أَبُو الْجَوَّابِ ، عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: جَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا لَيْلَةً، حَتَّى ذَهَبَ نِصْفُ اللَّيْلِ، أَوْ بَلَغَ ذَلِكَ، ثُمَّ خَرَجَ، فَقَالَ:" قَدْ صَلَّى النَّاسُ وَرَقَدُوا، وَأَنْتُمْ تَنْتَظِرُونَ هَذِهِ الصَّلَاةَ، أَمَا إِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی لشکر کو تیار کر رہے تھے اس کام میں آدھی رات گزر گئی پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ لوگوں نے نماز پڑھی اور سو گئے اور تم مسلسل نماز میں ہی رہے جتنی دیر تک تم نے نماز کا انتظار کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14949]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي