بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 14937
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 14937
حدیث نمبر: 14937 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو نُعَيْمٍ ، سُفْيَانُ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: بَايِعْنِي عَلَى الْإِسْلَامِ، فَبَايَعَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ، ثُمَّ جَاءَ مِنَ الْغَدِ مَحْمُومًا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقِلْنِي، فَأَبَى، ثُمَّ جَاءَ مِنَ الْغَدِ مَحْمُومًا، فَقَالَ: أَقِلْنِي، فَأَبَى، فَلَمَّا وَلَّى، قَالَ:" الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ، تَنْفِي خَبَثَهَا، وَتَنْصَعُ طَيِّبَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کے دست مبارک پر بیعت کر لی کچھ عرصے میں اسے بہت تیز بخار تھا وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میری بیعت فسخ کر دیجیے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انکار کر دیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا چوتھی مرتبہ وہ نہ آیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے معلوم کیا تو صحابہ نے بتایا کہ وہ مدینہ منورہ سے چلا گیا ہے اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ بھٹی کی طرح ہے جو میل کچیل کو دور کر دیتا ہے اور عمدہ چیز کو چمکدار اور صاف ستھرا کر دیتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14937]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7209، م: 1383
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7209، م: 1383
← پچھلی حدیث (14936) باب پر واپس اگلی حدیث (14938) →