بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 20 از 60
حدیث نمبر: 14492 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، زُهَيْرٌ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ حَسَنٌ فِي حَدِيثِهِ: عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالتِ: امْرَأَةُ بَشِيرٍ انْحَلْ ابْنِي غُلَامَكَ، وَأَشْهِدْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ ابْنَةَ فُلَانٍ سَأَلَتْنِي أَنْ أَنْحَلَ ابْنَهَا غُلَامِي، وَقَالَتْ: وَأَشْهِدْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَلَهُ إِخْوَةٌ؟" قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ:" فَكُلَّهُمْ أَعْطَيْتَ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَهُ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَلَيْسَ يَصْلُحُ هَذَا، وَإِنِّي لَا أَشْهَدُ إِلَّا عَلَى حَقٍّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ کی بیوی نے ان سے کہا کہ اپنا غلام میرے بیٹے کو ہبہ کر دو اور اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گواہ بنا لو بشیر وہاں سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: فلاں کی بیٹی (میری بیوی) نے مجھ سے یہ درخواست کی ہے کہ میں اپنا غلام اس کے بیٹے کو ہبہ کر دوں اور اس پر آپ کو گواہ بناؤں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس لڑکے کے کچھ اور بھائی ہیں انہوں نے کہا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ان سب کو بھی وہی کچھ دو گے جو اسے دے رہے ہو۔انہوں نے کہا نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر تو یہ مناسب نہیں ہے اور میں کسی ناحق پر گواہ نہیں بن سکتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14492]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، م: 1624، وهذا إسناد لم يصرح فيه أبو الزبير بسماعه من جابر
الحكم: صحيح لغيره، م: 1624، وهذا إسناد لم يصرح فيه أبو الزبير بسماعه من جابر
حدیث نمبر: 14493 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، الْمُبَارَكُ ، الْحَسَنُ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ السَّاعَةِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِشَهْرٍ، فَقَالَ:" تَسْأَلُونِي عَنِ السَّاعَةِ، وَإِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ؟! فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا أَعْلَمُ الْيَوْمَ نَفْسًا مَنْفُوسَةً يَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے ایک ماہ قبل کسی شخص نے قیامت کے متعلق پوچھا، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم مجھ سے قیامت کے متعلق پوچھ رہے ہو، اس کا حقیقی علم اللہ کے پاس ہے، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں تو آج یہ بھی نہیں جانتا جو شخص آج سانس لے رہا ہے، اس پر سو سال بھی گز رسکیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14493]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2538، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، فإن الحسن البصري لم يسمع من جابر
الحكم: حديث صحيح، م: 2538، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، فإن الحسن البصري لم يسمع من جابر
حدیث نمبر: 14494 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ أَبُو إِسْحَاقَ ، يَعْقُوبُ ، عِيسَى بْنِ جَارِيَةَ ، جَابِرٍ الْأَنْصَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ أَبُو إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، عَنْ عِيسَى بْنِ جَارِيَةَ ، عَنْ جَابِرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكِلَابِ الْمَدِينَةِ أَنْ تُقْتَلَ، فَجَاءَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَقَالَ: إِنَّ مَنْزِلِي شَاسِعٌ، وَلِي كَلْبٌ فَرَخَّصَ لَهُ أَيَّامًا، ثُمَّ أَمَرَ، بِقَتْلِ كَلْبِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا کہ مدینہ منورہ میں جتنے کتے ہیں، سب مار دیئے جائیں، اس پر سیدنا عبداللہ ابن ام مکتوم آئے اور کہنے لگے کہ میرا گھر دور ہے اور میرے پاس ایک کتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں چند دن تک کے لئے رخصت دی اور پھر انہیں بھی اپنا کتا مار دینے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14494]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عيسي بن جارية
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عيسي بن جارية
حدیث نمبر: 14495 مسند احمد
أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَطَاءً ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ: وأَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ عَطَاءً كَتْب يَذْكُرُ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ عَامَ الْفَتْحِ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَنَازِيرِ، وَبَيْعَ الْمَيْتَةِ، وَبَيْعَ الْخَمْرِ، وَبَيْعَ الْأَصْنَامِ"، وَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَرَى فِي شُحُومِ الْمَيْتَةِ، فَإِنَّهَا يُدْهَنُ بِهَا السُّفُنُ وَالْجُلُودُ، وَيُسْتَصْبَحُ بِهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَاتَلَ اللَّهُ يَهُودَ، إِنَّ اللَّهَ لَمَّا حَرَّمَ عَلَيْهِمْ شُحُومَهَا، أَخَذُوهُ فَجَمَّلُوهُ ثُمَّ بَاعُوهُ، فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فتح مکہ کے سال یہ فرماتے ہوئے سن کہ اللہ تعالی اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم شراب، مردار، خنزیر اور بتوں کی بیع کو حرام قرار دیتے ہیں، کسی شخص نے پوچھا: یا رسول اللہ! یہ بتائیے کہ مردار کی چربی کا کیا حکم ہے؟ کیونکہ اس سے کشتیوں میں تیل ڈالا جاتا ہے، اور جسم کی کھالوں پر ملا جاتا ہے اور لوگ اس سے چراغ جلاتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: (نہیں یہ بھی حرام ہے، پھر فرمایا کہ) یہودیوں پر اللہ کی مار ہو، اللہ نے جب ان پر چربی کو حرام کر دیا تو انہوں نے اسے پگھلا کر بیچنا اور اس کی قیمت کھانا شروع کر دی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14495]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2236، م: 1581
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2236، م: 1581
حدیث نمبر: 14496 مسند احمد
أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، شُرَحْبِيلُ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ، فَجِئْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ عَنْ يَسَارِهِ، فَنَهَانِي، فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، ثم جَاءَ صَاحِبٌ لِي، فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ، فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، مُخَالِفًا بَيْنَ طَرَفَيْهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مرتبہ نماز مغرب پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے، میں آ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے منع فرمایا: اور اپنی دائیں جانب کھڑا کر لیا، پھر ایک اور صاحب آگئے اور ہم دونوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے صف بنالی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں ایک کپڑے میں نماز پڑھائی اور اس کے دونوں کنارے جانب مخالف سے بدل لئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14496]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شرحبيل، وهو ابن سعد، وأنظر صحيح مسلم: 3010 ضمن حديث طويل
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شرحبيل، وهو ابن سعد، وأنظر صحيح مسلم: 3010 ضمن حديث طويل
حدیث نمبر: 14497 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَجْتَنِي الْكَبَاثَ، فَقَالَ:" عَلَيْكُمْ بِالْأَسْوَدِ مِنْهُ، فَإِنَّهُ أَطْيَبُهُ"، قَالَ: قُلْنَا: وَكُنْتَ تَرْعَى الْغَنَمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" نَعَمْ، وَهَلْ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ رَعَاهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ پیلو چن رہے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کے سیاہ دانے اکٹھے کرو کہ وہ بہت عمدہ ہوتے ہیں۔ ہم نے عرض کی کہ کیا آپ بھی بکریاں چراتے رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں اور ہر نبی نے بکریاں چرائیں ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14497]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5453، م: 2050
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5453، م: 2050
حدیث نمبر: 14498 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أُسَامَةُ ، عَطَاءٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ: نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَلَقَ وَجَلَسَ لِلنَّاسِ، فَمَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا قَالَ:" لَا حَرَجَ، لَا حَرَجَ" حَتَّى جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ، قَالَ:" لَا حَرَجَ" ثُمَّ جَاءَ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ:" لَا حَرَجَ"، ثم قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ، وَالْمُزْدَلِفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ، وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ، وَكُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ طَرِيقٌ وَمَنْحَرٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حج میں قربانی کی اور بال منڈوا کر لوگوں کے لئے بیٹھ گئے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جو سوال بھی پوچھا گیا تو آپ نے یہی فرمایا کہ کوئی حرج نہیں، حتٰی کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ میں نے قربانی کرنے سے پہلے بال منڈوا لئے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں پھر دوسرا آیا اور کہنے لگا، یا رسول اللہ! میں نے رمی کرنے سے پہلے حلق کروا لیا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر فرمایا کہ کوئی حرج نہیں، اور یہ بھی فرمایا کہ پورا میدان عرفات وقوف کی جگہ ہے، پورا میدان مزدلفہ وقوف کی جگہ ہے پورا میدان منیٰ قربان گاہ ہے اور مکہ مکرمہ کا ہر کشادہ راستہ قربان گاہ اور راستہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14498]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن لأجل أسامة بن زيد الليثي
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن لأجل أسامة بن زيد الليثي
