بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 58 از 60
حدیث نمبر: 15252 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، زُهَيْرٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ , حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْأَرْضِ الْبَيْضَاءِ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو تین سالوں کے لئے پھلوں کی پیشگی بیع سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15252]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15253 مسند احمد
مُوسَى ، وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ ، زُهَيْرٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى , وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ , قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ , فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ , وَمَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا , فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جسے جوتیاں نہ ملیں وہ موزے پہن لے اور جسے تہبند نہ ملے وہ شلوار پہن لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15253]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1179 ، أبو الزبير لم يصرح بالتحديث، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 1179 ، أبو الزبير لم يصرح بالتحديث، وقد توبع
حدیث نمبر: 15254 مسند احمد
مُوسَى ، زُهَيْرٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ ، يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَأَبُو النَّضْرِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى , حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ انْتَهَبَ نُهْبَةً , فَلَيْسَ مِنَّا"، حَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ آدَمَ , وَأَبُو النَّضْرِ أَيْضًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص لوٹ مار کرتا ہے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15254]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره
الحكم: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 15255 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، زُهَيْرٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ ، أَبُو النَّضْرِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ , حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَطِيبَ"، حَدَّثَنَاه أَبُو النَّضْرِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھل کے خوب پک کر عمدہ ہو جانے سے قبل اس کی بیع سے منع فرمایا ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15255]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 15369، أبو الزبير - وإن لم يصرح بالسماع- متابع
الحكم: حديث صحيح، م: 15369، أبو الزبير - وإن لم يصرح بالسماع- متابع
حدیث نمبر: 15256 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، زُهَيْرٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ , حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَغْلِقُوا الْأَبْوَابَ , وَأَوْكِئُوا الْأَسْقِيَةَ , وَخَمِّرُوا الْآنِيَةَ , وَأَطْفِئُوا السُّرُجَ , فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ غَلَقًا , وَلَا يَحُلُّ وِكَاءً , وَلَا يَكْشِفُ إِنَاءً , وَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ , وَلَا تُرْسِلُوا فَوَاشِيَكُمْ وَصِبْيَانَكُمْ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ , حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ , فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ تُبْعَثُ إِذَا غَابَتْ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ رات کو سوتے وقت دروازے بند کر لیا کر و اور برتنوں کو ڈھانپ دیا کر و اور چراغ بجھادیا کر و اور مشکیزوں کا منہ باندھ دیا کر و کیونکہ شیطان بند دروازہ کو نہیں کھول سکتا کوئی پردہ نہیں ہٹا سکتا کوئی بندھن نہیں کھول سکتا اور بعض اوقات ایک چوہا پورے گھر کو جلانے کا سبب بن جاتا ہے۔ اور جب سورج غروب ہو جائے تو رات کی سیاہی دور ہو نے تک اپنے جانوروں اور بچوں کو گھروں سے نہ نکلنے دیا کر و کیونکہ جب سورج غروب ہوتا ہے تو رات کی سیاہی دور ہو نے تک شیاطین اترتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15256]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2012، و 2013
الحكم: إسناده صحيح، م: 2012، و 2013
حدیث نمبر: 15257 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عُمَرُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، أَبِي ، جَابِرٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ , حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ , حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: قَالَ لِي جَابِرٌ : قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ أَبِي تَرَكَ دَيْنًا لِيَهُودَ، فَقَالَ:" سَآتِيكَ يَوْمَ السَّبْتِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ"، وَذَلِكَ فِي زَمَنِ التَّمْرِ مَعَ اسْتِجْدَادِ النَّخْلِ , فَلَمَّا كَانَ صَبِيحَةُ يَوْمِ السَّبْتِ , جَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيَّ فِي مَاءٍ لِي , دَنَا إِلَى الرَّبِيعِ , فَتَوَضَّأَ مِنْهُ ثُمَّ قَامَ إِلَى الْمَسْجِدِ , فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ , ثُمَّ دَنَوْتُ بِهِ إِلَى خَيْمَةٍ لِي , فَبَسَطْتُ لَهُ بِجَادًا مِنْ شَعْرٍ , وَطَرَحْتُ خُدَيَّةً مِنْ قَتَبٍ مِنْ شَعْرٍ حَشْوُهَا مِنْ لِيفٍ , فَاتَّكَأَ عَلَيْهَا , فَلَمْ أَلْبَثْ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى طَلَعَ أَبُو بَكْرٍ فَكَأَنَّهُ نَظَرَ إِلَى مَا عَمِلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ , فَلَمْ أَلْبَثْ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى جَاءَ عُمَرُ , فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ , كَأَنَّهُ نَظَرَ إِلَى صَاحِبَيْهِ , فَدَخَلَا , فَجَلَسَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عِنْدَ رَأْسِهِ , وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عِنْدَ رِجْلَيْهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے والد صاحب یہو دیوں کا کچھ قرض چھوڑ کر گئے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں ان شاء اللہ ہفتہ کے دن تمہارے پاس آؤں گا یہ کھجوریں کٹنے کا زمانہ تھا ہفتہ کی صبح نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے یہاں تشریف لے آئے باغ میں پانی کھڑا تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اندر داخل ہوئے اور نالی کے قریب کھڑے ہو کر وضو کیا اور دو رکعتیں پڑھیں پھر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو لے کر اپنے خیمے میں آیا اور بالوں کا بنا ہوا بستر بچھایا اور پیچھے بالوں کا بنا ہوا ایک تکیہ رکھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے ساتھ ٹیک لگائی تھوڑی دیر بعد صدیق اکبر بھی تشریف لائے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اعمال کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے جب ہی انہوں نے بھی وضو کر کے دو رکعتیں پڑھیں ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ سیدنا عمر بھی آ گئے اور انہوں نے بھی وضو کر کے دو رکعتیں پڑھیں گویا انہوں نے اپنے سے پہلے دونوں کو دیکھ لیا تھا پھر وہ دونوں بھی خیمے میں تشریف لائے اور سیدنا صدیق اکبر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر کی جانب بیٹھ گئے اور سیدنا عمر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاؤں کی جانب بیٹھ گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15257]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عمر بن سلمة بن أبى يزيد وأبوه مجهولان، وأصل القصة صحيح
الحكم: إسناده ضعيف، عمر بن سلمة بن أبى يزيد وأبوه مجهولان، وأصل القصة صحيح
حدیث نمبر: 15258 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، وَعَتَّابٌ ، عَبْدُ اللَّهِ ، عُمَرُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ الْمَدِينِيُّ ، أَبِي ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، وَعَتَّابٌ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ , أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ الْمَدِينِيُّ , حَدَّثَنِي أَبِي , قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: اسْتُشْهِدَ أَبِي بِأُحُدٍ , فَأَرْسَلْنَنِي أَخَوَاتِي إِلَيْهِ بِنَاضِحٍ لَهُنَّ , فَقُلْنَ: اذْهَبْ فَاحْتَمِلْ أَبَاكَ عَلَى هَذَا الْجَمَلِ , فَادْفِنْهُ فِي مَقْبَرَةِ بَنِي سَلِمَةَ , قَالَ: فَجِئْتُهُ وَأَعْوَانٌ لِي , فَبَلَغَ ذَلِكَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ بِأُحُدٍ , فَدَعَانِي , وَقَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , لَا يُدْفَنُ إِلَّا مَعَ إِخْوَتِهِ"، فَدُفِنَ مَعَ أَصْحَابِهِ بِأُحُدٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے والد غزہ احد میں شہید ہو گئے میری بہنوں نے مجھے اپنے پانی کھینچنے والے اونٹ کے ساتھ بھیجا اور کہا کہ جا کر والد صاحب کو اونٹ پر رکھو اور بنوسلمہ کے قبرستان میں دفن کر آؤ چنانچہ میں اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ وہاں پہنچا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اطلاع ملی تو اس وقت آپ احد پہاڑ پر بیٹھے ہوئے تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے انہیں بھی اپنے بھائیوں کے ساتھ ہی دفن کیا جائے گا چنانچہ انہیں ان کے ساتھیوں کے ساتھ ہی احد کے دامن میں دفن کر دیا گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15258]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 15259 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ , عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنِ جَابِرٍ , قَالَ: كَانَ الْعَبَّاسُ آخِذًا بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوَاثِقُنَا , فَلَمَّا فَرَغْنَا , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَخَذْتُ وَأَعْطَيْتُ"، قَالَ: فَسَأَلْتُ جَابِرًا يَوْمَئِذٍ كَيْفَ بَايَعْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَعَلَى الْمَوْتِ؟، قَالَ: لَا , وَلَكِنْ بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ، قُلْتُ لَهُ: أَفَرَأَيْتَ يَوْمَ الشَّجَرَةِ؟، قَالَ: كُنْتُ آخِذًا بِيَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ حَتَّى بَايَعْنَاهُ، قُلْتُ: كَمْ كُنْتُمْ؟، قَالَ: كُنَّا أَرْبَعَ عَشَرَ مِائَةً , فَبَايَعْنَاهُ كُلُّنَا إِلَّا الْجَدَّ بْنَ قَيْسٍ اخْتَبَأَ تَحْتَ بَطْنِ بَعِيرٍ , وَنَحَرْنَا يَوْمَئِذٍ سَبْعِينَ مِنَ الْبُدْنِ , لِكُلِّ سَبْعَةٍ جَزُورٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بیعت عقبہ کے متعلق کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس اس حال میں تشریف لائے تھے کہ سیدنا عباس نے ان کا ہاتھ تھاما ہوا تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے بیعت لے لی اور وعدہ دے دیا میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے اس دن موت پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیعت کی تھی انہوں نے کہا نہیں بلکہ اس بات پر کہ ہم میدان جنگ سے راہ فرار اختیار نہیں کر یں گے میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ بیعت رضوان کے موقع پر کیا ہوا تھا انہوں نے فرمایا: میں نے سیدنا عمر کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیعت کر لی میں نے ان سے پوچھا کہ آپ لوگ کتنے تھے انہوں نے فرمایا: چودہ سو افراد جد بن قیس کے علاوہ سب نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیعت کر لی وہ ایک اونٹ کے نیچے چھپ گئے تھے اس دن ہم نے ستر اونٹ قربان کئے جن میں سے ہر سات آدمیوں کی طرف سے ایک اونٹ تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15259]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، أخرجه مسلم مختصرا: 1856، ووقع لابن أبى الزناد فيه وهمان: الأول: قوله: «بايعناه على أن لا نفر» والمحفوظ أن هذا فى الحديبية، ولم يكن فى بيعة العقبة والثاني: وقوله: « كنت آخذ بيد عمر حتى بايعنا » والمحفوظ أن عمر كان آخذ بيد النبى صلى الله عليه و آله وسلم
الحكم: إسناده حسن، أخرجه مسلم مختصرا: 1856، ووقع لابن أبى الزناد فيه وهمان: الأول: قوله: «بايعناه على أن لا نفر» والمحفوظ أن هذا فى الحديبية، ولم يكن فى بيعة العقبة والثاني: وقوله: « كنت آخذ بيد عمر حتى بايع
حدیث نمبر: 15260 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السَّلَمِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السَّلَمِيِّ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي , فَلَا يَبْصُقْ أَمَامَهُ , وَلَا عَنْ يَمِينِهِ , وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ , أَوْ تَحْتَ قَدَمَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو اپنے سامنے یا دائیں جانب نہ تھوکے بلکہ بائیں جانب یاپاؤں کے نیچے تھوکے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15260]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وعبدالرحمن بن أبى الزناد حسن الحديث، وقد توبع، وأبو الزبير لم يصرح بالسماع، وانظر: 14470، وفيه: « تحت قدمه اليسرى»
الحكم: صحيح لغيره، وعبدالرحمن بن أبى الزناد حسن الحديث، وقد توبع، وأبو الزبير لم يصرح بالسماع، وانظر: 14470، وفيه: « تحت قدمه اليسرى»
حدیث نمبر: 15261 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: كَانَ فِي الْكَعْبَةِ صُوَرٌ ," فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَنْ يَمْحُوَهَا , فَبَلَّ عُمَرُ ثَوْبًا وَمَحَاهَا بِهِ , فَدَخَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَمَا فِيهَا مِنْهَا شَيْءٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فتح مکہ کے زمانے میں سیدنا عمر کو حکم دیا کہ خانہ کعبہ پہنچ کر اس میں موجود تمام تصویریں مٹا ڈالیں اور اس وقت تک آپ خانہ کعبہ میں داخل نہیں ہوئے جب تک اس میں موجود تمام تصویروں کو مٹا نہیں دیا گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15261]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن،
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن،
حدیث نمبر: 15262 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَنْ يَدْخُلَ النَّارَ رَجُلٌ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: غزوہ خیبر میں حدیبیہ میں شریک ہو نے والے کوئی شخص جہنم میں داخل نہیں ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15262]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، وانظر: 14484
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، وانظر: 14484
حدیث نمبر: 15263 مسند احمد
يَعْمَرُ ، عَبْدُ اللَّهِ ، هِشَامٌ ، الْحَسَنَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْمَرُ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَذْكُرُ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ فَدَعَا بِهَا , وَإِنِّي اسْتَخْبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکر م سرور دوعالم نے ارشاد فرمایا: ہر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک دعاء تھی جو انہوں نے اپنی امت کے لئے مانگی تھی جبکہ میں نے اپنی امت کے لئے اپنی دعاء شفاعت کی صورت میں قیامت کے دن کے لے اٹھا رکھی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15263]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 201، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن الحسن البصري لم يسمع جابرا
الحكم: حديث صحيح، م: 201، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن الحسن البصري لم يسمع جابرا
حدیث نمبر: 15264 مسند احمد
عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، عَبْدُ اللَّهِ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ , حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِنَّمَا الصِّيَامُ جُنَّةٌ , يَسْتَجِنُّ بِهَا الْعَبْدُ مِنَ النَّارِ , هُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ روزہ ایک ڈھال ہے جس سے انسان جہنم سے اپنا بچاؤ کرتا ہے اور وہ روزہ خاص میرے لئے ہے لہذا اس کا بدلہ بھی میں ہی دوں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15264]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد حسن، ورواية عبدالله بن المبارك عن ابن لهيعة صالحة
الحكم: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد حسن، ورواية عبدالله بن المبارك عن ابن لهيعة صالحة
حدیث نمبر: 15265 مسند احمد
عَتَّابٌ ، عَبْدُ اللَّهِ ، عَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، الشَّعْبِيِّ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابٌ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ , حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنِ الشَّعْبِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَطَالَ أَحَدُكُمِ الْغَيْبَةَ , فَلَا يَطْرُقَنَّ أَهْلَهُ لَيْلًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: جب تم کافی عرصے کے بعد رات کے وقت شہر میں داخل ہو تو بلا اطلاع اپنے گھر مت جاؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15265]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5244، م: 715
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5244، م: 715
حدیث نمبر: 15266 مسند احمد
عَتَّابٌ ، عَبْدُ اللَّهِ ، عُمَرُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، أَبِي ، جَابِرٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابٌ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ , أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي , قَالَ: قَالَ لِي جَابِرٌ : دَخَلَ عَلَيّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَعَمَدْتُ إِلَى عَنْزٍ لِأَذْبَحَهَا , فَثَغَتْ , فَسَمِعَ ثَغَوْتهَا , فَقَالَ: يَا جَابِرُ" لَا تَقْطَعْ دَرًّا وَلَا نَسْلًا"، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , إِنَّمَا هِيَ عَتُودَةٌ , عَلَفْتُهَا الْبَلَحَ وَالرُّطَبَ حَتَّى سَمِنَتْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے گھر میں تشریف لائے میں نے اپنی بکری کو ذبح کرنے کے لئے اس کی طرف قدم بڑھائے تو وہ چلانے لگی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کانوں میں اس کی آواز پہنچی تو مجھ سے فرمایا کہ جابر رضی اللہ عنہ دودھ دینے والی یا نسل دینے والی بکری کو ذبح نہ کرنا میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ تو بکری کا بچہ ہے جسے میں نے کچی پکی کھجوریں اتنی کھلائی ہیں کہ یہ صحت مند ہو گیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15266]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عمر بن سلمة وأبوه مجهولان، ويغني عنه ما رواه مسلم: 2038 من حديث أبى هريرة: أن النبى صلى الله عليه و آله وسلم قال لأبي الهيثم الأنصاري الذى أراد أن يذبح لهم: « إياك ! والحلوب »
الحكم: إسناده ضعيف، عمر بن سلمة وأبوه مجهولان، ويغني عنه ما رواه مسلم: 2038 من حديث أبى هريرة: أن النبى صلى الله عليه وسلم قال لأبي الهيثم الأنصاري الذى أراد أن يذبح لهم: « إياك ! والحلوب »
حدیث نمبر: 15267 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، زُهَيْرٌ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ , حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: كَانَ لِأَبِي شُعَيْبٍ غُلَامٌ لَحَّامٌ , فَلَمَّا رَأَى مَا بِرَسُولِ اللَّهِ مِنَ الْجَهْدِ , أَمَرَ غُلَامَهُ أَنْ يَجْعَلَ لَهُ طَعَامًا يَكْفِي خَمْسَةً , فَأَرْسَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ ائْتِنَا خَامِسَ خَمْسَةٍ , فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ , فَلَمَّا انْتَهَيَا إِلَى بَابِهِ , قَالَ:" إِنَّكَ أَرْسَلْتَ إِلَيَّ أَنْ آتِيَكَ خَامِسَ خَمْسَةٍ , وَإِنَّ هَذَا قَدْ اتَّبَعَنَا , فَإِنْ أَذِنْتَ لَهُ دَخَلَ , وَإِلَّا رَجَعَ"، قَالَ: فَإِنِّي قَدْ أَذِنْتُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَدَخَلَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انصار میں ایک آدمی تھا جس کا نام ابوشعیب تھا اس کا ایک غلام قصائی تھا اس نے اپنے غلام سے کہا کہ کسی دن کھانا پکاؤ تاکہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعوت کر وں جو کہ پانچ آدمیوں کے لئے کافی ہو جائے چنانچہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعوت کی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک آدمی زائد آگیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے گھر پہنچ کر فرمایا: یہ شخص ہمارے ساتھ آگیا ہے کیا تم اسے بھی اجازت دیتے ہواس نے اجازت دیدی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15267]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، م:2036
الحكم: إسناده قوي، م:2036
حدیث نمبر: 15268 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، زُهَيْرٌ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي وَائِلٍ ، أَبِي مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ , حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی سیدنا ابومسعود سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15268]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2036، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، م: 2036، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 15269 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، الْخَطَّابُ بْنُ الْقَاسِمِ ، خُصَيْفٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ , حَدَّثَنَا الْخَطَّابُ بْنُ الْقَاسِمِ , عَنْ خُصَيْفٍ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا اسْتَقَرَّتِ النُّطْفَةُ فِي الرَّحِمِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا , أَوْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً , بَعَثَ إِلَيْهَا مَلَكًا , فَيَقُولُ: يَا رَبِّ , مَا رِزْقُهُ؟، فَيُقَالُ لَهُ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ , مَا أَجَلُهُ؟، فَيُقَالُ لَهُ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ , ذَكَرٌ أَوْ أُنْثَى؟ فَيُعْلَمُ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ , شَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ؟ فَيُعْلَمُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب ماں کے رحم میں نطفہ قرار پکڑ لیتا ہے اور اس پر چالیس دن گزر جاتے ہیں تو اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے جو پوچھتا ہے کہ پروردگار اس کا رزق کیا ہو گا اسے بتادیا جاتا ہے پھر وہ پوچھتا ہے کہ پروردگار اس کی عمر کتنی ہو گی اسے بتادی جاتی ہے پھر وہ پوچھتا ہے کہ پروردگار یہ مذکر ہو گا یا مونث اسے وہ بھی بتادیا جاتا ہے پھر وہ پوچھتا ہے کہ پروردگار یہ شقی ہو گا یا سعادت مند اسے وہ بھی بتادیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15269]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف خصيف الجزري، ويشهد له حديث حذيفة بن أسيد عند مسلم: 2645، وسيأتي فى المسند: 16142
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف خصيف الجزري، ويشهد له حديث حذيفة بن أسيد عند مسلم: 2645، وسيأتي فى المسند: 16142
حدیث نمبر: 15270 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَطَاءٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ , تَعْدِلُ حَجَّةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: رمضان میں عمرہ کرنا ایک حج کے برابر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15270]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15271 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَطَاءٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا , أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ , إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ , وَصَلَاةٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ , أَفْضَلُ مِنْ مِائَةِ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری اس مسجد میں دیگر مساجد کے مقابلے میں نماز پڑھنے کا ثواب ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے سوائے مسجد حرم کے کہ وہاں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازوں سے افضل ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15271]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح كسابقه
الحكم: إسناده صحيح كسابقه