بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 12 از 60
حدیث نمبر: 14332 مسند احمد
رَوْحٌ ، زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، عَمْرُو بْنُ دِينَار ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَار ، سَمِعْتُ جَابِرًا يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَنْقُلُ مَعَهُمْ حِجَارَةَ الْكَعْبَةِ، وَعَلَيْهِ إِزَارٌ، فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ عَمُّهُ يَا ابْنَ أَخِي، لَوْ حَلَلْتَ إِزَارَكَ فَجَعَلْتَهُ عَلَى مَنْكِبَيْكَ دُونَ الْحِجَارَةِ، قَالَ: فَحَلَّهُ فَجَعَلَهُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ، فَسَقَطَ مَغْشِيًّا، عَلَيْهِ فَمَا رُئِيَ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ عُرْيَانًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب خانہ کعبہ کی تعمیر شروع ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ پتھر اٹھا اٹھا کر لانے لگے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہنے لگے، اے بھتیجے! اپنا تہبند اتار کر کندھے پر رکھ لیں تاکہ پتھر سے کندھے زخمی نہ ہو جائیں تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسا کرنا چاہا تو بےہو ش کر گر پڑے اور اس دن کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کبھی کپڑوں سے خالی جسم نہیں دیکھا گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14332]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 364، م: 340
الحكم: إسناده صحيح، خ: 364، م: 340
حدیث نمبر: 14333 مسند احمد
مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ ، الْأَجْلَحُ ، الذَّيَّالِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ ، سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي مَرَّتَيْنِ، حَدَّثَنَا الْأَجْلَحُ ، عَنِ الذَّيَّالِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ، حَتَّى إِذَا دَفَعْنَا إِلَى حَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ بَنِي النَّجَّارِ، إِذَا فِيهِ جَمَلٌ لَا يَدْخُلُ الْحَائِطَ أَحَدٌ إِلَّا شَدَّ عَلَيْهِ، قَالَ: فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ حَتَّى أَتَى الْحَائِطَ، فَدَعَا الْبَعِيرَ، فَجَاءَ وَاضِعًا مِشْفَرَهُ إِلَى الْأَرْضِ، حَتَّى بَرَكَ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَاتُوا خِطَامَه" فَخَطَمَهُ وَدَفَعَهُ إِلَى صَاحِبِهِ، قَالَ: ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى النَّاسِ، فَقَالَ:" إِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، إِلَّا يَعْلَمُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، إِلَّا عَاصِيَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی سفر سے واپس آ رہے تھے جب ہم نجار کے ایک باغ کے قریب پہنچے تو پتہ چلا کہ اس باغ میں ایک اونٹ ہے جو باغ میں داخل ہو نے والے ہر شخص پر حملہ کر دیتا ہے۔ لوگوں نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ذکر کی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس باغ میں تشریف لائے اور اس اونٹ کو بلایا وہ اپنی گردن جھکائے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا اور آپ کے سامنے آ کر بیٹھ گیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی لگام لاؤ، وہ لگام اس کے منہ میں ڈال کر اونٹ اس کے مالک کے حوالے کر دیا، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ آسمان و زمین کے درمیان جتنی چیزیں ہیں سوائے نافرمان جنات اور انسانوں کے سب جانتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14333]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، مصعب بن سلام مختلف فيه، لكنه متابع، والذیال بن حرملة روی عنه جمع، ووثقه ابن حبان، فحديثه حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، مصعب بن سلام مختلف فيه، لكنه متابع، والذیال بن حرملة روی عنه جمع، ووثقه ابن حبان، فحديثه حسن
حدیث نمبر: 14334 مسند احمد
مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ ، جَعْفَرٌ ، أَبِيهِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ لَهُ أَهْلٌ، ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ، وَإِنَّ أَفْضَلَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ، وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ"، ثُمَّ يَرْفَعُ صَوْتَهُ، وَتَحْمَرُّ وَجْنَتَاهُ، وَيَشْتَدُّ غَضَبُهُ، إِذَا ذَكَرَ السَّاعَةَ، كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ، قَالَ، ثُمَّ يَقُولُ:" أَتَتْكُمْ السَّاعَةُ، بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ هَكَذَا وَأَشَارَ بِأُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى صَبَّحَتْكُمْ السَّاعَةُ وَمَسَّتْكُمْ، مَنْ تَرَكَ مَالًا، فَلِأَهْلِهِ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا، فَإِلَيَّ وَعَلَيَّ" وَالضَّيَاعُ يَعْنِي وَلَدَهُ الْمَسَاكِينَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور اللہ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا: سب سے سچی بات کتاب اللہ ہے، سب سے افضل طریقہ محمد کا طریقہ ہے، بدترین چیز نو ایجاد ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے پھر جوں جوں آپ قیامت کا تذکر ہ فرمانے لگے آپ کی آواز بلند ہوتی جاتی، پھر فرمایا: قیامت تم پر آ گئی ہے مجھے اور قیامت کو اس طرح بھیجا گیا ہے یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کیا، تم پر صبح کو قیامت آ گئی ہے یا شام کو، جو شخص مال و دولت چھوڑ جائے وہ اس کے اہل خانہ کا ہے اور جو شخص قرض یا بچے چھوڑ دے وہ میرے ذمہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14334]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 867، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، م: 867، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 14335 مسند احمد
أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سِنَانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، قَالَ: وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ، وَسَمِعْتُهُ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي سِنَانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَ، أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةً قِبَلَ نَجْدٍ، فَلَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَفَلَ مَعَهُمْ، فَأَدْرَكَتْهُمْ الْقَائِلَةُ يَوْمًا فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الْعِضَاهِ يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ، وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَظِلُّ تَحْتَ ظِلِّ شَجَرَةٍ، فَعَلَّقَ بِهَا سَيْفَهُ، قَالَ جَابِرٌ: فَنِمْنَا بِهَا نَوْمَةً، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُونَا، فَأَتَيْنَاهُ، فَإِذَا عِنْدَهُ أَعْرَابِيٌّ جَالِسٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ هَذَا اخْتَرَطَ سَيْفَهُ، وَأَنَا نَائِمٌ، فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ فِي يَدِهِ صَلْتًا، فَقَالَ: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ فَقُلْتُ: اللَّهُ، فَقَالَ مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ فَقُلْتُ: اللَّهُ فَشَامَ سَيْفَه وَجَلَسَ، فَلَمْ يُعَاقِبْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ فَعَلَ ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہم رکاب نجد کی طرف جہاد کے لئے گیا اور واپسی میں بھی ہم رکاب تھا، واپسی پر ایک بڑی خاردار درختوں والی وادی میں دوپہر کا وقت ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہیں اتر گئے۔ سب لوگ ادھر ادھر درختوں کے سایہ میں چلے گئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک کیکر کے درخت کے نیچے آرام فرمانے کے لئے اترے درخت سے تلوار لٹکا دی اور ہم سب سو گئے، تھوڑی دیر سوئے تھے کہ بیدار ہو گئے کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم کو بلا رہے ہیں اور آپ کے پاس ایک دیہاتی بیٹھا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سوتے میں اس شخص نے میری ہی تلوار مجھ پر کھینچی، میں جاگ اٹھا دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں ننگی تلوار ہے اس نے کہا: اب تم کو میرے ہاتھ سے کون بچائے گا میں نے کہا: اللہ بچائے گا خوف کے مارے تلوار اس کے ہاتھ سے گر پڑی۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے بدلہ نہ لیا حالانکہ اس نے ایسا کیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14335]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2910، م: 843
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2910، م: 843
حدیث نمبر: 14336 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: غَزَوْنَا جَيْشَ الْخَبَطِ، وَأَمِيرُنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، فَجُعْنَا جُوعًا شَدِيدًا، فَأَلْقَى لَنَا الْبَحْرُ حُوتًا لَمْ نَرَ مِثْلَهُ، يُقَالُ لَهُ: الْعَنْبَرُ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ نِصْفَ شَهْرٍ، وَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ عَظْمًا مِنْ عِظَامِهِ، فَكَانَ الرَّاكِبُ يَمُرُّ تَحْتَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ جیش خبط کے ساتھ جس کے امیر سیدنا ابوعبیدہ تھے جہاد میں شریک ہوئے راستے میں بھوک کی شدت نے ہمیں بہت تنگ کیا اسی اثناء میں سمندر نے ہمارے لئے اتنی بڑی مچھلی باہر پھینک دی کہ ہم نے اس سے پہلے اتنی بڑی مچھلی نہ دیکھی تھی اسے عنبر کہا جاتا تھا، ہم اسے نصف ماہ تک کھاتے رہے۔ سیدنا ابوعبیدہ نے اس کی ایک ہڈی لے کر اسے گاڑا تو سوار بھی اس کے نیچے سے بآسانی سے گزر جاتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14336]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4362، م: 1935
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4362، م: 1935
حدیث نمبر: 14337 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُخْبِرُ نَحْوًا مِنْ حديث عَمْرٍو هَذَا، وَزَادَ فِيهِ قَالَ: وَزَوَّدَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِرَابًا مِنْ تَمْرٍ، فَكَانَ يَقْبِضُ لَنَا قَبْضَةً قَبْضَةً، ثُمَّ تَمْرَةً تَمْرَةً فَنَمْضُغُهَا، وَنَشْرَبُ عَلَيْهَا الْمَاءَ حَتَّى اللَّيْلِ، ثُمَّ نَفِدَ مَا فِي الْجِرَابِ، فَكُنَّا نَجْتَنِي الْخَبَطَ بِقِسِيِّنَا، فَجُعْنَا جُوعًا شَدِيدًا، فَأَلْقَى لَنَا الْبَحْرُ حُوتًا مَيِّتًا، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: غُزَاةٌ وَجِيَاعٌ، فَكُلُوا، فَأَكَلْنَا، فَكَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ يَنْصِبُ الضِّلَعَ مِنْ أَضْلَاعِهِ، فَيَمُرُّ الرَّاكِبُ عَلَى بَعِيرِهِ تَحْتَهُ، وَيَجْلِسُ النَّفَرُ الْخَمْسَةُ فِي مَوْضِعِ عَيْنِهِ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ وَادَّهَنَّا حَتَّى صَلَحَتْ أَجْسَامُنَا، وَحَسُنَتْ سَحْنَاتُنَا، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ، قَالَ جَابِرٌ، فَذَكَرْنَاهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" رِزْقٌ أَخْرَجَهُ اللَّهُ لَكُمْ، فَإِنْ كَانَ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ فَأَطْعِمُونَاهُ"، قَالَ: فَكَانَ مَعَنَا مِنْهُ شَيْءٌ، فَأَرْسَلَ بِهِ إِلَيْهِ بَعْضُ الْقَوْمِ، فَأَكَلَ مِنْهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ روایت سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اس طرح بھی مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں ایک غزوہ میں زاد راہ کے طور پر کھجوروں کی ایک تھیلی عطا فرمائی اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ سیدنا ابوعبیدہ پہلے تو ہمیں ایک ایک مٹھی کھجوریں دیتے رہے پھر ایک کھجور دینے لگے۔ راوی نے پوچھا کہ آپ ایک کھجور کا کیا کرتے ہوں گے، انہوں نے جواب دیا کہ ہم بچوں کی طرح اسے چباتے اور چوستے رہتے پھر اس پر پانی پی لیتے اور رات تک ہمارا یہی کھانا ہوتا تھا۔ پھر جب کھجوریں ختم ہو گئی تو ہم اپنی لاٹھیوں سے جھاڑ کر درختوں کے پتے گراتے انہیں پانی میں بھگوتے اور کھا لیتے اس طرح ہم شدید بھوک میں مبتلا ہو گئے۔ ایک دن ہم ساحل سمندر پر گئے ہوئے تھے، سمندر نے ہمارے لئے ایک مری ہوئی مچھلی پھینکی، پہلے تو سیدنا ابوعبیدہ کہنے لگے کہ یہ مردار ہے، پھر فرمایا کہ ہم غازی اور بھوکے ہیں اس لئے اسے کھاؤ۔ ہم وہاں ایک مہینہ رہے ہم تین سو افراد تھے اور اسے کھا کر خوب صحت مند ہو گئے۔ ہم دیکھتے تھے کہ ہم اس کی آنکھوں کے سوراخوں سے مٹکے سے روغن نکالتے تھے اور اس کا گوشت بیل کی طرح کاٹتے تھے۔ سیدنا ابوعبیدہ اس کی ایک پسلی کھڑے کرتے اور اونٹ پر سوار آدمی بھی اس کے نیچے سے گزر جاتا تھا اور پانچ آدمیوں کا ایک گروہ اس کی آنکھوں کے سوراخ میں بیٹھ جاتا تھا ہم نے اسے خوب کھایا اور اس کا روغن جسم پر ملا یہاں تک کہ ہمارے جسم تندرست ہو گئے اور ہمارے رخسار بھر گئے اور مدینہ واپسی کے بعد ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ خدائی رزق تھا جو اللہ نے تمہیں عطا کیا تھا اگر تمہارے پاس اس کا کچھ حصہ ہو تو ہمیں بھی کھلاؤ ہمارے پاس اس کا کچھ حصہ تھا جو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی اس میں سے تناول فرمایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14337]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ مختصرا-: 4362، م: 1935
الحكم: إسناده صحيح، خ مختصرا-: 4362، م: 1935
حدیث نمبر: 14338 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، زُهَيْرٌ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَّرَ عَلَيْنَا أَبَا عُبَيْدَةَ نَتَلَقَّى عِيرًا لِقُرَيْشٍ، وَزَوَّدَنَا جِرَابًا مِنْ تَمْرٍ، لَمْ يَجِدْ لَنَا غَيْرَهُ، قَالَ: فَكَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ يُعْطِينَا تَمْرَةً تَمْرَةً، قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ بِهَا؟ قَالَ: نَمَصُّهَا كَمَا يَمَصُّ الصَّبِيُّ، ثُمَّ نَشْرَبُ عَلَيْهَا مِنَ الْمَاءِ، فَيَكْفِينَا يَوْمَنَا إِلَى اللَّيْلِ، قَالَ: وَكُنَّا نَضْرِبُ بِعِصِيِّنَا الْخَبَطَ، ثُمَّ نَبُلُّهُ بِالْمَاءِ، فَنَأْكُلُهُ، قَالَ: وَانْطَلَقْنَا عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ، فَرُفِعَ لَنَا عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ كَهَيْئَةِ الْكَثِيبِ الضَّخْمِ، فَأَتَيْنَاهُ فَإِذَا هُوَ دَابَّةٌ يُدْعَى الْعَنْبَرُ، قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: مَيْتَةٌ، قَالَ حَسَنُ بْنُ مُوسَى، ثُمَّ قَالَ: لَا بَلْ نَحْنُ رُسُلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ هَاشِمٌ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: لَا بَلْ نَحْنُ رُسُلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَدْ اضْطُرِرْتُمْ فَكُلُوا، وَأَقَمْنَا عَلَيْهِ شَهْرًا وَنَحْنُ ثَلَاثُ مِائَةٍ حَتَّى سَمِنَّا، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا نَغْتَرِفُ مِنْ وَقْبِ عَيْنَيْهِ بِالْقِلَالِ الدُّهْنَ، وَنَقْتَطِعُ مِنْهُ الْفِدَرَ كَالثَّوْرِ أَوْ كَقَدْرِ الثَّوْرِ، قَالَ: وَلَقَدْ أَخَذَ مِنَّا أَبُو عُبَيْدَةَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا فَأَقْعَدَهُمْ فِي وَقْبِ عَيْنِهِ، وَأَخَذَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ، فَأَقَامَهَا ثُمَّ رَحَلَ أَعْظَمَ بَعِيرٍ مَعَنَا، قَالَ حَسَنٌ، ثُمَّ رَحَلَ أَعْظَمَ بَعِيرٍ كَانَ مَعَنَا فَمَرَّ مِنْ تَحْتِهَا، وَتَزَوَّدْنَا مِنْ لَحْمِهِ وَشَائِقَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" هُوَ رِزْقٌ أَخْرَجَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَكُمْ، فَهَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَيْءٌ فَتُطْعِمُونَا"، قَالَ: فَأَرْسَلْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ، فَأَكَلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اس طرح بھی مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں ایک غزوہ میں زاد راہ کے طور پر کھجوروں کی ایک تھیلی عطا فرمائی اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ پہلے تو ہمیں ایک ایک مٹھی کھجوریں دیتے رہے پھر ایک کھجور دینے لگے۔ راوی نے پوچھا کہ آپ ایک کھجور کا کیا کرتے ہوں گے انہوں نے جواب دیا کہ ہم بچوں کی طرح اسے چباتے اور چوستے رہتے، پھر اس پر پانی پی لیتے اور رات تک ہمارا یہی کھانا ہوتا تھا پھر جب کھجوریں ختم ہو گئی تو ہم اپنی لاٹھیوں سے جھاڑ کر درختوں کے پتے گراتے انہیں پانی میں بھگوتے اور کھا لیتے اس طرح ہم شدید بھوک میں مبتلا ہو گئے۔ ایک دن ہم ساحل سمندر پر گئے ہوئے تھے، سمندر نے ہمارے لئے ایک مری ہوئی مچھلی نکالی، پہلے تو سیدنا ابوعبیدہ کہنے لگے کہ یہ مردار ہے۔ پھر فرمایا کہ ہم غازی اور بھوکے ہیں اس لئے اسے کھاؤ، ہم وہاں ایک مہینہ رہے ہم تین سو افراد تھے اور اسے کھا کر خوب صحت مند ہو گئے۔ ہم دیکھتے تھے کہ ہم اس کی آنکھوں کے سوراخوں سے مٹکے سے روغن نکالتے تھے اور اس کا گوشت بیل کی طرح کاٹتے تھے۔ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اس کی ایک پسلی کھڑے کرتے اور اونٹ پر سوار آدمی بھی اس کے نیچے سے گزر جاتا تھا اور پانچ آدمیوں کا ایک گروہ اس کی آنکھوں کے سوراخ میں بیٹھ جاتا تھا۔ ہم نے اسے خوب کھایا اور اس کا روغن جسم پر ملا یہاں تک کہ ہمارے جسم تندرست ہو گئے اور ہمارے رخسار بھر گئے اور مدینہ واپسی کے بعد ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا تذکر ہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ خدائی رزق تھا جو اللہ نے تمہیں عطا کیا تھا اگر تمہارے پاس اس کا کچھ حصہ ہو تو ہمیں بھی کھلاؤ۔ ہمارے پاس اس کا کچھ حصہ تھا جو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی اس میں سے تناول فرمایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14338]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 14339 مسند احمد
هَاشِمٌ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، زُهَيْرٌ ، هَاشِمٌ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قَالَ هَاشِمٌ فِي حَدِيثِهِ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَ لَهُ شَرِيكٌ فِي رَبْعَةٍ أَوْ نَخْلٍ، فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ، فَإِنْ رَضِيَ أَخَذَهُ، وَإِنْ كَرِهَ تَرَكَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص کسی زمین یا باغ میں شریک ہو تو وہ اپنے شریک کے سامنے پیشکش کئے بغیر کسی دوسرے کے ہاتھ اسے فروخت نہ کر ے تاکہ اگر اس کی مرضی ہو تو وہ لے لے نہ ہو تو چھوڑ دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14339]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1608
الحكم: إسناده صحيح، م: 1608
حدیث نمبر: 14340 مسند احمد
هَاشِمٌ ، وَحَسَنٌ ، زُهَيْرٌ ، هَاشِمٌ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، وَحَسَنٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قَالَ هَاشِمٌ فِي حَدِيثِهِ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ، دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقْ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے لئے بیع نہ کر ے لوگوں کو چھوڑ دو تاکہ اللہ انہیں ایک دوسرے سے رزق عطا فرمائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14340]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1522
الحكم: إسناده صحيح، م: 1522
حدیث نمبر: 14341 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، زُهَيْرٌ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمْسِكُوا عَلَيْكُمْ أَمْوَالَكُمْ فَلَا تُفْسِدُوهَا، فَإِنَّهُ مَنْ أَعْمَرَ عُمْرَى، فَهِيَ لِلَّذِي أُعْمِرَهَا حَيًّا وَمَيِّتًا وَلِعَقِبِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنے مال کو اپنے پاس سنبھال کر رکھو کسی کو مت دو اور جو شخص زندگی بھر کے لئے کسی کو کوئی چیز دیدے تو وہ اسی کی ہو جاتی ہے خواہ وہ زندہ ہو یا مر جائے یا اس کی اولاد کو مل جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14341]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1625
الحكم: إسناده صحيح، م: 1625
حدیث نمبر: 14342 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، زُهَيْرٌ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُرْسِلُوا فَوَاشِيَكُمْ وَصِبْيَانَكُمْ إِذَا غَابَتْ الشَّمْسُ، حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يُبْعَثُ إِذَا غَابَتْ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب سورج غروب ہو جائے تو رات کی سیاہی دور ہو نے تک اپنے جانوروں اور بچوں کو گھروں سے نہ نکلنے دو کیونکہ جب سورج غروب ہو جاتا ہے تورات کی سیاہی دور ہو نے تک شیاطین اترتے رہتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14342]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2013
الحكم: إسناده صحيح، م: 2013
حدیث نمبر: 14343 مسند احمد
هَاشِمٌ ، زُهَيْرٌ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: رُمِيَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فِي أَكْحَلِهِ، فَحَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ بِمِشْقَصٍ، ثُمَّ وَرِمَتْ، فَحَسَمَهُ الثَّانِيَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے بازو کی رگ میں ایک تیر لگ گیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اپنے دست مبارک سے چوڑے پھل کے تیر سے داغا، وہ سوج گیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دوبارہ داغ دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14343]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2208
الحكم: إسناده صحيح، م: 2208
حدیث نمبر: 14344 مسند احمد
هَاشِمٌ ، زُهَيْرٌ ، أبو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أبو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ لِأَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكْتُوبَةَ؟ قَالَ: الْمَكْتُوبَةَ وَغَيْرَ الْمَكْتُوبَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھی، کسی نے ابوزبیر سے پوچھا کہ اس سے مراد فرض نماز ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ فرض اور غیر فرض سب کو شامل ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14344]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 518
الحكم: إسناده صحيح، م: 518
حدیث نمبر: 14345 مسند احمد
هَاشِمٌ ، زُهَيْرٌ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُنْطَلِقٌ إِلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى بَعِيرِهِ، فَكَلَّمْتُهُ، فَقَالَ بِيَدِهِ: هَكَذَا، ثُمَّ كَلَّمْتُهُ، فَقَالَ بِيَدِهِ: هَكَذَا، وَأَنَا أَسْمَعُهُ يَقْرَأُ، وَيُومِئُ بِرَأْسِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ:" مَا فَعَلْتَ فِي الَّذِي أَرْسَلْتُكَ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بنو مصطلق کی طرف جاتے ہوئے مجھے کسی کام سے بھیج دیا، میں واپس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے، میں نے بات کرنا چاہی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ فرما دیا، دو مرتبہ اس طرح ہوا، پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو قرأت کرتے ہوئے سنا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے سر سے اشارہ فرما رہے تھے، نماز سے فراغت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے جس کام کے لئے تمہیں بھیجا تھا اس کا کیا بنا؟ میں نے جواب اس لئے نہیں دیا تھا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14345]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1217، م: 540
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1217، م: 540
حدیث نمبر: 14346 مسند احمد
هَاشِمٌ ، زُهَيْرٌ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ لِي جَارِيَةً، وَهِيَ خَادِمُنَا وَسَائسنا، أَطُوفُ عَلَيْهَا، وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ، قَالَ:" اعْزِلْ عَنْهَا إِنْ شِئْتَ، فَإِنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا"، قَالَ: فَلَبِثَ الرَّجُلُ، ثُمَّ أَتَاهُ، فَقَالَ: إِنَّ الْجَارِيَةَ قَدْ حَمَلَتْ، قَالَ:" قَدْ أَخْبَرْتُكَ، أَنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میری ایک باندی ہے جو ہماری خدمت بھی کرتی ہے اور پانی بھی بھر کر لاتی ہے، میں رات کو اس کے پاس چکر بھی لگاتا ہوں، لیکن اس کے ماں بننے کو بھی اچھا نہیں سمجھتا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہتے ہو تو اس سے عزل کر لیا کرو، ورنہ جو مقدر میں ہے وہ تو ہو کر رہے گا، چنانچہ کچھ عرصے بعد وہی آدمی دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ وہ باندی بوجھل ہو گئی ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تو تمہیں پہلے ہی بتا دیا تھا کہ جو مقدر میں ہے وہ تو ہو کر رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14346]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1439 ، أبو الزبير مدلس، وقد عنعن، وهو متابع
الحكم: حديث صحيح، م: 1439 ، أبو الزبير مدلس، وقد عنعن، وهو متابع
حدیث نمبر: 14347 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، زُهَيْرٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَمُطِرْنَا قَالَ:" لِيُصَلِّ مَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فِي رَحْلِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ سفر پر نکلے تو راستے میں بارش ہو نے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جو شخص اپنے خیمے میں نماز پڑھنا چاہے، وہ وہیں نماز پڑھ لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14347]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، م: 698، أبو الزبير لم يصرح بالتحديث، لكن صح الحديث عن غير واحد من الصحابة
الحكم: صحيح لغيره، م: 698، أبو الزبير لم يصرح بالتحديث، لكن صح الحديث عن غير واحد من الصحابة
حدیث نمبر: 14348 مسند احمد
حَسَنٌ ، زُهَيْرٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَذْبَحُوا إِلَّا مُسِنَّةً، إِلَّا أَنْ تَعْسُرَ عَلَيْكُمْ، فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنَ الضَّأْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہی جانور ذبح کیا کرو جو سال بھر کا ہو چکا ہو، البتہ اگر مشکل ہو تو بھیڑ کا چھ ماہ کا بچہ بھی ذبح کر سکتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14348]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر، م: 1963
الحكم: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر، م: 1963
حدیث نمبر: 14349 مسند احمد
حَسَنٌ ، زُهَيْرٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا طِيَرَةَ وَلَا عَدْوَى وَلَا غُولَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بیماری متعدی ہونے بدشگونی اور بھوت پریت کی کوئی حقیقت نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14349]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2222، وقد صرح أبو الزبير بسماعه من جابر فيما سيأتي برقم: 15103
الحكم: إسناده صحيح، م: 2222، وقد صرح أبو الزبير بسماعه من جابر فيما سيأتي برقم: 15103
حدیث نمبر: 14350 مسند احمد
حَسَنٌ ، زُهَيْرٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تَطِيبَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھل کے خوب پک کر عمدہ ہو جانے سے قبل اس کی بیع سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14350]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1536، أبو الزبير لم يصرح بالتحديث، وهو متابع
الحكم: حديث صحيح، م: 1536، أبو الزبير لم يصرح بالتحديث، وهو متابع
حدیث نمبر: 14351 مسند احمد
حَسَنٌ ، زُهَيْرٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ انْتَهَبَ نُهْبَةً، فَلَيْسَ مِنَّا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص لوٹ مار کرتا ہے، اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14351]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، أبوالزبير لم يصرح بسماعه من جابر
الحكم: صحيح لغيره، أبوالزبير لم يصرح بسماعه من جابر