بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 21 از 60
حدیث نمبر: 14512 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا جَابِرٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْ الدّجَّالِ كَافِرٌ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہو گا جسے ہر بندہ مومن پڑھ لے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14512]
حکم دارالسلام
إسناده قوي من أجل الحسين بن واقد
الحكم: إسناده قوي من أجل الحسين بن واقد
حدیث نمبر: 14513 مسند احمد
زَيْدٌ ، حُسَيْنٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدٌ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُوتِيتُ بِمَقَالِيدِ الدُّنْيَا عَلَى فَرَسٍ أَبْلَقَ، عَلَيْهِ قَطِيفَةٌ مِنْ سُنْدُسٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے پاس ایک چتکبرے گھوڑے پر جس پر ریشمی کپڑا تھا رکھ کر دنیا کی کنجیاں لائی گئیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14513]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، أبو الزبير مدلس وقد عنعنه
الحكم: إسناده ضعيف، أبو الزبير مدلس وقد عنعنه
حدیث نمبر: 14514 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، وَابْنِ أَبِي بُكَيْرٍ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، شُرَحْبِيلَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، وَابْنِ أَبِي بُكَيْرٍ ، أخبرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَأَنْ يُمْسِكَ أَحَدُكُمْ يَدَهُ عَنِ الْحَصَى، خَيْرٌ لَهُ مِنْ مِائَةِ نَاقَةٍ كُلُّهَا سُودُ الْحَدَقَةِ، فَإِنْ غَلَبَ أَحَدَكُمْ الشَّيْطَانُ، فَلْيَمْسَحْ مَسْحَةً وَاحِدَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی کنکر یوں کو چھیڑنے سے اپنا ہاتھ روک کر رکھے یہ اس کے حق میں ایسی سو اونٹنیوں سے بہتر ہے جن میں سب کی آنکھوں کی پتلیاں سیاہ ہوں اگر تم میں سے کسی پر شیطان غالب آہی جائے تو صرف ایک مرتبہ کر لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14514]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شرحبيل بن سعد، وانظر: 14204
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شرحبيل بن سعد، وانظر: 14204
حدیث نمبر: 14515 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو أَبُو عَامِرٍ ، زَكَرِيَّا يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو أَبُو عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: أَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ بِبَابِهِ جُلُوسٌ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عُمَرُ فَاسْتَأْذَنَ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ، ثُمَّ أُذِنَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، فَدَخَلَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ وَحَوْلَهُ نِسَاؤُهُ وَهُوَ سَاكِتٌ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَأُكَلِّمَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّهُ يَضْحَكُ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ رَأَيْتَ بِنْتَ زَيْدٍ امْرَأَةَ عُمَرَ فَسَأَلَتْنِي النَّفَقَةَ آنِفًا، فَوَجَأْتُ عُنُقَهَا، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَا نَوَاجِذُهُ، قَالَ:" هُنَّ حَوْلِي كَمَا تَرَى، يَسْأَلْنَنِي النَّفَقَةَ" فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى عَائِشَةَ لِيَضْرِبَهَا، وَقَامَ عُمَرُ إِلَى حَفْصَةَ، كِلَاهُمَا يَقُولَانِ: تَسْأَلَانِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ، فَنَهَاهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَ نِسَاؤُهُ: وَاللَّهِ لَا نَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ هَذَا الْمَجْلِسِ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ، قَالَ: وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْخِيَارَ، فَبَدَأَ بِعَائِشَةَ، فَقَالَ:" إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَذْكُرَ لَكِ أَمْرًا، مَا أُحِبُّ أَنْ تَعْجَلِي فِيهِ حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ"، قَالَتْ: مَا هُوَ؟ قَالَ: فَتَلَا عَلَيْهَا يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ سورة الأحزاب آية 28، قَالَتْ عَائِشَةُ: أَفِيكَ أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ؟! بَلْ أَخْتَارُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَأَسْأَلُكَ أَنْ لَا تَذْكُرَ لِامْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِكَ مَا اخْتَرْتُ، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَبْعَثْنِي مُعَنِّفًا، وَلَكِنْ بَعَثَنِي مُعَلِّمًا مُيَسِّرًا، لَا تَسْأَلُنِي امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ عَمَّا اخْتَرْتِ، إِلَّا أَخْبَرْتُهَا".
