بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 14864
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 14864
حدیث نمبر: 14864 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبِيدَةُ ، الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ ، نُبَيْحٍ العَنَزِيِّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ نُبَيْحٍ العَنَزِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: فَقَدْتُ جَمَلِي لَيْلَةً، فَمَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَشُدُّ لِعَائِشَةَ، قَالَ: فَقَالَ لِي:" مَا لَكَ يَا جَابِرُ؟"، قَالَ: قُلْتُ: فَقَدْتُ جَمَلِي، أَوْ ذَهَبَ جَمَلِي فِي لَيْلَةٍ ظَلْمَاءَ، قَالَ: فَقَالَ لِي:" هَذَا جَمَلُكَ، اذْهَبْ فَخُذْهُ"، قَالَ: فَذَهَبْتُ نَحْوًا مِمَّا قَالَ لِي، فَلَمْ أَجِدْهُ، قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا وَجَدْتُهُ، قَالَ: فَقَالَ لِي:" هَذَا جَمَلُكَ اذْهَبْ فَخُذْهُ"، قَالَ: فَذَهَبْتُ نَحْوًا مِمَّا قَالَ لِي، فَلَمْ أَجِدْهُ، قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي يَا نَبِيَّ اللَّهِ، لَا وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُهُ، قَالَ: فَقَالَ لِي:" عَلَى رِسْلِكَ"، حَتَّى إِذَا فَرَغَ، أَخَذَ بِيَدِي، فَانْطَلَقَ بِي حَتَّى أَتَيْنَا الْجَمَلَ، فَدَفَعَهُ إِلَيَّ، قَالَ:" هَذَا جَمَلُكَ"، قَالَ: وَقَدْ سَارَ النَّاسُ، قَالَ: فَبَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ عَلَى جَمَلِي فِي عُقْبَتِي، قَالَ: وَكَانَ جَمَلًا فِيهِ قِطَافٌ، قَالَ: قُلْتُ: يَا لَهْفَ أُمِّي، أَنْ يَكُونَ لِي إِلَّا جَمَلٌ قَطُوفٌ! قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدِي يَسِيرُ، قَالَ: فَسَمِعَ مَا قُلْتُ، قَالَ: فَلَحِقَ بِي، فَقَالَ:" مَا قُلْتَ يَا جَابِرُ قَبْلُ؟"، قَالَ: فَنَسِيتُ مَا قُلْتُ، قَالَ: قُلْتُ: مَا قُلْتُ شَيْئًا يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَالَ: فَذَكَرْتُ مَا قُلْتُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، يَا لَهْفَاهُ، أَنْ يَكُونَ لِي إِلَّا جَمَلٌ قَطُوفٌ! قَالَ: فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَجُزَ الْجَمَلِ بِسَوْطٍ، أَوْ بِسَوْطِي، قَالَ: فَانْطَلَقَ أَوْضَعَ، أَوْ أَسْرَعَ جَمَلٍ رَكِبْتُهُ قَطُّ، وَهُوَ يُنَازِعُنِي خِطَامَهُ. قَالَ: فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْتَ بَائِعِي جَمَلَكَ هَذَا؟"، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" بِكَمْ؟"، قَالَ: قُلْتُ: بِوُقِيَّةٍ، قَالَ: قَالَ لِي:" بَخٍ بَخٍ، كَمْ فِي أُوقِيَّةٍ مِنْ نَاضِحٍ وَنَاضِحٍ!"، قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا بِالْمَدِينَةِ نَاضِحٌ أُحِبُّ أَنَّهُ لَنَا مَكَانَهُ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ أَخَذْتُهُ بِوُقِيَّةٍ"، قَالَ: فَنَزَلْتُ عَنِ الرَّحْلِ إِلَى الْأَرْضِ، قَالَ:" مَا شَأْنُكَ؟"، قَالَ: قُلْتُ: جَمَلُكَ، قَالَ: قَالَ لِي:" ارْكَبْ جَمَلَكَ"، قَالَ: قُلْتُ: مَا هُوَ بِجَمَلِي، وَلَكِنَّهُ جَمَلُكَ، قَالَ: كُنَّا نُرَاجِعُهُ مَرَّتَيْنِ فِي الْأَمْرِ إِذَا أَمَرَنَا بِهِ، فَإِذَا أَمَرَنَا الثَّالِثَةَ، لَمْ نُرَاجِعْهُ، قَالَ: فَرَكِبْتُ الْجَمَلَ، حَتَّى أَتَيْتُ عَمَّتِي بِالْمَدِينَةِ، قَالَ: وَقُلْتُ لَهَا: أَلَمْ تَرَيْ أَنِّي بِعْتُ نَاضِحَنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُوقِيَّةٍ؟