عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، وَقَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ فِي حَدِيثِهِ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" رَأَيْتُ كَأَنِّي فِي دِرْعٍ حَصِينَةٍ، وَرَأَيْتُ بَقَرًا مُنَحَّرَةً، فَأَوَّلْتُ أَنَّ الدِّرْعَ الْحَصِينَةَ الْمَدِينَةُ، وَأَنَّ الْبَقَرَ هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ"، قَالَ: فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ:" لَوْ أَنَّا أَقَمْنَا بِالْمَدِينَةِ، فَإِنْ دَخَلُوا عَلَيْنَا فِيهَا قَاتَلْنَاهُمْ"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا دُخِلَ عَلَيْنَا فِيهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَكَيْفَ يُدْخَلُ عَلَيْنَا فِيهَا فِي الْإِسْلَامِ؟!، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ، فَقَالَ:" شَأْنَكُمْ إِذًا"، قَالَ: فَلَبِسَ لَأْمَتَهُ، قَالَ: فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: رَدَدْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْيَهُ، فَجَاءُوا، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، شَأْنَكَ إِذًا، فَقَالَ:" إِنَّهُ لَيْسَ لِنَبِيٍّ، إِذَا لَبِسَ لَأْمَتَهُ أَنْ يَضَعَهَا حَتَّى يُقَاتِلَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا: آج میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ گویا میں ایک محفوظ زرہ میں ہوں میں نے ایک گائے دیکھی جسے ذبح کر دیا گیا ہے میں نے اس کی تعبیر یہ لی ہے کہ محفوظ زرہ سے مراد تو مدینہ ہے اور گائے سے مراد واللہ خیر ہے پھر صحابہ نے فرمایا کہ اگر ہم مدینہ میں ہی رہیں اور وہ ہمارے پاس آئیں تو ہم ان سے قتال کر یں گے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! زمانہ جاہلیت میں ہمارا دشمن کبھی مدینہ میں داخل نہیں ہو سکا تو وہ اسلام میں کیسے داخل ہو سکتا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری مرضی اور یہ کہہ کر اپنا اسلحہ زیب تن فرما لیا یہ دیکھ کر انصار سے کہنے لگے کہ کسی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ زیب نہیں دیتا کہ اپنا اسلحہ زیب تن کر کے اسے یونہی اتاردے یہاں تک کہ قتال کر لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14787]
الحكم: صحيح لغيره