أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ، فَأْذَنْ لِي فِي أَنْ أَتَعَجَّلَ إِلَى أَهْلِي، قَالَ:" أَفَتَزَوَّجْتَ"، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا"، قَالَ: قُلْتُ: ثَيِّبًا، قَالَ:" فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ؟"، قَالَ: قُلْتُ: إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ هَلَكَ وَتَرَكَ عَلَيَّ جَوَارِيَ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَضُمَّ إِلَيْهِنَّ مِثْلَهُنَّ، فَقَالَ:" لَا تَأْتِ أَهْلَكَ طُرُوقًا"، قَالَ: وَكُنْتُ عَلَى جَمَلٍ، فَاعْتَلَّ، قَالَ: فَلَحِقَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا فِي آخِرِ النَّاسِ، قَالَ: فَقَالَ:" مَا لَكَ يَا جَابِرُ؟" قَالَ: قُلْتُ: اعْتَلَّ بَعِيرِي، قَالَ: فَأَخَذَ بِذَنَبِهِ، ثُمَّ زَجَرَهُ، قَالَ: فَمَا زِلْتُ إِنَّمَا أَنَا فِي أَوَّلِ النَّاسِ يَهُمُّنِي رَأْسُهُ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا فَعَلَ الْجَمَلُ؟"، قُلْتُ: هُوَ ذَا، قَالَ:" فَبِعْنِيهِ" قُلْتُ: لَا، بَلْ هُوَ لَكَ، قَالَ:" بِعْنِيهِ" قَالَ: قُلْتُ: هُوَ لَكَ، قَالَ:" لَا، قَدْ أَخَذْتُهُ بِأُوقِيَّةٍ، ارْكَبْهُ، فَإِذَا قَدِمْتَ، فَأْتِنَا بِهِ"، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، جِئْتُ بِهِ فَقَالَ:" يَا بِلَالُ، زِنْ لَهُ وُقِيَّةً، وَزِدْهُ قِيرَاطًا"، قَالَ: قُلْتُ: هَذَا قِيرَاطٌ زَادَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا يُفَارِقُنِي أَبَدًا حَتَّى أَمُوتَ، قَالَ: فَجَعَلْتُهُ فِي كِيسٍ، فَلَمْ يَزَلْ عِنْدِي حَتَّى جَاءَ أَهْلُ الشَّامِ يَوْمَ الْحَرَّةِ، فَأَخَذُوهُ فِيمَا أَخَذُوا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ کسی سفر میں تھا، جب ہم مدینہ منورہ پہنچے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری نئی نئی شادی ہوئی ہے، آپ مجھے جلدی گھر جانے کی اجازت دے دیں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم نے شادی کر لی؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! پوچھا کہ کنواری سے یا شوہر دیدہ سے؟ میں نے عرض کیا: شوہر دیدہ سے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ کنواری سے نکاح کیوں نہ کیا کہ تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی۔ میں نے عرض کیا کہ والد صاحب شہید ہو گئے اور مجھ پر چھوٹی بہنوں کی ذمہ داری آ پڑی، میں نے ان پر ان جیسی ہی کسی ناسمجھ کو لانا مناسب نہ سمجھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”بلا اطلاع رات کو اپنے اہل خانہ کے پاس واپس نہ جاؤ۔“ میں جس اونٹ پر سوار تھا وہ انتہائی تھکا ہوا تھا جس کی وجہ سے میں سب سے پیچھے تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جابر کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا کہ میرا اونٹ تھکا ہوا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی دم سے پکڑ کر اسے ڈانٹ پلائی، اس کے بعد میں سب سے آگے نکل گیا، مدینہ منورہ کے قریب پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: ا”ونٹ کا کیا بنا؟“ میں نے عرض کیا: وہ یہ رہا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اسے مجھے بیچ دو، میں نے عرض کیا کہ یہ آپ ہی کا ہے، دو مرتبہ اسی طرح ہوا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اسے ایک اوقیہ چاندی کے عوض خرید لیا، تم اس پر سواری کرو، مدینہ پہنچ کر اسے ہمارے پاس لے آنا، مدینہ پہنچ کر میں اس اونٹ کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ بلال! اسے ایک اوقیہ وزن کر کے دے دو اور ایک قیراط زائد دے دینا، میں نے سوچا کہ یہ ایک قیراط جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے زائد دیا ہے، مرتے دم تک میں اپنے سے جدا نہ کروں گا، چنانچہ میں نے اسے ایک تھیلی میں رکھ دیا اور وہ ہمیشہ میرے پاس رہا۔ تاآنکہ حرہ کے دن اہل شام اسے لے گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14376]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2718، م: 715
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2718، م: 715