بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 14800
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 14800
حدیث نمبر: 14800 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
زَكَرِيَّا ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صُفُوفِنَا فِي الصَّلَاةِ، صَلَاةِ الظُّهْرِ أَوْ الْعَصْرِ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَنَاوَلُ شَيْئًا، ثُمَّ تَأَخَّرَ فَتَأَخَّرَ النَّاسُ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ، قَالَ لَهُ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ: شَيْئًا صَنَعْتَهُ فِي الصَّلَاةِ لَمْ تَكُنْ تَصْنَعُهُ!، قَالَ:" عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ بِمَا فِيهَا مِنَ الزَّهْرَةِ وَالنَّضْرَةِ، فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا قِطْفًا مِنْ عِنَبٍ لِآتِيَكُمْ بِهِ، فَحِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، وَلَوْ أَتَيْتُكُمْ بِهِ لَأَكَلَ مِنْهُ مَنْ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَا يُنْقِصُونَهُ شَيْئًا، ثُمَّ عُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ، فَلَمَّا وَجَدْتُ سَفْعَهَا تَأَخَّرْتُ عَنْهَا، وَأَكْثَرُ مَنْ رَأَيْتُ فِيهَا النِّسَاءُ اللَّاتِي: إِنْ اؤْتُمِنَّ أَفْشَيْنَ، وَإِنْ يُسْأَلْنَ بَخِلْنَ، وَإِنْ يَسْأَلْنَ أَلْحَفْنَ قَالَ حُسَيْنٌ: وَإِنْ أُعْطِينَ لَمْ يَشْكُرْنَ وَرَأَيْتُ فِيهَا لُحَيَّ بْنَ عَمْرٍو يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ، وَأَشْبَهُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ مَعْبَدُ بْنُ أَكْثَمَ الْكَعْبِيُّ"، قَالَ مَعْبَدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُخْشَى عَلَيَّ مِنْ شَبَهِهِ وَهُوَ وَالِدٌ؟، فَقَالَ: لَا، أَنْتَ مُؤْمِنٌ وَهُوَ كَافِرٌ"، قَالَ حُسَيْنٌ: وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ حَمَلَ الْعَرَبَ عَلَى عِبَادَةِ الْأَوْثَانِ، قَالَ حُسَيْنٌ:" تَأَخَّرْتُ عَنْهَا، وَلَوْلَا ذَلِكَ لَغَشِيَتْكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہم لوگ ظہر یا عصر کی نماز میں صف بستہ کھڑے تھے اور محسوس ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی چیز کو پکڑ رہے ہیں پھر وہ پیچھے ہٹنے لگے تو لوگ بھی پیچھے ہٹنے لگے نماز سے فارغ ہو کر سیدنا ابی بن کعب نے عرض کیا: آج تو آپ نے ایسے کیا ہے کہ اس سے پہلے کبھی نہیں کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے سامنے جنت کو اپنی تمام تر رونقوں کے ساتھ پیش کیا گیا میں نے انگوروں کا ایک گچھا توڑنا چاہا تاکہ تمہیں دیدوں لیکن پھر کوئی چیز درمیان میں حائل ہو گئی اگر وہ میں تمہارے پاس لے آتا اور سارے آسمان و زمین والے اسے کھاتے تب بھی اس میں کوئی کمی نہ ہو تی پھر میرے سامنے جہنم کو پیش کیا گیا جب میں نے اس کی بھڑک کو محسوس کیا تو پیچھے ہٹ گیا اور میں نے اس میں اکثریت عورتوں کی دیکھی ہے جنہیں اگر کوئی راز بتایا جائے تو اسے افشاء کر دیتی ہیں کچھ مانگا جائے تو بخل سے کام لیتی ہیں خود کسی سے مانگیں تو اصرار کر تی ہیں مل جائے شکر نہیں کر تیں میں نے وہاں لحیی بن عمرو کو بھی دیکھا ہے جو جہنم میں اپنی انتریاں کھینچ رہا تھا اور میں نے اس کے سب سے زیادہ مشابہہ معبد بن اکثم کعبی کو دیکھا ہے اس پر معبد کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! اس کی مشابہت سے مجھے کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ تو نہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں تم مسلمان ہواور وہ کافر تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14800]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، فقد تفرد به عبدالله بن محمد بن عقيل بهذه السياقة، وأصل القصة صحيح، انظر: 14417 و 14420 و 15018
الحكم: إسناده ضعيف، فقد تفرد به عبدالله بن محمد بن عقيل بهذه السياقة، وأصل القصة صحيح، انظر: 14417 و 14420 و 15018
← پچھلی حدیث (14799) باب پر واپس اگلی حدیث (14801) →