بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 38 از 60
حدیث نمبر: 14852 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، أَنْبَأَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" كَفَّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمْزَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ"، قَالَ جَابِرٌ: ذَلِكَ الثَّوْبُ نَمِرَةٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا حمزہ کو ایک کپڑے میں کفن دیا تھا اور اس پر دھاریاں بنی ہوئی تھیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14852]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل عبدالله بن محمد بن عقيل، وانظر : 14521
الحكم: إسناده حسن من أجل عبدالله بن محمد بن عقيل، وانظر : 14521
حدیث نمبر: 14853 مسند احمد
عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مَثَلَ هَذِهِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، مَثَلُ نَهَرٍ جَارٍ عَلَى بَابِ أَحَدِكُمْ، يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ، فَمَا يُبْقِي ذَلِكَ مِنَ الدَّنَسِ؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پانچوں فرض نمازوں کی مثال اس نہر کی سی ہے جو تم میں سے کسی کے دروازے پر جاری ہواور وہ اس میں روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو تو اس کے جسم پر کیا میل باقی بچے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14853]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، م: 668
الحكم: إسناده قوي، م: 668
حدیث نمبر: 14854 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ كَانَ لَهُ شَرِيكٌ فِي حَائِطٍ، فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَعْرِضَهُ عَلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جس شخص کے باغ میں کوئی شریک ہو وہ اپنے شریک کے سامنے پیشکش کئے بغیر کسی دوسرے کے ہاتھ اسے فروخت نہ کر ے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14854]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر
الحكم: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر
حدیث نمبر: 14855 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ ، أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ ، أَنْبَأَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا فِيهِ قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، قَالَ:" اقْرَءُوا الْقُرْآنَ، وَابْتَغُوا بِهِ اللَّهَ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ قَوْمٌ يُقِيمُونَهُ إِقَامَةَ الْقِدْحِ، يَتَعَجَّلُونَهُ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ قرآن کر یم کی تلاوت کر رہے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قرآن کر یم کی تلاوت کیا کر و اور اس کے ذریعے اللہ کا فضل مانگو اس سے پہلے کہ ایسی قوم آ جائے جو اسے اپنے تیروں کی جگہ رکھ لے اور وہ جلد بازی کر یں گے اور اس میں کسی قسم کی تاخیر نہیں کر یں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14855]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات غير أسامة بن زيد، فحسن الحديث
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات غير أسامة بن زيد، فحسن الحديث
حدیث نمبر: 14856 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ ، هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَرْتَدُوا الصَّمَّاءَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، وَلَا يَأْكُلْ أَحَدُكُمْ بِشِمَالِهِ، وَلَا يَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ، وَلَا يَحْتَبِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایک چادر میں اپنے جسم کو نہ لپیٹا کر و تم میں سے کوئی شخص بائیں ہاتھ سے نہ کھائے صرف ایک جوتی پہن کر نہ چلے اور نہ ہی ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14856]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2099، وهذا إسناد قوي، وقد صرح أبو الزبير بالسماع فيما سلف برقم: 14187
الحكم: حديث صحيح، م: 2099، وهذا إسناد قوي، وقد صرح أبو الزبير بالسماع فيما سلف برقم: 14187
