بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 52 از 60
حدیث نمبر: 15132 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، الْفُضَيْلُ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى ، الْحَارِثِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى , عَنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ : أَنَّ قَوْمًا قَدِمُوا الْمَدِينَةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهَا مَرَضٌ , فَنَهَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَخْرُجُوا حَتَّى يَأْذَنَ لَهُمْ , فَخَرَجُوا بِغَيْرِ إِذْنِهِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ , تَنْفِي الْخَبَثَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کے دست حق پرست پر بیعت کر لی اس وقت مدینہ میں وباپھیلی ہوئی تھی اس لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں بلا اجازت مدینہ منورہ سے نکلنے سے منع کر دیا لیکن وہ بغیر اجازت لینے مدینہ سے چلے گئے اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ منورہ بھٹی کی طرح ہے جو اپنے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15132]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين، والحارث بن أبى يزيد روى عنه اثنان، وذكره ابن حبان فى الثقات
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين، والحارث بن أبى يزيد روى عنه اثنان، وذكره ابن حبان فى الثقات
حدیث نمبر: 15133 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ:" ارْمِ , وَلَا حَرَجَ"، قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، قَالَ:" اذْبَحْ , وَلَا حَرَجَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ میں نے قربانی کرنے سے پہلے بال منڈوا لئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اب قربانی کر لو، کوئی حرج نہیں، پھر دوسرا آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ!! میں نے رمی کرنے سے پہلے حلق کر وا لیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر فرمایا: اب رمی کر لو کوئی حرج نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15133]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15134 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ: فَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ أَخُو بَنِي حَارِثَةَ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ , قَالَ: خَرَجَ مَرْحَبٌ الْيَهُودِيُّ مِنْ حِصْنِهِمْ قَدْ جَمَعَ سِلَاحَهُ يَرْتَجِزُ , وَيَقُولُ: قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ أَطْعَنُ أَحْيَانًا وَحِينًا أَضْرِبُ إِذَا اللُّيُوثُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ كَانَ حِمَايَ لَحِمًى لَا يُقْرَبُ وَهُوَ يَقُولُ: مَنْ مُبَارِزٌ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ لِهَذَا؟"، فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ أَنَا لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَأَنَا وَاللَّهِ الْمَوْتُورُ الثَّائِرُ , قَتَلُوا أَخِي بِالْأَمْسِ، قَالَ:" فَقُمْ إِلَيْهِ , اللَّهُمَّ أَعِنْهُ عَلَيْهِ"، فَلَمَّا دَنَا أَحَدُهُمَا مِنْ صَاحِبِهِ , دَخَلَتْ بَيْنَهُمَا شَجَرَةٌ عُمْرِيَّةٌ مِنْ شَجَرِ الْعُشَرِ , فَجَعَلَ أَحَدُهُمَا يَلُوذُ بِهَا مِنْ صَاحِبِهِ , كُلَّمَا لَاذَ بِهَا مِنْهُ اقْتَطَعَ بِسَيْفِهِ مَا دُونَهُ , حَتَّى بَرَزَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا لِصَاحِبِهِ , وَصَارَتْ بَيْنَهُمَا كَالرَّجُلِ الْقَائِمِ , مَا فِيهَا فَنَنٌ , ثُمَّ حَمَلَ مَرْحَبٌ عَلَى مُحَمَّدٍ فَضَرَبَهُ فَاتَّقَى بِالدَّرَقَةِ , فَوَقَعَ سَيْفُهُ فِيهَا فَعَضَّتْ بِهِ فَأَمْسَكَتْهُ , وَضَرَبَهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ حَتَّى قَتَلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مرحب یہو دی اپنے قلعے سے نکلا اس نے اسلحہ زیب تن رکھا تھا اور وہ یہ رجز اشعار پڑھ رہا تھا کہ پورا خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں اسلحہ پوش، بہادر اور تجربہ کار ہوں کبھی نیزے سے لڑتاہوں اور کبھی تلوار کی ضرب لگاتاہوں جب شیر شعلہ بن کر آگے بڑھتے ہیں گویا کہ میرا حریم ہی اصل حریم ہے جس کے قریب کوئی نہیں آسکتا اور وہ یہ نعرہ لگارہا تھا کہ ہے کوئی میرا مقابلہ کرنے والا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کا مقابلہ کون کر ے گا سیدنا محمد بن مسلمہ نے آگے بڑھ کر عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اس کا مقابلہ کر وں گا اور واللہ میں اس کے جوڑ کا ہوں انہوں نے کل میرے بھائی کو بھی قتل کیا تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ آگے بڑھو اور دعا کی کہ اے اللہ اس کی مدد فرما۔ جب دونوں ایک دوسرے کے قریب ہوئے تو درمیان میں ایک درخت حائل ہو گیا اور ان میں سے ایک اپنے مد مقابل سے بچنے کے لئے اس کی آڑ لینے لگا وہ جب بھی اس کی آڑ لیتا تو دوسرا اس پر تلوار سے وار کرتا ہوں یہاں تک کہ دونوں ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئے اور اب ان کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں رہی اس کے بعد مرحب نے محمد بن مسلمہ پر تلوار سے حملہ کیا اور اس کا وار کیا انہوں نے اسے ڈھال پر روکا تلوار اس پر پڑی اور اسے کاٹتی ہوئی نکل گئی لیکن محمد بن مسلمہ بچ گئے پھر محمد بن مسلمہ نے اپنی تلوار سے اس پر حملہ کیا تو اسے قتل کر کے ہی دم لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15134]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، وفي الباب عن سلمة بن الأكوع عند مسلم: 1807، وعن بريدة الأسلمي، وسيأتي برقم: 23031، وفيهما أن الذى قتل مرحبا هوعلي بن ابي طالب: قال النووي فى شرح مسلم: 186/12: « هذا هو الأصح: أن عليا هو قاتل مرحب »
الحكم: إسناده حسن، وفي الباب عن سلمة بن الأكوع عند مسلم: 1807، وعن بريدة الأسلمي، وسيأتي برقم: 23031، وفيهما أن الذى قتل مرحبا هوعلي بن ابي طالب: قال النووي فى شرح مسلم: 186/12: « هذا هو الأصح: أن عليا هو قا
حدیث نمبر: 15135 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، وَسُرَيْجٌ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، وَسُرَيْجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ قَالَ سُرَيْجٌ: الْأَهْلِيَّةُ يَوْمَ خَيْبَرَ وَأَذِنَ فِي لُحُومِ الْخَيْلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ خیبر کے زمانے میں پالتو گدھوں سے منع فرمایا: تھا اور گھوڑوں کے گوشت کی اجازت دی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15135]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4219، م: 1941
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4219، م: 1941
حدیث نمبر: 15136 مسند احمد
حَسَنٌ ، زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ أَبُو خَيْثَمَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ أَبُو خَيْثَمَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمْسِكُوا عَلَيْكُمْ أَمْوَالَكُمْ , وَلَا تَقْسِمُوهَا , فَإِنَّهُ مَنْ أَعْمَرَ عُمْرَى فَهِيَ لِلَّذِي أَعْمَرَهَا حَيًّا وَمَيِّتًا , وَلِعَقِبِهِ تَقْسِمُوهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے مال کو اپنے پاس سنبھال کر رکھو کسی کو مت دو اور جو شخص زندگی بھر کے لئے کسی کو کوئی چیز دے دیتا ہے تو وہ اسی کی ہو جاتی ہے خواہ وہ زندہ ہو یا مردہ ہو یا مر جائے یا اس کی اولاد کو مل جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15136]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1625
الحكم: إسناده صحيح، م: 1625
حدیث نمبر: 15137 مسند احمد
حَسَنٌ ، زُهَيْرٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُرْسِلُوا فَوَاشِيَكُمْ وَصِبْيَانَكُمْ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ، حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ , فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ تَعْبَثُ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب سورج غروب ہو جائے تو رات کی سیاہی دور ہو نے تک اپنے جانوروں اور اپنے بچوں کو گھروں سے نکلنے نہ دو کیونکہ جب سورج غروب ہوتا ہے تو رات کی سیاہی دور ہو نے تک شیاطین اترتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15137]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2013
الحكم: إسناده صحيح، م: 2013
حدیث نمبر: 15138 مسند احمد
حَسَنٌ ، زُهَيْرٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ"، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ لِأَبِي الزُّبَيْرِ: وَأَنَا أَسْمَعُ الْمَكْتُوبَةَ؟، قَالَ: الْمَكْتُوبَةُ , وَغَيْرُ الْمَكْتُوبَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھی کسی نے ابوالزبیر سے پوچھا کہ اس سے مراد فرض نماز ہے انہوں نے فرمایا کہ یہ فرض اور غیر فرض سب کو شامل ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15138]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 518
الحكم: إسناده صحيح، م: 518
حدیث نمبر: 15139 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، وَمُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، زُهَيْرٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، وَمُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ:" أَكَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ , وَتَزَوَّدْنَا حَتَّى بَلَغْنَا بِهَا الْمَدِينَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے حج کی قربانی کے جانور کا گوشت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں ان کے ساتھ کھایا اور اسے زاد راہ کے طور پر بھی لے آئے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15139]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، أبو الزبير لم يصرح بالسماع، وانظر: 15168
الحكم: حديث صحيح، أبو الزبير لم يصرح بالسماع، وانظر: 15168
حدیث نمبر: 15140 مسند احمد
حَسَنٌ ، زُهَيْرٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: إِنَّ لِي جَارِيَةً , وَهِيَ خَادِمُنَا وَسَائِسَتُنَا , أَطُوفُ عَلَيْهَا , وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ، فَقَالَ:" اعْزِلْ عَنْهَا إِنْ شِئْتَ , فَإِنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا"، قَالَ: فَلَبِثَ الرَّجُلُ , ثُمَّ أَتَاهُ , فَقَالَ: إِنَّ الْجَارِيَةَ قَدْ حَمَلَتْ، قَالَ:" قَدْ أَخْبَرْتُكَ أَنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میری ایک باندی ہے جو ہماری خدمت بھی کر تی ہے اور پانی بھر کر بھی لاتی ہے میں رات کو اس کے پاس چکر بھی لگاتاہوں لیکن اس کے ماں بننے کو بھی اچھا نہیں سمجھتا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہتے ہواس سے عزل کر لیا کر وں ورنہ جو مقدر میں ہے وہ تو ہو کر رہے گا چنانچہ کچھ عرصے بعد وہی آدمی دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ وہ باندی بوجھل ہو گئی ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تو تمہیں پہلے ہی بتادیا تھا کہ جو مقدر میں ہے وہ تو ہو کر رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15140]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1439، أبو الزبير مدلس، وقد عنعن، وهو متابع
الحكم: حديث صحيح، م: 1439، أبو الزبير مدلس، وقد عنعن، وهو متابع
حدیث نمبر: 15141 مسند احمد
حَسَنٌ ، زُهَيْرٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ , دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقُ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کوئی شہری کسی دیہاتی کے لئے بیع نہ کر ے لوگوں کو چھوڑ دو تاکہ اللہ انہیں ایک دوسرے کا رزق عطاء فرمائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15141]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1522
الحكم: إسناده صحيح، م: 1522
حدیث نمبر: 15142 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، زُهَيْرٌ
حَدَّثَنَاه مُوسَى بْنُ دَاوُدَ , حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , مِثْلَهُ بِإِسْنَادِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15142]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 15143 مسند احمد
حَسَنٌ ، زُهَيْرٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ ، وَابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ , حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , وَابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ النَّقِيرِ , وَالْمُزَفَّتِ , وَالدُّبَّاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اور ابن عمر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دباء نقیر اور مزفت کے تمام برتنوں سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15143]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1998
الحكم: إسناده صحيح، م: 1998
حدیث نمبر: 15144 مسند احمد
حَسَنٌ ، زُهَيْرٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: رُمِيَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فِي أَكْحَلِهِ ," فَحَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ بِمِشْقَصٍ" , قَالَ: ثُمَّ وَرِمَتْ، قَالَ:" فَحَسَمَهُ الثَّانِيَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا سعد بن معاذ کے بازو کی رگ میں ایک تیر لگ گیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اپنے دست مبارک سے چوڑے پھل کے تیر سے داغا وہ سوج گیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دوبارہ داغا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15144]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2208
الحكم: إسناده صحيح، م: 2208
حدیث نمبر: 15145 مسند احمد
حَسَنٌ ، زُهَيْرٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَغْلِقُوا الْأَبْوَابَ , وَأَوْكِئُوا الْأَسْقِيَةَ , وَخَمِّرُوا الْإِنَاءَ , وَأَطْفِئُوا السُّرُجَ , فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ غُلُقًا , وَلَا يَحُلُّ وِكَاءً , وَلَا يَكْشِفُ إِنَاءً , فَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ رات کو سوتے وقت دروازے بند کر لیا کر و اور برتنوں کو ڈھانپ دیا کر و اور چراغ بجھادیا کر و اور مشکیزوں کا منہ باندھ دیا کر و کیونکہ شیطان بند دروازہ کو نہیں کھول سکتا کوئی پردہ نہیں ہٹاسکتا کوئی بندھن نہیں کھول سکتا اور بعض اوقات ایک چوہا پورے گھر کو جلانے کا سبب بن جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15145]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2012
الحكم: إسناده صحيح، م: 2012
حدیث نمبر: 15146 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، أَبُو إِسْحَاقَ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ , عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ مُسْلِمٍ وَلَا مُسْلِمَةٍ , وَلَا مُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ , يَمْرَضُ مَرَضًا , إِلَّا حَطَّ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ خَطَايَاهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو مؤمن مرد عورت اور جو مسلمان مرد عورت بیمار ہوتا ہے اللہ اس کے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15146]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 15147 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، بَكْرُ بْنُ سَوَادَةَ ، مَوْلًى لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَوَادَةَ , أَنَّ مَوْلًى لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِمْ، وَهُمْ يَجْتَنُونَ أَرَاكًا , فَأَعْطَاهُ رَجُلٌ جَنْيَ أَرَاكٍ , فَقَالَ:" لَوْ كُنْتُ مُتَوَضِّئًا أَكَلْتُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس سے گزرے تو وہ پیلو چن رہے تھے ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں چنے ہوئے پیلو پیش کئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں وضو سے ہوتا تو تب بھی کھالیتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15147]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، ولجهالة مولي جابر. وقد تفرد الإم أحمد بھذا الحدیث، واللہ أعلم
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، ولجهالة مولي جابر. وقد تفرد الإم أحمد بھذا الحدیث، واللہ أعلم
حدیث نمبر: 15148 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا , عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَالسِّنَّوْرِ , فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَجَرَ عَنْ ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے کتے اور بلی کی قیمت کا حکم پوچھا: تو انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15148]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1569 ، وهذا إسناد ضعيف، ابن لهيعة سیئ الحفظ، لكنه متابع
الحكم: حديث صحيح، م: 1569 ، وهذا إسناد ضعيف، ابن لهيعة سیئ الحفظ، لكنه متابع
حدیث نمبر: 15149 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَخْبَرَنِي جَابِرٌ , أَنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ سَرَقَتْ , فَعَاذَتْ بِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ حِبّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأُتِيَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةَ لَقَطَعْتُ يَدَهَا" فَقَطَعَهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو مخزوم کی ایک عورت سے چوری سرزد ہو گئی اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہیتے سیدنا اسامہ بن زید کے ذریعے سفارش کر وا کر بچنا چاہا تو اسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا تو آپ نے فرمایا: اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کر تی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا ہاتھ کٹوادیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15149]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، م: 1689، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، لكنه متابع، وأبو الزبير لم يصرح بسماعه من جابر، وفي الباب عن عائشة عند البخاري : 6788، ومسلم: 1688
الحكم: صحيح لغيره، م: 1689، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، لكنه متابع، وأبو الزبير لم يصرح بسماعه من جابر، وفي الباب عن عائشة عند البخاري : 6788، ومسلم: 1688
حدیث نمبر: 15150 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا , عَنِ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ , فَقَالَ: طَلَّقَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ , فَأَتَى عُمَر ُرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ ذَلِكَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِيُرَاجِعْهَا , فَإِنَّهَا امْرَأَتُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اس شخص کا حکم دریافت کیا جو ایام کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دیدے انہوں نے فرمایا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر نے بھی ایک مرتبہ ایام کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دیدی تھی سیدنا عمر نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کا تذکر ہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اسے رجوع کر لینا چاہیے کیونکہ وہ اس کی بیوی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15150]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، ويغني عنه في هذه القصة حديث ابن عمر نفسه السالف برقم: 4500
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، ويغني عنه في هذه القصة حديث ابن عمر نفسه السالف برقم: 4500
حدیث نمبر: 15151 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا هَلْ رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَ: نَعَمْ , رَجَمَ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ , وَرَجُلًا مِنَ الْيَهُودِ , وَامْرَأَةً , وَقَالَ لِلْيَهُودِيِّ:" نَحْنُ نَحْكُمُ عَلَيْكُم الْيَوْمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رجم کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قبیلہ اسلم کے ایک آدمی کو ایک یہو دی مرد کو ایک عورت کو رجم فرمایا: تھا اور یہو دی سے فرمایا: تھا کہ آج ہم تم پر فیصلہ کر یں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15151]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله : وقال لليهودي: « نحن نحكم عليكم اليوم »، م: 1701، وهذا الإسناد ضعیف من أجل ابن لهيعة
الحكم: حديث صحيح دون قوله : وقال لليهودي: « نحن نحكم عليكم اليوم »، م: 1701، وهذا الإسناد ضعیف من أجل ابن لهيعة