حدیث نمبر: 14516 مسند احمد
رَوْحٌ ، زَكَرِيَّا ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: حَوْلَهُ نِسَاؤُهُ وَاجِمٌ، وَقَالَ:" لَمْ يَبْعَثْنِي مُعَنِّتًا أَوْ مُفَتِّنًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14516]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1478، وأنظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، م: 1478، وأنظر ما قبله
حدیث نمبر: 14517 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، زُهَيْرٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ لِفُلَانٍ فِي حَائِطِي عَذْقًا، وَإِنَّهُ قَدْ آذَانِي وَشَقَّ عَلَيَّ مَكَانُ عَذْقِهِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" بِعْنِي عَذْقَكَ الَّذِي فِي حَائِطِ فُلَانٍ"، قَالَ: لَا، قَالَ:" فَهَبْهُ لِي"، قَالَ: لَا، قَالَ:" فَبِعْنِيهِ بِعَذْقٍ فِي الْجَنَّةِ"، قَالَ: لَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا رَأَيْتُ الَّذِي هُوَ أَبْخَلُ مِنْكَ إِلَّا الَّذِي يَبْخَلُ بِالسَّلَامِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ فلاں آدمی کا میرے باغ میں ایک پھل دار درخت ہے اس نے مجھے اتنی تکلیف پہنچائی ہے کہ اب اس کے ایک درخت کی وجہ سے میں بہت مشقت میں مبتلا ہو گیا ہوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس آدمی کو بلا بھیجا اور فرمایا کہ فلاں آدمی کے باغ میں جو تمہارا درخت ہے وہ میرے ہاتھ فروخت کر دو اس نے انکار کر دیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے ہبہ کر دو اس نے پھر انکار کر دیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر جنت میں ایک درخت کے عوض ہی بیچ ڈالو اس نے پھر انکار کر دیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تجھ سے بڑا بخیل کوئی نہیں دیکھا سوائے اس شخص کے جو سلام میں بخل کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14517]
حکم دارالسلام
حسن لغيره دون قوله: « ما رأيت الذى هو أبخل منك ...» ، فقد تفرد به عبد اللہ بن محمد بن عقیل، وھو ضعیف یعتبر به
الحكم: حسن لغيره دون قوله: « ما رأيت الذى هو أبخل منك ...» ، فقد تفرد به عبد اللہ بن محمد بن عقیل، وھو ضعیف یعتبر به
حدیث نمبر: 14518 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، فُلَيْحٌ ، سَعِيدُ بْنُ الْحَارِثِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُلْتَحِفًا بِهِ، وَرِدَاؤُهُ قَرِيبٌ لَوْ تَنَاوَلَهُ بَلَغَهُ، فَلَمَّا سَلَّمَ، سَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنَّمَا أَفْعَلُ هَذَا لِيَرَانِي الْحَمْقَى أَمْثَالُكُمْ، فَيُفْشُوا عَلَى جَابِرٍ رُخْصَةً رَخَّصَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ جَابِرٌ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، فَجِئْتُهُ لَيْلَةً وَهُوَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَعَلَيَّ ثَوْبٌ وَاحِدٌ فَاشْتَمَلْتُ بِهِ، ثُمَّ قُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ، قَالَ:" يَا جَابِرُ، مَا هَذَا الِاشْتِمَالُ؟ إِذَا صَلَّيْتَ وَعَلَيْكَ ثَوْبٌ وَاحِدٌ، فَإِنْ كَانَ وَاسِعًا، فَالْتَحِفْ بِهِ، وَإِنْ كَانَ ضَيِّقًا، فَاتَّزِرْ بِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید بن حارث کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے یہاں گئے وہ ایک کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھ رہے تھے حالانکہ دوسری چادر ان کے اتنے قریب پڑی ہوئی تھی کہ اگر وہ ہاتھ بڑھا کر اسے پکڑنا چاہتے تو ان کا ہاتھ باآسانی پہنچ جاتا جب انہوں نے سلام پھیرا تو ہم نے ان سے یہی مسئلہ پوچھا: انہوں نے فرمایا کہ میں نے یہ اس لئے کیا ہے کہ تم جیسے احمق بھی دیکھ لیں اور جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے وہ رخصت لوگوں میں پھیلا دیں جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دے رکھی ہے پھر فرمایا کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی سفر پر نکلا میں رات کے وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا تو آپ ایک کپڑے میں نماز پڑھ رہے تھے میرے جسم پر بھی ایک ہی کپڑا تھا اس لئے میں بھی اسے جسم پر لپیٹ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پہلو میں کھڑا ہو گیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جابر رضی اللہ عنہ یہ کیسالپٹنا ہے؟ جب تم نماز پڑھنے لگو اور تمہارے اوپر ایک ہی کپڑا ہوا اور وہ کشادہ ہو تو اسے خوب اچھی طرح لپیٹ لو اور اگر تنگ ہو تو اس کا تہنبد بنا لو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14518]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 361، 3008 و 3010، وهذا إسناد حسن من أجل فلیح الخزاعي
الحكم: حديث صحيح، خ: 361، 3008 و 3010، وهذا إسناد حسن من أجل فلیح الخزاعي
حدیث نمبر: 14519 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، فُلَيْحٌ ، سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَمَعَهُ صَاحِبٌ لَهُ، فَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ كَانَ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ فِي شَنَّةٍ، وَإِلَّا كَرَعْنَا"، قَالَ: وَالرَّجُلُ يُحَوِّلُ الْمَاءَ فِي حَائِطٍ، فَقَالَ الرَّجُلُ: عِنْدِي مَاءٌ بَاتَ فَانْطَلَقَ بِهِمَا إِلَى الْعَرِيشِ، فَسَكَبَ مَاءً، فِي قَدَحٍ، ثُمَّ حَلَبَ عَلَيْهِ مِنْ دَاجِنٍ، فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ شَرِبَ الرَّجُلُ الَّذِي جَاءَ مَعَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ کسی انصار کے گھر تشریف لے گئے اور جا کر سلام کیا اگر تمہارے پاس اس برتن میں رات کا بچا ہوا پانی موجود ہے تو ٹھیک ہے ورنہ ہم لوگ منہ لگا کر پی لیتے ہیں اس وقت وہ آدمی اپنے باغ کو پانی لگارہا تھا وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہنے لگا کہ میرے پاس رات کا بچا ہوا پانی ہے اور ان دونوں کو لے کر اپنے خیمے کی طرف چل پڑا وہاں پہنچ کر ایک پیالے میں پانی ڈالا اور اس پر بکری کا دودھ دوہا جسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نوش فرمالیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد آپ کے ساتھ آنے والے صاحب نے پی لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14519]
حکم دارالسلام
إسناده حسن كسابقه، خ: 5613
الحكم: إسناده حسن كسابقه، خ: 5613
حدیث نمبر: 14520 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، غَالِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَبُو صَالِحٍ ، كَثِيرِ بْنِ زِيَادٍ البُرْسَانِيِّ ، أَبِي سُمَيَّةَ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا غَالِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَبُو صَالِحٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زِيَادٍ البُرْسَانِيِّ ، عَنْ أَبِي سُمَيَّةَ ، قَالَ: اخْتَلَفْنَا هَاهُنَا فِي الْوُرُودِ، فَقَالَ بَعْضُنَا: لَا يَدْخُلُهَا مُؤْمِنٌ، وَقَالَ بَعْضُنَا: يَدْخُلُونَهَا جَمِيعًا، ثُمَّ يُنَجِّي اللَّهُ الَّذِينَ اتَّقَوْا، فَلَقِيتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّا اخْتَلَفْنَا ها هنا فِي الْوُرُودِ، فَقَالَ: يَرِدُونها جميعًا، وقَالَ سليمانُ مرةً: يَدْخُلونَها جميعًا، فقلت له: إنَّا اختَلَفْنا في ذلك الوُرودِ، فقال: بَعْضُنَا لَا يَدْخُلُهَا مُؤْمِنٌ، وَقَالَ بَعْضُنَا: يَدْخُلُونَهَا جَمِيعًا، فَأَهْوَى بِإِصْبَعَيْهِ إِلَى أُذُنَيْهِ، وَقَالَ: صُمَّتَا إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الْوُرُودُ الدُّخُولُ، لَا يَبْقَى بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ إِلَّا دَخَلَهَا، فَتَكُونُ عَلَى الْمُؤْمِنِ بَرْدًا وَسَلَامًا كَمَا كَانَتْ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، حَتَّى إِنَّ لِلنَّارِ أَوْ قَالَ: لِجَهَنَّمَ ضَجِيجًا مِنْ بَرْدِهِمْ ثُمَّ يُنَجِّي اللَّهُ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَيَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوسمیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہمارے درمیان جہنم میں ورد جس کے بارے میں قرآن میں آتا ہے کہ ہر شخص جہنم میں وارد ہو گا کے متعلق اختلاف رائے ہو گیا کچھ لوگ کہنے لگے کہ مسلمان جہنم میں داخل نہیں ہوں گے اور کچھ لوگ کہنے لگے کہ داخل تو سب ہوں گے البتہ اللہ تعالیٰ متقیوں کو جہنم سے نجات عطا فرمائے گا میں اس سلسلے میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے جا کر ملا اور ان سے عرض کیا: کہ ہمارے درمیان اس مسئلے میں اختلاف ہو گیا بعض لوگ کہہ رہے ہیں کہ مسلمان جہنم میں داخل نہیں ہوں گے اور بعض کہنا ہے کہ سب ہی داخل ہوں گے اس پر انہوں نے اپنی انگلی سے اپنے کانوں کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ یہ کان بہرے ہو جائیں گے اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہو کہ ورد سے مراد دخول ہے اور کوئی نیک و بد ایسا نہیں رہے گا جو جہنم میں داخل نہ ہوالبتہ مومن پر وہ اس طرح ٹھنڈک اور سلامتی کا ذریعہ بن جائے گی جیسے سیدنا ابراہیم کے لئے ہو گئی تھی حتی کہ مومنین کی ٹھنڈک سے جہنم چیخنے لگی گے پھر اللہ متقیوں کو اس سے نجات عطا فرمادے گا اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل پر چھوڑ دے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14520]
حکم دارالسلام
إسناد ضعيف لجهالة أبي سمية
الحكم: إسناد ضعيف لجهالة أبي سمية
حدیث نمبر: 14521 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، وَأَبُو سَعِيدٍ ، زَائِدَةُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، وَأَبُو سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَفَّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمْزَةَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، قَالَ جَابِرٌ: ذَلِكَ الثَّوْبُ نَمِرَةٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا حمزہ کو ایک کپڑے میں کفن دیا تھا اور اس پر دھاریاں بنی ہوئی تھیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14521]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، عبد اللہ بن محمد بن عقیل یعتبر به في المتابعات والشواھد، فیحسن حديثه، وھذا منھا
الحكم: إسناده حسن، عبد اللہ بن محمد بن عقیل یعتبر به في المتابعات والشواھد، فیحسن حديثه، وھذا منھا
حدیث نمبر: 14522 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، الْحُصَيْنُ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْحُصَيْنُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: عَطِشَ النَّاسُ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ يَدَيْهِ رَكْوَةٌ يَتَوَضَّأُ مِنْهَا، إِذْ جَهَشَ النَّاسُ نَحْوَهُ، فَقَالَ:" مَا شَأْنُكُمْ؟" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ لَيْسَ لَنَا مَاءٌ نَشْرَبُ مِنْهُ، وَلَا مَاءٌ نَتَوَضَّأُ بِهِ إِلَّا مَا بَيْنَ يَدَيْكَ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِي الرَّكْوَةِ، فَجَعَلَ الْمَاءُ يَفُورُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ كَأَمْثَالِ الْعُيُونِ، فَشَرِبْنَا وَتَوَضَّأْنَا، فَقُلْتُ: كَمْ كُنْتُمْ؟ قَالَ: لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ كَفَانَا، كُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حدیبیہ کے موقع پر لوگوں کو پیاس نے ستایا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس صرف ایک پیالہ تھا جس سے آپ وضو فرما رہے تھے لوگ گھبرائے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ کیا ہوا لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے پاس پینے کے لئے پانی ہے اور نہ ہی وضو کے لئے سوائے اس پانی کے جو آپ کے سامنے ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پیالہ میں اپنا دست مبارک رکھ دیا ان انگلیوں کے درمیان سے چشموں کی طرح ابلنے لگاہم سب نے اسے پیا اور وضو کیا راوی نے پوچھا کہ اس وقت آپ کتنے لوگ تھے انہوں نے جواب دیا کہ اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ پانی ہمیں کافی ہو جاتا لیکن اس وقت ہم صرف پندرہ سو تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14522]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3576، م: 1856
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3576، م: 1856
حدیث نمبر: 14523 مسند احمد
رَوْحٌ ، زَكَرِيَّا ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً، قَالَ جَابِرٌ لَمْ أَشْهَدْ بَدْرًا وَلَا أُحُدًا، مَنَعَنِي أَبِي، قَالَ: فَلَمَّا قُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ يَوْمَ أُحُدٍ، لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ قَطُّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ انیس غزوات میں شرکت کی سعادت حاصل کی ہے البتہ میں غزوہ بدر میں اور احد میں والد صاحب کے منع کرنے کی وجہ سے شریک نہیں ہو سکا تھا لیکن غزوہ احد میں اپنے والد صاحب کی شہادت کے بعد کسی غزوے میں کبھی پیچھے نہیں رہا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14523]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1813
الحكم: إسناده صحيح، م: 1813
حدیث نمبر: 14524 مسند احمد
رَوْحٌ ، زَكَرِيَّا يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، أَبَا الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِذَا كَفَّنَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ، فَلْيُحْسِنْ كَفَنَهُ إِنْ اسْتَطَاعَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو کفن دے تو اچھے طریقے سے کفنائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14524]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 943
الحكم: إسناده صحيح، م: 943
حدیث نمبر: 14525 مسند احمد
رَوْحٌ ، زَكَرِيَّا ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ:" قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجَنَازَةِ يَهُودِيٍّ حَتَّى جَاوَزَتْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب سے ایک یہو دی کا جنازہ گزرا تو آپ کھڑے ہو گئے یہاں تک کہ وہ گزر گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14525]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 960
