بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 14 از 60
حدیث نمبر: 14372 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عن الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ، يَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (اپنے وصال سے چند دن یا ایک ماہ قبل) فرمایا تھا کہ آج جو شخص زندہ ہے سو سال نہیں گزرنے پائیں گے کہ وہ زندہ رہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14372]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، م: 2538
الحكم: إسناده قوي، م: 2538
حدیث نمبر: 14373 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، بَعْضُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا بَعْضُ أَصْحَابِنَا، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ مَاتَ عَلَى شَيْءٍ بَعَثَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص جس حال میں فوت ہو گا، اللہ اسے اسی حال میں اٹھائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14373]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2878، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن الأعمش، لكن هذا المبهم قد توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 2878، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن الأعمش، لكن هذا المبهم قد توبع
حدیث نمبر: 14374 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الزُّبَيْرُ ابْنُ عَمَّتِي، وَحَوَارِيَّ مِنْ أُمَّتِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: زبیر میری پھوپھی کے بیٹے اور میری امت میں سے میرے حواری ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14374]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر: 14297
الحكم: إسناده صحيح، وانظر: 14297
حدیث نمبر: 14375 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، هِشَامٌ ، وَهْبَ بْنَ كَيْسَانَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ هِشَامٌ : وَحَدَّثْتُ بِهِ وَهْبَ بْنَ كَيْسَانَ ، فَقَالَ: أَشْهَدُ عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ لَحَدَّثَنِي، قَالَ: اشْتَدَّ الْأَمْرُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا رَجُلٌ يَأْتِينَا بِخَبَرِ بَنِي قُرَيْظَةَ؟" فَانْطَلَقَ الزُّبَيْرُ، فَجَاءَ بِخَبَرِهِمْ، ثُمَّ اشْتَدَّ الْأَمْرُ أَيْضًا، فَذَكَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا، وَابْنُ الزُّبَيْرِ حَوَارِيَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ خندق کے دن لوگوں کو (دشمن کی خبر لانے کے لئے) تین مرتبہ ترغیب دی اور تینوں مرتبہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو اس خدمت کے لئے پیش کیا، جس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرے حواری زبیر ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14375]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2847 م: 2415
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2847 م: 2415
حدیث نمبر: 14376 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ، فَأْذَنْ لِي فِي أَنْ أَتَعَجَّلَ إِلَى أَهْلِي، قَالَ:" أَفَتَزَوَّجْتَ"، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا"، قَالَ: قُلْتُ: ثَيِّبًا، قَالَ:" فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ؟"، قَالَ: قُلْتُ: إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ هَلَكَ وَتَرَكَ عَلَيَّ جَوَارِيَ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَضُمَّ إِلَيْهِنَّ مِثْلَهُنَّ، فَقَالَ:" لَا تَأْتِ أَهْلَكَ طُرُوقًا"، قَالَ: وَكُنْتُ عَلَى جَمَلٍ، فَاعْتَلَّ، قَالَ: فَلَحِقَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا فِي آخِرِ النَّاسِ، قَالَ: فَقَالَ:" مَا لَكَ يَا جَابِرُ؟" قَالَ: قُلْتُ: اعْتَلَّ بَعِيرِي، قَالَ: فَأَخَذَ بِذَنَبِهِ، ثُمَّ زَجَرَهُ، قَالَ: فَمَا زِلْتُ إِنَّمَا أَنَا فِي أَوَّلِ النَّاسِ يَهُمُّنِي رَأْسُهُ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا فَعَلَ الْجَمَلُ؟"، قُلْتُ: هُوَ ذَا، قَالَ:" فَبِعْنِيهِ" قُلْتُ: لَا، بَلْ هُوَ لَكَ، قَالَ:" بِعْنِيهِ" قَالَ: قُلْتُ: هُوَ لَكَ، قَالَ:" لَا، قَدْ أَخَذْتُهُ بِأُوقِيَّةٍ، ارْكَبْهُ، فَإِذَا قَدِمْتَ، فَأْتِنَا بِهِ"، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، جِئْتُ بِهِ فَقَالَ:" يَا بِلَالُ، زِنْ لَهُ وُقِيَّةً، وَزِدْهُ قِيرَاطًا"، قَالَ: قُلْتُ: هَذَا قِيرَاطٌ زَادَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا يُفَارِقُنِي أَبَدًا حَتَّى أَمُوتَ، قَالَ: فَجَعَلْتُهُ فِي كِيسٍ، فَلَمْ يَزَلْ عِنْدِي حَتَّى جَاءَ أَهْلُ الشَّامِ يَوْمَ الْحَرَّةِ، فَأَخَذُوهُ فِيمَا أَخَذُوا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ کسی سفر میں تھا، جب ہم مدینہ منورہ پہنچے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری نئی نئی شادی ہوئی ہے، آپ مجھے جلدی گھر جانے کی اجازت دے دیں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم نے شادی کر لی؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! پوچھا کہ کنواری سے یا شوہر دیدہ سے؟ میں نے عرض کیا: شوہر دیدہ سے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ کنواری سے نکاح کیوں نہ کیا کہ تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی۔ میں نے عرض کیا کہ والد صاحب شہید ہو گئے اور مجھ پر چھوٹی بہنوں کی ذمہ داری آ پڑی، میں نے ان پر ان جیسی ہی کسی ناسمجھ کو لانا مناسب نہ سمجھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بلا اطلاع رات کو اپنے اہل خانہ کے پاس واپس نہ جاؤ۔ میں جس اونٹ پر سوار تھا وہ انتہائی تھکا ہوا تھا جس کی وجہ سے میں سب سے پیچھے تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جابر کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا کہ میرا اونٹ تھکا ہوا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی دم سے پکڑ کر اسے ڈانٹ پلائی، اس کے بعد میں سب سے آگے نکل گیا، مدینہ منورہ کے قریب پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: اونٹ کا کیا بنا؟ میں نے عرض کیا: وہ یہ رہا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اسے مجھے بیچ دو، میں نے عرض کیا کہ یہ آپ ہی کا ہے، دو مرتبہ اسی طرح ہوا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اسے ایک اوقیہ چاندی کے عوض خرید لیا، تم اس پر سواری کرو، مدینہ پہنچ کر اسے ہمارے پاس لے آنا، مدینہ پہنچ کر میں اس اونٹ کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ بلال! اسے ایک اوقیہ وزن کر کے دے دو اور ایک قیراط زائد دے دینا، میں نے سوچا کہ یہ ایک قیراط جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے زائد دیا ہے، مرتے دم تک میں اپنے سے جدا نہ کروں گا، چنانچہ میں نے اسے ایک تھیلی میں رکھ دیا اور وہ ہمیشہ میرے پاس رہا۔ تاآنکہ حرہ کے دن اہل شام اسے لے گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14376]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2718، م: 715
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2718، م: 715
حدیث نمبر: 14377 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ إِبْلِيسَ يَضَعُ عَرْشَهُ عَلَى الْمَاءِ، ثُمَّ يَبْعَثُ سَرَايَاهُ، فَأَدْنَاهُمْ مِنْهُ مَنْزِلَةً أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً، يَجِيءُ أَحَدُهُمْ، فَيَقُولُ: فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا، فَيَقُولُ: مَا صَنَعْتَ شَيْئًا، قَالَ: وَيَجِيءُ أَحَدُهُمْ، فَيَقُولُ: مَا تَرَكْتُهُ حَتَّى فَرَّقْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَهْلِهِ، قَالَ: فَيُدْنِيهِ مِنْهُ أَوْ قَالَ: فَيَلْتَزِمُهُ، وَيَقُولُ: نِعْمَ، أنتَ أَنْتَ قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ مَرَّةً:" فَيُدْنِيهِ مِنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ابلیس پانی پر اپنا تخت بچھاتا ہے، پھر اپنے لشکر کو روانہ کرتا ہے، ان میں سب سے زیادہ قرب شیطانی وہ پاتا ہے جو سب سے بڑا فتنہ ہو، ان میں سے ایک آ کر کہتا ہے کہ میں نے ایسا ایسا کر دیا، ابلیس کہتا ہے کہ تو نے کچھ نہیں کیا، دوسرا آ کر کہتا ہے کہ میں نے فلاں شخص کو اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان تفریق نہ کرا دی، ابلیس اسے اپنے قریب کرتا ہے اور کہتا ہے کہ تو نے سب سے بڑا کارنامہ سرانجام دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14377]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، م: 2813
الحكم: إسناده قوي، م: 2813
حدیث نمبر: 14378 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، قَالَ فَهَبَّتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ، فَقَالَ:" هَذِهِ لِمَوْتِ مُنَافِقٍ"، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ إِذَا هُوَ قَدْ مَاتَ مُنَافِقٌ عَظِيمٌ مِنْ عُظَمَاءِ الْمُنَافِقِينَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سفر میں تھے کہ اچانک تیز ہوا چلنے لگی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ کسی منافق کی موت کی علامت ہے، چنانچہ جب ہم مدینہ منورہ واپس آئے تو پتہ چلا کہ واقعی منافقین کا ایک بہت بڑا سرغنہ مرگیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14378]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2782، وهذا إسناد قوي كسابقه
الحكم: حديث صحيح، م: 2782، وهذا إسناد قوي كسابقه
حدیث نمبر: 14379 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ طَبِيبًا، فَقَطَعَ لَهُ عِرْقًا، ثُمَّ كَوَاهُ عَلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک طبیب سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، اس نے ان کی بازو کی رگ کو کاٹا پھر اس کو داغ کر دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14379]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، م: 2207
الحكم: إسناده قوي، م: 2207
حدیث نمبر: 14380 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ بِالْحَجِّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر حج کا احرام باندھا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14380]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، خ: 1651
الحكم: إسناده قوي، خ: 1651
حدیث نمبر: 14381 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ خَشِيَ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، فَلْيُوتِرْ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ، ثمَّ لْيَرْقُدْ، ومَن طَمعَ منكم في أنْ يقومَ مِن آخرِ اللَّيلِ فَلْيُوتِرْ مِن آخرِ اللَّيلِ، فَإِنَّ قِرَاءَةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَحْضُورَةٌ، وَذَلِكَ أَفْضَلُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے جس شخص کا غالب گمان یہ ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں بیدار نہ ہو سکے گا تو اسے رات کے اول حصے میں ہی وتر پڑھ لینے چاہیئں اور جسے آخر رات میں جاگنے کا غالب گمان ہو تو اسے آخری حصے میں ہی وتر پڑھ لینے چاہیئں، کیونکہ رات کے آخری حصے میں نماز کے وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ افضل طریقہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14381]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 755، وهذا إسناد قوي
الحكم: حديث صحيح، م: 755، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 14382 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ . ح وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّقَى، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ: فَأَتَاهُ خَالِي وَكَانَ يَرْقِي مِنَ الْعَقْرَبِ، قَالَ: فَجَاءَ آلُ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ قَدْ كَانَتْ عِنْدَنَا رُقْيَةٌ نَرْقِي بِهَا مِنَ الْعَقْرَبِ، وَإِنَّكَ نَهَيْتَ عَنِ الرُّقَى، قَالَ: فَعَرَضُوهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ:" مَا أَرَى بَأْسًا، مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَنْفَعْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منتر کے ذریعے علاج سے منع فرمایا ہے، دوسری سند سے یہ اضافہ ہے کہ میرے ماموں بچھو کے ڈنگ کا منتر کے ذریعے علاج کرتے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منتر اور جھاڑ پھونک کی ممانعت فرما دی تو آل عمرو بن حزم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے، یا رسول اللہ! آپ نے جھاڑ پھونک سے منع فرما دیا ہے اور میں بچھو کے ڈنگ کا جھاڑ پھونک کے ذریعے علاج کرتا ہوں؟ اور اسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے، جو شخص اپنے بھائی کو نفع پہنچا سکتا ہو، اسے ایسا ہی کرنا چاہیئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14382]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، م: 2199
الحكم: إسناده قوي، م: 2199
حدیث نمبر: 14383 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْتُ الْبَارِحَةَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ، كَأَنَّ عُنُقِي ضُرِبَتْ، فَسَقَطَ رَأْسِي فَاتَّبَعْتُهُ، فَأَخَذْتُهُ، فَأَعَدْتُهُ مَكَانَهُ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا لَعِبَ الشَّيْطَانُ بِأَحَدِكُمْ، فَلَا يُحَدِّثَنَّ بِهِ النَّاسَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ آج رات میں نے ایک خواب دیکھا، مجھے ایسا محسوس ہوا کہ گویا میری گردن مار دی گئی ہے، میرا سر الگ ہو گیا ہو، میں اس کے پیچھے گیا اور اس کو پکڑ کر اس کی جگہ پر واپس رکھ دیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم شیطان کے کھیل تماشوں کو (جو وہ تمہارے ساتھ کھیلتا ہے) دوسروں کے سامنے مت بیان کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14383]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 2268
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 2268
حدیث نمبر: 14384 مسند احمد
أَبَو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبَو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَعْتَدِلْ، وَلَا يَفْتَرِشْ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص سجدہ کرے تو اعتدال برقرار رکھے اور اپنے بازؤ کتے کی طرح نہ بچھائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14384]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 14385 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ المعنى، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَ ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ: دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ بِصَبِيٍّ يَسِيلُ مَنْخِرَاهُ دَمًا، قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ فِي حَدِيثِهِ: وَعِنْدَهَا صَبِيٌّ يَثْعَبُ مَنْخِرَاهُ دَمًا، قَالَ: فَقَالَ:" مَا لِهَذَا؟"