مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، سَعِيدٌ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ فَآخُذُ بِيَدِي قَبْضَةً مِنْ حَصًى، فَأَجْعَلُهَا فِي يَدِي الْأُخْرَى حَتَّى تَبْرُدَ، ثُمَّ أَسْجُدَ عَلَيْهَا مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ. قَالَ عَبْد اللَّهِ وَكَانَ فِي كِتَابِ أَبِي، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، فَضَرَبَ أَبِي عَلَيْهِ، لِأَنَّهُ خَطَأٌ، وَإِنَّمَا هُوَ سَعِيدُ بْنُ الْحَارِثِ أَخْطَأَ ابْنُ بِشْرٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز ظہر پڑھتے تو میں اپنے ہاتھ میں سے ایک مٹھی کنکر یاں اٹھاتا اور دوسرے ہاتھ میں رکھ لیتا اور جب وہ کچھ ٹھنڈی ہو جاتیں تو انہیں زمین پر رکھ کر ان پر سجدہ کر لیتا کیونکہ گرمی کی بڑی شدت ہو تی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14506]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل محمد بن عمرو بن علقمة، وانظر ما بعده
الحكم: إسناده حسن من أجل محمد بن عمرو بن علقمة، وانظر ما بعده