الحكم: إسناده صحيح، م: 960
حدیث نمبر: 14526 مسند احمد
رَوْحٌ ، زَكَرِيَّا ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّه
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّه ، ِيَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا رَأَيْتُمْ الْهِلَالَ، فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ، فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ، فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ يَوْمًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم چاند دیکھ لو تب روزہ رکھا کر و اور جب چاند دیکھ لو تب عید الفطر منایا کر و اور اگر کسی دن بادل چھائے ہوئے ہوں تو تیس دن کی گنتی پوری کیا کر و۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14526]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14527 مسند احمد
رَوْحٌ ، زَكَرِيَّا ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ: هَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ شَهْرًا، فَكَانَ يَكُونُ فِي الْعُلْوِ، وَيَكُنَّ فِي السُّفْلِ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِنَّ فِي تِسْعٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ مَكَثْتَ تَسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الشَّهْرَ هَكَذَا وَهَكَذَا" بِأَصَابِعِ يَدِهِ مَرَّتَيْنِ، وَقَبَضَ فِي الثَّالِثَةِ إِبْهَامَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مہینے کے لئے اپنی ازواج مطہرات سے ترک تعلق کر لیا تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بالاخانے میں رہتے تھے اور ازواج مطہرات نچلی منزل میں رہتی تھیں ٢٩ راتیں گزرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نیچے اتر آئے کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ تو ٢٩ راتیں رکے (جبکہ آپ نے ایک ماہ کا ارادہ کیا تھا) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کبھی مہینہ اتنا اور اتنا بھی ہوتا ہے دو مرتبہ آپ نے ہاتھ کی ساری انگلیوں سے اشارہ کیا اور تیسری مرتبہ انگوٹھے کو بند کر دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14527]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1084
الحكم: إسناده صحيح، م: 1084
حدیث نمبر: 14528 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ:" اعْتَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ شَهْرًا"، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14528]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 14529 مسند احمد
رَوْحٌ ، زَكَرِيَّا ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَعُفَ ضَعْفًا شَدِيدًا، وَكَادَ الْعَطَشُ أَنْ يَقْتُلَهُ، وَجَعَلَتْ نَاقَتُهُ تَدْخُلُ تَحْتَ الْعِضَاهِ، فَأُخْبِرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" ائْتُونِي بِهِ" فَأُتِيَ بِهِ، فَقَالَ:" أَلَسْتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟" أَفْطِرْ" فَأَفْطَرَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ کسی غزوہ میں تھے رمضان کا مہینہ تھا ایک صحابی نے روزہ رکھ لیا جس پر وہ انتہائی کمزور ہو گئے تھے اور قریب تھا کہ پیاس ان کی جان لے لیتی اور ان کی اونٹنی جھاڑیوں میں گھسنے لگی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ معلوم ہوا تو فرمایا: اسے میرے پاس بلا کر لاؤ اور روزہ توڑنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ کیا تمہارے لئے اتناہی کافی نہیں ہے کہ تم اللہ کے راستے میں نکلے ہوئے ہو رسول اللہ کے ساتھ کہ پھر بھی روزہ رکھتے ہو چنانچہ انہوں نے روزہ توڑ دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14529]
حکم دارالسلام
حدیث صحيح، وانظر: 14508
الحكم: حدیث صحيح، وانظر: 14508
حدیث نمبر: 14530 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: صَامَ رَجُلٌ مِنَّا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، قَالَ: ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فَرَفَعَهُ عَلَى يَدَيْهِ، فَشَرِبَ لِيَرَى النَّاسُ، أَنَّهُ لَيْسَ بِصَائِمٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14530]
حکم دارالسلام
حدیث صحيح، وهذا إسناد قوي، أبو الزبير قد صرح بسماعه من جابر في الحدیث السالف
الحكم: حدیث صحيح، وهذا إسناد قوي، أبو الزبير قد صرح بسماعه من جابر في الحدیث السالف
حدیث نمبر: 14531 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سب سے افضل صدقہ وہ ہوتا ہے جو کچھ مالداری رکھ کر ہواور صدقات میں آغاز ان لوگوں سے کیا کر و جو تمہاری ذمے داری میں ہوں اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14531]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح