بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 48 از 60
حدیث نمبر: 15052 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، جَعْفَرٍ ، أَبِيهِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ , عَنْ جَعْفَرٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا اغْتَسَلَ مِنْ جَنَابَةٍ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ حَفَنَاتٍ"، فَقَالَ لَهُ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ إِنَّ شَعْرِي كَثِيرٌ، قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي , كَانَ شَعَرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِنْ شَعْرِكَ وَأَطْيَبَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے غسل ت کے متعلق مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تین مرتبہ اپنے سر سے پانی بہاتے تھے وہ کہنے لگے کہ میرے تو بال لمبے بہت ہیں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر مبارک میں تعداد کے اعتبار سے تم سے زیادہ بال لمبے تھے اور مہک کے اعتبار سے بھی سب سے زیادہ لمبے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15052]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 256، م: 329
الحكم: إسناده صحيح، خ: 256، م: 329
حدیث نمبر: 15053 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، بُرْدٍ ، عَطَاءٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى , عَنْ بُرْدٍ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ:" كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَنُصِيبُ مِنْ آنِيَةِ الْمُشْرِكِينَ وَأَسْقِيَتِهِمْ , فَنَسْتَمْتِعُ بِهِمْ , فَلَا يُعَابُ عَلَيْنَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مشرکین کے مال و غنیمت میں سے مشکیزے اور برتن بھی ملتے تھے ہم ان سے فائدہ اٹھاتے تھے لیکن کوئی ہمیں اس کا طعنہ نہ دیتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15053]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 15054 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَجَّاجٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ , حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَهُوَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابوسعید خدری نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15054]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، حجاج بن أرطاة مدلس، وقد توبع ، وأبو الزبير سلف تصريحه بالسماع برقم: 14136، لكن ذكر هناك أن جابرا هو الذى رأى النبى صلى الله عليه و آله وسلم وهو كذلك في: 14120، وسلف حديث أبى سعيد الخدري برقم: 11072
الحكم: حديث صحيح، حجاج بن أرطاة مدلس، وقد توبع ، وأبو الزبير سلف تصريحه بالسماع برقم: 14136، لكن ذكر هناك أن جابرا هو الذى رأى النبى صلى الله عليه وسلم وهو كذلك في: 14120، وسلف حديث أبى سعيد الخدري برقم: 110
حدیث نمبر: 15055 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَجَّاجٍ ، عَطَاءٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ , عَنْ حَجَّاجٍ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي يَوْمَ الْعِيدِ , ثُمَّ يَخْطُبُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عیدالفطر کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پہلے نماز پڑھاتے تھے نماز کے بعد لوگوں سے خطاب فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15055]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، حجاج بن أرطاة النخعي مدلس وقد عنعنه، لكنه قد توبع، انظر: 14163
الحكم: حديث صحيح، حجاج بن أرطاة النخعي مدلس وقد عنعنه، لكنه قد توبع، انظر: 14163
حدیث نمبر: 15056 مسند احمد
يَزِيدُ ، سُلَيْمَانُ يَعْنِي التَّيْمِيَّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ , حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي التَّيْمِيَّ , عَنْ أَبِي نَضْرَةَ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَصْحَابِهِ:" مَا مِنْكُمْ مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ , يَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ وَهِيَ حَيَّةٌ يَوْمَئِذٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: تھا کہ آج جو شخص زندہ ہے سو سال نہیں گزرنے پائیں گے کہ وہ زندہ رہے گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15056]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2538
الحكم: إسناده صحيح، م: 2538
حدیث نمبر: 15057 مسند احمد
يَزِيدُ ، سُلَيْمَانُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، صَاحِبِ السِّقَايَةِ , عَنْ جَابِرٍ , بِمِثْلِهِ , فَفَسَّرَ جَابِرٌ نُقْصَانٌ مِنَ الْعُمُرِ.
حکم دارالسلام
حدیث صحيح، وهذا إسناد حسن، وانظر ما قبله
الحكم: حدیث صحيح، وهذا إسناد حسن، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 15058 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَجَّاجٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زَيْنَبَ ، طَلْحَةَ بْنَ نَافِعٍ أَبَا سُفْيَانَ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زَيْنَبَ , قَال: سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ نَافِعٍ أَبَا سُفْيَانَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ: كُنْتُ فِي ظِلِّ دَارِي , فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَمَّا رَأَيْتُهُ وَثَبْتُ إِلَيْهِ، فَجَعَلْتُ أَمْشِي خَلْفَهُ , فَقَالَ:" ادْنُ"، فَدَنَوْتُ مِنْهُ , فَأَخَذَ بِيَدِي، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَى بَعْضَ حُجَرِ نِسَائِهِ , أُمِّ سَلَمَةَ أَوْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ , فَدَخَلَ ثُمَّ أَذِنَ لِي , فَدَخَلْتُ وَعَلَيْهَا الْحِجَابُ , فَقَالَ:" أَعِنْدَكُمْ غَدَاءٌ؟"، فَقَالُوا: نَعَمْ، فَأُتِيَ بِثَلَاثَةِ أَقْرِصَةٍ , فَوُضِعَتْ عَلَى نَقِيٍّ , فَقَالَ:" هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ أُدُمٍ؟"، فَقَالُوا: لَا إِلَّا شَيْءٌ مِنْ خَلٍّ، قَالَ:" هَاتُوهُ"، فَأَتَوْهُ بِهِ , فَأَخَذَ قُرْصًا فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ , وَقُرْصًا بَيْنَ يَدَيَّ , وَكَسَرَ الثَّالِثَ بِاثْنَيْنِ , فَوَضَعَ نِصْفًا بَيْنَ يَدَيْهِ , وَنِصْفًا بَيْنَ يَدَيَّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنے گھر کے سائے میں تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس سے گزرے میں نے جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا تو کود کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے ہو لیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے قریب ہو جاؤ چنانچہ میں قریب ہو گیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم دونوں چلتے ہوئے کسی زوجہ محترمہ ام سلمہ یا سیدنا زینب بن جحش کے حجرے میں داخل ہوئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اندرچلے گئے اور تھوڑی دیر بعد مجھے بھی آنے کی اجازت دیدی میں اندر داخل ہوا تو ام المومنین حجاب میں تھیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تمہارے پاس کھانے کے لئے کچھ ہے انہوں نے جواب دیا جی ہاں اور تین روٹیاں لا کر دسترخوان پر رکھ دی گئیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ تمہارے پاس کوئی سالن بھی ہے انہوں نے عرض کیا: نہیں البتہ تھوڑا ساسر کہ ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہی لے آؤ چنانچہ سرکہ پیش کیا گیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک روٹی اپنے سامنے رکھی اور ایک میرے سامنے رکھی اور ایک روٹی کے دو ٹکڑے کئے جن میں سے آدھا اپنے سامنے رکھا اور آدھا میرے سامنے رکھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15058]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2052، وهذا إسناد حسن فى المتابعات لأجل حجاج بن أبى زينب، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 2052، وهذا إسناد حسن فى المتابعات لأجل حجاج بن أبى زينب، وقد توبع
حدیث نمبر: 15059 مسند احمد
يَزِيدُ ، عَبْدُ الْمَلِكِ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُنْبَذُ لَهُ فِي سِقَاءٍ , فَإِذَا لَمْ يَكُنْ سِقَاءٌ نُبِذَ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ بِرَامٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے ایک مشکیزے میں نبیذ بنائی جاتی تھی اور اگر مشکیزہ نہ ہوتا تو پتھر کی ہنڈیا میں بنالی جاتی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15059]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1999
الحكم: إسناده صحيح، م: 1999
حدیث نمبر: 15060 مسند احمد
يَزِيدُ ، عَبْدُ الْمَلِكِ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدُّبَّاءِ , وَالنَّقِيرِ، وَالْمُزَفَّتِ , وَالْحَنْتَمِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دباء نقیر اور مزفت تمام برتنوں سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15060]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح كسابقه، م: 1998