حدیث نمبر: 14857 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ ، هِشَامٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ مِنْ أَلَمٍ كَانَ بِظَهْرِهِ، أَوْ بِوَرِكِهِ"، شَكَّ هِشَامٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حالت احرام میں اپنے کو ل ہے کی ہڈی یا کمر میں موچ آجانے کی وجہ سے سینگی لگوائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14857]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، أبو الزبير لم يصرح بسماعه من جابر، وانظر: 14280
الحكم: صحيح لغيره، أبو الزبير لم يصرح بسماعه من جابر، وانظر: 14280
حدیث نمبر: 14858 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ ، هِشَامٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يُطْعَمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھل کے خوب پک کر عمدہ ہو جانے سے قبل اس کی بیع سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14858]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، أبو الزبير لم يصرح بالسماع، لكنه قد توبع، وانظر: 14350
الحكم: حديث صحيح، أبو الزبير لم يصرح بالسماع، لكنه قد توبع، وانظر: 14350
حدیث نمبر: 14859 مسند احمد
عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" التَّسْبِيحُ فِي الصَّلَاةِ لِلرِّجَالِ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: امام کو یاد کرانے کے لئے مردوں کو سبحان اللہ کہنا چاہیے اور عورتوں کو ہلکی آواز میں تالی بجانی چاہیے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14859]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن عبدالرحمن بن أبى ليلى
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن عبدالرحمن بن أبى ليلى
حدیث نمبر: 14860 مسند احمد
عَبِيدَةُ ، الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ ، نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ ، حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ فِي الْقَوْمِ مِنْ طَهُورٍ"، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ بِفَضْلَةٍ فِي إِدَاوَةٍ، قَالَ: فَصَبَّهُ فِي قَدَحٍ، قَالَ: فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ إِنَّ الْقَوْمَ أَتَوْا بَقِيَّةَ الطَّهُورِ، فَقَالُوا: تَمَسَّحُوا تَمَسَّحُوا، قَالَ: فَسَمِعَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" عَلَى رِسْلِكُمْ"، قَالَ: فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِي الْقَدَحِ فِي جَوْفِ الْمَاءِ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ:" أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ الطَّهُورَ"، قَالَ: فَقَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: وَالَّذِي أَذْهَبَ بَصَرِي، قَالَ: وَكَانَ قَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ، لَقَدْ رَأَيْتُ الْمَاءَ يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَهُ حَتَّى تَوَضَّئُوا أَجْمَعُونَ، قَالَ الْأَسْوَدُ: حَسِبْتُهُ قَالَ: كُنَّا مِائَتَيْنِ أَوْ زِيَادَةً.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک غزوہ میں ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ شریک تھے نماز کا وقت ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: کسی کے پاس پانی ہے؟ ایک آدمی یہ سن کر دوڑتا ہوا ایک برتن لے کر آیا جس میں تھوڑا سا پانی تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پانی کو ایک پیالے میں ڈالا اور اس سے خوب اچھی طرح وضو کیا وضو کر کے آپ پیالہ وہیں چھوڑ آئے لوگ اس پیالے پر ٹوٹ پڑے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی آوازیں سن کر فرمایا: رک جاؤ پھر اس پانی اور پیالے میں اپنا دست مبارک رکھ دیا اور بسم اللہ کہہ کر فرمایا: خوب اچھی طرح کامل وضو کر و اس ذات کی قسم جس نے مجھے آنکھوں کی نعمت عطاء فرمائی ہے میں نے اس دن دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبارک انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس وقت تک نہ اٹھایا جب تک سب لوگوں نے وضو نہ کر لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14860]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م بنحوه: 3013
الحكم: إسناده صحيح، م بنحوه: 3013
حدیث نمبر: 14861 مسند احمد
عَبِيدَةُ ، الْأَسْوَدُ ، نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ ، حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا جَابِرُ، أَلَكَ امْرَأَةٌ؟"، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" أَثَيِّبًا نَكَحْتَ، أَمْ بِكْرًا؟"، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: تَزَوَّجْتُهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ، قَالَ: فَقَالَ لِي:" فَهَلَّا تَزَوَّجْتَهَا جُوَيْرِيَةً!"، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: قُتِلَ أَبِي مَعَكَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا، وَتَرَكَ جَوَارِيَ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَضُمَّ إِلَيْهِنَّ جَارِيَةً كَإِحْدَاهُنَّ، فَتَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا تَقْصَعُ قَمْلَةَ إِحْدَاهُنَّ، وَتَخِيطُ دِرْعَ إِحْدَاهُنَّ إِذَا تَخَرَّقَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِنَّكَ نِعْمَ مَا رَأَيْتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم نے شادی کر لی میں نے عرض کیا: جی ہاں پوچھا کہ کنواری سے یا شادی شدہ سے میں نے عرض کیا: شوہر دیدہ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کنواری سے نکاح کیوں نہ کیا میں نے عرض کیا: کہ میرے والد صاحب فلاں موقع پر آپ کے ساتھ شہید ہو گئے تھے اور کچھ بچیاں چھوڑ گئے تھے میں نے ان میں ان ہی جیسی بچی کو لانا اچھا نہیں سمجھا اس لئے شوہر دیدہ سے شادی کر لی تاکہ وہ ان کی جوئیں دیکھ سکے اور قمیص پھٹ جائے تو سی دے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم نے خوب سوچا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14861]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر: 14132
الحكم: إسناده صحيح، وانظر: 14132
حدیث نمبر: 14862 مسند احمد
عَبِيدَةُ ، الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ ، نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَنْهَى أَحَدَنَا إِذَا جَاءَ مِنْ سَفَرٍ أَنْ يَطْرُقَ أَهْلَهُ"، قَالَ: فَطَرَقْنَاهُنَّ بَعْدُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں رات کے وقت شہر میں داخل ہو کر بلا اطلاع اپنے گھر جانے منع فرمایا ہے لیکن ان کے بعد ہم اس طرح کرنے لگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14862]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح كسابقه، خ: 5246، م: 715
الحكم: إسناده صحيح كسابقه، خ: 5246، م: 715
حدیث نمبر: 14863 مسند احمد
عَبِيدَةُ ، الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ ، نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ حَدَّثَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ أَرَادَ الْغَزْوَ، فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، إِنَّ مِنْ إِخْوَانِكُمْ قَوْمًا، لَيْسَ لَهُمْ مَالٌ، وَلَا عَشِيرَةٌ، فَلْيَضُمَّ أَحَدُكُمْ إِلَيْهِ الرَّجُلَيْنِ، أَوْ الثَّلَاثَةَ"، فَمَا لِأَحَدِنَا مِنْ ظَهْرِ جَمَلِهِ إِلَّا عُقْبَةٌ كَعُقْبَةِ أَحَدِهِمْ، قَالَ: فَضَمَمْتُ اثْنَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً إِلَيَّ، وَمَا لِي إِلَّا عُقْبَةٌ كَعُقْبَةِ أَحَدِهِمْ مِنْ جَمَلِي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی غزوے کا ارادہ کیا تو فرمایا: اے گروہ مہاجرین و انصار تمہارے بھائی ایسے لوگ ہیں جن کے پاس کوئی مال و دولت اور قبیلہ نہیں ہے اس لئے تمہیں اپنے ساتھ دو تین آدمیوں کو ملا لینا چاہیے چنانچہ اس موقع پر ہمیں اپنے اونٹ کی پیٹھ پر صرف اتنی دیر ملتی جتنی دیر اس کی باری رہتی میں نے بھی اپنے ساتھ دو یا تین آدمی ملا لئے اور میرا بھی اپنے اونٹ میں باری کا وہی حق تھا جو ان میں سے کسی کا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14863]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح كسابقه
الحكم: إسناده صحيح كسابقه
حدیث نمبر: 14864 مسند احمد
عَبِيدَةُ ، الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ ، نُبَيْحٍ العَنَزِيِّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ نُبَيْحٍ العَنَزِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: فَقَدْتُ جَمَلِي لَيْلَةً، فَمَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَشُدُّ لِعَائِشَةَ، قَالَ: فَقَالَ لِي:" مَا لَكَ يَا جَابِرُ؟"، قَالَ: قُلْتُ: فَقَدْتُ جَمَلِي، أَوْ ذَهَبَ جَمَلِي فِي لَيْلَةٍ ظَلْمَاءَ، قَالَ: فَقَالَ لِي:" هَذَا جَمَلُكَ، اذْهَبْ فَخُذْهُ"، قَالَ: فَذَهَبْتُ نَحْوًا مِمَّا قَالَ لِي، فَلَمْ أَجِدْهُ، قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا وَجَدْتُهُ، قَالَ: فَقَالَ لِي:" هَذَا جَمَلُكَ اذْهَبْ فَخُذْهُ"، قَالَ: فَذَهَبْتُ نَحْوًا مِمَّا قَالَ لِي، فَلَمْ أَجِدْهُ، قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي يَا نَبِيَّ اللَّهِ، لَا وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُهُ، قَالَ: فَقَالَ لِي:" عَلَى رِسْلِكَ"، حَتَّى إِذَا فَرَغَ، أَخَذَ بِيَدِي، فَانْطَلَقَ بِي حَتَّى أَتَيْنَا الْجَمَلَ، فَدَفَعَهُ إِلَيَّ، قَالَ:" هَذَا جَمَلُكَ"، قَالَ: وَقَدْ سَارَ النَّاسُ، قَالَ: فَبَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ عَلَى جَمَلِي فِي عُقْبَتِي، قَالَ: وَكَانَ جَمَلًا فِيهِ قِطَافٌ، قَالَ: قُلْتُ: يَا لَهْفَ أُمِّي، أَنْ يَكُونَ لِي إِلَّا جَمَلٌ قَطُوفٌ! قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدِي يَسِيرُ، قَالَ: فَسَمِعَ مَا قُلْتُ، قَالَ: فَلَحِقَ بِي، فَقَالَ:" مَا قُلْتَ يَا جَابِرُ قَبْلُ؟"، قَالَ: فَنَسِيتُ مَا قُلْتُ، قَالَ: قُلْتُ: مَا قُلْتُ شَيْئًا يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَالَ: فَذَكَرْتُ مَا قُلْتُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، يَا لَهْفَاهُ، أَنْ يَكُونَ لِي إِلَّا جَمَلٌ قَطُوفٌ! قَالَ: فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَجُزَ الْجَمَلِ بِسَوْطٍ، أَوْ بِسَوْطِي، قَالَ: فَانْطَلَقَ أَوْضَعَ، أَوْ أَسْرَعَ جَمَلٍ رَكِبْتُهُ قَطُّ، وَهُوَ يُنَازِعُنِي خِطَامَهُ. قَالَ: فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْتَ بَائِعِي جَمَلَكَ هَذَا؟"، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" بِكَمْ؟"، قَالَ: قُلْتُ: بِوُقِيَّةٍ، قَالَ: قَالَ لِي:" بَخٍ بَخٍ، كَمْ فِي أُوقِيَّةٍ مِنْ نَاضِحٍ وَنَاضِحٍ!"، قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا بِالْمَدِينَةِ نَاضِحٌ أُحِبُّ أَنَّهُ لَنَا مَكَانَهُ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ أَخَذْتُهُ بِوُقِيَّةٍ"، قَالَ: فَنَزَلْتُ عَنِ الرَّحْلِ إِلَى الْأَرْضِ، قَالَ:" مَا شَأْنُكَ؟"، قَالَ: قُلْتُ: جَمَلُكَ، قَالَ: قَالَ لِي:" ارْكَبْ جَمَلَكَ"، قَالَ: قُلْتُ: مَا هُوَ بِجَمَلِي، وَلَكِنَّهُ جَمَلُكَ، قَالَ: كُنَّا نُرَاجِعُهُ مَرَّتَيْنِ فِي الْأَمْرِ إِذَا أَمَرَنَا بِهِ، فَإِذَا أَمَرَنَا الثَّالِثَةَ، لَمْ نُرَاجِعْهُ، قَالَ: فَرَكِبْتُ الْجَمَلَ، حَتَّى أَتَيْتُ عَمَّتِي بِالْمَدِينَةِ، قَالَ: وَقُلْتُ لَهَا: أَلَمْ تَرَيْ أَنِّي بِعْتُ نَاضِحَنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُوقِيَّةٍ؟، قَالَ: فَمَا رَأَيْتُهَا أَعْجَبَهَا ذَلِكَ، قَالَ: وَكَانَ نَاضِحًا فَارِهًا، قَالَ: ثُمَّ أَخَذْتُ شَيْئًا مِنْ خَبَطٍ، أَوْجَرْتُهُ إِيَّاهُ، ثُمَّ أَخَذْتُ بِخِطَامِهِ، فَقُدْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقَاوِمًا رَجُلًا يُكَلِّمُهُ، قَالَ: قُلْتُ: دُونَكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، جَمَلَكَ، قَالَ: فَأَخَذَ بِخِطَامِهِ، ثُمَّ نَادَى بِلَالًا، فَقَالَ:" زِنْ لِجَابِرٍ أُوقِيَّةً وَأَوْفِهِ"، فَانْطَلَقْتُ مَعَ بِلَالٍ، فَوَزَنَ لِي أُوقِيَّةً وَأَوْفَى مِنَ الْوَزْنِ، قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَائِمٌ يُحَدِّثُ ذَلِكَ الرَّجُلَ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: قَدْ وَزَنَ لِي أُوقِيَّةً وَأَوْفَانِي، قَالَ: فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ ذَهَبْتُ إِلَى بَيْتِي وَلَا أَشْعُرُ، قَالَ: فَنَادَى" أَيْنَ جَابِرٌ؟"، قَالُوا: ذَهَبَ إِلَى أَهْلِهِ، قَالَ:" أَدْرِكْ، ائْتِنِي بِهِ"، قَالَ: فَأَتَانِي رَسُولُهُ يَسْعَى، قَالَ: يَا جَابِرُ، يَدْعُوكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ:" فَخُذْ جَمَلَكَ"، قُلْتُ: مَا هُوَ جَمَلِي، وَإِنَّمَا هُوَ جَمَلُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" خُذْ جَمَلَكَ"، قُلْتُ: مَا هُوَ جَمَلِي، إِنَّمَا هُوَ جَمَلُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ:" خُذْ جَمَلَكَ" , قَالَ: فَأَخَذْتُهُ، قَالَ: فَقَالَ:" لَعَمْرِي مَا نَفَعْنَاكَ لِنُنْزِلَكَ عَنْهُ"، قَالَ: فَجِئْتُ إِلَى عَمَّتِي بِالنَّاضِحِ مَعِي، وَبِالْوَقِيَّةِ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهَا: مَا تَرَيْنَ، رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي أُوقِيَّةً، وَرَدَّ عَلَيَّ جَمَلِي؟!.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک رات میرا اونٹ گم ہو گیا میں اسے تلاش کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سے گزرا اس وقت وہ سیدنا عائشہ کے لئے سواری تیار کر رہے تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: جابر رضی اللہ عنہ کیا ہوا میں نے عرض کیا: اس اندھیری رات میں میرا اونٹ گم ہو گیا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا اونٹ یہ رہا جاؤ اسے لے جاؤ میں اس طرف چلا گیا جہاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اشارہ کیا تھا لیکن مجھے وہاں وہ نہ ملا میں نے واپس آ کر عرض کیا: کہ مجھے تو اونٹ نہیں ملا دوسری مرتبہ پھر ایسا ہی ہوا تیسری مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے ٹھہرنے کے لئے فرمایا: اور فارغ ہو کر میرا ہاتھ پکڑا اور چل پڑے یہاں تک کہ ہم اونٹ کے پاس گئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ میرے حوالے کر کے فرمایا: یہ رہا تمہارا اونٹ۔ لوگ چل رہے تھے میں بھی اپنی باری پر اپنے اونٹ پر سوار ہو چل رہا تھا میرا اونٹ سست رفتار تھا میری زبان سے نکل گیا افسوس مجھے اونٹ بھی ملا تو ایسا سست نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتفاقا مجھ سے کچھ ہی پیچھے تھے انہوں نے بات سن لی وہ میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ جابر رضی اللہ عنہ کیا کہہ رہے ہواس وقت تک میں اپنی بات بھول چکا تھا اس لئے کہہ دیا کہ میں نے تو کچھ نہیں کہا تھوڑی دیر بعد مجھے یاد آیا تو عرض کیا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں نے یہ کہا تھا کہ افسوس مجھے اونٹ بھی ملا تو وہ بھی سست اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک کوڑے سے اونٹ کی دم پر ضرب لگائی وہ اسی وقت ایسا تیز رفتار ہو گیا کہ اس سے پہلے میں اس سے زیادہ کسی تیز رفتار اونٹ پر سوار نہیں ہوا کہ وہ میرے ہاتھوں سے نکلاجا رہا تھا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اونٹ میرے ہاتھوں بیچتے ہو میں نے اثبات میں سرہلایا تو آپ نے قیمت پوچھی میں نے ایک اوقیہ چاندی بتائی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: واہ واہ ایک اوقیہ میں تو اتنے اتنے اونٹ آجاتے ہیں میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ منورہ میں ہمارے نزدیک اس سے زیادہ اچھا اونٹ نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اسے ایک اوقیہ کے بدلے خرید لیا اس پر میں اپنی سواری سے زمین پر اتر گیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: کیا ہوا میں نے عرض کیا: کہ اونٹ تو آپ کا ہو چکا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اپنے اونٹ پر سوار ہو جا میں نے عرض کیا: کہ اب یہ میرا اونٹ نہیں ہے آپ کا اونٹ ہے ہم نے دو مرتبہ اسی طرح تکرار کیا تیسری مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب حکم دیا تو میں نے تکرار نہیں کیا اور اپنے اونٹ پر سوار ہو گیا۔ یہاں تک کہ میں مدینہ منورہ میں اپنی پھوپھی کے پاس پہنچ گیا اور انہیں بتایا کہ دیکھیں تو سہی میں نے اپنا اونٹ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایک اوقیہ میں فروخت کر دیا ہے انہوں نے کہا میں نے اس سے زیادہ تعجب خیز بات کبھی نہیں دیکھی کیونکہ ہمارا اونٹ بہت تھکا ہوا تھا۔ پھر میں نے رسی لے کر اس کے منہ میں لگام ڈالی اور لے کر کھینچتا ہوا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے کسی سے باتیں کر رہے ہیں میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ اپنا اونٹ لے لیجیے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی لگام پکڑ کر سیدنا بلال کو آوازی دی اور فرمایا کہ جابر رضی اللہ عنہ کو وزن کر کے ایک اوقیہ چاندی دیدو اور پورا تولنا چنانچہ میں سیدنا بلال کے ساتھ چلا گیا اور انہوں نے مجھے ایک اوقیہ چاندی پوری پوری تول کر دی میں واپس آیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسی آدمی کے ساتھ کھڑے ہوئے باتیں کر رہے تھے میں نے عرض کیا: کہ انہوں نے مجھے ایک اوقیہ چاندی پوری پوری تول دی ہے یہ کہہ کر میں بےخودی کے عالم میں اپنے گھر کی طرف چل پڑا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پکار کر کہا اے جابر رضی اللہ عنہ کہاں گیا؟ لوگوں نے بتایا کہ وہ اپنے گھرچلا گیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اسے بلا کر لاؤ چنانچہ قاصد میرے پاس دوڑتا ہوا آیا اور کہنے لگا جابر رضی اللہ عنہ تمہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بلا رہے ہیں میں حاضر ہوا تو فرمایا کہ اپنا اونٹ تو لے لو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ میرا اونٹ نہیں ہے وہ تو آپ کا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اپنا اونٹ لے لو۔ چنانچہ میں نے اسے لے لیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میری زندگی کی قسم ہم نے تمہیں فائدہ اس لئے نہیں پہنچایا تھا کہ تمہیں سواری سے اتاریں چنانچہ میں وہ اونٹ اور ایک اوقیہ چاندی لے کر اپنی پھوپھی کے پاس آیا اور انہیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے ایک [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14864]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14865 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ ، عَقِيلِ بْنِ جَابِرٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، فِيمَا يَذْكُرُ مِنِ اجْتِهَادِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعِبَادَةِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَبْدُ اللَّهَ: قَالَ أَبِي: وَفِي مَوْضِعٍ آخَرَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ مِنْ نَجْدٍ، فَأَصَابَ امْرَأَةَ رَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِلَى نَجْدٍ، فَغَشِينَا دَارًا مِنْ دُورِ الْمُشْرِكِينَ، قَالَ: فَأَصَبْنَا امْرَأَةَ رَجُلٍ مِنْهُمْ، قَالَ: ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاجِعًا، وَجَاءَ صَاحِبُهَا وَكَانَ غَائِبًا، فَذُكِرَ لَهُ مُصَابُهَا، فَحَلَفَ لَا يَرْجِعُ، حَتَّى يُهْرِيقَ فِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَمًا، قَالَ: فَلَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ، نَزَلَ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ، وَقَالَ:" مَنْ رَجُلَانِ يَكْلَآَنَا فِي لَيْلَتِنَا هَذِهِ مِنْ عَدُوِّنَا؟"، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ نَحْنُ نَكْلَؤُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَخَرَجَا إِلَى فَمِ الشِّعْبِ دُونَ الْعَسْكَرِ، ثُمَّ قَالَ الْأَنْصَارِيُّ لِلْمُهَاجِرِيِّ: أَتَكْفِينِي أَوَّلَ اللَّيْلِ، وَأَكْفِيكَ آخِرَهُ، أَمْ تَكْفِينِي آخِرَهُ، وَأَكْفِيكَ أَوَّلَهُ؟، قَالَ: فَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ: بَلْ اكْفِنِي أَوَّلَهُ، وَأَكْفِيكَ آخِرَهُ، فَنَامَ الْمُهَاجِرِيُّ، وَقَامَ الْأَنْصَارِيُّ يُصَلِّي، قَالَ: فَافْتَتَحَ سُورَةً مِنَ الْقُرْآنِ، فَبَيْنَا هُوَ فِيهَا يَقْرَأُ إِذْ جَاءَ زَوْجُ الْمَرْأَةِ، قَالَ: فَلَمَّا رَأَى الرَّجُلَ قَائِمًا، عَرَفَ أَنَّهُ رَبِيئَةُ الْقَوْمِ، فَيَنْتَزِعُ لَهُ بِسَهْمٍ، فَيَضَعُهُ فِيهِ، قَالَ: فَيَنْزِعُهُ، فَيَضَعُهُ وَهُوَ قَائِمٌ يَقْرَأُ فِي السُّورَةِ الَّتِي هُوَ فِيهَا، وَلَمْ يَتَحَرَّكْ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَقْطَعَهَا، قَالَ: ثُمَّ عَادَ لَهُ زَوْجُ الْمَرْأَةِ بِسَهْمٍ آخَرَ، فَوَضَعَهُ فِيهِ، فَانْتَزَعَهُ، فَوَضَعَهُ، وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي، وَلَمْ يَتَحَرَّكْ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَقْطَعَهَا، قَالَ: ثُمَّ عَادَ لَهُ زَوْجُ الْمَرْأَةِ الثَّالِثَةَ بِسَهْمٍ، فَوَضَعَهُ فِيهِ، فَانْتَزَعَهُ، فَوَضَعَهُ ثُمَّ رَكَعَ فَسَجَدَ، ثُمَّ قَالَ لِصَاحِبِهِ: اقْعُدْ، فَقَدْ أُوتِيتُ، قَالَ: فَجَلَسَ الْمُهَاجِرِيُّ، فَلَمَّا رَآهُمَا صَاحِبُ الْمَرْأَةِ هَرَبَ، وَعَرَفَ أَنَّهُ قَدْ نُذِرَ بِهِ، قَالَ: وَإِذَا الْأَنْصَارِيُّ يَمُوجُ دَمًا مِنْ رَمْيَاتِ صَاحِبِ الْمَرْأَةِ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ أَخُوهُ الْمُهَاجِرِيُّ: يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ، أَلَا كُنْتَ آذَنْتَنِي أَوَّلَ مَا رَمَاكَ؟، قَالَ: فَقَالَ: كُنْتُ فِي سُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ قَدْ افْتَتَحْتُهَا أُصَلِّي بِهَا، فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْطَعَهَا، وَايْمُ اللَّهِ، لَوْلَا أَنْ أُضَيِّعَ ثَغْرًا أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِفْظِهِ، لَقَطَعَ نَفْسِي قَبْلَ أَنْ أَقْطَعَهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ غزوہ ذات الرقاع کے سلسلے میں نکلے اس غزوے میں مشرکین کی ایک عورت بھی ماری گئی جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس روانہ ہوئے تو اس عورت کا خاوند واپس آیا اس نے اپنی بیوی کو مرا ہوا دیکھ کر قسم کھائی کہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک اصحاب محمد میں خون نہ بہادے یہ قسم کھا کر وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نشانات قدم پر چلتا ہوا نکل آیا۔ ادھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک منزل پر پہنچ کر پڑاؤ کیا اور فرمایا کہ آج رات کو کون پہرہ دے گا اس پر ایک مہاجر اور ایک انصاری نے اپنے آپ کو پیش کیا اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! ہم کر یں گے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر ایسا کر و کہ اس گھاٹی کے دہانے پر جا کر پہرہ داری کر و کیونکہ وہ لوگ ایک گھاٹی میں پڑاؤ کئے ہوئے تھے جب وہ دونوں وہاں پہنچے تو انصاری نے مہاجر سے پوچھا کہ تمہیں رات کا کون ساحصہ پسند ہے جس میں میں تمہاری طرف سے کفایت کر وں۔ پہلا یا آخری؟ اس نے کہا پہلے حصے میں تم باری کر لو دوسرے حصے میں میں کر لوں گا۔ چنانچہ مہاجر لیٹ کر سو گیا اور انصاری کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگا ادھر وہ مشرک آپہنچا جب اس نے دور سے ایک آدمی کا ہیولا دیکھا تو سمجھ گیا کہ یہ لوگوں کا پہرہ دار ہے چنانچہ اس نے دور ہی سے تاک کر اسے تیر مارا اور اس کے جسم میں اتار دیا انصاری نے کھینچ کر اسے نکالا اور اسے پھینک دیا خود ثابت قدمی کے ساتھ نماز پڑھتا رہا مشرک نے دوسرا تیر مارا اور وہ بھی اس کے جسم میں اتار دیا انصاری نے کھینچ کر اسے نکالا اور اسے پھینک کر خود رکوع سجدہ میں گیا اور اپنے ساتھی کو بیدار کیا اس نے اسے بیٹھنے کے لئے کہا اور خود چھلانگ لگائی جب اس مشرک نے ان دونوں کو دیکھا تو سمجھ گیا کہ لوگوں کو اس کا پتہ چل گیا ہے اس لئے وہ بھاگ کھڑا ہوا۔ پھر مہاجر نے انصاری کے بہتے ہوئے خون کو دیکھ کر تعجب سے سبحان اللہ کہا اور کہا کہ مجھے جگایا کیوں نہیں انصاری نے جواب دیا میں ایک سورت پڑھ رہا تھا میں نے اسے پورا کئے بغیر نماز ختم کرنا اچھا نہیں سمجھا لیکن جب میں نے دیکھا کہ اس نے مجھ پر تیروں کی بوچھاڑ کر دی تب میں نے رکوع کیا اور تمہیں جگا دیا واللہ اگر پہرہ داری ضائع ہو نے کا اندیشہ نہ ہوتا تو جس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے مامور کیا تھا تو اس سورت کو ختم کرنے سے پہلے میری جان ختم ہو تی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14865]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، عقيل بن جابر فى عداد المجهولين
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، عقيل بن جابر فى عداد المجهولين
حدیث نمبر: 14866 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَ بِذَلِكَ مِنْ كُلِّ جَادٍّ عَشَرَةُ أَوْسُقٍ مِنَ التَّمْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ حکم دیا ہے کہ ہر دس وسق کھجور کاٹنے والے کے ذمے ہے کہ ایک خوشہ مسجد میں لا کر غربا کے لئے لٹکائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14866]
حکم دارالسلام
إسناده حسن لأجل محمد بن إسحاق، وانظر مابعده
الحكم: إسناده حسن لأجل محمد بن إسحاق، وانظر مابعده
حدیث نمبر: 14867 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" أَمْرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كُلِّ جَادٍّ بِعَشَرَةِ أَوْسُقٍ مِنْ تَمْرٍ بِقِنْوٍ يُعَلَّقُ فِي الْمَسْجِدِ لِلْمَسَاكِينِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ حکم دیا ہے کہ ہر دس وسق کھجور کاٹنے والے کے ذمے ہے کہ ایک خوشہ مسجد میں لا کر غربا کے لئے لٹکائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14867]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، محمد بن إسحاق قد صرح بالتحديث فى الحديث السابق، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده حسن، محمد بن إسحاق قد صرح بالتحديث فى الحديث السابق، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 14868 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَذِنَ لِأَصْحَابِ الْعَرَايَا أَنْ يَبِيعُوهَا بِخَرْصِهَا، يَقُولُ:" الْوَسْقَ وَالْوَسْقَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ وَالْأَرْبَعَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب عرایا والوں کو اندازے سے بیچنے کی اجازت دی تو میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک وسق ہو یا دو تین اور چار سب کا یہی حکم ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14868]
حکم دارالسلام
إسناده حسن لأجل محمد بن إسحاق
الحكم: إسناده حسن لأجل محمد بن إسحاق
حدیث نمبر: 14869 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ ، وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا خَطَبَ أَحَدُكُمْ الْمَرْأَةَ، فَقَدِرَ أَنْ يَرَى مِنْهَا بَعْضَ مَا يَدْعُوهُ إِلَيْهَا، فَلْيَفْعَلْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کے پاس پیغام نکاح بھیجے اور یہ ممکن ہو کہ وہ اس عورت کی اس خوبی کو دیکھ سکے جس کی بناء پر وہ اس سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو اسے ایسا کر لینا چاہیے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14869]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وسلف الكلام على إسناده برقم: 14586
الحكم: حديث حسن، وسلف الكلام على إسناده برقم: 14586
حدیث نمبر: 14870 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، بَعْضِ أَهْلِهِ ، أَبِيهِ ، طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ بَعْضِ أَهْلِهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اتَّقُوا فَوْرَةَ الْعِشَاءِ"، كَأَنَّهُ لِمَا يُخَافُ مِنَ الِاحْتِضَارِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نماز عشاء کے وقت سے احتیاط کیا کر و غالباً نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت آنے والے جنایات اور بلاؤں سے خطرہ محسوس کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14870]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الذى روى عنه إبراهيم بن سعد، ولجهالة أبيه يعقوب، وانظر: 14343
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الذى روى عنه إبراهيم بن سعد، ولجهالة أبيه يعقوب، وانظر: 14343
حدیث نمبر: 14871 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، ابْنُ أَخِي بْنِ شِهَابٍ ، عَمِّهِ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، وَقَدْ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَضَى أَنَّهُ مَنْ أَعْمَرَ رَجُلًا عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ، فَإِنَّهَا لِلَّذِي يُعْمَرُهَا، قَدْ بَتَّهَا مِنْ صَاحِبِهَا الَّذِي أَعْمَرَهَا، مَا وَقَعَ مِنْ مَوَارِيثِ اللَّهِ وَحَقِّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ جس شخص کو عمربھر کے لئے کوئی چیز دے دی گئی ہو وہ اس کی اور اس کی اولاد کی ہو گی اور جس نے دی وہ اس کی اس بات کی وجہ سے جداہو گئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14871]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1620
الحكم: إسناده صحيح، م: 1620