بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 42 از 60
حدیث نمبر: 14932 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ ، الْحَجَّاجُ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سُئِلَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ بِالْخُمُسِ؟، قَالَ" كَانَ يَحْمِلُ الرَّجُلَ مِنْهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ الرَّجُلَ، ثُمَّ الرَّجُلَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ خمس کا کیا کرتے ہیں انہوں نے فرمایا: کسی مجاہد کو سواری مہیا کر دیتے تھے پھر کسی دوسرے کو اللہ کے راستہ میں سواری دیتے تھے پھر کسی تیسرے کو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14932]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل حجاج بن أرطاة
الحكم: إسناده حسن من أجل حجاج بن أرطاة
حدیث نمبر: 14933 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، حُصَيْنٌ ، وَعَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، سالما ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي حُصَيْنٌ ، وَعَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، سمعا سالما ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا ، قَالَ: أَصَابَنَا عَطَشٌ، فَجَهَشْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فَوَضَعَ يَدَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ مَاءٍ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَجَعَلَ يَثُورُ مِنْ خِلَالِ أَصَابِعِهِ، كَأَنَّهَا عُيُونٌ"، وَقَالَ عَمْرٌو وحُصَيْنٌ: كِلَاهُمَا قَالَ:" خُذُوا بِسْمِ اللَّهِ"، حَتَّى وَسِعَنَا وَكَفَانَا، وَقَالَ لِجَابِرٍ: كَمْ كُنْتُمْ؟، قَالَ: كُنَّا أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةٍ، وَلَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حدیبیہ کے مقام پر ہمیں پیاس نے ستایا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس صرف ایک پیالہ تھا جس سے آپ وضو فرما رہے تھے لوگ گھبرائے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پیالے میں اپنے دست مبارک کو رکھ دیا اور فرمایا: بسم اللہ پڑھ کر یہ پانی لو اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان چشموں کی طرح پانی ابلنے لگا ہم سب نے اسے پیا اور وضو کیا راوی نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کتنے لوگ تھے انہوں نے فرمایا: پندرہ سو اور اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو تب بھی وہ پانی ہمارے لئے کافی ہوتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14933]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3576، م: 1856
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3576، م: 1856
حدیث نمبر: 14934 مسند احمد
الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، شَرِيكٌ ، سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ كُهَيْلٍ ، عَطَاءٍ ، وأبى الزبير ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ كُهَيْلٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، وأبى الزبير ، عَنْ جَابِرٍ " أَنَّ رَجُلًا مَاتَ، وَتَرَكَ مُدَبَّرًا وَدَيْنًا، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعُوهُ فِي دَيْنِهِ، فَبَاعُوهُ بِثَمَانِ مِائَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی فوت ہو گیا اس نے ایک مدبر غلام چھوڑا اور مقروض ہو کر مرا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کے غلام کو اس کے قرض کے عوض بیچ دو چنانچہ لوگوں نے اسے آٹھ سو درہم کے عوض فروخت کر دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14934]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: مات وترك دينا، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ، وقد أخطأ كما قال بعض أهل العلم - فالمحفوظ: أن سيد المدبر كان حيا يوم بيعه، ولم يذكر أحد أنه كان مدينا، وانظر: 14133
الحكم: حديث صحيح دون قوله: مات وترك دينا، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ، وقد أخطأ كما قال بعض أهل العلم - فالمحفوظ: أن سيد المدبر كان حيا يوم بيعه، ولم يذكر أحد أنه كان مدينا، وانظر: 14133
حدیث نمبر: 14935 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، زَكَرِيَّا ، عَامِرٌ ، جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ أَبَاهُ تُوُفِّيَ، وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ أَبِي تُوُفِّيَ، وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، وَلَيْسَ عِنْدِي إِلَّا مَا يُخْرِجُ نَخْلُهُ، فَلَا يَبْلُغُ مَا يَخْرُجُ سُدُسَ مَا عَلَيْهِ، قَالَ: فَانْطَلَقَ مَعِي لِكَيْلَا يُفَحَّشَ عَلَيَّ الْغُرَمَاءُ، فَمَشَى حَوْلَ بَيْدَرٍ مِنْ بَيَادِرِ التَّمْرِ، ثُمَّ دَعَا، وَجَلَسَ عَلَيْهِ، وَقَالَ:" أَيْنَ غُرَمَاؤُهُ؟"، فَأَوْفَاهُمْ الَّذِي لَهُمْ، وَبَقِيَ مِثْلُ الَّذِي أَعْطَاهُمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والد سیدنا عبداللہ بن عمرو بن حرام شہید ہوئے تو ان پر کچھ قرض تھا میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: کہ میرے والد فوت ہو گئے ہیں ان پر کچھ قرض تھا اور ہمارے پاس تو صرف وہی ہے جو ہمارے درخت کی پیدوار ہے لیکن وہ تو ان کے قرض کے چھٹے حصے کو بھی نہیں پہنچتی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے ساتھ تشریف لے گئے تاکہ قرض خواہ مجھ سے بدتمیزی نہ کر ے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھجور کے ڈھیر کے گرد چکر لگایا وہیں تشریف لے گئے اور دعا کر کے فرمایا کہ قرض خواہوں کو بلاؤ حتی کہ سب کا قرض پورا کر دیا اور میری کھجوریں اسی طرح رہ گئیں جتنی پہلے تھیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14935]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3580
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3580
حدیث نمبر: 14936 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، سُفْيَانُ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ يَوْمَ الْأَحْزَابِ؟"، فَقَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا، ثُمَّ قَالَ:" مَنْ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ؟"، فَقَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا، ثُمَّ قَالَ:" مَنْ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ؟"، فَقَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا، قَالَ:" لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ، وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ خندق کے دن لوگوں کو دشمن کی خبر لانے کے لئے تین مرتبہ ترغیب دی اور تینوں مرتبہ سیدنا زبیر نے اپنے آپ کو اس خدمت کے لئے پیش کیا جس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک حواری ہوتا تھا اور میرے حواری زبیر ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14936]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2846، م: 2415
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2846، م: 2415
حدیث نمبر: 14937 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، سُفْيَانُ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: بَايِعْنِي عَلَى الْإِسْلَامِ، فَبَايَعَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ، ثُمَّ جَاءَ مِنَ الْغَدِ مَحْمُومًا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقِلْنِي، فَأَبَى، ثُمَّ جَاءَ مِنَ الْغَدِ مَحْمُومًا، فَقَالَ: أَقِلْنِي، فَأَبَى، فَلَمَّا وَلَّى، قَالَ:" الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ، تَنْفِي خَبَثَهَا، وَتَنْصَعُ طَيِّبَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کے دست مبارک پر بیعت کر لی کچھ عرصے میں اسے بہت تیز بخار تھا وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میری بیعت فسخ کر دیجیے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انکار کر دیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا چوتھی مرتبہ وہ نہ آیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے معلوم کیا تو صحابہ نے بتایا کہ وہ مدینہ منورہ سے چلا گیا ہے اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ بھٹی کی طرح ہے جو میل کچیل کو دور کر دیتا ہے اور عمدہ چیز کو چمکدار اور صاف ستھرا کر دیتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14937]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7209، م: 1383
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7209، م: 1383
حدیث نمبر: 14938 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا سَقَطَتْ مِنْ أَحَدِكُمْ لُقْمَةٌ، فَلْيُمِطْ مَا أَصَابَهَا مِنَ الْأَذَى، وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ، وَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ بِالْمِنْدِيلِ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِهِ الْبَرَكَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو اسے چاہیے کہ اس پر لگنے والی تکلیف دہ چیز کو ہٹا کر اسے کھالے اسے شیطان کے لئے نہ چھوڑے اور اپنا ہاتھ تو لیے سے نہ پوچھے اور انگلیاں چاٹ لے کیونکہ اسے معلوم نہیں ہے کہ اس کے کھانے کے کسی حصے میں برکت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14938]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2033
الحكم: إسناده صحيح، م: 2033
حدیث نمبر: 14939 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ عَرْشَ إِبْلِيسَ عَلَى الْبَحْرِ، فَيَبْعَثُ سَرَايَاهُ، فَأَعْظَمُهُمْ عِنْدَهُ أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ابلیس پانی پر اپنا تخت بچھاتا ہے پھر اپنے لشکر روانہ کرتا ہے ان میں سب سے زیادہ قرب شیطانی وہ پاتا ہے جو سب سے بڑا فتنہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14939]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2813
الحكم: إسناده صحيح، م: 2813
حدیث نمبر: 14940 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ إِبْلِيسَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يَعْبُدَهُ الْمُصَلُّونَ، وَلَكِنْ فِي التَّحْرِيشِ بَيْنَهُمْ"، حَدَّثَنَاه وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: شیطان اس بات سے مایوس ہو گیا ہے کہ اب نمازی دوبارہ اس کی پوجا کر سکیں گے البتہ وہ ان کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کے درپے ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14940]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2812، وقد صرح أبو الزبير بالسماع فيما سيأتي برقم: 15118
الحكم: إسناده صحيح، م: 2812، وقد صرح أبو الزبير بالسماع فيما سيأتي برقم: 15118
حدیث نمبر: 14941 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُبْعَثُ كُلُّ عَبْدٍ عَلَى مَا مَاتَ عَلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص جس حال میں فوت ہو گا اللہ اسے اسی حال میں اٹھائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14941]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، م: 2878
الحكم: إسناده قوي، م: 2878
حدیث نمبر: 14942 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي الزُّبَيْرِيَّ ، مَعْقِلٌ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ الْجَزَرِيَّ ، عَطَاءٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي الزُّبَيْرِيَّ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ الْجَزَرِيَّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَّاجًا، لَا نُرِيدُ إِلَّا الْحَجَّ، وَلَا نَنْوِي غَيْرَهُ، حَتَّى إِذَا بَلَغْنَا سَرِفَ حَاضَتْ عَائِشَةُ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَبْكِي، فَقَالَ:" مَا لَكِ تَبْكِينَ؟"، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَابَنِي الْأَذَى، قَالَ:" إِنَّمَا أَنْتِ مِنْ بَنَاتِ آدَمَ، يُصِيبُكِ مَا يُصِيبُهُنَّ"، قَالَ: وَقَدِمْنَا الْكَعْبَةَ فِي أَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ أَيَّامًا أَوْ لَيَالِيَ، فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا، فَأَحْلَلْنَا الْإِحْلَالَ كُلَّهُ، قَالَ: فَتَذَاكَرْنَا بَيْنَنَا، فَقُلْنَا: خَرَجْنَا حُجَّاجًا، لَا نُرِيدُ إِلَّا الْحَجَّ، وَلَا نَنْوِي غَيْرَهُ، حَتَّى إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَاتٍ إِلَّا أَرْبَعَةُ أَيَّامٍ أَوْ لَيَالٍ، خَرَجْنَا إِلَى عَرَفَاتٍ، وَمَذَاكِيرُنَا تَقْطُرُ الْمَنِيَّ مِنَ النِّسَاءِ! قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ خَطِيبًا، فَقَالَ:" أَلَا إِنَّ الْعُمْرَةَ قَدْ دَخَلَتْ فِي الْحَجِّ، وَلَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ، مَا سُقْتُ الْهَدْيَ، وَلَوْلَا الْهَدْيُ لَأَحْلَلْتُ، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحِلَّ"، فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، خَبِّرْنَا خَبَرَ قَوْمٍ كَأَنَّمَا وُلِدُوا الْيَوْمَ، أَلِعَامِنَا هَذَا، أَمْ لِلْأَبَدِ؟، قَالَ:" لَا، بَلْ لِلْأَبَدِ"، قَالَ: فَأَتَيْنَا عَرَفَاتٍ وَانْصَرَفْنَا مِنْهَا، ثُمَّ إِنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي، قَدْ اعْتَمَرُوا!، قَالَ:" إِنَّ لَكِ مِثْلَ مَا لَهُمْ"، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي، فَوَقَفَ بِأَعْلَى وَادِي مَكَّةَ، وَأَمَرَ أَخَاهَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَأَرْدَفَهَا حَتَّى بَلَغَتِ التَّنْعِيمَ، ثُمَّ أَقْبَلَتْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حج کے ارادے سے روانہ ہوئے حج کے علاوہ ہمارا کوئی ارادہ نہ تھا مقام سرف میں پہنچے تو سیدنا عائشہ کو ایام آ گئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سیدنا عائشہ کے پاس تشریف لائے تو وہ رو رہی تھیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے رونے کی وجہ پوچھی تو وہ کہنے لگی کہ میں اس بات پر رو رہی ہوں کہ مجھے ایام شروع ہو گئے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ایسی چیز ہے جو اللہ نے آدم کی ساری بیٹیوں کے لئے لکھ دی ہے۔ ہم لوگ چار ذی الحجہ کو مکہ مکر مہ پہنچے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر مکمل حلال ہو گئے کچھ لوگ کہنے لگے کہ ہم تو صرف حج کے ارادے سے نکلے تھے حج کے علاوہ ہمارا کوئی ارادہ نہ تھا جب ہمارے اور عرفات کے درمیان چار دن رہ گئے تو یہ حکم آگیا اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ہم عرفات کی طرف روانہ ہوں تو ہماری شرمگاہوں سے ناپاک قطرات ٹپک رہے ہوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے اگر میرے سامنے وہ بات پہلے ہی آجاتی جو بعد میں آئی ہے تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ ہدی کا جانور نہ ہوتا تو میں بھی حلال ہو جاتا اس لئے جس کے پاس ہدی نہ ہو وہ حلال ہو جائے۔ اور سراقہ بن مالک جمرہ عقبہ کی رمی کے وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! یہ حکم اس سال کے لئے خاص ہے یا ہمیشہ کے لئے فرمایا: ہمیشہ کے لئے یہی حکم ہے پھر ہم عرفات پہنچے وہاں سے واپسی ہوئی تو سیدنا عائشہ کہنے لگیں کہ یا رسول اللہ! آپ لوگ حج اور عمرے کے ساتھ روانہ ہوں اور میں صرف حج کے ساتھ۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے بھائی عبدالرحمن کو حکم دیا کہ وہ انہیں تنعیم لے جائیں چنانچہ سیدنا عائشہ نے حج کے بعد ذی الحجہ میں ہی عمرہ کیا اور تنعیم سے عمرہ کر کے واپس آگئیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14942]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد جيد، خ: 1651
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد جيد، خ: 1651
حدیث نمبر: 14943 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَخَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ صُبَيْحٍ ، عَطَاءٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَخَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ صُبَيْحٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُبْحَ أَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ كُلُّنَا، فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ، وَصَلَّيْنَا الرَّكْعَتَيْنِ، وَسَعَيْنَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ أَمَرَنَا فَقَصَّرْنَا، ثُمَّ قَالَ:" أَحِلُّوا"، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حِلُّ مَاذَا؟، قَالَ:" حِلُّ مَا يَحِلُّ لِلْحَلَالِ مِنَ النِّسَاءِ وَالطِّيبِ"، قَالَ: فَغُشِيَتِ النِّسَاءُ، وَسَطَعَتِ الْمَجَامِرُ، قَالَ خَلَفٌ: وَبَلَغَهُ أَنَّ بَعْضَهُمْ يَقُولُ: يَنْطَلِقُ أَحَدُنَا إِلَى مِنًى وَذَكَرُهُ يَقْطُرُ مَنِيًّا! قَالَ: فَخَطَبَهُمْ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنِّي لَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ، وَلَوْ لَمْ أَسُقِ الْهَدْيَ لَأَحْلَلْتُ، أَلَا فَخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ"، قَالَ: فَقَامَ الْقَوْمُ بِحِلِّهِمْ، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ، وَأَرَادُوا التَّوَجُّهَ إِلَى مِنًى، أَهَلُّوا بِالْحَجِّ، قَالَ: فَكَانَ الْهَدْيُ عَلَى مَنْ وَجَدَ، وَالصِّيَامُ عَلَى مَنْ لَمْ يَجِدْ، وَأَشْرَكَ بَيْنَهُمْ فِي هَدْيِهِمْ الْجَزُورَ بَيْنَ سَبْعَةٍ، وَالْبَقَرَةَ بَيْنَ سَبْعَةٍ، وَكَانَ طَوَافُهُمْ بِالْبَيْتِ وَسَعْيُهُمْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِحَجِّهِمْ وَعُمْرَتِهِمْ طَوَافًا وَاحِدًا، وَسَعْيًا وَاحِدًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حج کے ارادے سے روانہ ہوئے ہم لوگ چارذی الحجہ کو مکہ مکر مہ پہنچے بیت اللہ کا طواف دوگانہ طواف اور صفاومروہ کے درمیان سعی کی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر ہم نے بال چھوٹے کر وا لئے پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: حلال ہو جاؤ ہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! کس طرح فرمایا: جس طرح ایک غیر محرم کے لئے عورت خوشبو حلال ہو جاتی ہے چنانچہ لوگوں نے اپنے عورتوں سے خلوت کی اور انگھٹیاں خوشبو اڑانے لگیں کچھ لوگ کہنے لگے کہ ہم تو صرف حج کے ارادے سے نکلے تھے حج کے علاوہ ہمارا کوئی ارادہ نہ تھا جب ہمارے اور عرفات کے درمیان چار دن رہ گئے تو یہ حکم آگیا کہ اس کا مطلب ہے کہ جب ہم عرفات کی طرف روانہ ہوں تو ہماری شرمگاہوں سے ناپاک قطرے ٹپک رہے ہوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے اگر میرے سامنے بات پہلے ہی سے آجاتی تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ ہدی کا جانور نہ ہوتا تو میں بھی حلال ہو جاتا اس لئے جس کے پاس ہدی نہ ہو وہ حلال ہو جائے مجھ سے مناسک حج سیکھ لو پھر لوگوں کو غیر محرم ہو نے کی حالت میں ہی رہنے دیا یہاں تک کہ جب آٹھ ذی الحجہ کی تاریخ آئی اور منیٰ کی طرف روانگی کا حکم ہوا تو انہوں نے حج کا احرام باندھا اس سفر میں جس کے پاس ہدی کا جانور موجود تھا اس پر قربانی رہی اور جس کے پاس نہیں تھا اس پر روزے رہے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک اونٹ اور ایک گائے میں سات آدمیوں کو شریک کرایا اور یاد رہے کہ حج اور عمرے کے لئے انہوں نے بیت اللہ کا طواف بھی ایک ہی مرتبہ کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی بھی ایک مرتبہ ہی کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14943]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: طوافا واحدا، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل الربيع بن صبيح، فإنه يعتبر به
الحكم: حديث صحيح دون قوله: طوافا واحدا، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل الربيع بن صبيح، فإنه يعتبر به
حدیث نمبر: 14944 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، قَطَنٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا قَطَنٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَحْسِبُ إِلَّا أَنَّنَا حُجَّاجًا، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ نُودِيَ فِينَا:" مَنْ كَانَ مِنْكُمْ لَيْسَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحِلَّ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُقِمْ عَلَى إِحْرَامِهِ"، قَالَ: فَأَحَلَّ النَّاسُ بِعُمْرَةٍ، إِلَّا مَنْ كَانَ سَاقَ الْهَدْيَ، قَالَ: وَبَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ مِائَةُ بَدَنَةٍ، وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ، فَقَالَ لَهُ:" بِأَيِّ شَيْءٍ أَهْلَلْتَ؟"، قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُهِلُّ بِمَا أَهَلَّ بِهِ نَبِيُّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَعْطَاهُ نَيِّفًا عَلَى الثَّلَاثِينَ مِنَ الْبُدْنِ، قَالَ: ثُمَّ بَقِيَا عَلَى إِحْرَامِهِمَا حَتَّى بَلَغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے ہم یہی سمجھ رہے تھے کہ ہم حج کرنے جارہے ہیں جب ہم مکہ مکر مہ پہنچے تو وہاں اعلان ہو گیا کہ تم میں سے جس کے پاس ہدی کا جانور نہ ہواسے چاہیے کہ احرام کھول دے اور جس کے پاس ہدی کا جانور ہواسے اپنے احرام پر باقی رہنا چاہیے چنانچہ لوگ عمرہ کر کے احرام سے فارغ ہو گئے الاّ یہ کہ کسی کے پاس ہدی کا جانور ہو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی حالت احرام میں ہی رہے آپ کے پاس اونٹ سو تھے ادھر سیدنا علی بھی یمن سے آئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تم نے کس نیت سے احرام باندھا انہوں نے عرض کیا: کہ میں نے یہ نیت کی تھی کہ اے اللہ میں وہی احرام باندھتاہوں جو آپ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے باندھا ہے اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں تیس سے زائد اونٹ دیئے اور وہ دونوں حالت احرام میں ہی رہے یہاں تک کہ ہدی کا جانور اپنے ٹھکانہ تک پہنچ گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14944]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وقطن هذا لم نتبينه، ولعله محرف عن فطر وهو ابن خليفة - فإن كان كذلك فهو تحريف قديم، لكن للحديث طرق أخرى يصح بها، وانظر: 14116 و 14409
الحكم: حديث صحيح، وقطن هذا لم نتبينه، ولعله محرف عن فطر وهو ابن خليفة - فإن كان كذلك فهو تحريف قديم، لكن للحديث طرق أخرى يصح بها، وانظر: 14116 و 14409
حدیث نمبر: 14945 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" النَّاسُ مَعَادِنُ، فَخِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: لوگ مختلف کانوں کی طرح ہیں چنانچہ ان میں سے جو زمانہ جاہلیت میں بہترین تھے وہ زمانہ اسلام میں بھی بہترین ہیں جب کہ علم دین کی سمجھ بوجھ پیدا کر لیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14945]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وقد صرح أبو الزبير بالسماع فيما يأتي برقم: 15112، وله شاهد من حديث أبى هريرة فى الصحيحين ، سلف برقم: 7496
الحكم: إسناده صحيح، وقد صرح أبو الزبير بالسماع فيما يأتي برقم: 15112، وله شاهد من حديث أبى هريرة فى الصحيحين ، سلف برقم: 7496
حدیث نمبر: 14946 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ، وَأَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ، وَأَرَاهُمْ مِثْلَ حَصَا الْخَذْفِ، وَأَمَرَهُمْ بِالسَّكِينَةِ، وَقَالَ:" لِتَأْخُذْ أُمَّتِي مَنَاسِكَهَا، فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَلْقَاهُمْ بَعْدَ عَامِي هَذَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روانہ تو سکون کے ساتھ ہوئے لیکن وادی محسر میں اپنی سواری کی رفتار کو تیز کر دیا اور انہیں ٹھیکر ی جیسی کنکر یاں دکھا کر سکون وقار سے چلنے کا حکم دیا اور میری امت کو مناسک حج سیکھ لینے چاہئیں کیونکہ ہو سکتا ہے میں آئندہ سال ان سے نہ مل سکوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14946]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1297
الحكم: إسناده صحيح، م: 1297
حدیث نمبر: 14947 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، ابْنُ مُبَارَكٍ ، عُتْبَةَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، حُصَيْنٍ ، أَبِي الْمُصَبِّحِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي الْمُصَبِّحِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَهُمَا حَرَامٌ عَلَى النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اللہ کے راستہ میں جس شخص کے پاؤں غبارآلود ہوئے ہوں وہ آگ پر حرام ہو جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14947]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حصين بن حرملة المهري، وله شاهد من حديث أبى عبس عند البخاري: 907
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حصين بن حرملة المهري، وله شاهد من حديث أبى عبس عند البخاري: 907
حدیث نمبر: 14948 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ الْوَرَّاقُ أَبُو إِسْحَاقَ ، يَعْقُوبُ ، عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ الْوَرَّاقُ أَبُو إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَتَى ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْزِلِي شَاسِعٌ، وَأَنَا مَكْفُوفُ الْبَصَرِ، وَأَنَا أَسْمَعُ الْأَذَانَ، قَالَ:" فَإِنْ سَمِعْتَ الْأَذَانَ، فَأَجِبْ، وَلَوْ حَبْوًا أَوْ زَحْفًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں سیدنا ابن ام مکتوم آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! میرا گھر دور ہے مجھے کچھ دکھائی نہیں دیتا البتہ اذان کی آواز ضرور سنتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم اذان کی آواز سنتے ہو تو اس کی پکار پر لبیک ضرور کہا کر و خواہ تمہیں گھٹنوں کے بل ہی گھس کر ہی آنا پڑے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14948]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عيسي بن جارية ، قال ابن معين: ليس بذاك ، عنده مناكير ، وقال أبوداود: منكر الحديث، وذكره ابن حبان فى الثقات، وقال الحافظ : فيه لين، ويعقوب القمي، قال الحافظ : صدوق يهم، وفي الباب عن أبى هريرة عند مسلم: 653 أتى النبى صلى الله عليه و آله وسلم رجل أعمى
الحكم: إسناده ضعيف، عيسي بن جارية ، قال ابن معين: ليس بذاك ، عنده مناكير ، وقال أبوداود: منكر الحديث، وذكره ابن حبان فى الثقات، وقال الحافظ : فيه لين، ويعقوب القمي، قال الحافظ : صدوق يهم، وفي الباب عن أبى هر
حدیث نمبر: 14949 مسند احمد
أَبُو الْجَوَّابِ ، عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: جَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا لَيْلَةً، حَتَّى ذَهَبَ نِصْفُ اللَّيْلِ، أَوْ بَلَغَ ذَلِكَ، ثُمَّ خَرَجَ، فَقَالَ:" قَدْ صَلَّى النَّاسُ وَرَقَدُوا، وَأَنْتُمْ تَنْتَظِرُونَ هَذِهِ الصَّلَاةَ، أَمَا إِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی لشکر کو تیار کر رہے تھے اس کام میں آدھی رات گزر گئی پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ لوگوں نے نماز پڑھی اور سو گئے اور تم مسلسل نماز میں ہی رہے جتنی دیر تک تم نے نماز کا انتظار کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14949]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 14950 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، شَرِيكٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَرَادَ أَنْ يَصُومَ، فَلْيَتَسَحَّرْ بِشَيْءٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص روزہ رکھنا چاہے اسے کسی چیز سے سحری کر لینی چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14950]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ، وعبدالله بن محمد بن عقيل ضعيف، وكلاهما يعتبر به
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ، وعبدالله بن محمد بن عقيل ضعيف، وكلاهما يعتبر به
حدیث نمبر: 14951 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْشِيَ أَحَدُنَا فِي النَّعْلِ الْوَاحِدَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ انسان صرف ایک جوتی پہن کر چلے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14951]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، م: 2099، وهذا إسناد قوي
الحكم: حديث صحيح ، م: 2099، وهذا إسناد قوي