أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، زُهَيْرٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ لِفُلَانٍ فِي حَائِطِي عَذْقًا، وَإِنَّهُ قَدْ آذَانِي وَشَقَّ عَلَيَّ مَكَانُ عَذْقِهِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" بِعْنِي عَذْقَكَ الَّذِي فِي حَائِطِ فُلَانٍ"، قَالَ: لَا، قَالَ:" فَهَبْهُ لِي"، قَالَ: لَا، قَالَ:" فَبِعْنِيهِ بِعَذْقٍ فِي الْجَنَّةِ"، قَالَ: لَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا رَأَيْتُ الَّذِي هُوَ أَبْخَلُ مِنْكَ إِلَّا الَّذِي يَبْخَلُ بِالسَّلَامِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ فلاں آدمی کا میرے باغ میں ایک پھل دار درخت ہے اس نے مجھے اتنی تکلیف پہنچائی ہے کہ اب اس کے ایک درخت کی وجہ سے میں بہت مشقت میں مبتلا ہو گیا ہوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس آدمی کو بلا بھیجا اور فرمایا کہ فلاں آدمی کے باغ میں جو تمہارا درخت ہے وہ میرے ہاتھ فروخت کر دو اس نے انکار کر دیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے ہبہ کر دو اس نے پھر انکار کر دیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر جنت میں ایک درخت کے عوض ہی بیچ ڈالو اس نے پھر انکار کر دیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تجھ سے بڑا بخیل کوئی نہیں دیکھا سوائے اس شخص کے جو سلام میں بخل کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14517]
حکم دارالسلام
حسن لغيره دون قوله: « ما رأيت الذى هو أبخل منك ...» ، فقد تفرد به عبد اللہ بن محمد بن عقیل، وھو ضعیف یعتبر به
الحكم: حسن لغيره دون قوله: « ما رأيت الذى هو أبخل منك ...» ، فقد تفرد به عبد اللہ بن محمد بن عقیل، وھو ضعیف یعتبر به