بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 54 از 60
حدیث نمبر: 15172 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، إِسْحَاقُ ، مَالِكٌ ، جَعْفَرٍ ، أَبِيهِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ . ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ , أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , عَنْ جَعْفَرٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا نَزَلَ مِنَ الصَّفَا مَشَى , حَتَّى إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْوَادِي , سَعَى حَتَّى يَخْرُجَ مِنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حج کے متعلق تفصیلات میں یہ بھی مذکور ہے کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صفا سے اترے اور وادی کے بیچ میں جب آپ کے مبارک قدم اترے تو آپ نے سعی فرمائی یہاں تک کہ جب دوسرے حصے پر ہم لوگ چڑھ گئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم معمول کی رفتار سے چلنے لگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15172]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1218
الحكم: إسناده صحيح، م: 1218
حدیث نمبر: 15173 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، مَالِكٌ ، جَعْفَرٍ ، أَبِيهِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ , أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , عَنْ جَعْفَرٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَحَرَ بَعْضَ هَدْيِهِ بِيَدِهِ , وَبَعْضُهُ نَحَرَهُ غَيْرُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قربانی کے لئے جن اونٹوں کو لے کر گئے تھے ان میں کچھ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے ذبح کئے تھے اور کچھ کسی اور نے ذبح کئے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15173]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15174 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، وَمَنْصُورٍ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ , عَنِ الْأَعْمَشِ ، وَمَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: إِنَّ لِي جَارِيَةً , وَأَنَا أَعْزِلُ عَنْهَا، فَقَالَ لَهُ:" مَا يُقَدَّرْ يَكُنْ"، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ حَمَلَتْ , فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , أَلَمْ تَرَ أَنَّهَا حَمَلَتْ؟، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا قَضَى اللَّهُ لِنَفْسٍ أَنْ تَخْرُجَ إِلَّا هِيَ كَائِنَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میری ایک باندی ہے جو ہماری خدمت بھی کر تی ہے اور پانی بھر کر بھی لاتی ہے میں رات کو اس کے پاس چکر بھی لگاتا ہوں لیکن اس کے ماں بننے کو بھی اچھا نہیں سمجھتا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہتے ہواس سے عزل کر لیا کر وں ورنہ جو مقدر میں ہے وہ تو ہو کر رہے گا چنانچہ کچھ عرصے بعد وہی آدمی دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ وہ باندی بوجھل ہو گئی ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تو تمہیں پہلے ہی بتادیا تھا کہ جو مقدر میں ہے وہ تو ہو کر رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15174]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر: 14362
الحكم: إسناده صحيح، وانظر: 14362
حدیث نمبر: 15175 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ , فَجِئْتُ وَهُوَ يُصَلِّي نَحْوَ الْمَشْرِقِ , وَيُومِئُ إِيمَاءً عَلَى رَاحِلَتِهِ , السُّجُودُ أَخْفَضُ مِنَ الرُّكُوعِ , فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ , فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ , قَالَ: فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ , قَالَ:" مَا فَعَلْتَ فِي حَاجَةِ كَذَا وَكَذَا؟ إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی نے بنو مصطلق کی طرف جاتے ہوئے مجھے کسی کام سے بھیج دیا، میں واپس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے اونٹ پر مشرق کی جانب منہ کر کے نماز پڑھ رہے تھے، میں نے بات کرنا چاہی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ فرما دیا، دو مرتبہ اس طرح ہوا، پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو قراءت کرتے ہوئے سنا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے سر سے اشارہ فرما رہے تھے، نماز سے فراغت کے بعد نبی صلی اللہ علیہو سلم نے فرمایا: میں نے جس کام کے لئے تمہیں بھیجا تھا اس کا کیا بنا؟ میں نے جواب اس لئے نہیں دیا تھا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15175]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1217، م: 540
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1217، م: 540
حدیث نمبر: 15176 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ , وَأَبُو نُعَيْمٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمْسِكُوا عَلَيْكُمْ أَمْوَالَكُمْ , وَلَا تُعْطُوهَا أَحَدًا , فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنے مال کو اپنے پاس سنبھال کر رکھو، کسی کو مت دو اور جو شخص زندگی بھر کے لئے کسی کو کوئی چیز دیتا ہے تو وہ اسی کی ہو جاتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15176]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1625
الحكم: إسناده صحيح، م: 1625
حدیث نمبر: 15177 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ , وَالرُّطَبِ وَالْبُسْرِ" يَعْنِي أَنَّ يُنْبَذَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور کشمش اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15177]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5601، م: 1986
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5601، م: 1986
حدیث نمبر: 15178 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ , عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَعْتَدِلْ , وَلَا يَفْتَرِشْ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص سجدہ کر ے تو اعتدال برقرار رکھے اور اپنے بازو کتے کی طرح نہ پھیلائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15178]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 15179 مسند احمد
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ خَافَ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَسْتَيْقِظَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ , فَلْيُوتِرْ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ ثُمَّ لِيَرْقُدْ , وَمَنْ طَمِعَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَيْقِظَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ , فَلْيُوتِرْ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ , فَإِنَّ قِرَاءَةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَحْضُورَةٌ , وَذَلِكَ أَفْضَلُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے جس شخص کا غالب گمان یہ ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں بیدار نہ ہو سکے گا تو اسے رات کے اول حصے میں ہی وتر پڑھ لینے چاہیے اور جسے آخری رات میں جاگنے کا غالب گمان ہو تو اسے آخر میں ہی وتر پڑھ لینے چاہیے کیونکہ رات کے آخر حصے میں نماز کے وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ افضل طریقہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15179]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 755، وهذا إسناد قوي كسابقه
الحكم: حديث صحيح، م: 755، وهذا إسناد قوي كسابقه
حدیث نمبر: 15180 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ ، السُّلَيْكِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ , عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ , عَنِ السُّلَيْكِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ , فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص اس وقت آئے جب امام خطبہ دے رہا ہواسے پھر بھی دو رکعتیں پڑھ لینی چاہئیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15180]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي م: 875
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي م: 875
حدیث نمبر: 15181 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ ، عَطَاءٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ , عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ:" قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ , فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ , لَمْ نَقْرَبِ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مکہ مکر مہ آئے تو بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کے درمیان سعی کر لی دس ذالحجہ کو پھر ہم صفامروہ کے قریب بھی نہیں گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15181]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل حجاج بن أرطاة، وانظر: 15009
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل حجاج بن أرطاة، وانظر: 15009
حدیث نمبر: 15182 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَمْرٍو ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ , عَنْ عَمْرٍو , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ"، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِابْنِ عُمَرَ , فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا رَأَيْتُ ابْنَ جَابِرٍ يَطْلُبُ أَرْضًا مُخَابَرَةً، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ انْظُرُوا إِلَى هَذَا , إِنَّ أَبَاهُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ , وَهُوَ يَطْلُبُ أَرْضًا يُخَابِرُ بِهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زمین کے کرائے سے منع کیا ہے کسی شخص نے یہ بات سیدنا ابن عمر سے ذکر کی تو اس مجلس میں موجود ایک آدمی کہنے لگا کہ میں نے تو خود سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے بیٹے کو بٹائی پر زمین لیتے ہوئے دیکھا ہے سیدنا ابن عمر نے فرمایا: اسے دیکھو اس کے والد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان کر رہے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے یہ اس نوعیت کا معاملہ کرتا پھرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15182]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر: 14635
الحكم: إسناده صحيح، وانظر: 14635
حدیث نمبر: 15183 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ , عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ , أَوْ الْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بندے اور کفر و شرک کے درمیان حد فاصل نماز کو چھوڑنا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15183]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 82، وهذا إسناد حسن من أجل أبن أبى الزياد، لكنه قد توبع، وأبو الزبير قد صرح بالسماع عند مسلم وغيره
الحكم: حديث صحيح، م: 82، وهذا إسناد حسن من أجل أبن أبى الزياد، لكنه قد توبع، وأبو الزبير قد صرح بالسماع عند مسلم وغيره
حدیث نمبر: 15184 مسند احمد
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَسَمِعْت رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا تُبَاشِرِ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، وَلَا يُبَاشِرِ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ"، قَالَ: فَقُلْنَا لِجَابِرٍ أَكُنْتُمْ تَعُدُّونَ الذُّنُوبَ شِرْكًا؟، قَالَ مَعَاذَ اللَّهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مرد دوسرے مرد کے ساتھ اپنا برہنہ جسم نہ لگائے اور عورت دوسری عورت کے ساتھ اپنا برہنہ جسم نہ لگائے۔ ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ لوگ گناہوں کو شرک سمجھتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ اللہ کی پناہ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15184]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وأبو الزبير لم يصرح بسماعه من جابر ، وانظر: 14836
الحكم: صحيح لغيره، وأبو الزبير لم يصرح بسماعه من جابر ، وانظر: 14836
حدیث نمبر: 15185 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، رَجُلٌ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو , أَخْبَرَنِي رَجُلٌ ثِقَةٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَحْمُ الصَّيْدِ حَلَالٌ لِلْمُحْرِمِ , مَا لَمْ يَصِدْهُ أَوْ يُصَدْ لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: محرم کے لئے خشکی کا شکار حلال ہے بشرطیکہ کہ وہ خود شکار نہ کر ے یا اسے اس کی خاطر شکار نہ کیا گیا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15185]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وقد اختلف على عمرو فى إسناد هذا الحديث، وانظر: 14894
الحكم: صحيح لغيره، وقد اختلف على عمرو فى إسناد هذا الحديث، وانظر: 14894
حدیث نمبر: 15186 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، هُشَيْمٌ ، أَبِي بِشْرٍ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ , حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعْضِ أَهْلِهِ , فَقَالَ:" هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ إِدَامٍ؟"، فَقَالُوا: لَا , إِلَّا شَيْءٌ مِنْ خَلٍّ , فَقَالَ:" هَلُمُّوا"، فَجَعَلَ يَصْطَبِغُ بِهِ , وَيَقُولُ:" نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے گھر والوں سے سالن لانے کے لئے کہا انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس تو سرکہ کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے منگوا کر کھایا اور ارشاد فرمایا: سرکہ بہترین سالن ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15186]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2052، هشيم بن بشير مدلس وهو متابع
الحكم: حديث صحيح، م: 2052، هشيم بن بشير مدلس وهو متابع
حدیث نمبر: 15187 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، هُشَيْمٌ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ , حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مَا بَيْنَ مِنْبَرِي إِلَى حُجْرَتِي , رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ , وَإِنَّ مِنْبَرِي عَلَى تُرْعَةٍ مِنْ تُرَعِ الْجَنَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے منبر اور حجرے کے درمیان کی جگہ جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہے اور میرا منبر جنت کے دروازے پر لگایا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15187]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان
حدیث نمبر: 15188 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَطَاءٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ:" كُنَّا نُصِيبُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَغَانِمِنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ , الْأَسْقِيَةَ وَالْأَوْعِيَةَ , فَيَقْسِمُهَا , وَكُلُّهَا مَيْتَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مشکیزے کے مال غنیمت میں سے مشکیزے اور برتن بھی ملتے تھے ہم اسے تقسیم کر دیتے تھے اور یہ سب مردار ہوتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15188]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل سليمان بن موسى الأموي، وقد توبع، انظر: 14501
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل سليمان بن موسى الأموي، وقد توبع، انظر: 14501
حدیث نمبر: 15189 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُرِيتُنِي دَخَلْتُ الْجَنَّةَ , فَإِذَا أَنَا بِالرُّمَيْصَاءِ امْرَأَةِ أَبِي طَلْحَةَ , وَسَمِعْتُ خَشْفَةً أَمَامِي , قُلْتُ مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟، قَالَ: هَذَا بِلَالٌ"، قَالَ:" وَرَأَيْتُ قَصْرًا أَبْيَضَ بِفِنَائِهِ جَارِيَةٌ , فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟، قَالَ: هَذَا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَهُ فَأَنْظُرَ إِلَيْهِ , فَذَكَرْتُ غَيْرَتَكَ"، فَقَالَ عُمَرُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَوَعَلَيْكَ أَغَارُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے خواب میں اپنے آپ کو دیکھا کہ میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں مجھے ابوطلحہ کی بیوی رمیصاء نظر آئی پھر میں نے اپنے آگے کسی کے جوتوں کی آہٹ سنی میں نے جبرائیل سے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ بلال ہیں پھر میں نے ایک سفید رنگ کا محل دیکھا جس کے صحن میں ایک لونڈی پھر رہی تھی میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ محل عمربن خطاب کا ہے پہلے میں نے سوچا کہ اس میں داخل ہو کر اسے دیکھوں لیکن پھر مجھے تمہاری غیرت یاد آگئی سیدنا عمر کہنے لگے یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کیا میں آپ پر غیرت کھاؤں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15189]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3689، م: 2457
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3689، م: 2457
حدیث نمبر: 15190 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبِي بِشْرٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ قَيْسٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ , حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ قَيْسٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: قَاتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَارِبَ بْنَ خَصَفَةَ , فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ: غَوْرَثُ بْنُ الْحَارِثِ , حَتَّى قَامَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسَّيْفِ , فَقَالَ: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟، قَالَ:" اللَّهُ"، فَسَقَطَ السَّيْفُ مِنْ يَدِهِ , فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟"، قَالَ: كُنْ كَخَيْرِ آخِذٍ، قَالَ:" أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟"، قَالَ: لَا , وَلَكِنْ أُعَاهِدُكَ عَلَى أَنْ لَا أُقَاتِلَكَ , وَلَا أَكُونَ مَعَ قَوْمٍ يُقَاتِلُونَكَ، فَخَلَّى سَبِيلَهُ , فَأَتَى قَوْمَهُ , فَقَالَ: جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ خَيْرِ النَّاسِ. فَلَمَّا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ ," صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ"، فَكَانَ النَّاسُ طَائِفَتَيْنِ , طَائِفَةً بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ , وَطَائِفَةً صَلَّوْا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَصَلَّى بِالطَّائِفَةِ الَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَتَيْنِ وَانْصَرَفُوا , فَكَانُوا بِمَكَانِ أُولَئِكَ الَّذِينَ بِإِزَاءِ عَدُوِّهِمْ , وَانْصَرَفَ الَّذِينَ بِإِزَاءِ عَدُوِّهِمْ، فَصَلَّوْا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ , فَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ , وَلِلْقَوْمِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ رسول اللہ کے ساتھ واپس آرہے تھے ذات الرقاع میں پہنچ کر ہم نے ایک سایہ دار درخت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے چھوڑ دیا ایک مشرک آیا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تلوار درخت سے لٹکی ہوئی تھی اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تلوار لے کر اسے سونت لیا اور کہنے لگا کہ آپ مجھ سے ڈرتے ہیں میں نے کہا نہیں اس نے کہا اب تم کو میرے ہاتھ سے کون بچائے گا میں نے کہا اللہ بچائے گا صحابہ نے اسے ڈرایا دھمکایا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تو اس کے ہاتھ سے تلوار گرگئی آپ نے فرمایا: اب تجھے کون بچائے گا اس نے کہا آپ بہتر لینے والے ہیں اور کہا میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں آپ لوگوں سے قتال نہیں کر وں گا اور نہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گا جو آپ سے قتال کر یں گے یہ سن کر حضور نے تلوار کو نیام میں ڈال لیا اور پھر نماز کا اعلان کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں پھر وہ لوگ چلے گئے اور دوسرے گروہ کو بھی دو رکعتیں پڑھائیں اس طرح نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی چار رکعتیں ہو گئیں اور لوگوں کی دو رکعتیں ہوئیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15190]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وأبو بشر - جعفر بن أبى وحشية - لم يسمع من سليمان، وانظر: 14929
الحكم: حديث صحيح، وأبو بشر - جعفر بن أبى وحشية - لم يسمع من سليمان، وانظر: 14929
حدیث نمبر: 15191 مسند احمد
سُرَيْجٌ يَعْنِي ابْنَ النُّعْمَانِ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبِي بِشْرٍ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ يَعْنِي ابْنَ النُّعْمَانِ , حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ أَهْلَهُ الْإِدَامَ , قَالُوا: مَا عِنْدَنَا إِلَّا الْخَلُّ، قَالَ: فَدَعَا بِهِ , فَجَعَلَ يَأْكُلُ بِهِ , وَيَقُولُ:" نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ , نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے گھر والوں سے سالن لانے کے لئے کہا انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس تو سرکہ کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے منگوا کر کھایا اور ارشاد فرمایا: سرکہ بہترین سالن ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15191]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، م: 2052
الحكم: إسناده قوي، م: 2052