَالَ:" إِنَّهَا سَتَكُونُ، فَإِذَا أَنْتَ قَدِمْتَ، فَاعْمَلْ عَمَلًا كَيِّسًا"، قَالَ: فَلَمَّا جِئْنَا صِرَارًا، أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَزُورٍ، فَنُحِرَتْ، فَأَقَمْنَا عَلَيْهَا ذَلِكَ الْيَوْمَ، فَلَمَّا أَمْسَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَخَلَ وَدَخَلْنَا، قَالَ: فَأَخْبَرْتُ الْمَرْأَةَ الْحَدِيثَ، وَمَا قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَدُونَكَ، فَسَمْعًا وَطَاعَةً، قَالَ: فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَخَذْتُ بِرَأْسِ الْجَمَلِ، فَأَقْبَلْتُ بِهِ حَتَّى أَنَخْتُهُ عَلَى بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَلَسْتُ فِي الْمَسْجِدِ قَرِيبًا مِنْهُ، قَالَ: وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى الْجَمَلَ، فَقَالَ:" مَا هَذَا؟"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَذَا جَمَلٌ جَاءَ بِهِ جَابِرٌ، قَالَ:" فَأَيْنَ جَابِرٌ؟"، فَدُعِيتُ لَهُ، قَالَ:" تَعَالَ أَيْ يَا ابْنَ أَخِي، خُذْ بِرَأْسِ جَمَلِكَ , فَهُوَ لَكَ"، قَالَ: فَدَعَا بِلَالًا، فَقَالَ:" اذْهَبْ بِجَابِرٍ، فَأَعْطِهِ أُوقِيَّةً"، فَذَهَبْتُ مَعَهُ فَأَعْطَانِي أُوقِيَّةً وَزَادَنِي شَيْئًا يَسِيرًا , قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا زَالَ يَنْمِي عِنْدَنَا , وَنَرَى مَكَانَهُ مِنْ بَيْتِنَا، حَتَّى أُصِيبَ أَمْسِ فِيمَا أُصِيبَ النَّاسُ، يَعْنِي يَوْمَ الْحَرَّةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ ذات الرقاع میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ اپنے ایک کمزور اونٹ پر سوار ہو کر نکلا واپسی پر سواریاں چلتی گئی اور میں پیچھے رہ گیا یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس آئے اور فرمایا: جابر رضی اللہ عنہ تمہیں کیا ہوا میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میر اونٹ سست ہو گیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے بٹھادو پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود ہی اسے بٹھایا اور فرمایا: اپنے ہاتھ کی لاٹھی مجھے دیدو اس درخت سے توڑ کر دیدو میں نے ایسا ہی کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے چند مرتبہ وہ چبھو کر فرمایا: اب اس پر سوار ہو جا چنانچہ میں سوار ہو گیا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے وہ اب دوسری اونٹنیوں سے مقابلہ کر رہا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے باتیں کرتے ہوئے فرمایا: جابر رضی اللہ عنہ کیا تم اپنا اونٹ مجھے بیچتے ہو؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کو ہبہ کرتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں تم بیچ دو میں نے عرض کیا: پھر مجھے اس کی قیمت بتا دیجیے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں اسے ایک درہم میں لیتا ہوں میں نے کہا پھر نہیں یہ تو نقصان کا سودا ہو گا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو درہم کہا لیکن میں نے پھر بھی انکار کر دیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس طرح بڑھاتے ہوئے ایک اوقیہ تک پہنچ گئے تب میں نے کہا میں راضی ہوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: راضی ہو میں نے کہا جی ہاں یہ اونٹ آپ کا ہوا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے لے لیا۔ تھوڑی دیر بعد مجھ سے پوچھا کہ جابر رضی اللہ عنہ کیا تم نے شادی کر لی میں نے عرض کیا: جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کنواری سے یا شوہردیدہ سے میں نے کہا شوہر دیدہ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کنواری سے کیوں نہیں کہ تم اس کے ساتھ کھیلتے وہ تمہارے ساتھ کھیلتی میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! غزوہ احد میں میرے والد صاحب شہید ہو گئے اور سات بیٹیاں چھوڑ گئے تھے میں نے ایسی عورت سے نکاح کیا جو ان کی دیکھ بھال کر سکے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اچھا کیا پھر فرمایا کہ اگر ہم کسی بلند ٹیلے پر پہنچ گئے تو اونٹ ذبح کر یں گے اور ایک دن یہیں قیام کر یں گے خواتین کو ہماری آمد کا علم ہو جائے تو وہ بستر جھاڑ لیں گے میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! واللہ ہمارے پاس تو ایسی چادریں نہیں ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ہوں گی اور جب تم گھر پہنچ جاؤ تو اپنی بیوی کے قریب جا سکتے ہو چنانچہ ایک بلند ٹیلے پر پہنچ کر ایسا ہی ہوا اور شام کو ہم مدینہ منورہ میں داخل ہو گئے۔ میں نے اپنی بیوی کو یہ سارا واقعہ بتایا اور یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے کیا فرمایا ہے اس نے کہا بہت اچھا سر آنکھوں پر چنانچہ صبح ہوئی تو میں نے اونٹ کا سرا پکڑا اور اسے لا کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دروازے پر بٹھادیا اور خود قریب جا کر مسجد میں بیٹھ گیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے باہر نکلے تو دیکھا تو لوگوں سے پوچھا کہ یہ اونٹ کیسا ہے ان لوگوں نے بتایا یا رسول اللہ! جابر رضی اللہ عنہ لے کر آیا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جابر رضی اللہ عنہ خود کہاں ہے مجھے بلایا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بھتیجے یہ اونٹ تمہارا ہے تم لے جاؤ اور سیدنا بلال کو بلا کر حکم دیا کہ جابر رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے جاؤ اور ایک اوقیہ چاندی دیدد چنانچہ میں ان کے ساتھ چلا گیا انہوں نے مجھے ایک اوقیہ اور اس میں بھی کچھ جھکتا ہوا دے دیا واللہ وہ ہمیشہ ہمارے پاس رہا حتی کہ حرہ کے دن لوگ اسے لے گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15026]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2406 و 3631، م: 715 و 2083
الحكم: حديث صحيح، خ: 2406 و 3631، م: 715 و 2083
حدیث نمبر: 15027 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: لَمَّا اسْتَقْبَلْنَا وَادِيَ حُنَيْنٍ قَالَ: انْحَدَرْنَا فِي وَادٍ مِنْ أَوْدِيَةِ تِهَامَةَ أَجْوَفَ حَطُوطٍ , إِنَّمَا نَنْحَدِرُ فِيهِ انْحِدَارًا , قَالَ: وَفِي عَمَايَةِ الصُّبْحِ , وَقَدْ كَانَ الْقَوْمُ كَمَنُوا لَنَا فِي شِعَابِهِ، وَفِي أَجْنَابِهِ، وَمَضَايِقِهِ , قَدْ أَجْمَعُوا وَتَهَيَّئُوا وَأَعَدُّوا , قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا رَاعَنَا وَنَحْنُ مُنْحَطُّونَ، إِلَّا الْكَتَائِبُ قَدْ شَدَّتْ عَلَيْنَا شَدَّةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ , وَانْهَزَمَ النَّاسُ رَاجِعِينَ , فَاسْتَمَرُّوا لَا يَلْوِي أَحَدٌ مِنْهُمْ عَلَى أَحَدٍ، وَانْحَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ الْيَمِينِ , ثُمَّ قَالَ إِلَيَّ: أَيُّهَا النَّاسُ , هَلُمَّوا إِلَيَّ , أَنَا رَسُولُ اللَّهِ , أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ"، قَالَ: فَلَا شَيْءَ , احْتَمَلَتِ الْإِبِلُ بَعْضُهَا بَعْضًا , فَانْطَلَقَ النَّاسُ , إِلَّا أَنَّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , رَهْطًا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، وَالْأَنْصَارِ , وَأَهْلِ بَيْتِهِ غَيْرَ كَثِيرٍ , وَفِيمَنْ ثَبَتَ مَعَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ , وَمِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ , وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ , وَابْنُهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ , وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ , وَرَبِيعَةُ بْنُ الْحَارِثِ , وأَيْمَنُ بْنُ عُبَيْدٍ وَهُوَ ابْنُ أُمِّ أَيْمَنَ , وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: وَرَجُلٌ مِنْ هَوَازِنَ عَلَى جَمَلٍ لَهُ أَحْمَرَ , فِي يَدِهِ رَايَةٌ لَهُ سَوْدَاءُ فِي رَأْسِ رُمْحٍ طَوِيلٍ لَهُ أَمَامَ النَّاسِ , وَهَوَازِنُ خَلْفَهُ , فَإِذَا أَدْرَكَ طَعَنَ بِرُمْحِهِ , وَإِذَا فَاتَهُ النَّاسُ رَفَعَهُ لِمَنْ وَرَاءَهُ فَاتَّبَعُوهُ، قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ وَحَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ , عَنْ أَبِيهِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: بَيْنَا ذَلِكَ الرَّجُلُ مِنْ هَوَازِنَ صَاحِبُ الرَّايَةِ , عَلَى جَمَلِهِ ذَلِكَ يَصْنَعُ مَا يَصْنَعُ , إِذْ هَوَى لَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ , وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُرِيدَانِهِ , قَالَ: فَيَأْتِيهِ عَلِيٌّ مِنْ خَلْفِهِ , فَضَرَبَ عُرْقُوبَيِ الْجَمَلِ فَوَقَعَ عَلَى عَجُزِهِ , وَوَثَبَ الْأَنْصَارِيُّ عَلَى الرَّجُلِ فَضَرَبَهُ ضَرْبَةً أَطَنَّ قَدَمَهُ بِنِصْفِ سَاقِهِ , فَانْعَجَفَ عَنْ رَحْلِهِ وَاجْتَلَدَ النَّاسُ , فَوَاللَّهِ مَا رَجَعَتْ رَاجِعَةُ النَّاسِ مِنْ هَزِيمَتِهِمْ حَتَّى وَجَدُوا الْأَسْرَى مُكَتَّفِينَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم وادی حنین کے سامنے پہنچے تو تہامہ کی ایک جوف دار وادی میں اترے ہم اس میں لڑھکتے ہوئے اترتے جارہے تھے صبح کا وقت تھا دشمن کے لوگ ہماری تاک میں گھاٹیوں، کناروں اور تنگ جگہوں میں گھات لگائے بیٹھے ہوئے تھے وہ لوگ متفق اور خوب تیاری کے ساتھ آئے ہوئے تھے واللہ ابھی ہم لوگ اتر ہی رہے تھے کہ انہوں نے ہمیں سنبھلنے کا موقع نہ دیا اور یکجان ہو کر تمام لشکر وں نے ہم پر حملہ کر دیا لوگ شکست کھا کر پیچھے کو پلٹنے لگے اور کسی کو کسی کی ہو ش نہ تھی۔ ادھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دائیں جانب سمٹ گئے اور لوگوں کو آوازیں دینے لگے کہ اے لوگو میرے پاس آؤ میں اللہ کا رسول ہوں میں محمد بن عبداللہ ہوں اس وقت اونٹ بھی ادھر ادھر بھاگے پھر رہے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مہاجرین و انصار اور اہل بیت کے افراد بہت کم رہ گئے تھے ان ثابت قدم رہنے والوں میں سیدنا ابوبکر، عمر بھی تھے اور اہل بیت میں سیدنا علی اور سیدنا عباس ان کے صاحبزادے فضل ابوسفیان بن حارث، ربیعہ بن حارث، ایمن بن عبید جو ام ایمن کے صاحبزادے تھے اور سیدنا اسامہ بن زید تھے جبکہ بنو ہوازن کا یک آدمی سرخ اونٹ پر سوار تھا اس کے ہاتھ میں ایک سیاہ رنگ کا جھنڈا تھا جو ایک لمبے نیزے کے سر پر بندھا ہوا تھا وہ لوگوں سے آگے تھے اور بقیہ ہوازن اس کے پیچھے پیچھے تھے جب وہ کسی کو پاتا تو اپنے نیزے سے اسے مار دیتا جب کوئی نظر نہ آتا تو وہ اسے اپنے پیچھے والوں کے لئے بلند کر دیتا اور وہ اس کے پیچھے چلنے لگتے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابھی بنوہوازن کا وہ آدمی جو علمبردار تھا اپنے اونٹ پر ہی سوار تھا اور وہ سب کچھ کرتا جارہا تھا جو کر رہا تھا کہ اچانک اس کا سامنا سیدنا علی اور ایک انصاری سے ہو گیا وہ دونوں اس کے پیچھے لگ گئے چنانچہ سیدنا علی نے پیچھے سے آ کر اس کے اونٹ کی ایڑیوں پر ایسی ضرب لگائی کہ وہ اس کی دم کے بل گرپڑا ادھر سے انصاری نے اس پر چھلانگ لگائی اور اس پر ایسا وار کیا کہ اس کا پاؤں نصف پنڈلی تک چر گیا وہ اپنی سواری سے گرگیا اور لوگ بھاگ کھڑے ہوئے واللہ لوگ اپنی شکست سے جان بچا کر جہاں بھی بھاگے بالا آخر وہ قیدی بنا کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لائے گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15027]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 15028 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: عَمِلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَنْدَقِ , قَالَ: فَكَانَتْ عِنْدِي شُوَيْهَةُ عَنْزٍ جَذَعٌ سَمِينَةٌ , قَالَ: فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَوْ صَنَعْنَاهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَمَرْتُ امْرَأَتِي , فَطَحَنَتْ لَنَا شَيْئًا مِنْ شَعِيرٍ، وَصَنَعَتْ لَنَا مِنْهُ خُبْزًا , وَذَبَحَتْ تِلْكَ الشَّاةَ، فَشَوَيْنَاهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَلَمَّا أَمْسَيْنَا وَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الِانْصِرَافَ عَنِ الْخَنْدَقِ , قَالَ: وَكُنَّا نَعْمَلُ فِيهِ نَهَارًا، فَإِذَا أَمْسَيْنَا رَجَعْنَا إِلَى أَهْلِنَا، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي قَدْ صَنَعْتُ لَكَ شُوَيْهَةً كَانَتْ عِنْدَنَا , وَصَنَعْنَا مَعَهَا شَيْئًا مِنْ خُبْزِ هَذَا الشَّعِيرِ , فَأُحِبُّ أَنْ تَنْصَرِفَ مَعِي إِلَى مَنْزِلِي، وَإِنَّمَا أُرِيدُ أَنْ يَنْصَرِفَ مَعِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحْدَهُ , قَالَ: فَلَمَّا قُلْتُ لَهُ ذَلِكَ، قَالَ:" نَعَمْ" , ثُمَّ" أَمَرَ صَارِخًا، فَصَرَخَ أَنْ انْصَرِفُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَيْتِ جَابِرٍ"، قَالَ: قُلْتُ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَقْبَلَ النَّاسُ مَعَهُ , قَالَ: فَجَلَسَ وَأَخْرَجْنَاهَا إِلَيْهِ , قَالَ:" فَبَرَكَ وَسَمَّى ثُمَّ أَكَلَ , وَتَوَارَدَهَا النَّاسُ , كُلَّمَا فَرَغَ قَوْمٌ قَامُوا وَجَاءَ نَاسٌ , حَتَّى صَدَرَ أَهْلُ الْخَنْدَقِ عَنْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ خندق کی کھدائی کر رہے تھے میرے پاس بکری کا ایک چھ ماہ کا بچہ تھا میں نے دل میں سوچا کہ کیوں نہ اسے بھون کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے کھانے کا انتظام کر لیں چنانچہ میں نے اپنی بیوی سے کہا اس نے کچھ جو پیسے اور اس سے روٹیاں پکائیں اور بکری ذبح کی جسے ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے بھون لیا۔ جب شام ہوئی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خندق سے واپسی کا ارادہ کرنے لگے کہ ہم لوگ دن بھر کام کرتے تھے اور شام کو گھر واپس آجاتے تھے میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے تھوڑا ساگوشت بھونا ہے جو ہمارے پاس تھا اور اس کے ساتھ جو کی کچھ روٹیاں پکائی ہیں میری خواہش ہے کہ آپ میرے ساتھ میرے گھر چلیں میرا ارادہ یہ تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تنہا میرے ساتھ چلیں گے لیکن جب میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے چلنے کے لئے کہا تو آپ نے فرمایا: اچھا اور ایک منادی کو حکم دیا کہ جس نے پورے لشکر میں اعلان کر وا دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ جابر رضی اللہ عنہ کے گھر چلو میں نے اپنے دل میں انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا اتنے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور سارے لوگ آ گئے اور آ کر بیٹھ گئے ہم نے جو کچھ پکایا تھا وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے لا کر رکھ دیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس میں برکت کی دعا فرمائی اور بسم اللہ پڑھ کر اسے تناول فرمایا: لوگ آتے جاتے تھے اور کھاتے تھے حتی کہ تمام اہل خندق نے سیر ہو کر وہ کھانا کھالیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15028]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ- بنحوه-: 3070، م: 2039، وهذا إسناد حسن من أجل ابن إسحاق، وهو متابع
الحكم: حديث صحيح، خ- بنحوه-: 3070، م: 2039، وهذا إسناد حسن من أجل ابن إسحاق، وهو متابع
حدیث نمبر: 15029 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، مُعَاذُ بْنُ رِفَاعَةَ ، مَحْمُودِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ رِفَاعَةَ , عَنْ مَحْمُودِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: لَمَّا دُفِنَ سَعْدٌ وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَسَبَّحَ النَّاسُ مَعَهُ طَوِيلًا , ثُمَّ كَبَّرَ فَكَبَّرَ النَّاسُ , ثُمَّ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مِمَّ سَبَّحْتَ؟، قَالَ:" لَقَدْ تَضَايَقَ عَلَى هَذَا الرَّجُلِ الصَّالِحِ قَبْرُهُ , حَتَّى فَرَّجَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب سیدنا سعد بن معاذ کی تدفین ہو چکی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیر تک تسبیح کی ہم بھی تسبیح کرتے رہے پھر تکبیر کہتے رہے کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ نے تسبیح اور تکبیر کیوں کہی فرمایا کہ اس بندہ صالح پر قبر تنگ ہو رہی تھی بعد میں اللہ نے اسے کشادہ کر دی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15029]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 15030 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، الْأَعْمَشُ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ: بَلَغَنِي عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا طَبَخْتُمُ اللَّحْمَ، فَأَكْثِرُوا الْمَرَقَ أَوْ الْمَاءَ، فَإِنَّهُ أَوْسَعُ أَوْ أَبْلَغُ لِلْجِيرَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم گوشت پکایا کر و تو اس میں شوربہ بڑھا لیا کر و کہ اس سے پڑوسیوں کے لئے کشادگی پیدا ہو جاتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15030]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، فالأعمش لم يسمعه من جابر، وله شاهد من حديث أبي ذر الغفاري عند مسلم: 2625، وسيأتي برقم: 21326
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، فالأعمش لم يسمعه من جابر، وله شاهد من حديث أبي ذر الغفاري عند مسلم: 2625، وسيأتي برقم: 21326
حدیث نمبر: 15031 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ , عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا عَبْدٍ تَزَوَّجَ بِغَيْرِ إِذْنِ سَيِّدِهِ فَهُوَ عَاهِرٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو غلام اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کرتا ہے وہ بدکاری کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15031]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، فقد تفرد به عبد الله بن محمد بن عقيل، وهو ضعيف إذا لم يتابع
الحكم: إسناده ضعيف، فقد تفرد به عبد الله بن محمد بن عقيل، وهو ضعيف إذا لم يتابع