بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 31 از 60
حدیث نمبر: 14712 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا، وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک حواری ہوتا تھا اور میرے حواری زبیر ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14712]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2847، م: 2415
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2847، م: 2415
حدیث نمبر: 14713 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، لَيْثُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، إِلَّا أَنْ يُغْزَى، أَوْ يُغْزَوْا، فَإِذَا حَضَرَهُ أَقَامَ حَتَّى يَنْسَلِخَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شہر حرم میں جہاد نہیں فرماتے تھے الاّ یہ کہ دوسروں کی طرف سے جنگ مسلط کر دی جائے ورنہ جب اشہر حرم شروع ہوتے تو آپ ان کے ختم ہو نے تک رک جاتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14713]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14714 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ حَسَنٌ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" غِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قبیلہ غفار کی اللہ بخشش فرمائے اور قبیلہ اسلم کو سلامتی عطاء فرمائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14714]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2515، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع، وانظر: 15113، وصرح هناك أبو الزبير بالسماع .
الحكم: حديث صحيح، م: 2515، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع، وانظر: 15113، وصرح هناك أبو الزبير بالسماع .
حدیث نمبر: 14715 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" غِلَظُ الْقُلُوبِ وَالْجَفَاءُ قِبَلَ الْمَشْرِقِ، وَالْإِيمَانُ وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْحِجَازِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دلوں کی سختی اور ظلم وجفا مشرقی لوگوں میں ہوتا ہے اور ایمان اور نرمی اہل حجاز میں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14715]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 53، وهذا إسناد ضعيف، أبن لهيعة سيئ الحفظ ، وهو متابع.
الحكم: حديث صحيح، م: 53، وهذا إسناد ضعيف، أبن لهيعة سيئ الحفظ ، وهو متابع.
حدیث نمبر: 14716 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَأُخْرِجَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، حَتَّى لَا أَذَرَ فِيهَا إِلَّا مُسْلِمًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سیدنا عمر کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ ارشادنقل کرتے ہیں کہ میں جزیرہ عرب سے یہو د و نصاری کو نکال کر رہوں گا اور اس میں مسلمان کے علاوہ کسی کو نہ چھوڑوں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14716]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة ، وقد توبع.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة ، وقد توبع.
حدیث نمبر: 14717 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِشَهْرٍ:" تَسْأَلُونِي عَنِ السَّاعَةِ، وَإِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللَّهِ؟! أُقْسِمُ بِاللَّهِ مَا عَلَى الْأَرْضِ نَفْسٌ مَنْفُوسَةٌ الْيَوْمَ يَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگ مجھ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں حالانکہ اس کا حقیقی علم تو اللہ ہی کے پاس ہے البتہ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ آج جو شخص زندہ ہے سو سال نہیں گزرنے پائیں گے کہ وہ زندہ رہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14717]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2538، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وانظر: 14451
الحكم: حديث صحيح، م: 2538، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وانظر: 14451
حدیث نمبر: 14718 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ كَذَّابُونَ: مِنْهُمْ صَاحِبُ الْيَمَامَةِ، وَمِنْهُمْ صَاحِبُ صَنْعَاءَ الْعَنَسِيُّ، وَمِنْهُمْ صَاحِبُ حِمْيَرَ، وَمِنْهُمْ الدَّجَّالُ وَهُوَ أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً"، قَالَ جَابِرٌ وَبَعْضُ أَصْحَابِي يَقُولُ:" قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثِينَ كَذَّابًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت سے پہلے (تیس کے قریب) کذاب ہوں گے انہی میں یمامہ کا مدعی نبوت صنعاء کا مدعی نبوت بھی شامل ہے اور انہیں میں دجال بھی شامل ہو گا جس کا فتنہ ان سب سے بڑا ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14718]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، وصح من حديث أبى هريرة عن النبى صلى الله عليه و آله وسلم قال: لا تقوم الساعة حتى يبعث دجالون كذابون، قريب من ثلاثين، كلهم يزعم أنه رسول الله، وسلف برقم: 7228، وهو عند مسلم:
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، وصح من حديث أبى هريرة عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: لا تقوم الساعة حتى يبعث دجالون كذابون، قريب من ثلاثين، كلهم يزعم أنه رسول الله، وسلف برقم: 7228، وهو عند مسلم:
حدیث نمبر: 14719 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أَنَا فَرَطُكُمْ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ، فَإِذَا لَمْ تَرَوْنِي، فَأَنَا عَلَى الْحَوْضِ قَدْرَ مَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِلَى مَكَّةَ، وَسَيَأْتِي رِجَالٌ وَنِسَاءٌ بِقِرَبٍ وَآنِيَةٍ، فَلَا يَطْعَمُونَ مِنْهُ شَيْئًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں تمہارے آگے تمہارا انتظار کر وں گا اگر تم مجھے دیکھ نہ سکو تو میں حوض کوثر پر ہوں گا جو کہ ایلہ سے مکہ مکر مہ تک کی درمیانی مسافت کا حوض ہو گا اور عنقریب کئی مرد و عورت مشکیزے اور برتن لے کر آئیں گے لیکن اس میں سے کچھ بھی نہ پی سکیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14719]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع، انظر: 15120، وقد صرح هناك أبو الزبير بالسماع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع، انظر: 15120، وقد صرح هناك أبو الزبير بالسماع
حدیث نمبر: 14720 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ، ظَاهِرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ"، قَالَ:" فَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِمْ، فَيَقُولُ أَمِيرُهُمْ: تَعَالَ صَلِّ بِنَا، فَيَقُولُ: لَا، إِنَّ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ أَمِيرٌ، لِيُكْرِمَ اللَّهُ هَذِهِ الْأُمَّةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت کا ایک گروہ قیامت تک ہمیشہ حق پر قتال کرتا رہے گا اور غالب رہے گا یہاں تک کہ سیدنا عیسیٰ نازل ہو جائیں گے تو ان کا امیر عرض کر ے گا کہ آپ آگے بڑھ کر نماز پڑھائیے لیکن وہ جواب دیں گے نہیں تم میں سے بعض بعض پر امیر ہیں تاکہ اللہ اس امت کا اعزاز فرما سکے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14720]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 156، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع برقم: 15127، وصرح هناك أبو الزبير بالتحديث
الحكم: حديث صحيح، م: 156، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع برقم: 15127، وصرح هناك أبو الزبير بالتحديث
حدیث نمبر: 14721 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرًا عَنِ الْوُرُودِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" نَحْنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى كَوْمٍ فَوْقَ النَّاسِ، فَيُدْعَى بِالْأُمَمِ وَبِأَوْثَانِهَا وَمَا كَانَتْ تَعْبُدُ، الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ، ثُمَّ يَأْتِينَا رَبُّنَا بَعْدَ ذَلِكَ، فَيَقُولُ مَا تَنْتَظِرُونَ؟، فَيَقُولُونَ: نَنْتَظِرُ رَبَّنَا، فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَيَقُولُونَ: حَتَّى نَنْظُرَ إِلَيْهِ"، قَالَ:" فَيَتَجَلَّى لَهُمْ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ يَضْحَكُ، وَيُعْطِي كُلَّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ، مُنَافِقٍ وَمُؤْمِنٍ، نُورًا، وَتَغْشَاهُ ظُلْمَةٌ، ثُمَّ يَتَّبِعُونَهُ مَعَهُمْ الْمُنَافِقُونَ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ، فِيهِ كَلَالِيبُ وَحَسَكٌ، يَأْخُذُونَ مَنْ شَاءَ، ثُمَّ يُطْفَأُ نُورُ الْمُنَافِقِينَ، وَيَنْجُو الْمُؤْمِنُونَ، فَتَنْجُو أَوَّلُ زُمْرَةٍ وُجُوهُهُمْ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، سَبْعُونَ أَلْفًا لَا يُحَاسَبُونَ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ كَأَضْوَإِ نَجْمٍ فِي السَّمَاءِ، ثُمَّ ذَلِكَ حَتَّى تَحِلَّ الشَّفَاعَةُ، فَيَشْفَعُونَ حَتَّى يُخْرَجَ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، مِمَّنْ فِي قَلْبِهِ مِيزَانُ شَعِيرَةٍ، فَيُجْعَلَ بِفِنَاءِ الْجَنَّةِ، وَيَجْعَلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ يُهْرِيقُونَ عَلَيْهِمْ مِنَ الْمَاءِ، حَتَّى يَنْبُتُونَ نَبَاتَ الشَّيْءِ فِي السَّيْلِ، وَيَذْهَبُ حَرَقُهُمْ، ثُمَّ يَسْأَلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، حَتَّى يُجْعَلُ لَهُ الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوزبیر نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے ورود کے متعلق سوال کیا انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قیامت کے دن ہم تمام لوگوں سے اوپر ایک ٹیلے پر ہوں گے درجہ بدرجہ تمام امتوں اور ان کے بتوں کو بلایا جائے گا پھر ہمارا پروردگار ہمارے پاس آ کر پوچھے گا کہ تم کس کا انتظار کر رہے ہو لوگ جواب دیں گے کہ ہم اپنے پروردگار کا انتظار کر رہے ہیں وہ کہے گا کہ میں ہی تمہارا رب ہوں لوگ کہیں گے کہ ہم اسے دیکھنے تک یہیں ہیں چنانچہ پروردگار ان کے سامنے اپنی ایک تجلی ظاہر فرمائے گا جس میں وہ مسکرا رہا ہو گا اور ہر انسان کو خواہ منافق ہو یا پکا مومن، ایک نور دیا جائے گا پھر اس پر اندھیرا چھا جائے گا پھر مسلمانوں کے ساتھ منافق کا نور بجھ جائے گا اور مسلمان اس پل صراط سے نجات پاجائیں گے۔ نجات پانے والے مسلمانوں کا پہلا گروہ اپنے چہروں میں چودہو یں رات کے چاند کی طرح ہو گا یہ لوگ ستر ہزار ہوں گے اور ان کا حساب نہ ہو گا دوسرے نمبر پر نجات پانے والے اس ستارے کی مانند ہو گے جو آسمان میں سب سے زیادہ روشن ہوں پھر درجہ بدرجہ یہاں تک کہ شفاعت کی اجازت دے دی جائے گی اور لوگ سفارش کر یں گے جس کی بناء وہ شخص جہنم سے نکال لیا جائے گا جس کے دل میں جو کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو گا اور اسے صحن جنت میں لے جایا جائے گا اور اہل جنت اس پر پانی بہانے لگیں گے حتی کہ وہ اس طرح اگ آئیں گے جیسے سیلاب میں خودرو پودے اگ آتے ہیں اور ان کے جسم کی جلن دور ہو جائے گی پھر اللہ ان سے پوچھے گا اور انہیں دنیا سے دس گنا زیادہ اجر عطا فرمائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14721]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 191، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة ، وهو متابع ، وانظر: 15115
الحكم: حديث صحيح، م: 191، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة ، وهو متابع ، وانظر: 15115
حدیث نمبر: 14722 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ فَتَّانِي الْقَبْرِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا، فَإِذَا أُدْخِلَ الْمُؤْمِنُ قَبْرَهُ، وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ، جَاءَ مَلَكٌ شَدِيدُ الِانْتِهَارِ، فَيَقُولُ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟، فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ: أَقُولُ إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ وَعَبْدُهُ، فَيَقُولُ لَهُ الْمَلَكُ: انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ الَّذِي كَانَ لَكَ فِي النَّارِ، قَدْ أَنْجَاكَ اللَّهُ مِنْهُ، وَأَبْدَلَكَ بِمَقْعَدِكَ الَّذِي تَرَى مِنَ النَّارِ مَقْعَدَكَ الَّذِي تَرَى مِنَ الْجَنَّةِ، فَيَرَاهُمَا كِلَاهُمَا، فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ: دَعُونِي أُبَشِّرْ أَهْلِي، فَيُقَالُ لَهُ: اسْكُنْ، وَأَمَّا الْمُنَافِقُ، فَيُقْعَدُ إِذَا تَوَلَّى عَنْهُ أَهْلُهُ، فَيُقَالُ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟، فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي، أَقُولُ مَا يَقُولُ النَّاسُ، فَيُقَالُ لَهُ: لَا دَرَيْتَ، هَذَا مَقْعَدُكَ الَّذِي كَانَ لَكَ مِنَ الْجَنَّةِ، قَدْ أُبْدِلْتَ مَكَانَهُ مَقْعَدَكَ مِنَ النَّارِ"، قَالَ جَابِرٌ: فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" يُبْعَثُ كُلُّ عَبْدٍ فِي الْقَبْرِ عَلَى مَا مَاتَ الْمُؤْمِنُ عَلَى إِيمَانِهِ، وَالْمُنَافِقُ عَلَى نِفَاقِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوزبیر نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے قبر میں آزمائش کرنے والے دو فرشتوں کے متعلق پوچھا: تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس امت کو اس کی قبروں میں آزمایا جاتا ہے چنانچہ جب کسی مومن کو قبر میں داخل کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی پیٹھ پھیر کر چلے جاتے ہیں تو ایک ایسا فرشتہ آتا ہے جس کی ڈانٹ بہت سخت ہو تی ہے وہ مردے سے پوچھتا ہے کہ تم اس شخص کے متعلق کیا کہتے ہو وہ جواب دیتا ہے کہ میں کہتا ہوں کہ وہ اللہ کے پیغمبر اور اس کے بندے تھے وہ فرشتہ کہتا ہے کہ اپنے اس ٹھکانے کو دیکھو جو جہنم میں تمہارے لئے تیار تھا، اللہ نے تمہیں اس سے نجات عطاء فرمائی اور جہنم کے اس ٹھکانے سے بدل کر جنت کا وہ ٹھکانہ تمہیں عطا فرمائے گا جو تم دیکھ رہے ہو وہ ان دونوں ٹھکانوں کو دیکھ رہا ہوتا ہے یہ سن کر وہ مسلمان کہتا ہے کہ مجھے اجازت دو کہ میں اپنے گھر والوں کو جا کر خوشخبری سنا آؤں اس سے کہا جاتا ہے کہ تم یہیں پر سکون حاصل کر و۔ اور اگر مردہ منافق ہو تو جب اس کے اہل خانہ پیٹھ پھیر کر چلے جاتے تو اسے بٹھا دیا جاتا ہے اور اس سے پوچھا: جاتا ہے کہ تم اس شخص کے متعلق کیا کہتے ہو وہ جواب دیتا ہے کہ مجھے کچھ پتہ نہیں ہے جو کہتے تھے میں بھی وہی کہہ دیتا تھا اسے کہا جاتا ہے کہ تو کچھ نہ جانے جنت میں تیرا یہ ٹھکانہ نہ تھا جو اب اللہ نے بدل کر جہنم میں تیرا یہ ٹھکانہ مقرر کر دیا ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قبر میں ہر شخص کو اسی حال پر اٹھایا جائے گا جس پر وہ مرا ہو مومن اپنے ایمان پر اور منافق اپنے نفاق پر اٹھایا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14722]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 14723 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرًا عَنِ الْجِنَازَةِ، قَالَ:" قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجَنَازَةٍ مَرَّتْ وَمَنْ مَعَهُ، حَتَّى تَوَارَتْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے جنازے کے متعلق پوچھا: تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب سے ایک جنازہ گزرا تو آپ اور صحابہ کھڑے ہو گئے اور اس وقت تک کھڑے رہے جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہ ہو گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14723]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 960، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 960، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 14724 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أَرْجُو أَنْ يَكُونَ مَنْ يَتَّبِعُنِي مِنْ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ"، قَالَ: فَكَبَّرْنَا، ثُمَّ قَالَ:" أَرْجُو أَنْ يَكُونُوا ثُلُثَ النَّاسِ"، قَالَ: فَكَبَّرْنَا، ثُمَّ قَالَ:" أَرْجُو أَنْ يَكُونُوا الشَّطْرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن میری پیروی کرنے والے میری امتی تمام اہل جنت کا ایک ربع ہوں گے اس پر ہم نے نعرہ تکبیر بلند کیا پھر فرمایا: مجھے امید ہے کہ وہ تمام لوگوں کا ایک ثلث ہوں گے اس پر ہم نے دوبارہ نعرہ تکبیر بلند کیا پھر فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ وہ تمام لوگوں کا ایک نصف ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14724]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع برقم: 15114، وصرح أبو الزبير هناك بالتحديث
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع برقم: 15114، وصرح أبو الزبير هناك بالتحديث
حدیث نمبر: 14725 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَمْرَضُ مُؤْمِنٌ وَلَا مُؤْمِنَةٌ، وَلَا مُسْلِمٌ وَلَا مُسْلِمَةٌ، إِلَّا حَطَّ اللَّهُ بِهَا عَنْهُ خَطِيئَتُهٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو مومن مرد عورت اور جو مسلمان مردو عورت بیمار ہوتا ہے اللہ اس کے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14725]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 14726 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" دَعَا عِنْدَ مَوْتِهِ بِصَحِيفَةٍ، لِيَكْتُبَ فِيهَا كِتَابًا لَا يَضِلُّونَ بَعْدَهُ"، قَالَ: فَخَالَفَ عَلَيْهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حَتَّى رَفَضَهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی وفات سے قبل ایک کاغذ منگوایا تاکہ ایک ایسی تحریر لکھوادیں جس کی موجودگی میں لوگ گمراہ نہ ہو سکیں لیکن سیدنا عمر نے اس میں دوسری رائے اختیار کی یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14726]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع، لكن تبقى فيه عنعنة أبى الزبير
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع، لكن تبقى فيه عنعنة أبى الزبير
حدیث نمبر: 14727 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا : أَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفْضَلُ الْجِهَادِ مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ، وَأُرِيقَ دَمُهُ"؟، فَقَالَ جَابِرٌ: نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ سب سے افضل جہاد اس شخص کا ہے جس کے گھوڑے کے پاؤں کٹ جائیں اور اس کا اپنا خون بہہ جائے انہوں نے فرمایا: ہاں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14727]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14728 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ صَدَقَةٌ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سب سے افضل صدقہ وہ ہوتا ہے جو کچھ مالداری رکھ کر ہواور صدقات میں آغاز ان لوگوں سے کیا کر و جو تمہاری ذمہ داری میں ہواور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14728]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع ، انظر: 14531
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع ، انظر: 14531
حدیث نمبر: 14729 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرًا أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ يُسَلِّمُ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) " وَالْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ"؟ قَالَ: نَعَمْ. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: قَالَ: وَسَأَلْتُ جَابِرًا أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ فَذَكَرَ اسْمَ اللَّهِ حِينَ يَدْخُلُ، وَحِينَ يَطْعَمُ، قَالَ الشَّيْطَانُ: لَا مَبِيتَ لَكُمْ، وَلَا عَشَاءَ هَاهُنَا، وَإِنْ دَخَلَ فَلَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عِنْدَ دُخُولِهِ، قَالَ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ، وَإِنْ لَمْ يَذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ عِنْدَ مَطْعَمِهِ، قَالَ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ وَالْعَشَاءَ"؟، قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوزبیر نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب انسان گھر میں داخل ہو تو اسے چاہیے کہ وہ سلام کرے۔ اور یہ کہ مومن ایک آنت میں کھاتا ہے، انہوں نے فرمایا: ہاں۔ اور میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی شخص اپنے گھر میں داخل ہو اور داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام لے تو شیطان کہتا ہے کہ یہاں تمہاری رات گزارنے کی جگہ ہے نہ کھانا۔ اور اگر گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ کا نام نہ لے تو وہ کہتا ہے کہ تم کو رات گزارنے کی جگہ تو مل گئی اور اگر کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام نہ لے تو وہ کہتا ہے کہ تمہیں کھانا اور ٹھکانہ دونوں مل گیا انہوں نے فرمایا: ہاں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14729]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2061، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وقد توبع، وسيأتي الشطر الثاني برقم: 15108، وهو فى مسلم: 2018
الحكم: حديث صحيح، م: 2061، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وقد توبع، وسيأتي الشطر الثاني برقم: 15108، وهو فى مسلم: 2018
حدیث نمبر: 14730 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرًا ، عَنْ خَادِمِ الرَّجُلِ إِذَا كَفَاهُ الْمَشَقَّةَ وَالْحَرَّ، فَقَالَ:" أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَدْعُوَهُ، فَإِنْ كَرِهَ أَحَدٌ أَنْ يَطْعَمَ مَعَهُ، فَلْيُطْعِمْهُ أُكْلَةً فِي يَدِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوزبیر نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے انسان کے خادم کے متعلق دریافت کیا جو مشقت اور گرمی سے انہیں بچاتا ہوانہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ کھانے کے وقت انہیں بھی بلا لیا کر یں اور اگر اپنے ساتھ اس کا کھانا اچھا نہ سمجھتاہو تو اسے چاہے کہ اپنے ہاتھ ایک لقمہ ہی اسے دیدے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14730]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 14731 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٌ ، ابْنُ عُمْرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ؟"، قَالَ جَابِرٌ: لَمْ أَسْمَعْهُ، قَالَ جَابِرٌ : وَأَخْبَرَنِي ابْنُ عُمْرَ أَنَّهُ قَدْ سَمِعَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے وقت سنا ہے کہ جس وقت کوئی شخص بدکاری کر رہا ہوتا ہے وہ مومن نہیں رہتا اور جس وقت کوئی شخص چوری کر رہا ہوتا تو وہ اس وقت مومن نہیں رہتا انہوں نے فرمایا کہ میں نے خود تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ حدیث نہیں سنی البتہ ابن عمر نے بتایا ہے کہ انہوں نے یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14731]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، ويشهد له حديث أبى هريرة السالف برقم: 2782، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن الهيعة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، ويشهد له حديث أبى هريرة السالف برقم: 2782، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن الهيعة