الحكم: إسناده صحيح كسابقه، م: 1998
حدیث نمبر: 15061 مسند احمد
يَزِيدُ ، سُفْيَانُ يَعْنِي الثَّوْرِيَّ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي الثَّوْرِيَّ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ , فَجِئْتُ وَهُوَ يَسِيرُ عَلَى رَاحِلَتِهِ، وَوَجْهُهُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ , وَهُوَ يُومِئُ إِيمَاءً , فَكَلَّمْتُهُ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ , فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ:" إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بنومصطلق کی طرف جاتے ہوئے مجھے کسی کام سے بھیج دیا میں واپس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے میں نے بات کرنا چاہی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا دو مرتبہ اس طرح ہوا پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو قرأت کرتے ہوئے سنا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے سر سے اشارہ فرما رہے تھے نماز سے فراغت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے جس کام کے لئے تمہیں بھیجا تھا اس کا کیا بنا میں نے جواب اس لئے نہیں دیا تھا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15061]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1217، م: 540
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1217، م: 540
حدیث نمبر: 15062 مسند احمد
يَزِيدُ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، وَأَبُو عَامِرٍ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطَاءٍ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، وَأَبُو عَامِرٍ , عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطَاءٍ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا حَدَّثَ الرَّجُلُ حَدِيثًا فَالْتَفَتَ , فَهِيَ أَمَانَةٌ"، قَالَ أَبُو عَامِرٍ فِي مَجْلِسِهِ بِحَدِيثٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی مجلس میں کوئی بات بیان کر ے اور بات کرتے وقت دائیں بائیں دیکھے تو وہ بات امانت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15062]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد حسن فى الشواهد من أجل عبدالرحمن بن عطاء المدني
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد حسن فى الشواهد من أجل عبدالرحمن بن عطاء المدني
حدیث نمبر: 15063 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْحَجَّاجُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْحَيَوَانِ اثْنَانِ بِوَاحِدٍ:" لَا بَأْسَ بِهِ يَدًا بِيَدٍ , وَلَا يَصْلُحُ نَسَاءً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو جانوروں کی ایک کے بدلے ادھار خریدو فروخت سے منع کیا ہے البتہ اگر نقد معاملہ ہو تو پھر کوئی حرج نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15063]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحجاج - وهو ابن أرطاة- وأبو الزبير مدلسان، ولم يصرحا بالسماع، وانظر لزاما: 14331
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحجاج - وهو ابن أرطاة- وأبو الزبير مدلسان، ولم يصرحا بالسماع، وانظر لزاما: 14331
حدیث نمبر: 15064 مسند احمد
يَزِيدُ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُرَحْبِيلَ بْنَ سَعْدٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , أَنَّ شُرَحْبِيلَ بْنَ سَعْدٍ أَخْبَرَهُ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ , حَتَّى نَزَلْنَا السُّقْيَا , فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ: مَنْ يَسْقِينَا فِي أَسْقِيَتِنَا؟، قَالَ جَابِرٌ: فَخَرَجْتُ فِي فِئَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ حَتَّى أَتَيْنَا الْمَاءَ الَّذِي بِالْأُثَايَةِ , وَبَيْنَهُمَا قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثَةٍ وَعِشْرِينَ مِيلًا , فَسَقَيْنَا فِي أَسْقِيَتِنَا , حَتَّى إِذَا كَانَ بَعْدَ عَتَمَةٍ إِذَا رَجُلٌ يُنَازِعُهُ بَعِيرُهُ إِلَى الْحَوْضِ , فَقَالَ:" أَوْرِدْ؟" فَإِذَا هُوَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَوْرَدَ، ثُمَّ أَخَذْتُ بِزِمَامِ نَاقَتِهِ فَأَنَخْتُهَا ," فَقَامَ فَصَلَّى الْعَتَمَةَ , وَجَابِرٌ فِيمَا ذَكَرَ إِلَى جَنْبِهِ , ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَجْدَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ حدیبیہ کے زمانے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ آرہے تھے ہم نے پانی کی جگہ پر پڑاؤ کیا سیدنا معاذ بن جبل کہنے لگے کہ ہمارے مشکیزوں کو کون پانی سے بھر کر لائے گا یہ سن کر میں انصار کی ایک جماعت کے ساتھ نکلا یہاں تک کہ ہم لوگ مقام اثایہ میں پانی تک پہنچے ان دونوں جگہوں کے درمیان تقریبا ٦٣ میل کا فاصلہ تھا ہم نے اپنے مشکیزوں میں پانی بھرا اور جب نماز عشاء ہو چکی تو دیکھا کہ ایک آدمی اپنے اونٹ کو ہانکتا ہوا حوض کی طرف لے جارہا ہے دیکھا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھاٹ پر پہنچے میں نے اونٹنی کی لگام پکڑ لی اور اسے بٹھادیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہو کر نماز عشاء پڑھنے لگے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پہلو میں کھڑا ہو گیا اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تیرہ رکعتیں پڑھیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15064]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م- بنحوه-: 3010، وهذا إسناد ضعيف لضعف شرحبيل بن سعد الخطمي، وعلى ضعفه قد اختلف عليه فيه، وقد جاء عند جميع من خرجه أن الذى قال: من يسقينا ۔۔۔ ؟ھو النبي صلى الله عليه و آله وسلم ولیس معاذ بن جبل، وھوالصواب
الحكم: حديث صحيح، م- بنحوه-: 3010، وهذا إسناد ضعيف لضعف شرحبيل بن سعد الخطمي، وعلى ضعفه قد اختلف عليه فيه، وقد جاء عند جميع من خرجه أن الذى قال: من يسقينا ۔۔۔ ؟ھو النبي صلى الله عليه وسلم ولیس معاذ بن جبل، و
حدیث نمبر: 15065 مسند احمد
يَزِيدُ ، شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ" , أَوْ قَالَ:" يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ"، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , ثُمَّ قَالَ:" يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ، أَوْ يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ شَابٌّ - يُرِيدُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ"، قَالَ: فَجَاءَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , ثُمَّ قَالَ:" يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ , اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ عَلِيًّا , اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ عَلِيًّا"، قَالَ: فَجَاءَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ابھی تمہارے پاس ایک جنتی آئے گا تھوڑی دیر بعد سیدنا صدیق اکبر تشریف لائے ہم نے انہیں مبارک باد دی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ابھی تمہارے پاس ایک اور جنتی آدمی آئے گا تھوڑ دیر بعد سیدنا عمر تشریف لائے ہم نے انہیں بھی مبارک باد دی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر فرمایا کہ ابھی تمہارے تمہارے پاس ایک اور جنتی آدمی آئے گا اور فرمانے لگے کہ اے اللہ اگر تو چاہتا تو آنے والا علی ہوتا چنانچہ سیدنا علی ہی آئے اور ہم نے انہیں بھی مبارک باد دی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15065]
حکم دارالسلام
حديث محتمل للتحسين، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك بن عبدالله النخعي، لكنه متابع، عبدالله بن محمد بن عقيل حديثه حسن فى الشواهد والمتابعات
الحكم: حديث محتمل للتحسين، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك بن عبدالله النخعي، لكنه متابع، عبدالله بن محمد بن عقيل حديثه حسن فى الشواهد والمتابعات
حدیث نمبر: 15066 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: أُتِيَ بِضَبٍّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ , وَقَالَ:" لَا أَدْرِي , لَعَلَّهُ مِنَ الْقُرُونِ الْأُولَى الَّتِي مُسِخَتْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس گوہ لائی گئی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کھانے سے انکار کر دیا اور فرمایا: مجھے معلوم نہیں ہو سکتا ہے کہ یہ ان بستیوں اور زمانوں میں سے ہو جو مسخ کر دی گئی تھیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15066]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر قول السندي على هذا الحديث برقم: 14460
الحكم: إسناده صحيح، وانظر قول السندي على هذا الحديث برقم: 14460
حدیث نمبر: 15067 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ , أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَخْطُبُ , فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرَكَعْتَ رَكْعَتَيْنِ؟"، قَالَ: لَا، قَالَ:" فَارْكَعْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک صاحب آئے اور بیٹھ گئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا: کیا تم نے نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا نہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں دو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15067]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 930، م: 875
الحكم: إسناده صحيح، خ: 930، م: 875
حدیث نمبر: 15068 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ , قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ: لَمَّا بُنِيَتِ الْكَعْبَةُ , كَانَ الْعَبَّاسُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقُلَانِ حِجَارَةً , فَقَالَ الْعَبَّاسُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اجْعَلْ إِزَارَكَ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: عَلَى رَقَبَتِكَ مِنَ الْحِجَارَةِ، فَخَرَّ إِلَى الْأَرْضِ , وَطَمَحَتْ عَيْنَاهُ إِلَى السَّمَاءِ , فَقَامَ فَقَالَ:" إِزَارِي , إِزَارِي"، فَقَامَ فَشَدَّهُ عَلَيْهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب خانہ کعبہ کی تعمیر شروع ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور سیدنا عباس بھی پتھر اٹھا کر لانے لگے سیدنا عباس کہنے لگے کہ کہ اپنا تہبند اتار کر کندھے پر رکھ لیں تاکہ پتھر سے کندھے زخمی نہ ہو جائیں تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسا کرنا چاہا تو بےہو ش ہو کر گرپڑے اور آپ کی نظریں آسمان کی طرف اٹھی کی اٹھی رہ گئیں پھر جب ہو ش میں آئے تو فرمایا کہ میرا تہبند، میرا تہبند اور اسے اچھی طرح مضبوطی سے باندھ لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15068]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3829، م: 340
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3829، م: 340
حدیث نمبر: 15069 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ: زَعَمَ لِي عَطَاءٌ , قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَكَلَ هَذِهِ الشَّجَرَةَ قَالَ يُرِيدُ الثُّومَ فَلَا يَغْشَنَا فِي مَسْجِدِنَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اس بدبو دار درخت سے (لہسن) کچھ کھائے وہ ہماری مساجد کے قریب نہ آئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15069]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 854، م: 564
الحكم: إسناده صحيح، خ: 854، م: 564
حدیث نمبر: 15070 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ: قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ عَلَى الْمُنْتَهِبِ قَطْعٌ , وَمَنِ انْتَهَبَ نُهْبَةً مَشْهُورَةً فَلَيْسَ مِنَّا"، وَقَالَ:" لَيْسَ عَلَى الْخَائِنِ قَطْعٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوٹ مار کرنے والے کا ہاتھ تو نہیں کاٹا جائے گا البتہ جو شخص لوٹ مار کرتا ہے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں نیز یہ بھی فرمایا کہ خائن کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15070]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر
الحكم: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر
حدیث نمبر: 15071 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ" يُصَلِّي النَّوَافِلَ فِي كُلِّ وَجْهٍ , وَلَكِنَّهُ يَخْفِضُ السَّجْدَتَيْنِ مِنَ الرَّكْعَةِ، وَيُومِئُ إِيمَاءً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سواری پر ہر سمت میں نفل پڑھتے ہوئے دیکھا ہے البتہ آپ رکوع کی نسبت سجدہ زیادہ جھکتا ہوا کرتے تھے اور اشارہ فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15071]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح