عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، وَعَتَّابٌ ، عَبْدُ اللَّهِ ، عُمَرُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ الْمَدِينِيُّ ، أَبِي ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، وَعَتَّابٌ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ , أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ الْمَدِينِيُّ , حَدَّثَنِي أَبِي , قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: اسْتُشْهِدَ أَبِي بِأُحُدٍ , فَأَرْسَلْنَنِي أَخَوَاتِي إِلَيْهِ بِنَاضِحٍ لَهُنَّ , فَقُلْنَ: اذْهَبْ فَاحْتَمِلْ أَبَاكَ عَلَى هَذَا الْجَمَلِ , فَادْفِنْهُ فِي مَقْبَرَةِ بَنِي سَلِمَةَ , قَالَ: فَجِئْتُهُ وَأَعْوَانٌ لِي , فَبَلَغَ ذَلِكَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ بِأُحُدٍ , فَدَعَانِي , وَقَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , لَا يُدْفَنُ إِلَّا مَعَ إِخْوَتِهِ"، فَدُفِنَ مَعَ أَصْحَابِهِ بِأُحُدٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے والد غزہ احد میں شہید ہو گئے میری بہنوں نے مجھے اپنے پانی کھینچنے والے اونٹ کے ساتھ بھیجا اور کہا کہ جا کر والد صاحب کو اونٹ پر رکھو اور بنوسلمہ کے قبرستان میں دفن کر آؤ چنانچہ میں اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ وہاں پہنچا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اطلاع ملی تو اس وقت آپ احد پہاڑ پر بیٹھے ہوئے تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے انہیں بھی اپنے بھائیوں کے ساتھ ہی دفن کیا جائے گا چنانچہ انہیں ان کے ساتھیوں کے ساتھ ہی احد کے دامن میں دفن کر دیا گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15258]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه