بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 35 از 60
حدیث نمبر: 14792 مسند احمد
أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطَاءٍ ، عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطَاءٍ ، أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا حُدِّثَ الْإِنْسَانُ حَدِيثًا، وَالْمُحَدِّثُ يَلْتَفِتُ حَوْلَهُ، فَهُوَ أَمَانَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی مجلس میں کوئی بات بیان کر ے اور بات کرتے وقت دائیں بائیں دیکھے تو وہ بات امانت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14792]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد حسن فى الشواهد من أجل عبدالرحمن بن عطاء المدني
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد حسن فى الشواهد من أجل عبدالرحمن بن عطاء المدني
حدیث نمبر: 14793 مسند احمد
أَبُو سَلَمَةَ ، بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَمْرِو بْنِ جَابِرٍ الْحَضْرَمِيِّ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، أَنْبَأَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ جَابِرٍ الْحَضْرَمِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الطَّاعُونِ:" الْفَارُّ مِنْهُ كَالْفَارِّ يَوْمَ الزَّحْفِ، وَمَنْ صَبَرَ فِيهِ كَانَ لَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضڑت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو طاعون کے متعلق فرماتے ہوئے سنا ہے طاعون سے بھاگنے والا شخص میدان جنگ سے بھاگنے والے شخص کی طرح ہے۔ اور اس میں صبر کرنے والا شخص کو شہید جیسا ثواب ملتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14793]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عمرو بن جابر الحضرمي
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عمرو بن جابر الحضرمي
حدیث نمبر: 14794 مسند احمد
أَبُو سَلَمَةَ ، بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ رَأَى نَاسًا مُجْتَمِعِينَ عَلَى رَجُلٍ، فَسَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: رَجُلٌ جَهَدَهُ الصِّيَامُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ الْبِرُّ الصِّيَامَ فِي السَّفَرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی سفر میں تھے راستے میں دیکھا کہ لوگوں نے ایک آدمی کے گرد بھیڑ لگائی ہوئی ہے اور اس پر سایہ کیا جارہا ہے پوچھنے پر لوگوں نے بتایا کہ یہ روزے سے تھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14794]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، محمد بن عبدالرحمن بن أسعد بن زرارة لم يسمع من جابر ، بينهما محمد بن عمرو بن الحسن بن علي، انظر: 14193
الحكم: حديث صحيح، محمد بن عبدالرحمن بن أسعد بن زرارة لم يسمع من جابر ، بينهما محمد بن عمرو بن الحسن بن علي، انظر: 14193
حدیث نمبر: 14795 مسند احمد
زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو الرَّقِّيَّ ، عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَطَاءٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو الرَّقِّيَّ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: رمضان میں عمرہ کرنا ایک حج کے برابر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14795]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14796 مسند احمد
زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، جَابِرٍ ، إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، شَرِيكٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ جَاهَدْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِنَفْسِي، وَمَالِي، حَتَّى أُقْتَلَ صَابِرًا مُحْتَسِبًا، مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ، أَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ؟، قَالَ:" نَعَمْ"، فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ، فَقَالَ:" إِلَّا أَنْ يَكُونَ عَلَيْكَ دَيْنٌ، لَيْسَ لَهُ عِنْدَكَ وَفَاءٌ"، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اگر میں اپنی جان مال کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کر وں اور ثابت قدم رہتے ہوئے ثواب کی امید رکھتے ہوئے آگے بڑھتے ہوئے اور پشت پھیرے بغیر شہید ہو جاؤں تو کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ جب وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے بلا کر فرمایا: جبکہ تم اس حال میں نہ مرو کہ تم پر کچھ قرض ہواور اسے ادا کرنے کے لئے تمہارے پاس کچھ نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14796]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، عبدالله بن محمد بن عقيل حسن الحديث فى المتابعات والشواهده
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، عبدالله بن محمد بن عقيل حسن الحديث فى المتابعات والشواهده
حدیث نمبر: 14797 مسند احمد
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى: حَدَّثَنَا شَرِيكَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14797]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك النخعي، وقد توبع، وانظر ما قبله
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك النخعي، وقد توبع، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 14798 مسند احمد
زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةُ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنَتَيْهَا مِنْ سَعْدٍ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَاتَانِ ابْنَتَا سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، قُتِلَ أَبُوهُمَا مَعَكَ فِي أُحُدٍ شَهِيدًا، وَإِنَّ عَمَّهُمَا أَخَذَ مَالَهُمَا، فَلَمْ يَدَعْ لَهُمَا مَالًا، وَلَا يُنْكَحَانِ إِلَّا وَلَهُمَا مَالٌ، قَالَ: فَقَالَ:" يَقْضِي اللَّهُ فِي ذَلِكَ"، قَالَ: فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَمِّهِمَا، فَقَالَ:" أَعْطِ ابْنَتَيْ سَعْدٍ الثُّلُثَيْنِ، وَأُمَّهُمَا الثُّمُنَ، وَمَا بَقِيَ فَهُوَ لَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا سعد بن ربیع کی بیوی اپنی دو بیٹیاں جو سعد سے تھیں لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ! یہ دونوں سعد کی بیٹیاں ہیں ان کے والد غزوہ احد میں آپ کے ساتھ شہید ہو گئے تھے ان کے چچا نے ان کے مال دولت پر قبضہ کر لیا ہے اور ان کے لئے کچھ بھی نہیں چھوڑا ہے اب ان کی شادی بھی اسی وقت ہو سکتی ہے جب ان کا کوئی مال ہو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس مسئلے میں اللہ فیصلہ کر ے گا چنانچہ آیت میراث نازل ہوئی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان بچیوں کے چچا کو بلا کر بھیجا اور فرمایا: سعد کی دونوں بیٹیوں کو دو تہائی اور ان کی والدہ کو آٹھواں حصہ دیدو۔ اس کے بعد جو باقی بچے گا وہ تمہارا ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14798]
حکم دارالسلام
إسناده محتمل للتحسين من أجل ابن عقيل، وقد تفرد به، وقد صححه الترمذي من طريقه
الحكم: إسناده محتمل للتحسين من أجل ابن عقيل، وقد تفرد به، وقد صححه الترمذي من طريقه
حدیث نمبر: 14799 مسند احمد
زَكَرِيَّا ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: صَلَّى بِأَصْحَابِهِ فِي بَيْتِهِ، فَقُلْنَا لَهُ: صَلِّ بِنَا كَمَا رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، قَالَ:" فَصَلَّى بِنَا فِي مِلْحَفَةٍ، فَشَدَّهَا تَحْتَ الثَّنْدُوَتَيْنِ"، وَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن محمد کہتے ہیں میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: کہ ہمیں اس طرح نماز پڑھائیے جس طرح آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پڑھتے ہوئے سنا ہے تو انہوں نے ہمیں ایک کپڑے میں اس طرح نماز پڑھائی کہ اسے اپنی چھاتیوں کے نیچے باندھ لیا اور فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14799]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عبدالله بن محمد بن عقيل، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عبدالله بن محمد بن عقيل، وقد توبع
حدیث نمبر: 14800 مسند احمد
زَكَرِيَّا ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صُفُوفِنَا فِي الصَّلَاةِ، صَلَاةِ الظُّهْرِ أَوْ الْعَصْرِ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَنَاوَلُ شَيْئًا، ثُمَّ تَأَخَّرَ فَتَأَخَّرَ النَّاسُ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ، قَالَ لَهُ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ: شَيْئًا صَنَعْتَهُ فِي الصَّلَاةِ لَمْ تَكُنْ تَصْنَعُهُ!، قَالَ:" عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ بِمَا فِيهَا مِنَ الزَّهْرَةِ وَالنَّضْرَةِ، فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا قِطْفًا مِنْ عِنَبٍ لِآتِيَكُمْ بِهِ، فَحِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، وَلَوْ أَتَيْتُكُمْ بِهِ لَأَكَلَ مِنْهُ مَنْ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَا يُنْقِصُونَهُ شَيْئًا، ثُمَّ عُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ، فَلَمَّا وَجَدْتُ سَفْعَهَا تَأَخَّرْتُ عَنْهَا، وَأَكْثَرُ مَنْ رَأَيْتُ فِيهَا النِّسَاءُ اللَّاتِي: إِنْ اؤْتُمِنَّ أَفْشَيْنَ، وَإِنْ يُسْأَلْنَ بَخِلْنَ، وَإِنْ يَسْأَلْنَ أَلْحَفْنَ قَالَ حُسَيْنٌ: وَإِنْ أُعْطِينَ لَمْ يَشْكُرْنَ وَرَأَيْتُ فِيهَا لُحَيَّ بْنَ عَمْرٍو يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ، وَأَشْبَهُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ مَعْبَدُ بْنُ أَكْثَمَ الْكَعْبِيُّ"، قَالَ مَعْبَدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُخْشَى عَلَيَّ مِنْ شَبَهِهِ وَهُوَ وَالِدٌ؟، فَقَالَ: لَا، أَنْتَ مُؤْمِنٌ وَهُوَ كَافِرٌ"، قَالَ حُسَيْنٌ: وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ حَمَلَ الْعَرَبَ عَلَى عِبَادَةِ الْأَوْثَانِ، قَالَ حُسَيْنٌ:" تَأَخَّرْتُ عَنْهَا، وَلَوْلَا ذَلِكَ لَغَشِيَتْكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہم لوگ ظہر یا عصر کی نماز میں صف بستہ کھڑے تھے اور محسوس ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی چیز کو پکڑ رہے ہیں پھر وہ پیچھے ہٹنے لگے تو لوگ بھی پیچھے ہٹنے لگے نماز سے فارغ ہو کر سیدنا ابی بن کعب نے عرض کیا: آج تو آپ نے ایسے کیا ہے کہ اس سے پہلے کبھی نہیں کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے سامنے جنت کو اپنی تمام تر رونقوں کے ساتھ پیش کیا گیا میں نے انگوروں کا ایک گچھا توڑنا چاہا تاکہ تمہیں دیدوں لیکن پھر کوئی چیز درمیان میں حائل ہو گئی اگر وہ میں تمہارے پاس لے آتا اور سارے آسمان و زمین والے اسے کھاتے تب بھی اس میں کوئی کمی نہ ہو تی پھر میرے سامنے جہنم کو پیش کیا گیا جب میں نے اس کی بھڑک کو محسوس کیا تو پیچھے ہٹ گیا اور میں نے اس میں اکثریت عورتوں کی دیکھی ہے جنہیں اگر کوئی راز بتایا جائے تو اسے افشاء کر دیتی ہیں کچھ مانگا جائے تو بخل سے کام لیتی ہیں خود کسی سے مانگیں تو اصرار کر تی ہیں مل جائے شکر نہیں کر تیں میں نے وہاں لحیی بن عمرو کو بھی دیکھا ہے جو جہنم میں اپنی انتریاں کھینچ رہا تھا اور میں نے اس کے سب سے زیادہ مشابہہ معبد بن اکثم کعبی کو دیکھا ہے اس پر معبد کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! اس کی مشابہت سے مجھے کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ تو نہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں تم مسلمان ہواور وہ کافر تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14800]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، فقد تفرد به عبدالله بن محمد بن عقيل بهذه السياقة، وأصل القصة صحيح، انظر: 14417 و 14420 و 15018
الحكم: إسناده ضعيف، فقد تفرد به عبدالله بن محمد بن عقيل بهذه السياقة، وأصل القصة صحيح، انظر: 14417 و 14420 و 15018
حدیث نمبر: 14801 مسند احمد
أَبُو الْجَوَّابِ ، عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ: أَبُو شُعَيْبٍ، وَكَانَ لَهُ غُلَامٌ لَحَّامٌ، فَقَالَ لَهُ: اجْعَلْ لَنَا طَعَامًا، لَعَلِّي أَدْعُو رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَادِسَ سِتَّةٍ، فَدَعَاهُمْ فَاتَّبَعَهُمْ رَجُلٌ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ هَذَا قَدْ اتَّبَعَنَا، أَفَتَأْذَنُ لَهُ؟"، قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انصار میں ایک آدمی تھا جس کا نام ابوشعیب تھا اس کا ایک غلام قصائی تھا اس نے اپنے غلام سے کہا کہ کسی دن کھانا پکاؤ تاکہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعوت کر وں جو کہ چھ میں چھٹے آدمی ہوں گے چنانچہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعوت کی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک آدمی زائد آگیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے گھر پہنچ کر فرمایا: یہ شخص ہمارے ساتھ آگیا ہے تم اسے بھی اجازت دیتے ہواس نے اجازت دیدی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14801]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، م: 2036، وفيه: خامس خمسة، وكذلك برقم: 15267 عند المصنف
الحكم: إسناده قوي، م: 2036، وفيه: خامس خمسة، وكذلك برقم: 15267 عند المصنف
حدیث نمبر: 14802 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبُو أُوَيْسٍ ، شُرَحْبِيلُ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ" نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ"، وَقَالَ:" طُعْمَةٌ جَاهِلِيَّةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کتے کی قیمت کھانے سے منع فرمایا ہے کہ یہ زمانہ جاہلیت کا کھانا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14802]
حکم دارالسلام
صحيح دون قوله: طعمة جاهلية، وهذا إسناد ضعيف الضعف شرحبيل المدني، وأبو أويس ضعيف يعتبر به، وانظر: 14411
الحكم: صحيح دون قوله: طعمة جاهلية، وهذا إسناد ضعيف الضعف شرحبيل المدني، وأبو أويس ضعيف يعتبر به، وانظر: 14411
حدیث نمبر: 14803 مسند احمد
سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَبَا الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَذْكُرُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" فِيمَا سَقَتِ الْأَنْهَارُ وَالسَّيْلُ الْعُشُورُ، وَفِيمَا سُقِيَ بِالسَّانِيَةِ نِصْفُ الْعُشُورِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو زمین بارش یا چشموں سے سیراب ہواس میں عشر واجب ہو گا اور جو ڈول سے سیراب اس میں نصف عشر واجب ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14803]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 981
الحكم: إسناده صحيح، م: 981
حدیث نمبر: 14804 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، أَبُو شِهَابٍ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو شِهَابٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: جِئْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْجِعْرَانَةِ، وَهُوَ يَقْسِمُ فِضَّةً فِي ثَوْبِ بِلَالٍ لِلنَّاسِ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اعْدِلْ!، فَقَالَ:" وَيْلَكَ، وَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ؟! لَقَدْ خِبْتُ إِنْ لَمْ أَكُنْ أَعْدِلُ"، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دَعْنِي أَقْتُلْ هَذَا الْمُنَافِقَ، فَقَالَ:" مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ يَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنِّي أَقْتُلُ أَصْحَابِي، إِنَّ هَذَا وَأَصْحَابَهُ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، أَوْ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جعرانہ کے سال میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھا آپ اس وقت لوگوں میں چاندی تقسیم کر رہے تھے جو سیدنا بلال کے کپڑے میں پڑی ہوئی تھی ایک آدمی کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! عدل کیجیے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تجھ پر افسوس، اگر میں ہی عدل نہ کر وں گا تو اور کون کر ے گا اگر میں عدل نہ کر وں تو خسارے میں پڑجاؤں سیدنا عمر کہنے لگے یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیجیے کہ اس منافق کی گردن اڑا دوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ کی پناہ میں آتاہوں کہ لوگ باتیں کرنے لگیں کہ میں اپنے ساتھیوں کو قتل کر وا دیتا ہوں اور یہ اس کے ساتھی قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق کے نیچے سے نہیں اترے گا اور یہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14804]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3138، م: 1063، وأبو الزبير صرح بالسماع فيما سيأتي برقم: 14819
الحكم: حديث صحيح، خ: 3138، م: 1063، وأبو الزبير صرح بالسماع فيما سيأتي برقم: 14819
حدیث نمبر: 14805 مسند احمد
هَاشِمٌ ، أَبُو جَعْفَرٍ ، الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ، الْحَسَنِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، حَتَّى يُعْرِبَ عَنْهُ لِسَانُهُ، فَإِذَا أَعْرَبَ عَنْهُ لِسَانُهُ، إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر بچہ فطرت صحیحہ پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اپنی زبان سے بولنے لگے پھر جب بولتا ہے تو یا شکر گزار ہوتا ہے یا ناشکرا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14805]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف أبى جعفر الرازي، وفي رواية عن الربيع بن أنس اضطراب، وفي الإسناد أيضا عنعنة الحسن البصري، وانظر: 7445
الحكم: إسناده ضعيف لضعف أبى جعفر الرازي، وفي رواية عن الربيع بن أنس اضطراب، وفي الإسناد أيضا عنعنة الحسن البصري، وانظر: 7445
حدیث نمبر: 14806 مسند احمد
هَاشِمٌ ، شُعْبَةُ ، عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، وَحُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، وَحُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَصَابَنَا عَطَشٌ بِالْحُدَيْبِيَةِ، فَجَهَشْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ تَوْرٌ فِيهِ مَاءٌ، فَقَالَ بِأَصَابِعِهِ: هَكَذَا فِيهَا، وَقَالَ:" خُذُوا بِسْمِ اللَّهِ"، قَالَ: فَجَعَلَ الْمَاءُ يَتَخَلَّلُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ، كَأَنَّهَا عُيُونٌ، فَوَسِعَنَا وَكَفَانَا، وَقَالَ حُصَيْنٌ فِي حَدِيثِهِ: فَشَرِبْنَا وَتَوَضَّأْنَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حدیبیہ کے موقع پر ہمیں پیاس نے ستایا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس صرف ایک پیالہ تھا جس سے آپ وضو فرما رہے تھے لوگ گبھرائے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پیالے میں اپنے دست مبارک کو رکھ دیا اور فرمایا: بسم اللہ پڑھ کر یہ پانی لو اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان چشموں کی طرح پانی ابلنے لگاہم سب نے اسے پیا اور وضو کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14806]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3579، م: 1856
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3579، م: 1856
حدیث نمبر: 14807 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، حَجَّاجِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ، مَا أَقْفَرَ بَيْتٌ فِيهِ خَلٌّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سرکہ بہترین سالن ہے وہ گھر تنگدست نہیں ہوتا جس میں سرکہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14807]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2052 دون قوله: «ما أقففر بيت فيه خل» ، وهذا اسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل حجاج بن أبي زينب
الحكم: حديث صحيح، م: 2052 دون قوله: «ما أقففر بيت فيه خل» ، وهذا اسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل حجاج بن أبي زينب
حدیث نمبر: 14808 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبُو بِشْرٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ قَيْسٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ سَبْعِينَ بَدَنَةً، الْبَدَنَةُ عَنْ سَبْعَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے مقام حدیبیہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موجودگی میں سات آدمیوں کی طرف سے ایک اونٹ اور ایک گائے سات آدمیوں کی طرف ذبح کی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14808]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1318 ، أبو بشر هو جعفر بن أبى وحشية، وروايته عن سليمان بن قيس صحيفة .
الحكم: حديث صحيح، م: 1318 ، أبو بشر هو جعفر بن أبى وحشية، وروايته عن سليمان بن قيس صحيفة .
حدیث نمبر: 14809 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبُو بِشْرٍ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي وَحْشِيَّةَ ، سُلَيْمَانَ بْنِ قَيْسٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي وَحْشِيَّةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا طَيْبَةَ، فَحَجَمَهُ، قَالَ: فَسَأَلَهُ" كَمْ ضَرِيبَتُكَ؟"، قَالَ: ثَلَاثَةُ آصُعٍ، قَالَ: فَوَضَعَ عَنْهُ صَاعًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابوطیبہ کو بلایا اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سینگی لگائی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تمہارے اوپر کیا ٹیکس ہے اس نے بتایا تین صاع نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک صاع کم کر دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14809]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر .
الحكم: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر .
حدیث نمبر: 14810 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، مُجَالِدٍ ، الشَّعْبِيِّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" السَّائِبَةُ جُبَارٌ، وَالْجُبُّ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ"، قَالَ: وَقَالَ الشَّعْبِيُّ الرِّكَازُ: الْكَنْزُ الْعَادِيُّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: چراگاہ میں چرنے والے جانور سے ماراجانے ولا رائیگاں گیا کنویں میں گر کر مرنے والے خون رائیگاں گیا کان میں مرنے والے کا خون رائیگاں گیا اور زمین کے دفینے میں بیت المال کا پانچواں حصہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14810]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد بن سعيد .
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد بن سعيد .
حدیث نمبر: 14811 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، مُجَالِدٍ ، الشَّعْبِيِّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكُمُ الْيَوْمَ عَلَى دِينٍ، وَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ، فَلَا تَمْشُوا بَعْدِي الْقَهْقَرَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ آج ایک صحیح دین پر ہواور میں دوسری امتوں کے سامنے تمہاری کثرت پر فخر کر وں گا اور اس لئے میرے بعد الٹے پاؤں واپس نہ لوٹ جانا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14811]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف مجالد بن سعيد، ويغني عنه حديث أنس السالف برقم: 12613 «تزوجوا الودود الولود» وحديث أبى هريرة عند البخاري: 6587 فى قصة الحوض: إنهم ارتدوا بعدك على أدبارهم القهقرى.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف مجالد بن سعيد، ويغني عنه حديث أنس السالف برقم: 12613 «تزوجوا الودود الولود» وحديث أبى هريرة عند البخاري: 6587 فى قصة الحوض: إنهم ارتدوا بعدك على أدبارهم القهقرى.