بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 57 از 60
حدیث نمبر: 15232 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ , سَأَلْتُ جَابِرًا , عَنِ الطَّوَافِ بِالْكَعْبَةِ , فَقَالَ: كُنَّا نَطُوفُ، فَنَمْسَحُ الرُّكْنَ الْفَاتِحَةَ وَالْخَاتِمَةَ , وَلَمْ نَكُنْ نَطُوفُ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ , حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ , وَلَا بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ، وَقَالَ:" سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" تَطْلُعُ الشَّمْسُ عَلَى قَرْنَي الشَّيْطَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے طواف کعبہ کے متعلق پوچھا: تو انہوں نے فرمایا: ہم لوگ طواف کرتے ہوئے پہلے اور آخری رکن کو ہاتھ لگاتے تھے نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک اور نماز عصر کے بعد غروب آفتاب تک ہم طواف نہیں کرتے تھے اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے سورج شیطان کے سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15232]
حکم دارالسلام
المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
الحكم: المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 15233 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي جَابِرٌ , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَثَلُ الْمَدِينَةِ كَالْكِيرِ , وَحَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ , وَأَنَا أُحَرِّمُ الْمَدِينَةَ , وَهِيَ كَمَكَّةَ حَرَامٌ مَا بَيْنَ حَرَّتَيْهَا وَحِمَاهَا كُلُّهَا , لَا يُقْطَعُ مِنْهَا شَجَرَةٌ , إِلَّا أَنْ يَعْلِفَ رَجُلٌ مِنْهَا , وَلَا يَقْرَبُهَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ الطَّاعُونُ , وَلَا الدَّجَّالُ , وَالْمَلَائِكَةُ يَحْرُسُونَهَا عَلَى أَنْقَابِهَا وَأَبْوَابِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مدینہ منورہ بھٹی کی طرح ہے سیدنا ابراہیم نے مکہ مکر مہ کو حرام قرار دیا تھا اور میں مدینہ منورہ کو حرم قرار دیتا ہوں لہذا مدینہ منورہ کے دونوں کونوں کے درمیانی حصہ اور اس کی چراگاہیں مکمل طور پر حرم ہیں جس کا کوئی درخت نہیں کاٹا جاسکتا الاّ یہ کہ کوئی شخص اپنے اونٹ کو کھلائے اور ان شاء اللہ طاعون اور دجال اس کے قریب بھی نہ آسکے گا اس کے تمام سوراخوں اور دروازوں پر فرشتے پہرہ دیتے ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15233]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، وقد توبع
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 15234 مسند احمد
حَسَنٌ ، وَمُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا ، خَالِي
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، وَمُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا , عَنِ الرُّقْيَةِ , فَقَالَ: أَخْبَرَنِي خَالِي أَحَدُ الْأَنْصَارِ , أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَرْقِي مِنَ الْعَقْرَبِ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ بِشَيْءٍ , فَلْيَفْعَلْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصار نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے یا رسول اللہ! کیا میں بچھو کے ڈنک کا جھاڑ پھونک کے ذریعے علاج کر سکتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے بھائی کو نفع پہنچاسکتا ہواسے ایساہی کرنا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15234]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2199، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 2199، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 15235 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , أَنَّ عَمْرَو بْنَ حَزْمٍ دُعِيَ لِامْرَأَةٍ بِالْمَدِينَةِ لَدَغَتْهَا حَيَّةٌ لَيَرْقِيَهَا , فَأَبَى , فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَدَعَاهُ , فَقَالَ عَمْرٌو: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّكَ تَزْجُرُ عَنِ الرُّقَى، فَقَالَ:" اقْرَأْهَا عَلَيَّ"، فَقَرَأَهَا عَلَيْهِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا بَأْسَ , إِنَّمَا هِيَ مَوَاثِيقُ , فَارْقِ بِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ میں ایک عورت کو سانپ نے ڈس لیا لوگوں نے عمرو بن حزم کو بلایا تاکہ اسے جھاڑ دیں لیکن انہوں نے انکار کر دیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو عمرو کو بلایا انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ جھاڑ پھونک سے منع فرماتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنا منتر میرے سامنے پڑھو انہوں نے پڑھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس میں تو کوئی حرج نہیں تم ان سے جھاڑ پھونک کر سکتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15235]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 15236 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنِي جَابِرٌ , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يُدْخِلُ أَحَدَكُمِ الْجَنَّةَ عَمَلُهُ , وَلَا يُنَجِّيهِ عَمَلُهُ مِنَ النَّارِ"، قِيلَ: وَلَا أَنْتَ، يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ:" وَلَا أَنَا , إِلَّا بِرَحْمَةِ اللَّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے تم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں ہے جسے اس کے اعمال جنت م ہیں داخل اور جہنم سے بچاسکیں گے صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ کو بھی نہیں فرمایا: مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت سے ڈھانپ لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15236]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م- بنحوه-: 2817، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع، وأبو الزبير لم يصرح بالسماع، وقد توبع أيضا
الحكم: حديث صحيح، م- بنحوه-: 2817، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع، وأبو الزبير لم يصرح بالسماع، وقد توبع أيضا
حدیث نمبر: 15237 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَسَقَطَتْ لُقْمَتُهُ , فَلْيُمِطْ مَا أَرَابَهُ مِنْهَا , ثُمَّ لِيَطْعَمْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ , وَلَا يَمْسَحْ أَحَدُكُمْ يَدَهُ بِالْمِنْدِيلِ حَتَّى يَلْعَقَ يَدَهُ , فَإِنَّ الرَّجُلَ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِهِ يُبَارَكُ لَهُ , فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَرْصُدُ ابْنَ آدَمَ عِنْدَ كُلِّ شَيْءٍ , حَتَّى عِنْدَ طَعَامِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو اسے چاہیے کہ اس پر لگنے والی تکلیف دہ چیز ہٹا کر اسے کھالے اور اسے شیطان کے لئے نہ چھوڑے اور اپنا ہاتھ تو لیے سے نہ پونچھے اور انگلیاں چاٹ لے کیونکہ اسے معلوم نہیں ہے اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15237]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2033، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، م: 2033، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 15238 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" اجْتَنِبُوا الْكَبَائِرَ , وَسَدِّدُوا , وَأَبْشِرُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضر جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کبیرہ گناہوں سے اجتناب کر و راہ راست اختیار کر و اور خوشخبری حاصل کر و۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15238]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل أبن لهيعة، وانظر: 14605
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل أبن لهيعة، وانظر: 14605
حدیث نمبر: 15239 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنِ الْخَرْصِ، وَقَالَ:" أَرَأَيْتُمْ إِنْ هَلَكَ الثَّمْرُ , أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ مَالَ أَخِيهِ بِالْبَاطِلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اندازے سے کھجوریں بیچنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے آپ فرما رہے تھے یہ بتاؤ اگر کھجوریں ضائع ہو جائیں تو کیا کر و گے کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے بھائی کا مال باطل طریقے سے کھاؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15239]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: « ينهى عن الخرص » تفرد به ابن لهيعة، وهو سيئ الحفظ
الحكم: حديث صحيح دون قوله: « ينهى عن الخرص » تفرد به ابن لهيعة، وهو سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 15240 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الْعَبْدُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انسان اسی کے ساتھ ہو گا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15240]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
حدیث نمبر: 15241 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، شَرِيكٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , فَإِذَا قَالُوهَا , عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا , وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کر وں جب تک وہ لا الہ الا اللہ نہ پڑھ لیں جب وہ یہ کام کر لیں تو انہوں نے اپنی جان اور مال کو مجھ سے محفوظ کر لیا سوائے اس کلمہ حق کے اور ان کا حساب اللہ کے ذمے ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15241]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 21، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 21، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، وقد توبع
حدیث نمبر: 15242 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطَاءٍ ، ابْنَيْ جَابِرٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ , حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطَاءٍ , عَنِ ابْنَيْ جَابِرٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا رَأَى الْمُحَدَّثُ الْمُحَدِّثَ يَتَلَفَّتُ , فَهِيَ أَمَانَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی مجلس میں بات بیان کر ے اور بات کرتے وقت دائیں بائیں دیکھے تو وہ بات امانت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15242]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وسلف برقم: 14792 من طريق سليمان بن بلال، عن عبدالرحمن بن عطاء، عن عبدالملك بن جابر بن عتيك، وهو المحفوظ
الحكم: حسن لغيره، وسلف برقم: 14792 من طريق سليمان بن بلال، عن عبدالرحمن بن عطاء، عن عبدالملك بن جابر بن عتيك، وهو المحفوظ
حدیث نمبر: 15243 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، جَعْفَرٍ ، أَبِيهِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ , حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ , عَنْ جَعْفَرٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَمَلَ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ , وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ عَادَ إِلَى الْحَجَرِ , ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى زَمْزَمَ فَشَرِبَ مِنْهَا , وَصَبَّ عَلَى رَأْسِهِ , ثُمَّ رَجَعَ فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ , ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الصَّفَا , فَقَالَ:" ابْدَءُوا بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حجر اسود تک تین چکر وں میں رمل کیا پھر دو رکعتیں پڑھیں پھر دوبارہ حجر اسود پر آئے پھر زم زم کے کنویں پر گئے اس کا پانی پیا اور سر مبارک پر ڈالا پھر واپس آ کر حجر اسود کا استلام کیا پھر صفامروہ کی طرف چل پڑے اور فرمانے لگے کہ یہیں سے ابتداء کر و جہاں سے اللہ نے ابتداء کی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15243]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، انظر: 14661 و 15171
الحكم: إسناده صحيح، انظر: 14661 و 15171
حدیث نمبر: 15244 مسند احمد
حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّي ، وَيُونُسُ ، اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّي ، وَيُونُسُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ مُفْرَدًا , فَأَقْبَلَتْ عَائِشَةُ مُهِلَّةً بِعُمْرَةٍ , حَتَّى إِذَا كَانَتْ بِسَرِفَ عَرَكَتْ , حَتَّى إِذَا قَدِمْنَا طُفْنَا بِالْكَعْبَةِ وَالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ , وَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحِلَّ مِنَّا مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ , قَالَ: فَقُلْنَا: حِلُّ مَاذَا؟، قَالَ:" الْحِلُّ كُلُّهُ"، فَوَاقَعْنَا النِّسَاءَ , وَتَطَيَّبْنَا بِالطِّيبِ , وَلَيْسَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا أَرْبَعُ لَيَالٍ , ثُمَّ أَهْلَلْنَا يَوْمَ التَّرْوِيَةِ. ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ فَوَجَدَهَا تَبْكِي , فَقَالَ:" مَا شَأْنُكِ؟"، قَالَتْ: شَأْنِي أَنِّي حِضْتُ , وَقَدْ حَلَّ النَّاسُ وَلَمْ أَحْلِلْ , وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ , وَالنَّاسُ يَذْهَبُونَ إِلَى الْحَجِّ الْآنَ، قَالَ:" فَإِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ , فَاغْتَسِلِي ثُمَّ أَهِلِّي بِالْحَجِّ"، فَفَعَلَتْ , وَوَقَفَتْ الْمَوَاقِفَ كُلَّهَا , حَتَّى إِذَا طَهُرَتْ , طَافَتْ بِالْكَعْبَةِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ , ثُمَّ قَالَ:" قَدْ حَلَلْتِ مِنْ حَجِّكِ وَعُمْرَتِكِ جَمِيعًا"، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي أَنِّي لَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ حَتَّى حَجَجْتُ، قَالَ:" فَاذْهَبْ بِهَا يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ , فَأَعْمِرْهَا مِنَ التَّنْعِيمِ"، وَذَلِك لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ صرف حج کے ارادہ سے مکہ مکر مہ روانہ ہوئے سیدنا عائشہ نے عمرے کا احرام باندھا مقام سرف میں پہنچ کر انہیں ایام آ گئے ہم نے تو مکہ مکر مہ پہنچ کر خانہ کعبہ کا طواف کیا