، قَالَ: فَقَالُوا بِهِ: الْعُذْرَةُ، قَالَ: فَقَالَ:" عَلَامَ تُعَذِّبْنَ أَوْلَادَكُنَّ، إِنَّمَا يَكْفِي إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَأْخُذَ قُسْطًا هِنْدِيًّا فَتَحُكَّهُ بِمَاءٍ سَبْعَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ تُوجِرَهُ إِيَّاهُ"، قَالَ ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ، ثُمَّ تُسْعِطَهُ إِيَّاهُ، فَفَعَلُوا فَبَرَأَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے، اس وقت ان کے پاس ایک بچہ تھا جس کے دونوں نتھنوں سے خون جاری تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ اس بچے کو کیا ہوا؟ انہوں نے فرمایا کہ اس کے گلے آئے ہوئے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے بچوں کو عذاب میں کیوں مبتلا کرتی ہو؟ تمہارے لئے تو یہی کافی ہے کہ قسط ہندی لے کر اسے پانی میں سات مرتبہ گھولو اور اس کے گلے میں ٹپکا دو، انہوں نے ایسا کر کے دیکھا تو بچہ واقعی ٹھیک ہو گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14385]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 14386 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ . ح وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِثَلَاثٍ:" أَلَا لَا يَمُوتَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ بِاللَّهِ الظَّنَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو وصال سے تین دن پہلے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جس شخص کو بھی موت آئے، وہ اس حال میں ہو کہ وہ اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھتا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14386]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 2877
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 2877
حدیث نمبر: 14387 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ ذَكَرٍ وَلَا أُنْثَى، إِلَّا وَعَلَى رَأْسِهِ جَرِيرٌ مَعْقُودٌ ثَلَاثَ عُقَدٍ، حِينَ يَرْقُدُ، فَإِنْ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ تَعَالَى، انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِذَا قَامَ فَتَوَضَّأَ، انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، انْحَلَّتْ عُقَدُهُ كُلُّهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو مرد عورت بھی سوئے، اس کے سر پر تین گرہیں لگا دی جاتی ہیں، اگر وہ جاگنے کے بعد اللہ کا ذکر کر لے تو ایک گرہ کھول دی جاتی ہے، کھڑے ہو کر وضو کر لے تو دوسری گرہ بھی کھل جاتی ہے اور اگر کھڑے ہو کر نماز بھی پڑھ لے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14387]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 14388 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ، فَلْيَأْخُذْهَا، فَلْيُمِطْ مَا بِهَا مِنَ الْأَذَى، وَلْيَأْكُلْهَا، وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو اسے چاہئے کہ اس پر لگنے والی تکلیف دہ چیز کو ہٹا کر اسے کھا لے اور اسے شیطان کے لئے نہ چھوڑے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14388]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، م: 2033
الحكم: إسناده قوي، م: 2033
حدیث نمبر: 14389 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الِاثْنَيْنِ، وَطَعَامُ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الْأَرْبَعَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک آدمی کا کھانا دو آدمیوں کو، دو کا کھانا چار کو، چار کا کھانا آٹھ آدمیوں کو کافی ہو جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14389]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 2059
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 2059
حدیث نمبر: 14390 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا طَعِمَ أَحَدُكُمْ، فَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ حَتَّى يَمَصَّهَا، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامٍ يُبَارَكُ لَهُ فِيهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو جب تک اپنی انگلیاں نہ چاٹ لے اپنے تو لئے سے ہاتھ صاف نہ کرے، کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14390]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، م: 2033
الحكم: إسناده قوي، م: 2033
حدیث نمبر: 14391 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا حَضَرَ أَحَدُكُمْ الصَّلَاةَ فِي مَسْجِدٍ، فَلْيَجْعَلْ لِبَيْتِهِ نَصِيبًا مِنْ صَلَاتِهِ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَاعِلٌ فِي بَيْتِهِ مِنْ صَلَاتِهِ خَيْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے آئے، تو اسے اپنے گھر کے لئے بھی نماز کا کچھ حصہ رکھنا چاہئے، کیونکہ اللہ اس کی نماز کی برکت سے اس کے گھر میں خیروبرکت کا نزول فرما دیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14391]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي