عَبِيدَةُ ، الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ ، نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ حَدَّثَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ أَرَادَ الْغَزْوَ، فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، إِنَّ مِنْ إِخْوَانِكُمْ قَوْمًا، لَيْسَ لَهُمْ مَالٌ، وَلَا عَشِيرَةٌ، فَلْيَضُمَّ أَحَدُكُمْ إِلَيْهِ الرَّجُلَيْنِ، أَوْ الثَّلَاثَةَ"، فَمَا لِأَحَدِنَا مِنْ ظَهْرِ جَمَلِهِ إِلَّا عُقْبَةٌ كَعُقْبَةِ أَحَدِهِمْ، قَالَ: فَضَمَمْتُ اثْنَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً إِلَيَّ، وَمَا لِي إِلَّا عُقْبَةٌ كَعُقْبَةِ أَحَدِهِمْ مِنْ جَمَلِي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی غزوے کا ارادہ کیا تو فرمایا: اے گروہ مہاجرین و انصار تمہارے بھائی ایسے لوگ ہیں جن کے پاس کوئی مال و دولت اور قبیلہ نہیں ہے اس لئے تمہیں اپنے ساتھ دو تین آدمیوں کو ملا لینا چاہیے چنانچہ اس موقع پر ہمیں اپنے اونٹ کی پیٹھ پر صرف اتنی دیر ملتی جتنی دیر اس کی باری رہتی میں نے بھی اپنے ساتھ دو یا تین آدمی ملا لئے اور میرا بھی اپنے اونٹ میں باری کا وہی حق تھا جو ان میں سے کسی کا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14863]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح كسابقه
الحكم: إسناده صحيح كسابقه