صفامروہ کی سعی کی اور ہم میں سے جس کے پاس ہدی کا جانور نہیں تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے حلال ہو نے کا حکم دیا ہم نے حلال ہو نے کی نوعیت پوچھی تو فرمایا کہ مکمل حلال ہو جاؤ چنانچہ ہم اپنی عورتوں کے پاس گئے خوشبو لگائی جبکہ ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف چار راتیں تھیں پھر ہم نے آٹھ ذی الحجہ کو احرام حج باندھا پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سیدنا عائشہ کے پاس تشریف لائے تو وہ رورہی تھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے رونے کی وجہ پوچھی تو وہ کہنے لگی کہ میں اس بات پر رو رہی ہوں کہ سب لوگ احرام کھول چکے ہیں لیکن میں اب تک نہیں کھول پائی لوگوں نے طواف کر لیا لیکن میں اب تک نہیں کر سکی اور حج کے ایام سر پر ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ایسی چیز ہے جو اللہ نے آدم کی بیٹیوں میں لکھ دی ہے اس لئے تم غسل کر کے حج کا احرام باندھ لو اور حج کر لو چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور مجبوری سے فراغت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کے درمیان سعی کر لو اس طرح تم اپنے حج اور عمرے کے احرام کی پابندیوں سے آزاد ہو جاؤ گی وہ کہنے لگی کہ یا رسول اللہ! میرے دل میں ہمیشہ اس بات کی خلش رہے گی کہ میں نے حج تک کوئی طواف نہیں کیا اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے بھائی عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کہا انہیں لے جاؤ اور تنعیم سے عمرہ کرا لاؤ یہی حصبہ کی رات تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15244]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1213
الحكم: إسناده صحيح، م: 1213
حدیث نمبر: 15245 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ , حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ السُّنْبُلَةِ , مَرَّةً تَسْتَقِيمُ , وَمَرَّةً تَمِيلُ وَتَعْتَدِلُ , وَمَثَلُ الْكَافِرِ مَثَلُ الْأَرْزَةِ , مُسْتَقِيمَةً لَا يَشْعُرُ بِهَا حَتَّى تَخِرَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مسلمان کی مثال گندم کے خوشے کی سی ہے جو کبھی گرتا ہے اور کبھی سنبھلتا ہے اور کافر کی مثال چاول کی سی ہے جو ہمیشہ تنا ہی رہتا ہے یہاں تک کہ گر جاتا ہے اور اس پر بال نہیں آتے (یا اسے پتہ بھی نہیں چلتا)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15245]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، ابن لهيعة قد روى عنه هذا الحديث عبدالله بن وهب، وروايته عنه صالحة، انظر: 14761
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، ابن لهيعة قد روى عنه هذا الحديث عبدالله بن وهب، وروايته عنه صالحة، انظر: 14761
حدیث نمبر: 15246 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، الْمُفَضَّلُ ، خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَطَاءً ، جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ , حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ , عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ , أَنَّهُ سَمِعَ عَطَاءً , أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ بَاعَ ثَمَرَ أَرْضٍ لَهُ ثَلَاثَ سِنِينَ , فَسَمِعَ بِذَلِكَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ , فَخَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ فِي نَاسٍ , فَقَالَ فِي الْمَسْجِدِ:" مَنَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَبِيعَ الثَّمَرَةَ حَتَّى تَطِيبَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عطاء کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عبدللہ بن زبیر نے تین سال کے ٹھیکے پر ایک زمین کا پھل فروخت کر دیا سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے کانوں تک جب یہ بات پہنچی تو وہ مسجد کی طرف نکلے اور مسجد میں لوگوں سے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں پھل پکنے سے قبل بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15246]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1487 بلفظ: « نهى النبى صلى الله عليه و آله وسلم عن بيع الثمار حتى يبدو صلاحها »
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1487 بلفظ: « نهى النبى ﷺ عن بيع الثمار حتى يبدو صلاحها »
