بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 16 از 60
حدیث نمبر: 14412 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: كُنَّا لَا نَأْكُلُ مِنْ لُحُومِ الْبُدْنِ إِلَّا ثَلَاثَ مِنًى، فَرَخَّصَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كُلُوا وَتَزَوَّدُوا"، قَالَ: فَأَكَلْنَا وَتَزَوَّدْنَا، قُلْتُ لِعَطَاءٍ: حَتَّى جِئْنَا الْمَدِينَةَ؟ قَالَ: لَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ میدان منیٰ کے تین دنوں کے علاوہ قربانی کا گوشت نہیں کھا سکتے تھے، بعد میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں اس کی اجازت دیتے ہوئے فرمایا کہ تم اسے کھا بھی سکتے ہواور محفوظ بھی ہو سکتے ہو، چنانچہ ہم اسے کھانے اور ذخیرہ کرنے لگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14412]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1719، م: 1972، ورواية مسلم وحده فيها ، قال: نعم، بدل: لا، وانظر « الفتح » : 553/9
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1719، م: 1972، ورواية مسلم وحده فيها ، قال: نعم، بدل: لا، وانظر « الفتح » : 553/9
حدیث نمبر: 14413 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَسْأَلُ عَنْ رُكُوبِ الْهَدْيِ، فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ إِذَا أُلْجِئْتَ إِلَيْهَا، حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے کسی نے ہدی کے جانور پر سوار ہو نے کے متعلق پوچھا: تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر تم مجبور ہو جاؤ تو اس پر اچھے طریقے سے سوار ہو سکتے ہو، تاآنکہ تمہیں کوئی دوسری سواری مل جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14413]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1324
الحكم: إسناده صحيح، م: 1324
حدیث نمبر: 14414 مسند احمد
يَحْيَى بن سعيدٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بن سعيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: لَمْ يَطُفْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ إِلَّا طَوَافًا وَاحِدًا، طَوَافَهُ الْأَوَّلَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللّٰہ عنہم نے صفا مروہ کے درمیان صرف پہلی مرتبہ میں ہی سعی کی تھی اس کے بعد نہیں کی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14414]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1215
الحكم: إسناده صحيح، م: 1215
حدیث نمبر: 14415 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِالْبَيْتِ، وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، لِيَرَاهُ النَّاسُ وَلِيُشْرِفَ، وَلِيَسْأَلُوهُ، فَإِنَّ النَّاسَ غَشُوهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کی سعی اپنی سواری پر کی تھی، تاکہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ سکیں اور مسائل باآسانی معلوم کر سکیں کیونکہ اس وقت لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گھیر رکھا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14415]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1273
الحكم: إسناده صحيح، م: 1273
حدیث نمبر: 14416 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَطَاءٌ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الرُّطَبِ وَالْبُسْرِ، وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور، کشمش اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14416]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5601، م: 1986
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5601، م: 1986
حدیث نمبر: 14417 مسند احمد
يَحْيَى ، عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَطَاءٌ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ ذَلِكَ الْيَوْمَ الَّذِي مَاتَ فِيهِ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّاسُ: إِنَّمَا كَسَفَتْ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ سِتَّ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ، كَبَّرَ ثُمَّ قَرَأَ، فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَرَأَ دُونَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَرَأَ دُونَ الْقِرَاءَةِ الثَّانِيَةِ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَانْحَدَرَ لِلسُّجُودِ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ، لَيْسَ فِيهَا رَكْعَةٌ إِلَّا الَّتِي قَبْلَهَا أَطْوَلُ مِنَ الَّتِي بَعْدَهَا، إِلَّا أَنَّ رُكُوعَهُ نَحْوٌ مِنْ قِيَامِهِ، ثُمَّ تَأَخَّرَ فِي صَلَاتِهِ، وَتَأَخَّرَتْ الصُّفُوفُ مَعَهُ، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَقَامَ فِي مَقَامِهِ، وَتَقَدَّمَتْ الصُّفُوفُ، فَقَضَى الصَّلَاةَ وَقَدْ طَلَعَتْ الشَّمْسُ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِنَّهُمَا لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ بَشَرٍ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ، فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ، إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ شَيْءٍ تُوعَدُونَهُ، إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي صَلَاتِي هَذِهِ، وَلَقَدْ جِيءَ بِالنَّارِ، فَذَلِك حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ، مَخَافَةَ أَنْ يُصِيبَنِي مِنْ لَفْحِهَا، حَتَّى قُلْتُ: أَيْ رَبِّ، وَأَنَا فِيهِمْ؟ وَرَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَ الْمِحْجَنِ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ، كَانَ يَسْرِقُ الْحَاجَّ بِمِحْجَنِهِ، فَإِنْ فُطِنَ بِهِ، قَالَ: إِنَّمَا تَعَلَّقَ بِمِحْجَنِي، وَإِنْ غُفِلَ عَنْهُ ذَهَبَ بِهِ، وَحَتَّى رَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَةَ الْهِرَّةِ الَّتِي رَبَطَتْهَا، فَلَمْ تُطْعِمْهَا، وَلَمْ تَتْرُكْهَا، تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ، حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا، وَجِيءَ بِالْجَنَّةِ، فَذَلِكَ حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَقَدَّمْتُ حَتَّى قُمْتُ فِي مَقَامِي، فَمَدَدْتُ يَدِي وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَتَنَاوَلَ مِنْ ثَمَرِهَا لِتَنْظُرُوا إِلَيْهِ، ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ لَا أَفْعَلَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں سورج گرہن ہوا یہ وہی دن تھا جس دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صاحبزادے سیدنا ابراہیم کا انتقال ہوا اور لوگ آپس میں کہنے لگے کہ ابراہیم کی موت کی وجہ سے سورج کو بھی گرہن لگ گیا، ادھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تیار ہوئے اور لوگوں کو چھ رکوع کے ساتھ چار سجدے کرائے، چنانچہ پہلی رکعت میں تکبیر کہہ کر طویل قرأت کی پھر اتنا ہی طویل رکوع کیا پھر سر اٹھا کر پہلے کچھ کم طویل قرأت کی پھر بقدر قیام رکوع کیا پھر رکوع سے سر اٹھا کر دوسری قرأت سے کچھ کم طویل قرأت کی پھر بقدر قیام رکوع کیا پھر سر اٹھا کر سجدے میں چلے گئے دو سجدے کئے اور پھر کھڑے ہو کر دوسری رکعت کے سجدے میں جانے سے قبل حسب مذکور تین مرتبہ رکوع کیا جس میں پہلا رکوع بعد والے کی نسبت زیادہ لمبا تھا البتہ ہر رکوع بقدر قیام ہوتا تھا، پھر دوران نماز ہی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پیچھے ہٹنے لگے جس پر لوگوں کی صفیں بھی پیچھے ہٹنے لگیں کچھ دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آگے بڑھ کر اپنی جگہ پر کھڑے ہو گئے اور لوگوں کی صفیں بھی آگے بڑھ گئیں جب نماز مکمل ہوئی تو سورج گرہن ختم ہو چکا تھا اور سورج نکل آیا تھا۔ اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: لوگو چاند اور سورج اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جو کسی انسان کی موت سے نہیں گہن ہوتیں جب تم کوئی ایسی چیز دیکھا کرو تو اس وقت نماز پڑھتے رہا کرو جب تک گہن ختم نہ ہو جائے کیونکہ تم سے جس جس چیز کا وعدہ کیا گیا ہے، وہ سب چیزیں میں نے اپنی اس نماز کے دوران دیکھی ہیں چنانچہ جہنم کو بھی لایا گیا ہے یہ وہی وقت تھا جب تم نے مجھے پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھا تھا کیونکہ اندیشہ تھا کہ کہیں اس کی لپٹ مجھے نہ لگ جائے حتی کہ میں نے عرض کیا: پروردگار ابھی تو میں ان کے درمیان موجود ہوں پھر جہنم کا اتنا زیادہ قرب؟ میں نے جہنم میں ایک لاٹھی والے کو بھی دیکھاجو جہنم میں اپنی لاٹھی گھسیٹ رہا تھا یہ اپنی لاٹھی کے ذریعے حجاج کرام کا مال چراتا تھا اگر کسی کو پتہ چل جاتا تو یہ کہہ دیتا کہ یہ سامان میری لاٹھی سے چپک کر آگیا ہے اور اگر کوئی غافل ہوتا تو یہ اس پر سامان اس طرح لے جاتا میں نے اس میں اس بلی والی عورت کو بھی دیکھا ہے جس نے اسے باندھ دیا تھا خود اسے نہ کچھ کھلایا اور نہ ہی اسے چھوڑا کہ وہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھا کر اپنا پیٹ پالتی حتی کہ اس حال میں وہ مر گئی اسی طرح میرے سامنے جنت کو بھی لایا گیا۔ یہ وہی وقت تھا جب تم نے مجھے آگے بڑھتے ہوئے اپنی جگہ کھڑے ہوئے دیکھا تھا میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور ارادہ کیا کہ اس کے کچھ پھل توڑ لوں تاکہ تم بھی دیکھ سکو لیکن پھر مجھے ایسا کرنا مناسب نہ لگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14417]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 904
الحكم: إسناده صحيح، م: 904
حدیث نمبر: 14418 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: وَهُوَ يُخْبِرُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَمَرَنَا بَعْدَ مَا طُفْنَا أَنْ نَحِلَّ، قَالَ:" فإِذَا أَرَدْتُمْ أَنْ تَنْطَلِقُوا إِلَى مِنًى، فَأَهِلُّوا" فَأَهْلَلْنَا مِنَ الْبَطْحَاءِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حجۃ الوداع کے متعلق بتاتے ہوئے فرمایا کہ طواف کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں احرام کھول لینے کا حکم دیا اور فرمایا کہ جب تم منیٰ کی طرف روانگی کا ارادہ کر و تو دوبارہ احرام باندھ لینا چنانچہ ہم نے وادی بطحاء سے احرام باندھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14418]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1214
الحكم: إسناده صحيح، م: 1214
حدیث نمبر: 14419 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي عَلَى رَاحِلَتِهِ يَوْمَ النَّحْرِ، يَقُولُ:" لَتَأخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ، فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي أَنْ لَا أَحُجَّ بَعْدَ حَجَّتِي هَذِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دس ذی الحجہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنی سواری پر سوار ہو کر رمی جمرات کرتے ہوئے دیکھا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ فرما رہے تھے کہ مجھ سے مناسک حج سیکھ لو کیونکہ مجھے نہیں معلوم کہ آئندہ سال دوبارہ حج کر سکوں گا یا نہیں؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14419]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1297
الحكم: إسناده صحيح، م: 1297
حدیث نمبر: 14420 مسند احمد
يَحْيَى ، عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَطَاءٌ ، جَابِرٍ
رقم الحديث: 14131 (حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: شَهِدْتُ الصَّلَاةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عِيدٍ، فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ، قَامَ مُتَوَكِّئًا عَلَى بِلَالٍ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَوَعَظَ النَّاسَ وَذَكَّرَهُمْ، وَحَثَّهُمْ عَلَى طَاعَتِهِ، ثُمَّ مَضَى إِلَى النِّسَاءِ وَمَعَهُ بِلَالٌ فَأَمَرَهُنَّ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَوَعَظَهُنَّ، وَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَحَثَّهُنَّ عَلَى طَاعَتِهِ، ثُمَّ قَالَ:" تَصَدَّقْنَ، فَإِنَّ أَكْثَرَكُنَّ حَطَبُ جَهَنَّمَ"، فَقَالَتْ: امْرَأَةٌ مِنْ سَفَلَةِ النِّسَاءِ، سَفْعَاءُ الْخَدَّيْنِ لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" لِأَنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ الشَّكَاةَ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ" فَجَعَلْنَ يَنْزِعْنَ حُلِيَّهُنَّ وَقَلَائِدَهُنَّ وَقِرَطَتَهُنَّ وَخَوَاتِيمَهُنَّ، يَقْذِفْنَ بِهِ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ، يَتَصَدَّقْنَ بِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عیدالفطر کے دن میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا، انہوں نے بغیر اذان و اقامت کے خطبے سے پہلے نماز پڑھائی، نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں پر ٹیک لگا کر کھڑے ہو کر خطبہ دیا، اللہ کی حمد وثناء بیان کی، لوگوں کو وعظ و نصیحت کی اور انہیں اللہ کی اطاعت کی ترغیب دی، پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر عورتوں کی طرف گئے اور وہاں بھی اللہ کی حمدوثناء بیان کی، انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں اللہ کی اطاعت کی ترغیب دی اور فرمایا کہ تم صدقہ کیا کر و کیونکہ تمہاری اکثریت جہنم کا ایندھن ہے، ایک نچلے درجے کی دھنسے ہوئے رخساروں والی عورت نے اس کی وجہ پوچھی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس لئے کہ تم شکوہ بہت زیادہ کر تی ہو، اپنے خاوند کی ناشکر ی بہت کر تی ہو، یہ سن کر عورتیں اپنے زیور، ہار، بالیاں اور انگوٹھیاں اتاراتار کر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14420]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 978، م: 885
الحكم: إسناده صحيح، خ: 978، م: 885
حدیث نمبر: 14421 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَطَاءٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عِيدٍ، فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14421]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 14422 مسند احمد
يَحْيَى ، عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَطَاءٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" كُنَّا نَتَمَتَّعُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَذْبَحُ الْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعٍ، نَشْتَرِكُ فِيهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں اس بات سے فائدہ اٹھاتے تھے کہ مشترکہ طور پر سات آدمی ایک گائے کی قربانی دے دیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14422]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1318
الحكم: إسناده صحيح، م: 1318
حدیث نمبر: 14423 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْتَلَ شَيْءٌ مِنَ الدَّوَابِّ صَبْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کسی جانور کو باندھ کر مارا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14423]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1959
الحكم: إسناده صحيح، م: 1959
حدیث نمبر: 14424 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ:" نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوَسْمِ فِي الْوَجْهِ، وَالضَّرْبِ فِي الْوَجْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چہرے پر داغنے اور چہرے پر مارنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14424]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2116
الحكم: إسناده صحيح، م: 2116
حدیث نمبر: 14425 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، جَابِرَ بن عبد الله
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بن عبد الله ، فَقُلْتُ: الضَّبُعَ آكُلُهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: قُلْتُ: أَصَيْدٌ هِيَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: أَسَمِعْتَ ذَاكَ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے بجو کے متعلق دریافت کیا کہ میں اسے کھا سکتا ہوں؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں! میں نے پوچھا: کیا یہ شکار ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! میں نے ان سے پوچھا کہ کیا یہ بات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے ہے انہوں نے فرمایا: جی ہاں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14425]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14426 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ، فَرَأَى رَجُلًا عَلَيْهِ زِحَامٌ، قَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ، فَقَالَ:" مَا هَذَا؟" قَالُوا: صَائِمٌ، قَالَ:" لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ أَوْ الْبِرَّ الصَّائِمُ فِي السَّفَرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی سفر میں تھے راستے میں دیکھا کہ لوگوں نے ایک آدمی کے گرد بھیڑ لگائی ہوئی ہے اور اس پر سایہ کیا جا رہا ہے، پوچھنے پر لوگوں نے بتایا کہ یہ روزے سے تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14426]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14427 مسند احمد
