بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 11 از 60
حدیث نمبر: 14312 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُخْرِجُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ النَّارِ قَوْمًا، فَيُدْخِلُهُمْ الْجَنَّةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جہنم سے کچھ لوگوں کو نکال کر جنت میں داخل فرمائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14312]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6558، م: 191
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6558، م: 191
حدیث نمبر: 14313 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعْتُ جَابِرًا ، قَالَ: كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِئَةٍ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْتُمْ الْيَوْمَ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ حدیبیہ کے موقع پر ہماری تعداد چودہ سو نفسوں پر مشتمل تھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ آج تم لوگ روئے زمین کے تمام لوگوں سے بہتر ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14313]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4154، م: 1856
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4154، م: 1856
حدیث نمبر: 14314 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعْ جَابِرًا ، يَقُولُ: قَالَ رَجُلٌ يَوْمَ أُحُدٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ قُتِلْتُ فَأَيْنَ أَنَا؟ قَالَ:" فِي الْجَنَّةِ" فَأَلْقَى تَمَرَاتٍ كُنَّ فِي يَدِهِ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، وَقَالَ: غَيْرُ عَمْرٍو َتَخَلَّى مِنْ طَعَامِ الدُّنْيَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے موقع پر ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ اگر میں شہید ہو گیا تو کہاں جاؤں گا؟ تو فرمایا کہ جنت میں یہ سن کر اس نے اپنے ہاتھ کی کھجوروں کو ایک طرف رکھ دیا اور میدان کار زار میں کود پڑا حتی کہ جام شہادت نوش کر لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14314]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4046، م: 1899
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4046، م: 1899
حدیث نمبر: 14315 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٌو ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، سَمِعَ عَمْرٌو ، جَابِرًا ، يَقُولُ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ مِائَةِ رَاكِبٍ أَمِيرُنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، فَأَقَمْنَا عَلَى السَّاحِلِ حَتَّى فَنِيَ زَادُنَا، حَتَّى أَكَلْنَا الْخَبَطَ، ثُمَّ إِنَّ الْبَحْرَ أَلْقَى دَابَّةً، يُقَالُ لَهَا: الْعَنْبَرُ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ نِصْفَ شَهْرٍ حَتَّى صَلَحَتْ أَجْسَامُنَا، فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ فَنَصَبَهُ، وَنَظَرَ إِلَى أَطْوَلِ بَعِيرٍ، فَجَازَ تَحْتَهُ، وَكَانَ رَجُلٌ يَجْزُرُ ثَلَاثَةَ جُزُرٍ، ثُمَّ ثَلَاثَةَ جُزُرٍ، ثُمَّ ثَلَاثَةَ جُزُرٍ، ثُمَّ ثَلَاثَةَ جُزُرٍ، فَنَهَاهُ أَبُو عُبَيْدَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں ایک سفر میں تین سو سواریوں کے ساتھ بھیجا تھا ہمارے امیر سیدنا ابوعبیدہ بن جراح تھے، ہم نے ساحل پر قیام کیا ہمارا زاد راہ ختم ہو گیا اور ہمیں درختوں کے پتے کھانے پڑے، سمندر نے عنبر نامی ایک مچھلی باہر پھینک دی جسے ہم نصف ماہ تک کھاتے رہے یہاں تک کہ ہمارے جسم خوب صحت مند ہو گئے، ایک دن سیدنا عبیدہ نے اس کی ایک پسلی لے کر کھڑی کی اور سب سے لمبے اونٹ کو اس کے نیچے سے گزارا تو وہ گز رگیا اور ایک دن تین دن تک تین تین اونٹ ذبح کرتا رہا، پھر سیدنا ابوعبیدہ نے اسے منع کر دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14315]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4361، م: 1935
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4361، م: 1935
حدیث نمبر: 14316 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ عَمْرٍو ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، لَمَّا نَزَلَتْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ سورة الأنعام آية 65، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعُوذُ بِوَجْهِكَ" فَلَمَّا نَزَلَتْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ سورة الأنعام آية 65، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعُوذُ بِوَجْهِكَ" فَلَمَّا نَزَلَتْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ سورة الأنعام آية 65، قَالَ: هَذِهِ أَهْوَنُ أو َأَيْسَرُ".
حدیث نمبر: 14317 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ذَكَرُوا الرَّجُلَ يُهِلُّ بِعُمْرَةٍ فَيَحِلُّ، هَلْ لَهُ أَنْ يَأْتِيَ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ؟ فَسَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ: لَا، حَتَّى يَطُوفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ قَالَ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عمرو کہتے ہیں کہ علماء میں ایک مرتبہ اس بات کا ذکر ہوا کہ اگر کوئی آدمی عمرہ کا احرام باندھے پھر حلال ہو جائے تو کیا وہ صفا مروہ کی سعی کئے بغیر آ سکتا ہے؟ میں نے یہ مسئلہ پوچھا سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے، تو انہوں نے فرمایا کہ جب تک صفا مروہ کے درمیان سعی نہ کر لے اس وقت تک حلال نہیں ہو گا، یہی سوال میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مکہ مکرمہ تشریف لائے تو آپ نے خانہ کعبہ کے گرد طواف کے سات چکر لگائے مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی تھی پھر فرمایا کہ تمہارے لئے پیغمبر اللہ کی ذات میں بہترین نمونہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14317]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 395، 396، م- الشطر الثاني-: 1234، وانظر: 4641
الحكم: إسناده صحيح، خ: 395، 396، م- الشطر الثاني-: 1234، وانظر: 4641
حدیث نمبر: 14318 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرٍ كُنَّا نَعْزِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں جبکہ قرآن کریم کا نزول ہو رہا تھا ہم اس وقت بھی عزل کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14318]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5208، م: 1440، وعمرو لم يسمعه من جابر كما صرح هو بذلك فيما سيأتي برقم: 14957، والواسطة بينهما عطاء بن أبى رباح كما برقم: 15032
الحكم: حديث صحيح، خ: 5208، م: 1440، وعمرو لم يسمعه من جابر كما صرح هو بذلك فيما سيأتي برقم: 14957، والواسطة بينهما عطاء بن أبى رباح كما برقم: 15032
حدیث نمبر: 14319 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، عَطَاءٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ كُنَّا نَتَزَوَّدُ لُحُومَ الْهَدْيِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم حج کی قربانی کے جانور کا گوشت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں مدینہ منورہ لے آتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14319]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2980، م: 1972
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2980، م: 1972
حدیث نمبر: 14320 مسند احمد
سُفْيَانُ ، حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ ، سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ مَكِّيّ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ مَكِّيّ ، عَنْ جَابِرٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ، وَوَضَعَ الْجَوَائِحَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کئی سالوں کے ٹھیکے پر پھلوں کی بیع سے اور مشتری (خریدنے والا) کو نقصان پہنچانے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14320]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1536 و 1554
الحكم: إسناده صحيح، م: 1536 و 1554
حدیث نمبر: 14321 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، وَابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جابرا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، وَابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، سمعا جابرا يزيد أحدهما على الآخر، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَرَأَيْتُ فِيهَا قَصْرًا أَوْ دَارًا فَسَمِعْتُ فِيهَا صَوْتًا، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا؟ فَقِيلَ لِعُمَرَ: فَأَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَهَا، فَذَكَرْتُ غَيْرَتَكَ يَا أَبَا حَفْصٍ" فَبَكَى عُمَرُ، وَقَالَ: مَرَّةً فَأَخْبَرَ بِهَا عُمَرَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَعَلَيْكَ يُغَارُ؟! قَالَ سُفْيَانُ: سَمِعْتُهُ مِنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، وَعَمْرٍو، سَمِعَا جَابِرًا، حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، قَالَ وَجَدْتُ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ إِلَى آخِرِ حَدِيثِ الْحَكَمِ بْنِ مُوسَى.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا: میں جنت میں داخل ہوا تو ایک محل نظر آیا تو وہاں مجھے ایک آواز سنائی دی میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے فرمایا گیا کہ یہ عمر کا ہے میں اس میں داخل ہو نا چاہا لیکن اے ابوحفص! مجھے تمہاری غیرت کا خیال آ گیا اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے اور کہنے لگے، یا رسول اللہ! کیا آپ پر غیرت کا اظہار کیا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14321]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5226، م: 2394
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5226، م: 2394
حدیث نمبر: 14322 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ وَهِيَ تَبْكِي، فَقَالَ:" مَا لَكِ تَبْكِينَ؟" قَالَتْ: أَبْكِي أَنَّ النَّاسَ أَحَلُّوا، وَلَمْ أَحْلِلْ، وَطَافُوا بِالْبَيْتِ وَلَمْ أَطُفْ، وَهَذَا الْحَجُّ قَدْ حَضَرَ، قَالَ:" إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَاغْتَسِلِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَحُجِّي"، قَالَتْ: فَفَعَلْتُ ذَلِكَ، فَلَمَّا طَهُرْتُ، قَالَ:" طُوفِي بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ قَدْ أَحْلَلْتِ مِنْ حَجِّكِ وَمِنْ عُمْرَتِكِ"، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي مِنْ عُمْرَتِي أَنِّي لَمْ أَكُنْ طُفْتُ حَتَّى حَجَجْتُ! قَالَ:" فَاذْهَبْ بِهَا يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَأَعْمِرْهَا مِنَ التَّنْعِيمِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدہ عائشہ کے پاس تشریف لائے تو وہ رو رہی تھیں تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے رونے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا میں اس بات پر رو رہی ہوں کہ سب لوگ احرام کھول کر حلال ہو چکے لیکن میں اب تک نہیں ہو سکی لوگوں نے طواف کر لیا لیکن میں اب تک نہ کر سکی اور حج کے ایام سر پر ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو ایسی چیز ہے جو اللہ نے ساری بیٹیوں کے لئے لکھ دی ہے اس لئے تم غسل کر کے حج کا احرام باندھ لو اور حج کر لو، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ اور مجبوری سے فراغت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کے درمیان سعی کر لو اس طرح تم اپنے حج اور عمرہ کے احرام کی پابندیوں سے آزاد ہو جاؤ گی۔ وہ کہنے لگی کہ یا رسول اللہ! میرے دل میں ہمیشہ اس بات کی خلش رہے گی کہ میں نے حج تک کوئی طواف نہیں کیا اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے بھائی عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کہا کہ انہیں لے جاؤ اور تنعیم سے عمرہ کرواؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14322]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1213
الحكم: إسناده صحيح، م: 1213
حدیث نمبر: 14323 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، زَائِدَةُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) قَالَ عَبْد اللَّهِ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ:" مَتَى تُوتِرُ؟" قَالَ: أَوَّلَ اللَّيْلِ بَعْدَ الْعَتَمَةِ، قَالَ:" فَأَنْتَ يَا عُمَرُ؟"، قَالَ: آخِرَ اللَّيْلِ، قَالَ:" أَمَّا أَنْتَ يَا أَبَا بَكْرٍ، فَأَخَذْتَ بِالثِّقَةِ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا عُمَرُ، فَأَخَذْتَ بِالْقُوَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صدیق اکبر سے پوچھا کہ آپ نماز وتر کب پڑھتے ہیں انہوں نے عرض کیا: نماز عشاء کے بعد رات کے پہلے پہر میں، یہی سوال نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا عمر سے پوچھا: تو انہوں نے عرض کیا: رات کے آخری پہر میں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر تم نے اس پہلو کو ترجیح دی جس میں اعتماد ہے اور عمر نے اس پہلو کو ترجیح دی جس میں قوت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14323]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل عبد الله بن محمد بن عقيل
الحكم: إسناده حسن من أجل عبد الله بن محمد بن عقيل
حدیث نمبر: 14324 مسند احمد
الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، الْحَكَمِ بْنِ مُوسَى ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، الْمُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، الشَّعْبِيِّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ الْحَكَمِ بْنِ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْمُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَلِجُوا عَلَى الْمُغِيبَاتِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنْ أَحَدِكُمْ مَجْرَى الدَّمِ"، قُلْنَا: وَمِنْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" وَمِنِّي، وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ غیر حاضر شوہر والی عورت کے پاس مت جایا کرو کیونکہ شیطان انسان کے جسم میں خون کی طرح دوڑتا ہے۔ ہم نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! کیا آپ کے جسم میں بھی؟ فرمایا: ہاں، اللہ نے اس پر میری مدد فرمائی اور وہ تابع فرمان ہو گیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14324]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف مجالد بن سعيد، وقد جمع مجالد فى هذا المتن ثلاثة أحاديث، وهى صحيحة ، 1- « لا تلجوا على المغيبات » 2- « إن الشيطان يجري۔۔۔ » 3- « لكن الله أعانني۔۔۔ »
الحكم: إسناده ضعيف لضعف مجالد بن سعيد، وقد جمع مجالد فى هذا المتن ثلاثة أحاديث، وهى صحيحة ، 1- « لا تلجوا على المغيبات » 2- « إن الشيطان يجري۔۔۔ » 3- « لكن الله أعانني۔۔۔ »
حدیث نمبر: 14325 مسند احمد
الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، الْحَكَمُ بن موسى ، يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، أَبِي وَهْبٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، نَافِعًا ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي، حَدَّثَنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَحَدَّثَنَاهُ الْحَكَمُ بن موسى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ، فَلَهُ مَالُهُ، وَعَلَيْهِ دَيْنُهُ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ، ومَن أَبَّرَ نخلًا، فباعَه بعدَ تَوْبيرِه، فله ثمرَتُه إلا أن يشترط المُبتاعُ"، قال عبد الله: إلى ها هنا وجدت في كتاب أبي، والباقي سَمَاعٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن عمرو اور جابر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی ایسے غلام کو بیچے جس کے پاس مال ہو تو اس کا مال بائع (بچنے والا) کا ہو گا الاّ یہ کہ مشتری (خریدنے والا) شرط لگا دے۔ (اور جو شخص کھجور کی پیوند کاری کر کے اسے بیچے تو پھل اس کی ملکیت میں ہو گا الاّ یہ کہ مشتری (خریدنے والا) درخت کے پھل سمیت خریدنے کی شرط لگا دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14325]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أبى وهب الكلاعي
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أبى وهب الكلاعي
حدیث نمبر: 14326 مسند احمد
زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكَّائِيُّ ، الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكَّائِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا قَوْمٍ كَانَتْ بَيْنَهُمْ رِبَاعَةٌ أَوْ دَارٌ، فَأَرَادَ أَحَدُهُمْ أَنْ يَبِيعَ نَصِيبَهُ، فَلْيَعْرِضْهُ عَلَى شُرَكَائِهِ، فَإِنْ أَخَذُوهُ فَهُمْ أَحَقُّ بِهِ بِالثَّمَنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جس شخص کے پاس زمین یا باغ ہو اور وہ اپنا حصہ بیچنا چاہے تو وہ اپنے شریک کے سامنے پیش کش کئے بغیر کسی دوسرے کے سامنے اسے فروخت نہ کرے، اگر وہ اس کو خرید لیں تو قیمت کے بدلے وہی اس کے زیادہ حق دار ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14326]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، زياد بن عبدالله ليس بالقوي فى غير ابن إسحاق، والحجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعن، وانظر: 14292 و 15095
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، زياد بن عبدالله ليس بالقوي فى غير ابن إسحاق، والحجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعن، وانظر: 14292 و 15095
حدیث نمبر: 14327 مسند احمد
نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، حَجَّاجٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ لَيْلًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انسان کو شہر میں داخل ہو کر بلا اطلاع اپنے گھر جانے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14327]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5246، م: 715، وهذا إسناد ضعيف جداً، من أجل نصر بن باب الخراساني المروزي
الحكم: حديث صحيح، خ: 5246، م: 715، وهذا إسناد ضعيف جداً، من أجل نصر بن باب الخراساني المروزي
حدیث نمبر: 14328 مسند احمد
نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، حَجَّاجٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي:" يَا جَابِرُ، لَوْ قَدْ جَاءَنَا مَالٌ، لَحَثَيْتُ لَكَ، ثُمَّ حَثَيْتُ لَكَ"، قَالَ: فَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يُنْجِزَ لِي تِلْكَ الْعِدَةَ، فَأَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَحَدَّثْتُهُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَنَحْنُ لَوْ قَدْ جَاءَنَا شَيْءٌ لَحَثَيْتُ لَكَ، ثُمَّ حَثَيْتُ لَكَ، ثُمَّ حَثَيْتُ لَكَ، قَالَ: فَأَتَاهُ مَالٌ، فَحَثَى لِي حَثْيَةً ثُمَّ حَثْيَةً، ثُمَّ قَالَ: لَيْسَ عَلَيْكَ فِيهَا صَدَقَةٌ حَتَّى يَحُولَ الْحَوْلُ، قَالَ: فَوَزَنْتُهَا فَكَانَتْ أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بارگاہ میں حاضر ہوا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اگر بحرین سے مال آ گیا تو میں تمہیں اتنا اور اتنا اور اتنا دوں گا، لیکن بحرین کا مال غنیمت آنے سے پہلے ہی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہو گیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے بعد جب بحرین سے مال آیا تو میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا اگر بحرین سے مال آ گیا تو میں تمہیں اتنا اتنا اور اتنا دوں گا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم لے لو چنانچہ میں نے ان سے مال لے لیا، پھر انہوں نے فرمایا کہ سال گزرنے سے پہلے تم پر اس کی کوئی زکوٰۃ نہیں ہے۔ میں نے انہیں گنا تو وہ پندرہ سو درہم تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14328]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف جداً كسابقه، وانظر: 14301
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف جداً كسابقه، وانظر: 14301
حدیث نمبر: 14329 مسند احمد
نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، حَجَّاجٍ ، عَطَاءٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعِيدَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ، ثُمَّ خَطَبَنَا، ثُمَّ نَزَلَ، فَمَشَى إِلَى النِّسَاءِ وَمَعَهُ بِلَالٌ، لَيْسَ مَعَهُ غَيْرُهُ، فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَجَعَلَتْ الْمَرْأَةُ تُلْقِي تُومَتَهَا وَخَاتَمَهَا إِلَى بِلَالٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں بغیر اذان و اقامت کے نماز پڑھائی نماز کے بعد ہم سے خطاب کیا اور فارغ ہو نے کے بعد منبر سے اتر کر خواتین کے پاس تشریف لائے اور انہیں وعظ و نصیحت فرمائی اس دوران آپ کے ساتھ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے دوسرا کوئی نہ تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا تو عورتیں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں بلال رضی اللہ عنہ کے حوالے کرنے لگیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14329]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 960، م: 886
الحكم: حديث صحيح، خ: 960، م: 886
حدیث نمبر: 14330 مسند احمد
نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، حَجَّاجٍ ، الذَّيَّالِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الذَّيَّالِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَ الشَّجَرَةِ؟ قَالَ: كُنَّا أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ذیال بن حرملہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے بیعت رضوان کے شرکاء کی تعداد معلوم کی تو انہوں نے فرمایا کہ ہماری تعداد صرف چودہ سو افراد تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14330]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 4154، م: 1856، وهذا إسناد ضعيف جداً من أجل نصر بن باب، وحجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعنه
الحكم: حديث صحيح، خ: 4154، م: 1856، وهذا إسناد ضعيف جداً من أجل نصر بن باب، وحجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعنه
حدیث نمبر: 14331 مسند احمد
نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، حَجَّاجٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً اثْنَيْنِ بِوَاحِدٍ، وَلَا بَأْسَ بِهِ يَدًا بِيَدٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو جانوروں کی ایک کے بدلے ادھار خرید و فروخت سے منع کیا ہے البتہ اگر نقد معاملہ ہو تو پھر کوئی حرج نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14331]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف نصر بن باب، وحجاج بن أرطاة وأبو الزبير مدلسان، ولم يصرحا بالسماع
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف نصر بن باب، وحجاج بن أرطاة وأبو الزبير مدلسان، ولم يصرحا بالسماع