، قَالَ: فَمَا رَأَيْتُهَا أَعْجَبَهَا ذَلِكَ، قَالَ: وَكَانَ نَاضِحًا فَارِهًا، قَالَ: ثُمَّ أَخَذْتُ شَيْئًا مِنْ خَبَطٍ، أَوْجَرْتُهُ إِيَّاهُ، ثُمَّ أَخَذْتُ بِخِطَامِهِ، فَقُدْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقَاوِمًا رَجُلًا يُكَلِّمُهُ، قَالَ: قُلْتُ: دُونَكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، جَمَلَكَ، قَالَ: فَأَخَذَ بِخِطَامِهِ، ثُمَّ نَادَى بِلَالًا، فَقَالَ:" زِنْ لِجَابِرٍ أُوقِيَّةً وَأَوْفِهِ"، فَانْطَلَقْتُ مَعَ بِلَالٍ، فَوَزَنَ لِي أُوقِيَّةً وَأَوْفَى مِنَ الْوَزْنِ، قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَائِمٌ يُحَدِّثُ ذَلِكَ الرَّجُلَ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: قَدْ وَزَنَ لِي أُوقِيَّةً وَأَوْفَانِي، قَالَ: فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ ذَهَبْتُ إِلَى بَيْتِي وَلَا أَشْعُرُ، قَالَ: فَنَادَى" أَيْنَ جَابِرٌ؟"، قَالُوا: ذَهَبَ إِلَى أَهْلِهِ، قَالَ:" أَدْرِكْ، ائْتِنِي بِهِ"، قَالَ: فَأَتَانِي رَسُولُهُ يَسْعَى، قَالَ: يَا جَابِرُ، يَدْعُوكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ:" فَخُذْ جَمَلَكَ"، قُلْتُ: مَا هُوَ جَمَلِي، وَإِنَّمَا هُوَ جَمَلُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" خُذْ جَمَلَكَ"، قُلْتُ: مَا هُوَ جَمَلِي، إِنَّمَا هُوَ جَمَلُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ:" خُذْ جَمَلَكَ" , قَالَ: فَأَخَذْتُهُ، قَالَ: فَقَالَ:" لَعَمْرِي مَا نَفَعْنَاكَ لِنُنْزِلَكَ عَنْهُ"، قَالَ: فَجِئْتُ إِلَى عَمَّتِي بِالنَّاضِحِ مَعِي، وَبِالْوَقِيَّةِ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهَا: مَا تَرَيْنَ، رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي أُوقِيَّةً، وَرَدَّ عَلَيَّ جَمَلِي؟!.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک رات میرا اونٹ گم ہو گیا میں اسے تلاش کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سے گزرا اس وقت وہ سیدنا عائشہ کے لئے سواری تیار کر رہے تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: جابر رضی اللہ عنہ کیا ہوا میں نے عرض کیا: اس اندھیری رات میں میرا اونٹ گم ہو گیا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا اونٹ یہ رہا جاؤ اسے لے جاؤ میں اس طرف چلا گیا جہاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اشارہ کیا تھا لیکن مجھے وہاں وہ نہ ملا میں نے واپس آ کر عرض کیا: کہ مجھے تو اونٹ نہیں ملا دوسری مرتبہ پھر ایسا ہی ہوا تیسری مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے ٹھہرنے کے لئے فرمایا: اور فارغ ہو کر میرا ہاتھ پکڑا اور چل پڑے یہاں تک کہ ہم اونٹ کے پاس گئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ میرے حوالے کر کے فرمایا: یہ رہا تمہارا اونٹ۔ لوگ چل رہے تھے میں بھی اپنی باری پر اپنے اونٹ پر سوار ہو چل رہا تھا میرا اونٹ سست رفتار تھا میری زبان سے نکل گیا افسوس مجھے اونٹ بھی ملا تو ایسا سست نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتفاقا مجھ سے کچھ ہی پیچھے تھے انہوں نے بات سن لی وہ میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ جابر رضی اللہ عنہ کیا کہہ رہے ہواس وقت تک میں اپنی بات بھول چکا تھا اس لئے کہہ دیا کہ میں نے تو کچھ نہیں کہا تھوڑی دیر بعد مجھے یاد آیا تو عرض کیا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں نے یہ کہا تھا کہ افسوس مجھے اونٹ بھی ملا تو وہ بھی سست اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک کوڑے سے اونٹ کی دم پر ضرب لگائی وہ اسی وقت ایسا تیز رفتار ہو گیا کہ اس سے پہلے میں اس سے زیادہ کسی تیز رفتار اونٹ پر سوار نہیں ہوا کہ وہ میرے ہاتھوں سے نکلاجا رہا تھا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اونٹ میرے ہاتھوں بیچتے ہو میں نے اثبات میں سرہلایا تو آپ نے قیمت پوچھی میں نے ایک اوقیہ چاندی بتائی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: واہ واہ ایک اوقیہ میں تو اتنے اتنے اونٹ آجاتے ہیں میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ منورہ میں ہمارے نزدیک اس سے زیادہ اچھا اونٹ نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اسے ایک اوقیہ کے بدلے خرید لیا اس پر میں اپنی سواری سے زمین پر اتر گیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: کیا ہوا میں نے عرض کیا: کہ اونٹ تو آپ کا ہو چکا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اپنے اونٹ پر سوار ہو جا میں نے عرض کیا: کہ اب یہ میرا اونٹ نہیں ہے آپ کا اونٹ ہے ہم نے دو مرتبہ اسی طرح تکرار کیا تیسری مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب حکم دیا تو میں نے تکرار نہیں کیا اور اپنے اونٹ پر سوار ہو گیا۔ یہاں تک کہ میں مدینہ منورہ میں اپنی پھوپھی کے پاس پہنچ گیا اور انہیں بتایا کہ دیکھیں تو سہی میں نے اپنا اونٹ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایک اوقیہ میں فروخت کر دیا ہے انہوں نے کہا میں نے اس سے زیادہ تعجب خیز بات کبھی نہیں دیکھی کیونکہ ہمارا اونٹ بہت تھکا ہوا تھا۔ پھر میں نے رسی لے کر اس کے منہ میں لگام ڈالی اور لے کر کھینچتا ہوا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے کسی سے باتیں کر رہے ہیں میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ اپنا اونٹ لے لیجیے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی لگام پکڑ کر سیدنا بلال کو آوازی دی اور فرمایا کہ جابر رضی اللہ عنہ کو وزن کر کے ایک اوقیہ چاندی دیدو اور پورا تولنا چنانچہ میں سیدنا بلال کے ساتھ چلا گیا اور انہوں نے مجھے ایک اوقیہ چاندی پوری پوری تول کر دی میں واپس آیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسی آدمی کے ساتھ کھڑے ہوئے باتیں کر رہے تھے میں نے عرض کیا: کہ انہوں نے مجھے ایک اوقیہ چاندی پوری پوری تول دی ہے یہ کہہ کر میں بےخودی کے عالم میں اپنے گھر کی طرف چل پڑا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پکار کر کہا اے جابر رضی اللہ عنہ کہاں گیا؟ لوگوں نے بتایا کہ وہ اپنے گھرچلا گیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اسے بلا کر لاؤ چنانچہ قاصد میرے پاس دوڑتا ہوا آیا اور کہنے لگا جابر رضی اللہ عنہ تمہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بلا رہے ہیں میں حاضر ہوا تو فرمایا کہ اپنا اونٹ تو لے لو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ میرا اونٹ نہیں ہے وہ تو آپ کا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اپنا اونٹ لے لو۔ چنانچہ میں نے اسے لے لیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میری زندگی کی قسم ہم نے تمہیں فائدہ اس لئے نہیں پہنچایا تھا کہ تمہیں سواری سے اتاریں چنانچہ میں وہ اونٹ اور ایک اوقیہ چاندی لے کر اپنی پھوپھی کے پاس آیا اور انہیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے ایک [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14864]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (14863) باب پر واپس اگلی حدیث (14865) →