أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ إِبْلِيسَ يَضَعُ عَرْشَهُ عَلَى الْمَاءِ، ثُمَّ يَبْعَثُ سَرَايَاهُ، فَأَدْنَاهُمْ مِنْهُ مَنْزِلَةً أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً، يَجِيءُ أَحَدُهُمْ، فَيَقُولُ: فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا، فَيَقُولُ: مَا صَنَعْتَ شَيْئًا، قَالَ: وَيَجِيءُ أَحَدُهُمْ، فَيَقُولُ: مَا تَرَكْتُهُ حَتَّى فَرَّقْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَهْلِهِ، قَالَ: فَيُدْنِيهِ مِنْهُ أَوْ قَالَ: فَيَلْتَزِمُهُ، وَيَقُولُ: نِعْمَ، أنتَ أَنْتَ قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ مَرَّةً:" فَيُدْنِيهِ مِنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ابلیس پانی پر اپنا تخت بچھاتا ہے، پھر اپنے لشکر کو روانہ کرتا ہے، ان میں سب سے زیادہ قرب شیطانی وہ پاتا ہے جو سب سے بڑا فتنہ ہو، ان میں سے ایک آ کر کہتا ہے کہ میں نے ایسا ایسا کر دیا، ابلیس کہتا ہے کہ تو نے کچھ نہیں کیا، دوسرا آ کر کہتا ہے کہ میں نے فلاں شخص کو اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان تفریق نہ کرا دی، ابلیس اسے اپنے قریب کرتا ہے اور کہتا ہے کہ تو نے سب سے بڑا کارنامہ سرانجام دیا۔“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14377]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، م: 2813
الحكم: إسناده قوي، م: 2813