أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ المعنى، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَ ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ: دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ بِصَبِيٍّ يَسِيلُ مَنْخِرَاهُ دَمًا، قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ فِي حَدِيثِهِ: وَعِنْدَهَا صَبِيٌّ يَثْعَبُ مَنْخِرَاهُ دَمًا، قَالَ: فَقَالَ:" مَا لِهَذَا؟"، قَالَ: فَقَالُوا بِهِ: الْعُذْرَةُ، قَالَ: فَقَالَ:" عَلَامَ تُعَذِّبْنَ أَوْلَادَكُنَّ، إِنَّمَا يَكْفِي إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَأْخُذَ قُسْطًا هِنْدِيًّا فَتَحُكَّهُ بِمَاءٍ سَبْعَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ تُوجِرَهُ إِيَّاهُ"، قَالَ ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ، ثُمَّ تُسْعِطَهُ إِيَّاهُ، فَفَعَلُوا فَبَرَأَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے، اس وقت ان کے پاس ایک بچہ تھا جس کے دونوں نتھنوں سے خون جاری تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ اس بچے کو کیا ہوا؟ انہوں نے فرمایا کہ اس کے گلے آئے ہوئے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے بچوں کو عذاب میں کیوں مبتلا کرتی ہو؟ تمہارے لئے تو یہی کافی ہے کہ قسط ہندی لے کر اسے پانی میں سات مرتبہ گھولو اور اس کے گلے میں ٹپکا دو، انہوں نے ایسا کر کے دیکھا تو بچہ واقعی ٹھیک ہو گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14385]
الحكم: إسناده قوي