يَحْيَى ، هِشَامٍ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ . ح وَعَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: مَرَّتْ بِنَا جِنَازَةٌ، فَقَامَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقُمْنَا مَعَهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا جِنَازَةُ يَهُودِيٍّ! قَالَ:" إِنَّ الْمَوْتَ فَزَعٌ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ الْجِنَازَةَ، فَقُومُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب سے ایک جنازہ گزرا تو آپ کھڑے ہو گئے ہم بھی کھڑے ہو گئے؛ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو ایک یہو دی کا جنازہ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: موت کی ایک پریشانی ہو تی ہے لہذاجب تم جنازہ دیکھا کر و تو کھڑے ہو جایا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14427]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1311، م: 960
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1311، م: 960
حدیث نمبر: 14428 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، قَتَادَةَ ، النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْعُمْرَى مِيرَاثٌ لِأَهْلِهَا" أَوْ" جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عمری اس کے اہل کے لئے جائز ہے، یا اس کے اہل کے لئے میراث ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14428]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2226، م: 1625
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2226، م: 1625
حدیث نمبر: 14429 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، قَتَادَةَ ، عَطَاءٍ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ مِثْلَهُ، كَذَا قَالَ يَحْيَى.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14429]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 14430 مسند احمد
يَحْيَى ، جَعْفَرٍ ، أَبِي ، جَابِرٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: قَالَ لِي جَابِرٌ : قَالَ: سَأَلَنِي ابْنُ عَمِّكَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ غُسْلِ الْجَنَابَةِ، فَقُلْتُ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُبُّ بِيَدَيْهِ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا" فَقَالَ: إِنِّي كَثِيرُ الشَّعْرِ، فَقُلْتُ: مَهْ يَا ابْنَ أَخِي، كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِنْ شَعْرِكَ وَأَطْيَبَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ حسن بن محمد نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے غسلِ جنابت کے بارے میں پوچھا: انہوں نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تین مرتبہ اپنے ہاتھوں سے اپنے سر پر پانی بہاتے تھے، وہ کہنے لگے کہ میرے تو بال بہت لمبے ہیں؟ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک میں تعداد کے اعتبار سے بھی تم سے زیادہ بال تھے اور مہک کے اعتبار سے بھی سب سے زیادہ تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14430]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 256، م: 329
الحكم: إسناده صحيح، خ: 256، م: 329
حدیث نمبر: 14431 مسند احمد
يَحْيَى ، جَعْفَرٍ ، أَبِي ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ بَعْدَ التَّشَهُّدِ:" إِنَّ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَحْسَنَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ"، قَالَ يَحْيَى: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ:" وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا" وَكَانَ إِذَا ذَكَرَ السَّاعَةَ أَعْلَى بِهَا صَوْتَهُ، وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ، كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ، ثُمَّ يَقُولُ:" بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِ" وَأَوْمَأَ وَصَفَ يَحْيَى بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور اللہ کی حمد وثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا: سب سے سچی بات کتاب اللہ ہے،سب سے افضل طریقہ محمد کا طریقہ ہے، بدترین چیز نوایجاد ہیں، پھر جوں جوں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قیامت کا تذکرہ فرماتے جاتے، آپ کی آواز بلند ہو تی جاتی، اور جوش میں اضافہ ہوتا جاتا اور ایسا محسوس ہوتا کہ جیسے آپ کسی لشکر سے ڈرا رہے ہیں، پھر فرمایا کہ مجھے اور قیامت کو اس طرح بھیجا گیا ہے، یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14431]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح كسابقه، م: 867، وأنظر: 14334
الحكم: إسناده صحيح كسابقه، م: 867، وأنظر: 14334