زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ يُقَلِّبُ ظَهْرَهُ لِبَطْنٍ فَسَأَلَ عَنْهُ، فَقَالُوا: صَائِمٌ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، فَدَعَاهُ فَأَمَرَهُ، أَنْ يُفْطِرَ، فَقَالَ:" أَمَا يَكْفِيكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى تَصُومَ!".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گزر ایک آدمی پر ہوا جو اپنی کمر اور پیٹ پر لوٹ پوٹ ہو رہا تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے متعلق پوچھا: تو لوگوں نے بتایا کہ یہ روزے سے ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے بلا کر روزہ توڑنے کا حکم دیا اور فرمایا: کیا تمہارے لئے اتناہی کافی نہیں ہے کہ تم اللہ کے راستے میں نکلے ہوئے ہو رسول اللہ کے ساتھ ہو کہ پھر بھی روزہ رکھتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14508]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، وانظر: 14193
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، وانظر: 14193