بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 14337
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 14337
حدیث نمبر: 14337 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُخْبِرُ نَحْوًا مِنْ حديث عَمْرٍو هَذَا، وَزَادَ فِيهِ قَالَ: وَزَوَّدَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِرَابًا مِنْ تَمْرٍ، فَكَانَ يَقْبِضُ لَنَا قَبْضَةً قَبْضَةً، ثُمَّ تَمْرَةً تَمْرَةً فَنَمْضُغُهَا، وَنَشْرَبُ عَلَيْهَا الْمَاءَ حَتَّى اللَّيْلِ، ثُمَّ نَفِدَ مَا فِي الْجِرَابِ، فَكُنَّا نَجْتَنِي الْخَبَطَ بِقِسِيِّنَا، فَجُعْنَا جُوعًا شَدِيدًا، فَأَلْقَى لَنَا الْبَحْرُ حُوتًا مَيِّتًا، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: غُزَاةٌ وَجِيَاعٌ، فَكُلُوا، فَأَكَلْنَا، فَكَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ يَنْصِبُ الضِّلَعَ مِنْ أَضْلَاعِهِ، فَيَمُرُّ الرَّاكِبُ عَلَى بَعِيرِهِ تَحْتَهُ، وَيَجْلِسُ النَّفَرُ الْخَمْسَةُ فِي مَوْضِعِ عَيْنِهِ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ وَادَّهَنَّا حَتَّى صَلَحَتْ أَجْسَامُنَا، وَحَسُنَتْ سَحْنَاتُنَا، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ، قَالَ جَابِرٌ، فَذَكَرْنَاهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" رِزْقٌ أَخْرَجَهُ اللَّهُ لَكُمْ، فَإِنْ كَانَ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ فَأَطْعِمُونَاهُ"، قَالَ: فَكَانَ مَعَنَا مِنْهُ شَيْءٌ، فَأَرْسَلَ بِهِ إِلَيْهِ بَعْضُ الْقَوْمِ، فَأَكَلَ مِنْهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ روایت سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اس طرح بھی مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں ایک غزوہ میں زاد راہ کے طور پر کھجوروں کی ایک تھیلی عطا فرمائی اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ سیدنا ابوعبیدہ پہلے تو ہمیں ایک ایک مٹھی کھجوریں دیتے رہے پھر ایک کھجور دینے لگے۔ راوی نے پوچھا کہ آپ ایک کھجور کا کیا کرتے ہوں گے، انہوں نے جواب دیا کہ ہم بچوں کی طرح اسے چباتے اور چوستے رہتے پھر اس پر پانی پی لیتے اور رات تک ہمارا یہی کھانا ہوتا تھا۔ پھر جب کھجوریں ختم ہو گئی تو ہم اپنی لاٹھیوں سے جھاڑ کر درختوں کے پتے گراتے انہیں پانی میں بھگوتے اور کھا لیتے اس طرح ہم شدید بھوک میں مبتلا ہو گئے۔ ایک دن ہم ساحل سمندر پر گئے ہوئے تھے، سمندر نے ہمارے لئے ایک مری ہوئی مچھلی پھینکی، پہلے تو سیدنا ابوعبیدہ کہنے لگے کہ یہ مردار ہے، پھر فرمایا کہ ہم غازی اور بھوکے ہیں اس لئے اسے کھاؤ۔ ہم وہاں ایک مہینہ رہے ہم تین سو افراد تھے اور اسے کھا کر خوب صحت مند ہو گئے۔ ہم دیکھتے تھے کہ ہم اس کی آنکھوں کے سوراخوں سے مٹکے سے روغن نکالتے تھے اور اس کا گوشت بیل کی طرح کاٹتے تھے۔ سیدنا ابوعبیدہ اس کی ایک پسلی کھڑے کرتے اور اونٹ پر سوار آدمی بھی اس کے نیچے سے گزر جاتا تھا اور پانچ آدمیوں کا ایک گروہ اس کی آنکھوں کے سوراخ میں بیٹھ جاتا تھا ہم نے اسے خوب کھایا اور اس کا روغن جسم پر ملا یہاں تک کہ ہمارے جسم تندرست ہو گئے اور ہمارے رخسار بھر گئے اور مدینہ واپسی کے بعد ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ خدائی رزق تھا جو اللہ نے تمہیں عطا کیا تھا اگر تمہارے پاس اس کا کچھ حصہ ہو تو ہمیں بھی کھلاؤ ہمارے پاس اس کا کچھ حصہ تھا جو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی اس میں سے تناول فرمایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14337]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ مختصرا-: 4362، م: 1935
الحكم: إسناده صحيح، خ مختصرا-: 4362، م: 1935
← پچھلی حدیث (14336) باب پر واپس اگلی حدیث (14338) →