بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 34 از 60
حدیث نمبر: 14772 مسند احمد
حُجَيْنٌ ، لَيْثٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، لَيْثٌ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: جَاءَ عَبْدٌ فَبَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْهِجْرَةِ، وَلَمْ يَشْعُرْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ عَبْدٌ، فَجَاءَ سَيِّدُهُ يُرِيدُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِعْنِيهِ"، فَاشْتَرَاهُ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ، ثُمَّ لَمْ يُبَايِعْ أَحَدًا بَعْدُ حَتَّى يَسْأَلَهُ أَعَبْدٌ هُوَ؟.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک غلام آیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ہجرت پر بیعت کر لی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پتہ نہیں تھا کہ یہ غلام ہے اتنے میں اس کا آقا اسے تلاش کرتا ہوا آگیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے میرے ہاتھ بیچ دو اور دو سیاہ فام غلام دے کر اسے خرید لیا اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی شخص سے اس وقت تک بیعت نہ لیتے تھے جب تک یہ نہ پوچھ لیتے کہ وہ غلام تو نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14772]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1602
الحكم: إسناده صحيح، م: 1602
حدیث نمبر: 14773 مسند احمد
حُجَيْنٌ ، وَيُونُسُ ، اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، وَيُونُسُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ: رُمِيَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، فَقَطَعُوا أَكْحَلَهُ، فَحَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّارِ، فَانْتَفَخَتْ يَدُهُ، فَحَسَمَهُ فَانْتَفَخَتْ يَدُهُ، فَحَسَمَهُ أُخْرَى، فَانْتَفَخَتْ يَدُهُ، فَنَزَفَهُ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ، قَالَ: اللَّهُمَّ لَا تُخْرِجْ نَفْسِي، حَتَّى تُقِرَّ عَيْنِي مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ، فَاسْتَمْسَكَ عِرْقُهُ، فَمَا قَطَرَ قَطْرَةً حَتَّى نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدٍ، فَأُرْسِلَ إِلَيْهِ، فَحَكَمَ أَنْ تُقْتَلَ رِجَالُهُمْ، وَتُسْتَحْيَا نِسَاؤُهُمْ وَذَرَارِيُّهُمْ، لِيَسْتَعِينَ بِهِمُ الْمُسْلِمُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَصَبْتَ حُكْمَ اللَّهِ فِيهِمْ"، وَكَانُوا أَرْبَعَ مِائَةٍ، فَلَمَّا فُرِغَ مِنْ قَتْلِهِمْ، انْفَتَقَ عِرْقُهُ فَمَاتَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احزاب میں سیدنا سعد بن معاذ کے بازو کی رگ میں ایک تیر لگ گیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اپنے دست مبارک سے چوڑے پھل کے تیرے سے اسے داغا وہ سوج گیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دوبارہ داغ دیاتین مرتبہ ایسے ہی ہوا اور ان کا خون بہنے لگا یہ دیکھ کر انہوں نے دعا کی اے اللہ میری روح اس وقت تک قبض نہ فرمانا جب تک بنوقریظہ کے حوالے سے میری آنکھیں ٹھنڈی نہ ہو جائیں چنانچہ ان کا خون رک گیا اور ایک قطرہ بھی نہ ٹپکا حتی کہ بنوقریظہ کے لوگ سیدنا سعد کے فیصلے پر نیچے اتر آئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں بلا بھیجا انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ان کے مردوں کو قتل اور عورتوں کو اور بچوں کو زندہ رہنے دیا جائے تاکہ مسلمان ان سے کام لے سکیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم ان کے متعلق اللہ کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کیا ہے ان لوگوں کی تعداد چار سو افراد تھی جب ان کے قتل سے فراغت ہوئی تو ان کی رگ سے خون بہہ پڑا اور وہ فوت ہو گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14773]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وقد سلف هكذا مختصرا برقم: 14343
الحكم: إسناده صحيح، وقد سلف هكذا مختصرا برقم: 14343
حدیث نمبر: 14774 مسند احمد
حُجَيْنٌ ، وَيُونُسُ ، اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، وَيُونُسُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ حَاطِبَ بْنَ أَبِي بَلْتَعَةَ، كَتَبَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ يَذْكُرُ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ غَزْوَهُمْ، فَدُلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَرْأَةِ الَّتِي مَعَهَا الْكِتَابُ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا، فَأُخِذَ كِتَابُهَا مِنْ رَأْسِهَا، وَقَالَ:" يَا حَاطِبُ، أَفَعَلْتَ؟"، قَالَ: نَعَمْ، أَمَا إِنِّي لَمْ أَفْعَلْهُ غِشًّا لِرَسُولِ اللَّهِ، وَقَالَ يُونُسُ: غِشًّا يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا نِفَاقًا، قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ اللَّهَ مُظْهِرٌ رَسُولَهُ، وَمُتِمٌّ لَهُ أَمْرَهُ، غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ عَزِيزًا بَيْنَ ظَهْرِيهِمْ، وَكَانَتْ وَالِدَتِي مِعَهُمْ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَّخِذَ هَذَا عِنْدَهُمْ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: أَلَا أَضْرِبُ رَأْسَ هَذَا؟، قَالَ:" أَتَقْتُلُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ، مَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ قَدْ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ، فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ نے ایک خط لکھ کر اہل مکہ کو متنبہ کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان سے جہاد کا ارادہ فرما رہے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ کو ایک عورت کا پتہ بتایا جس کے پاس وہ خط تھا اور اس کے پیچھے اپنے صحابہ کو بھیجا جنہوں نے وہ خط اس کے سر میں سے حاصل کر لیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: حاطب کیا تم نے ہی یہ کام کیا ہے انہوں نے عرض کی جی ہاں لیکن میں نے یہ کام اس لئے نہیں کیا کہ اللہ کے پیغمبر کو دھوکہ دے سکوں مجھے یقین ہے کہ اللہ اپنے پیغمبر کو غالب کر کے اور اپنے حکم کو پورا کر کے رہے گا البتہ بات یہ ہے کہ میں قریش میں ایک اجنبی تھا میری والدہ وہاں تھی میں چاہتا ہوں کہ ان پر یہ احسان کر دوں تاکہ وہ میری والدہ کا خیال رکھیں سیدنا عمر کہنے لگے کہ میں اس کی گردن نہ اڑا دوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اہل بدر میں سے ایک آدمی کو قتل کرنا چاہتے ہو تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ نے اہل بدر کو آسمان سے جھانک کر دیکھا اور فرمایا: تم جو چاہو کرتے رہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14774]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر: 14484
الحكم: إسناده صحيح، وانظر: 14484
حدیث نمبر: 14775 مسند احمد
حُجَيْنٌ ، وَيُونُسُ ، اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، وَيُونُسُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ :" أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ اسْتَأْذَنَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحِجَامَةِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا طَيْبَةَ أَنْ يَحْجُمَهَا"، قَالَ: حَسِبْتُ أَنَّهُ كَانَ أَخَاهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ، أَوْ غُلَامًا لَمْ يَحْتَلِمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ام المومنین سیدنا ام سلمہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سینگی لگوانے کی اجازت چاہی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابوطیبہ کو حکم دیا کہ جا کر انہیں سینگی لگادیں غالباً وہ سیدنا ام سلمہ کا رضاعی بھائی تھا اور وہ چھوٹا لڑکا تھا جواب تک بالغ نہ ہوا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14775]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وأنظر: 2206
الحكم: إسناده صحيح، وأنظر: 2206
حدیث نمبر: 14776 مسند احمد
حُجَيْنٌ ، وَيُونُسُ ، اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، وَيُونُسُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُمْ وكَانُوا إِذَا" حَضَرُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ، فَبَعَثَ بِالْهَدْيِ، فَمَنْ شَاءَ مِنَّا أَحْرَمَ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ جب نکلے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہدی کا جانور بھی ساتھ لیا تھا سو ہم میں سے جس نے چاہا احرام باندھ لیا اور جس نے چاہا ترک کر دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14776]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر لزاما: 14129
الحكم: إسناده صحيح، وانظر لزاما: 14129
حدیث نمبر: 14777 مسند احمد
حُجَيْنٌ ، وَيُونُسُ ، اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، وَيُونُسُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھڑے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14777]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 281
الحكم: إسناده صحيح، م: 281
حدیث نمبر: 14778 مسند احمد
حُجَيْنٌ ، وَيُونُسُ ، اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، وَيُونُسُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" لَا يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ مِمَّنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: درخت کے نیچے بیعت رضوان کرنے والا کوئی شخص جہنم میں داخل نہ ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14778]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر: 14484
الحكم: إسناده صحيح، وانظر: 14484
حدیث نمبر: 14779 مسند احمد
حُجَيْنٌ ، وَيُونُسُ ، اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، وَيُونُسُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ رَآنِي فِي النَّوْمِ، فَقَدْ رَآنِي، إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِلشَّيْطَانِ أَنْ يَتَمَثَّلَ فِي صُورَتِي". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ:" إِذَا حَلَمَ أَحَدُكُمْ، فَلَا يُخْبِرَنَّ النَّاسَ بِتَلَعُّبِ الشَّيْطَانِ بِهِ فِي الْمَنَامِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کو خواب میں میری زیارت ہواس نے میری ہی کی زیارت کی کیونکہ میری صورت اختیار کرنا شیطان کے بس میں نہیں ہے۔ اور فرمایا: تم شیطان کے کھیل تماشوں کو جو وہ تمہارے ساتھ خواب میں کھیلتا ہے دوسروں کے سامنے بیان مت کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14779]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2268، وانظر: 14293
الحكم: إسناده صحيح، م: 2268، وانظر: 14293
حدیث نمبر: 14780 مسند احمد
حُجَيْنٌ ، وَيُونُسُ ، اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، وَيُونُسُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا رَأَى أَحَدُكُمِ الرُّؤْيَا يَكْرَهُهَا، فَلْيَبْزُقْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا، وَقَالَ يُونُسُ فَلْيَبْصُقْ وَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ ثَلَاثًا، وَلْيَتَحَوَّلْ عَنْ جَنْبِهِ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص ایساخواب دیکھے جو اسے اچھا نہ لگے تو اسے چاہیے کہ بائیں جانب تین مرتبہ تھتکار دے اور تین مرتبہ اعوذ با اللہ پڑھ لیا کر ے اور پہلو بدل لیآ کر ے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14780]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2262
الحكم: إسناده صحيح، م: 2262
حدیث نمبر: 14781 مسند احمد
حُجَيْنٌ ، وَيُونُسُ ، اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، وَيُونُسُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ" أَمَرَ رَجُلًا كَانَ يَتَصَدَّقُ بِالنَّبْلِ فِي الْمَسْجِدِ أَنْ لَا يَجِيءَ بِهَا إِلَّا وَهُوَ آخِذٌ بِنُصُولِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو جو صدقہ دیا کرتا تھا حکم دیا کہ مسجد میں تیر نہ لایا کر ے الاّ یہ کہ اس کے پھل سے اسے پکڑ رکھا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14781]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2614، وانظر: 14310
الحكم: إسناده صحيح، م: 2614، وانظر: 14310
حدیث نمبر: 14782 مسند احمد
حُجَيْنٌ ، وَيُونُسُ ، اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، وَيُونُسُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّ خَيْرَ مَا رُكِبَتْ إِلَيْهِ الرَّوَاحِلُ، مَسْجِدِي هَذَا، وَالْبَيْتُ الْعَتِيقُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے وہ بہترین جگہ جہاں سواریاں سفر کر کے آئیں بیت اللہ شریف ہے اور میری مسجد ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14782]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14783 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، كَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ ، عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ، فَانْطَلَقْتُ، ثُمَّ رَجَعْتُ وَقَدْ قَضَيْتُهَا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، قَالَ: فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مَا اللَّهُ بِهِ أَعْلَمُ، قَالَ: قُلْتُ: لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَيَّ أَنْ أَبْطَأْتُ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مَا اللَّهُ أَعْلَمُ أَشَدُّ مِنَ الْأُولَى، ثُمَّ سَلَّمْتُ، فَرَدَّ عَلَيَّ، وَقَالَ:" أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ، إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي"، فَكَانَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، مُتَوَجِّهًا لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اپنے کسی کام سے بھیجا میں چلا گیا جب وہ کام کر کے واپس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سلام کیا لیکن انہوں نے جواب نہ دیا میرے دل پر جو گزری وہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے میں نے سوچا شاید نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میری تاخیر کی وجہ سے ناراض ہو گئے ہیں میں نے دوبارہ سلام کیا لیکن اب بھی جواب نہ ملا اور مجھے پہلے سے زیادہ صدمہ ہوا لیکن تیسری مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جواب دیا اور فرمایا کہ مجھے جواب دینے سے کوئی چیز مانع نہ تھی البتہ میں نماز پڑھ رہا تھا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی سواری پر تھے اور چہرہ قبلہ رخ نہ تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14783]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1217، م: 540
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1217، م: 540
حدیث نمبر: 14784 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، وَاصِلٌ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ ، خَالِدُ بْنُ عُرْفُطَةَ ، طَلْحَةَ بْنِ نَافِعٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ عُرْفُطَةَ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَارْتَفَعَتْ رِيحُ جِيفَةٍ مُنْتِنَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَدْرُونَ مَا هَذِهِ الرِّيحُ؟ هَذِهِ رِيحُ الَّذِينَ يَغْتَابُونَ الْمُؤْمِنِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک مردار کی بدبو اٹھنے لگی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیسی بدبو ہے یہ ان لوگوں کی بدبو ہے جو مومنین کی غیبت کرتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14784]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 14785 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، حُمَيْدٍ ، أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَصْحَابَهُ مَرُّوا بِامْرَأَةٍ، فَذَبَحَتْ لَهُمْ شَاةً، وَاتَّخَذَتْ لَهُمْ طَعَامًا، فَلَمَّا رَجَعَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا اتَّخَذْنَا لَكُمْ طَعَامًا، فَادْخُلُوا فَكُلُوا، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ، وَكَانُوا لَا يَبْدَءُونَ، حَتَّى يَبْدَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُقْمَةً، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُسِيغَهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذِهِ شَاةٌ ذُبِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهَا"، فَقَالَتْ الْمَرْأَةُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّا لَا نَحْتَشِمُ مِنْ آلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، وَلَا يَحْتَشِمُونَ مِنَّا، نَأْخُذُ مِنْهُمْ وَيَأْخُذُونَ مِنَّا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اپنے صحابہ کے ساتھ ایک عورت پر گزر ہوا اس نے ان کے لئے بکری ذبح کر کے کھانا تیار کیا جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپسی پر وہاں سے گزرے تو وہ کہنے لگی کہ یا رسول اللہ! ہم نے آپ کے لئے کھانا تیار کیا ہے اس لئے اندر آجائیے اور کھانا تناول فرمائیے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ اس کے گھر چلے گئے صحابہ کی عادت تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے شروع کرنے سے پہلے ہاتھ نہ بڑھاتے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک لقمہ لیا لیکن اسے نگل نہ سکے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ بکری اپنے مالک کی اجازت کے بغیر ذبح کی گئی ہے وہ عورت کہنے لگی یا رسول اللہ! ہم لوگ سعد بن معاذ کے گھر والوں سے کوئی تکلف نہیں کرتے اور وہ بھی ہم سے کوئی تکلف نہیں کرتے ہم ان کی چیز لے لیتے ہیں اور وہ ہماری چیز لے لیتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14785]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14786 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، عَمَّارٌ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا عَمَّارٌ ، سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، رُطَبًا، وَشَرِبُوا مَاءً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذَا مِنَ النَّعِيمِ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرات شیخین نے تر کھجوریں اور پانی تناول فرمایا: پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہی وہ نعمتیں ہیں جن کے متعلق قیامت کے دن تم سے پوچھا: جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14786]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14787 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، وَقَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ فِي حَدِيثِهِ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" رَأَيْتُ كَأَنِّي فِي دِرْعٍ حَصِينَةٍ، وَرَأَيْتُ بَقَرًا مُنَحَّرَةً، فَأَوَّلْتُ أَنَّ الدِّرْعَ الْحَصِينَةَ الْمَدِينَةُ، وَأَنَّ الْبَقَرَ هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ"، قَالَ: فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ:" لَوْ أَنَّا أَقَمْنَا بِالْمَدِينَةِ، فَإِنْ دَخَلُوا عَلَيْنَا فِيهَا قَاتَلْنَاهُمْ"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا دُخِلَ عَلَيْنَا فِيهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَكَيْفَ يُدْخَلُ عَلَيْنَا فِيهَا فِي الْإِسْلَامِ؟!، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ، فَقَالَ:" شَأْنَكُمْ إِذًا"، قَالَ: فَلَبِسَ لَأْمَتَهُ، قَالَ: فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: رَدَدْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْيَهُ، فَجَاءُوا، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، شَأْنَكَ إِذًا، فَقَالَ:" إِنَّهُ لَيْسَ لِنَبِيٍّ، إِذَا لَبِسَ لَأْمَتَهُ أَنْ يَضَعَهَا حَتَّى يُقَاتِلَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا: آج میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ گویا میں ایک محفوظ زرہ میں ہوں میں نے ایک گائے دیکھی جسے ذبح کر دیا گیا ہے میں نے اس کی تعبیر یہ لی ہے کہ محفوظ زرہ سے مراد تو مدینہ ہے اور گائے سے مراد واللہ خیر ہے پھر صحابہ نے فرمایا کہ اگر ہم مدینہ میں ہی رہیں اور وہ ہمارے پاس آئیں تو ہم ان سے قتال کر یں گے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! زمانہ جاہلیت میں ہمارا دشمن کبھی مدینہ میں داخل نہیں ہو سکا تو وہ اسلام میں کیسے داخل ہو سکتا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری مرضی اور یہ کہہ کر اپنا اسلحہ زیب تن فرما لیا یہ دیکھ کر انصار سے کہنے لگے کہ کسی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ زیب نہیں دیتا کہ اپنا اسلحہ زیب تن کر کے اسے یونہی اتاردے یہاں تک کہ قتال کر لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14787]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره
الحكم: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 14788 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَكَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، هِشَامٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَكَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ لَهُ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، وَرَأَيْتُهُ يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ، فَتَنَحَّيْتُ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ لِي:" مَا صَنَعْتَ فِي حَاجَتِكَ؟"، فَقُلْتُ: صَنَعْتُ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ:" أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ، إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اپنے کام سے بھیجا میں چلا گیا جب وہ کام کر کے واپس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سلام کیا لیکن انہوں نے جواب نہ دیا پھر میں نے انہیں رکوع و سجود کرتے ہوئے دیکھا تو پیچھے ہٹ گیا پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ کام کر دیا؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں اس اس طرح کر دیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے جواب دینے سے کوئی چیز مانع نہ تھی البتہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14788]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1217، م: 540
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1217، م: 540
حدیث نمبر: 14789 مسند احمد
أَبُو جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَرْقَاءُ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَنْبَأَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى مَشْرَعَةٍ، فَقَالَ:" أَلَا تُشْرِعُ يَا جَابِرُ؟"، قَالَ: فَقُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَشْرَعْتُ، قَالَ: ثُمَّ ذَهَبَ لِحَاجَتِهِ، وَوَضَعْتُ لَهُ وَضُوءًا، فَجَاءَ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَامَ، فَصَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ، فَقُمْتُ خَلْفَهُ، فَأَخَذَ بِأُذُنِي، فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھا ہم لوگ ایک گھاٹ پر پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جابر رضی اللہ عنہ گھاٹ پر کیوں نہیں اترتے میں نے اثبات میں جواب دیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتر پڑے اور میں گھاٹ پر چلا گیا پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قضاء حاجت کے لئے چلے گئے اور میں نے آپ کے لئے وضو کا پانی لا کر رکھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے واپس آ کر وضو کیا پھر کھڑے ہو کر ایک کپڑے میں نماز پڑھی جس کے دونوں کناروں جانب مخالف سے اپنے اوپر ڈال لئے تھے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے آ کر کھڑا ہو گیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے کان سے پکڑ کر دائیں طرف کر لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14789]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، محمد بن جعفر المدائني صدوق حسن الحديث، وقد أخطأ فى هذا الحديث حيث ذكر موقف جابر خلف النبى وخالفه من هو أوثق منه - وهو الطيالسي - فذكر أن موقف جابر كان عن يسار النبى .
الحكم: إسناده حسن، محمد بن جعفر المدائني صدوق حسن الحديث، وقد أخطأ فى هذا الحديث حيث ذكر موقف جابر خلف النبى وخالفه من هو أوثق منه - وهو الطيالسي - فذكر أن موقف جابر كان عن يسار النبى .
حدیث نمبر: 14790 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ:" صَلِّ مَعِي"، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ، ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ حِينَ كَانَ فَيْءُ الْإِنْسَانِ مِثْلَهُ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ حِينَ غَيْبُوبَةِ الشَّفَقِ، ثُمَّ صَلَّى الصُّبْحَ فَأَسْفَرَ، ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ حِينَ كَانَ فَيْءُ الْإِنْسَانِ مِثْلَهُ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ حِينَ كَانَ فَيْءُ الْإِنْسَانِ مِثْلَيْهِ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ قَبْلَ غَيْبُوبَةِ الشَّفَقِ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ، فَقَالَ:" بَعْضُهُمْ ثُلُثَ اللَّيْلِ"، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: شَطْرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اوقات نماز کے متعلق پوچھا: تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے ساتھ نماز پڑھنا چنانچہ آپ نے طلوع فجر کے وقت نماز ادا فرمائی زوال کے بعد نماز ظہر ادا فرمائی ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہو نے پر نماز عصر ادا فرمائی غروب آفتاب کے بعد نماز مغرب ادا فرمائی غروب شفق کے بعد نماز عشاء ادا فرمائی پھر اگلے دن نماز فجر خوب روشنی کر کے پڑھی ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہو نے پر نماز ظہر ادا فرمائی پھر ہر چیز کا دوسایہ مثل ہو نے پر نماز عصر ادا فرمائی پھر شفق غائب ہو نے سے پہلے نماز مغرب ادا فرمائی پھر نماز عشاء کے لئے اس وقت آئے جب نصف یا تہائی رات بیت چکی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14790]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 14791 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عُتْبَةَ ، حُصَيْنُ بْنُ حَرْمَلَةَ ، أَبِي مُصَبِّحٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ عُتْبَةَ ، وَقَالَ عَلِيٌّ: أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، حَدَّثَنِي حُصَيْنُ بْنُ حَرْمَلَةَ ، عَنْ أَبِي مُصَبِّحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ، وَالنَّيْلُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَأَهْلُهَا مُعَانُونَ عَلَيْهَا، فَامْسَحُوا بِنَوَاصِيهَا، وَادْعُوا لَهَا بِالْبَرَكَةِ، وَقَلِّدُوهَا، وَلَا تُقَلِّدُوهَا بِالْأَوْتَارِ"، وَقَالَ عَلِيٌّ:" وَلَا تُقَلِّدُوهَا الْأَوْتَارَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت تک کے لئے خیر و برکت رکھ دی گئی ہے اور اس کے مالکان کی اس پر مدد کی گئی ہے اس لئے ان کی پیشانی پر ہاتھ پھیرا کر و اور ان کے لئے برکت کی دعا کیا کر و اور ان کے گلے میں ہار ڈالا کر و تانت نہ لٹکا یا کر و۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14791]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حصين بن حرملة
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حصين بن حرملة