حدیث نمبر: 15247 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ , عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ قَدْ سَرَقَتْ , فَعَاذَتْ بِرَبِيبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَاللَّهِ لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةَ , لَقَطَعْتُ يَدَهَا" , فَقَطَعَهَا، قَالَ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ: وَكَانَ رَبِيبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَمَةَ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ , وَعُمَرَ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ , فَعَاذَتْ بِأَحَدِهِمَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو مخزوم کی ایک عورت سے چوری سرزد ہو گئی اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ربیب کے ذریعے سفارش کر وا کر بچاؤ کرنا چاہا تو آپ نے فرمایا: اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کر تی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا ہاتھ کٹوا دیا ابن ابی زناد کہتے ہیں کہ ربیب سے مراد سلمہ بن ابوسلمہ یا عمر بن ابوسلمہ ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15247]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، عبدالرحمن بن أبى الزناد حسن الحديث ، وأبو الزبير لم يصرح بالسماع، وانظر: 15149
الحكم: صحيح لغيره، عبدالرحمن بن أبى الزناد حسن الحديث ، وأبو الزبير لم يصرح بالسماع، وانظر: 15149
حدیث نمبر: 15248 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ , عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنْهَى أَنْ يُبَاشِرَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ , وَالْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ"
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وأبو الزبير لم يصرح بالسماع، وانظر: 14836
الحكم: صحيح لغيره، وأبو الزبير لم يصرح بالسماع، وانظر: 14836
حدیث نمبر: 15249 مسند احمد
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ:" إِذَا أَعْجَبَتْ أَحَدَكُمُ الْمَرْأَةُ , فَلْيَقَعْ عَلَى أَهْلِهِ , فَإِنَّ ذَلِكَ يَرُدُّ مِنْ نَفْسِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک کپڑے میں کوئی مرد دوسرے مرد کے ساتھ اور کوئی عورت کسی دوسری عورت کے ساتھ اپنا برہنہ جسم نہ لگائے اس سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سختی سے منع فرمایا ہے۔ اور فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کے پاس آئے اور وہ اسے اچھی لگے تو اسے چاہیے کہ اپنی بیوی کے پاس آ جائے کیونکہ اس طرح اس کے دل میں جو خیالات ہوں گے وہ دور ہو جائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15249]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، م: 1403، وإسناده سابقه، وانظر: 14537
الحكم: صحيح لغيره، م: 1403، وإسناده سابقه، وانظر: 14537
حدیث نمبر: 15250 مسند احمد
جَابِرٌ
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وقَالَ جَابِرٌ :" نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الطُّرُوقِ إِذَا جِئْنَا مِنَ السَّفَرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رات کے وقت بلا اطلاع کے اپنے گھر واپس آنے سے (مسافر کے لئے) ممانعت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15250]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وإسناده كسابقه
الحكم: حديث صحيح، وإسناده كسابقه
حدیث نمبر: 15251 مسند احمد
أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ ، وَرْقَاءُ ، مَنْصُورٍ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ , عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: وُثِئَتْ رِجْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ , فَخَرَجَ إِلَيْنَا , أَوْ وَجَدْنَاهُ فِي حُجْرَتِهِ جَالِسًا بَيْنَ يَدَيْ غُرْفَةٍ , فَصَلَّى جَالِسًا , وَقُمْنَا خَلْفَهُ فَصَلَّيْنَا , فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ , قَالَ:" إِذَا صَلَّيْتُ جَالِسًا , فَصَلُّوا جُلُوسًا , وَإِذَا صَلَّيْتُ قَائِمًا , فَصَلُّوا قِيَامًا , وَلَا تَقُومُوا كَمَا تَقُومُ فَارِسُ لِجَبَابِرَتِهَا , أَوْ لِمُلُوكِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاؤں میں موچ آگئی ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عیادت کے لئے حاضر ہوئے تو وہاں آپ کو نماز پڑھتے ہوئے پایا ہم بھی اس میں شریک ہو گئے اور کھڑے ہو کر نماز پڑھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر فرمایا: اگر میں کھڑے ہو کر نماز پڑھوں تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور اگر میں بیٹھ کر نماز پڑھوں تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو اور اس طرح کھڑے نہ رہا کر و جیسے اہل فارس اپنے روسا اور بڑوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15251]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 413، وهذا إسناد حسن من أجل أبى جعفر محمد بن جعفر المدائني، وهو متابع
الحكم: حديث صحيح، م: 413، وهذا إسناد حسن من أجل أبى جعفر محمد بن جعفر المدائني، وهو متابع