حدیث نمبر: 14499 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، أَبُو خَيْثَمَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كَانَ يُنْبَذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ، فَإِذَا لَمْ يُوجَدْ سِقَاءٌ، نُبِذَ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ لَهُ: وَأَنَا أَسْمَعُ مِنْ بِرَامٍ؟ قَالَ أَوْ مِنْ بَرَامٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے ایک مشکیزے میں نبیذ بنائی جاتی تھی، اور اگر مشکیزہ نہ ہوتا تو پتھر کی ہنڈیا میں بنا لی جاتی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14499]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1999
الحكم: إسناده صحيح، م: 1999
حدیث نمبر: 14500 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، أَبُو عَقِيلٍ أَبُو عَقِيلٍ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَقِيلٍ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ أَبُو عَقِيلٍ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَقِيلٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً، فَلَهُ فِيهَا أَجْرٌ، وَمَا أَكَلَتْ الْعَافِيَةُ مِنْهَا، فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی ویران بنجر زمین کو آباد کرے اسے اس کا اجر ملے گا اور جتنے جانور اس میں سے کھائیں گے اسے ان سب پر صدقے کا ثواب ملے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14500]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 14501 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَطَاءٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا نُصِيبُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَغَانِمِنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ الْأَسْقِيَةَ وَالْأَوْعِيَةَ، فَنَقْتَسِمُهَا وَكُلُّهَا مَيْتَةٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مشرکین کے مال غنیمت میں سے مشکیزے اور برتن بھی ملتے تھے ہم اسے تقسیم کر دیتے تھے اور یہ سب مردار ہوتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14501]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل سليمان بن موسى الأموي، وقد توبع فى الحديث الآتي برقم: 15053
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل سليمان بن موسى الأموي، وقد توبع فى الحديث الآتي برقم: 15053
حدیث نمبر: 14502 مسند احمد
هَاشِمٌ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، زُهَيْرٌ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، حَسَنٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ حَسَنٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَذْبَحُوا إِلَّا مُسِنَّةً، إِلَّا أَنْ تَعْسُرَ عَلَيْكُمْ، فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنَ الضَّأْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہی جانور ذبح کیا کر و جو سال بھر کا ہو چکا ہوالبتہ اگر مشکل ہو تو بھیڑ کا چھ ماہ کا بچہ بھی ذبح کر سکتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14502]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر، م: 1963
الحكم: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر، م: 1963
حدیث نمبر: 14503 مسند احمد
هَاشِمٌ ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، زُهَيْرٌ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَمُطِرْنَا فَقَالَ:" لِيُصَلِّ مَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فِي رَحْلِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ سفر پر نکلے راستے میں بارش ہو نے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص تم میں سے خیمے میں نماز پڑھنا چاہے تو وہ وہیں نماز پڑھ لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14503]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، م: 698، أبو الزبير لم يصرح بالتحديث، وانظر:14347
الحكم: صحيح لغيره، م: 698، أبو الزبير لم يصرح بالتحديث، وانظر:14347
حدیث نمبر: 14504 مسند احمد
هَاشِمٌ ، زُهَيْرٌ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يقول:" مَنْ انْقَطَعَ شِسْعُ نَعْلِهِ، أَوْ إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ نَعْلِ أَحَدِكُمْ، فَلَا يَمْشِي فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ حَتَّى يُصْلِحَ شِسْعَهُ، وَلَا يَمْشِي فِي خُفٍّ وَاحِدٍ، وَلَا يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ، وَلَا يَحْتَبِي بِالثَّوْبِ الْوَاحِدِ، وَلَا يَلْتَحِفُ الصَّمَّاءَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کسی کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ صرف ایک جوتی پہن کر نہ چلے جب تک دوسری کو نہ ٹھیک کر لے اور صرف ایک موزہ پہن کر بھی نہ چلے بائیں ہاتھ سے نہ کھائے ایک کپڑے میں اپناجسم نہ لپیٹے اور نہ ہی گوٹ مار کر بیٹھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14504]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2099
الحكم: إسناده صحيح، م: 2099
حدیث نمبر: 14505 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَهَذَا الْعَبْدُ الصَّالِحُ الَّذِي تَحَرَّكَ لَهُ الْعَرْشُ، وَفُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، شُدِّدَ عَلَيْهِ، فَفَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ"، وَقَالَ مَرَّةً:" فُتِّحَتْ"، وَقَالَ مَرَّةً:" ثُمَّ فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ"، وَقَالَ مَرَّةً: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَعْدٍ يَوْمَ مَاتَ وَهُوَ يُدْفَنُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا سعد کے متعلق فرمایا کہ یہ نیک آدمی تھا جس کی موت سے عرش الٰہی بھی ہلنے لگا اور اس کے لئے آسمان کے سارے دروازے کھول دیئے گئے پہلے ان کے اوپر سختی کی گئی تھی اللہ نے بعد میں اس کے لئے کشادگی فرما دی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14505]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد فيه انقطاع، فإن معاذ بن رفاعة لم يسمعه من جابر، وانظر: 14873 و 14153
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد فيه انقطاع، فإن معاذ بن رفاعة لم يسمعه من جابر، وانظر: 14873 و 14153
حدیث نمبر: 14506 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، سَعِيدٌ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ فَآخُذُ بِيَدِي قَبْضَةً مِنْ حَصًى، فَأَجْعَلُهَا فِي يَدِي الْأُخْرَى حَتَّى تَبْرُدَ، ثُمَّ أَسْجُدَ عَلَيْهَا مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ. قَالَ عَبْد اللَّهِ وَكَانَ فِي كِتَابِ أَبِي، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، فَضَرَبَ أَبِي عَلَيْهِ، لِأَنَّهُ خَطَأٌ، وَإِنَّمَا هُوَ سَعِيدُ بْنُ الْحَارِثِ أَخْطَأَ ابْنُ بِشْرٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز ظہر پڑھتے تو میں اپنے ہاتھ میں سے ایک مٹھی کنکر یاں اٹھاتا اور دوسرے ہاتھ میں رکھ لیتا اور جب وہ کچھ ٹھنڈی ہو جاتیں تو انہیں زمین پر رکھ کر ان پر سجدہ کر لیتا کیونکہ گرمی کی بڑی شدت ہو تی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14506]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل محمد بن عمرو بن علقمة، وانظر ما بعده
الحكم: إسناده حسن من أجل محمد بن عمرو بن علقمة، وانظر ما بعده
حدیث نمبر: 14507 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ، فَآخُذُ قَبْضَةً مِنْ حَصًى فِي كَفِّي لِتَبْرُدَ حَتَّى أَسْجُدَ عَلَيْهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز ظہر پڑھتے تو میں اپنے ہاتھ میں سے ایک مٹھی کنکر یاں اٹھاتا اور دوسرے ہاتھ میں رکھ لیتا اور جب وہ کچھ ٹھنڈی ہو جاتیں تو انہیں زمین پر رکھ کر ان پر سجدہ کر لیتا کیونکہ گرمی کی بڑی شدت ہو تی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14507]
حکم دارالسلام
إسناده حسن كسابقه، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده حسن كسابقه، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 14508 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ يُقَلِّبُ ظَهْرَهُ لِبَطْنٍ فَسَأَلَ عَنْهُ، فَقَالُوا: صَائِمٌ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، فَدَعَاهُ فَأَمَرَهُ، أَنْ يُفْطِرَ، فَقَالَ:" أَمَا يَكْفِيكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى تَصُومَ!".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گزر ایک آدمی پر ہوا جو اپنی کمر اور پیٹ پر لوٹ پوٹ ہو رہا تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے متعلق پوچھا: تو لوگوں نے بتایا کہ یہ روزے سے ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے بلا کر روزہ توڑنے کا حکم دیا اور فرمایا: کیا تمہارے لئے اتناہی کافی نہیں ہے کہ تم اللہ کے راستے میں نکلے ہوئے ہو رسول اللہ کے ساتھ ہو کہ پھر بھی روزہ رکھتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14508]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، وانظر: 14193
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، وانظر: 14193
حدیث نمبر: 14509 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: أَكَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَدِيدَ بِالْمَدِينَةِ مِنْ قَدِيدِ الْأَضْحَى.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے مدینہ منورہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ قربانی کا خشک کیا ہوا گوشت کھایا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14509]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي كسابقه ، وانظر: 15168
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي كسابقه ، وانظر: 15168
حدیث نمبر: 14510 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا ابْتَعْتُمْ طَعَامًا فَلَا تَبِيعُوهُ حَتَّى تَقْبِضُوهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم غلہ خریدو تو اس وقت تک کسی دوسرے کو نہ بیچو جب تک اس پر قبضہ نہ کر لو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14510]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي كسابقه
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي كسابقه
حدیث نمبر: 14511 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَيَّاشُ بْنُ عُقْبَةَ ، خَيْرُ بْنُ نُعَيْمٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنِي خَيْرُ بْنُ نُعَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الْعَشْرَ عَشْرُ الْأَضْحَى، وَالْوَتْرَ يَوْمُ عَرَفَةَ، وَالشَّفْعَ يَوْمُ النَّحْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سورت فجر میں دس دنوں سے مراد ذی الحجہ کے پہلے دس دن ہیں وتر سے مراد یوم عرفہ ہے اور شفع سے مراد دس ذی الحجہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14511]
حکم دارالسلام
هذا إسناد لابأس برجاله، وأبو الزبیر لم یصرح بسماعه من جابر
الحكم: هذا إسناد لابأس برجاله، وأبو الزبیر لم یصرح بسماعه من جابر