بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 40 از 60
حدیث نمبر: 14892 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، الْمُفَضَّلُ ، يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَرْهَدٍ ، جَابِرٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَرْهَدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا يَقُولُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ مَنْ بَقِيَ مَعَكَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: بَقِيَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، وَسَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ، فَقَالَ رَجُلٌ: أَمَّا سَلَمَةُ، فَقَدْ ارْتَدَّ عَنْ هِجْرَتِهِ، فَقَالَ جَابِرٌ : لَا تَقُلْ ذَلِكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِأَسْلَمَ:" ابْدُوا يَا أَسْلَمُ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنَّا نَخَافُ أَنْ نَرْتَدَّ بَعْدَ هِجْرَتِنَا؟، فَقَالَ:" إِنَّكُمْ أَنْتُمْ تُهَاجِرُونَ حَيْثُ كُنْتُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عمرو بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ میں آپ کے ساتھ اب کون باقی بچا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ سیدنا انس اور سلمہ بن اکوع بچے ہیں اس شخص نے کہا کہ سیدنا سلمہ تو ہجرت کے بعد مرتد ہو گئے تھے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ایسا مت کہو کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو قبیلہ اسلم کے لئے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے قبیلہ اسلم اپنے آپ کو ظاہر کر و انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں اندیشہ ہے کہ کہیں ہم ہجرت کے بعد واپس ہو جائیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم جہاں بھی رہو گے مہاجر ہی رہو گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14892]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن عبدالله بن الحصين وشيخه عمر ، كلاهما فى عداد المجهولين، وانظر قول ابن الأكوع للحجاج عند ما قال له الحجاج: ارتددت على عقبك، تعربت؟ فى البخاري: 7087، ومسلم: 1862: لا، ولكن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم أذن لي فى البدو
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن عبدالله بن الحصين وشيخه عمر ، كلاهما فى عداد المجهولين، وانظر قول ابن الأكوع للحجاج عند ما قال له الحجاج: ارتددت على عقبك، تعربت؟ فى البخاري: 7087، ومسلم: 1862: لا،
حدیث نمبر: 14893 مسند احمد
سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: شَهِدْتُ الْأَضْحَى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُصَلَّى، فَلَمَّا قَضَى خُطْبَتَهُ، أَتَى بِكَبْشٍ، فَذَبَحَهُ بِيَدِهِ، وَقَالَ:" بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ، اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا عَنِّي، وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ عیدالاضحی کی نماز پڑھی ہے نماز اور خطبہ سے فراغت کے بعد ایک مینڈھا لایا گیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے ذبح کرتے ہوئے بسم اللہ اللہ اکبر کہا اور فرمایا: اے اللہ یہ میری طرف سے ہے اور میری امت کے تمام ان لوگوں کے لئے جو قربانی نہیں کر سکتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14893]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، إن صح سماع المطلب بن عبدالله بن جابر، وانظر: 14837
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، إن صح سماع المطلب بن عبدالله بن جابر، وانظر: 14837
حدیث نمبر: 14894 مسند احمد
سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، الْمُطَّلِبِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنِ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ قُتَيْبَةُ فِي حَدِيثِهِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" صَيْدُ الْبَرِّ لَكُمْ حَلَالٌ قَالَ سَعِيدٌ: وَأَنْتُمْ حُرُمٌ، مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَدْ لَكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارے لئے خشکی کا شکار حلال ہے بشرطیکہ کہ تم خود شکار نہ کر و اسے تمہاری خاطر شکار نہ کیا گیا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14894]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، إن صح سماع المطلب بن عبدالله من جابر ، وقد اختلف على عمرو فى إسناد هذا الحديث
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، إن صح سماع المطلب بن عبدالله من جابر ، وقد اختلف على عمرو فى إسناد هذا الحديث
حدیث نمبر: 14895 مسند احمد
قُتَيْبَةُ ، يَعْقُوبُ ، عَمْرٍو ، الْمُطَّلِبِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَضْحَى بِالْمُصَلَّى، فَلَمَّا قَضَى خُطْبَتَهُ، نَزَلَ مِنْ مِنْبَرِهِ، وَأَتَى بِكَبْشٍ، فَذَبَحَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، وَقَالَ:" بِسْمِ اللَّهِ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، هَذَا عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ عیدالاضحی کی نماز پڑھی ہے نماز اور خطبہ سے فراغت کے بعد ایک مینڈھا لایا گیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے ذبح کرتے ہوئے بسم اللہ اللہ اکبر کہا اور فرمایا: اے اللہ یہ میری طرف سے ہے اور میری امت کے تمام ان لوگوں کے لئے جو قربانی نہیں کر سکتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14895]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، إن صح سماع المطلب بن عبدالله بن جابر، وانظر : 14837
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، إن صح سماع المطلب بن عبدالله بن جابر، وانظر : 14837
حدیث نمبر: 14896 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرٍ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، قَالَ: فَاسْتَأْذَنْتُ أَتَعَجَّلُ، قُلْتُ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ، قَالَ:" ثَيِّبًا أَمْ بِكْرًا؟"، قَالَ: قُلْتُ: ثَيِّبًا، قَالَ:" فَأَلَّا كَانَتْ بِكْرًا تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ؟"، قَالَ:" انْطَلِقْ وَاعْمَلْ عَمَلًا كَيِّسًا"، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَعْنِي لَا تَطْرُقْهُنَّ لَيْلًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی غزوے میں تھے میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جلدی جانے کی اجازت مانگی اور عرض کیا: کہ میری شادی ہو گئی ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ کنواری سے یا شوہر دیدہ سے میں نے عرض کیا: شوہر دیدہ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ کنواری سے نکاح کیوں نہ کیا کہ تم اس سے کھیلتے؟ اور وہ تم سے کھیلتی پھر فرمایا کہ جاؤ اور اپنی بیوی سے قربت کر و۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14896]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، وانظر: 14132 و 14184
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، وانظر: 14132 و 14184
حدیث نمبر: 14897 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْشِيَ أَحَدُنَا فِي النَّعْلِ الْوَاحِدَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ انسان صرف ایک جوتی پہن کر چلے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14897]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2099
الحكم: إسناده صحيح، م: 2099
حدیث نمبر: 14898 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ ، عَطَاءٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" احْبِسُوا صِبْيَانَكُمْ حَتَّى تَذْهَبَ فَوْعَةُ الْعِشَاءِ، فَإِنَّهَا سَاعَةٌ تَخْتَرِقُ فِيهَا الشَّيَاطِينُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب سورج غروب ہو جائے تو رات کی سیاہی دور ہو نے تک اپنے جانوروں اور اپنے بچوں کو گھر سے باہر نہ نکلنے دیا کر و کیونکہ جب سورج غروب ہوتا ہے تو رات کی سیاہی دور ہو نے تک شیاطین اترتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14898]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 3280، م: 2012، وانظر: 14342
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 3280، م: 2012، وانظر: 14342
حدیث نمبر: 14899 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُغْلِقَ الْأَبْوَابَ، وَأَنْ نُوكِئَ الْأَسْقِيَةَ، وَأَنْ نُطْفِئَ الْمَصَابِيحَ، وَأَنْ نَكُفَّ فَوَاشِيَنَا، حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ، وَنَهَانَا أَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ بِشِمَالِهِ، وَأَنْ يَمْشِيَ فِي النَّعْلِ الْوَاحِدَةِ، وَعَنِ الصَّمَّاءِ، وَالِاحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ دروازے بند کر دیا کر یں مشکیزوں کا منہ باندھ دیآ کر یں اور رات کی سیاہی دور ہو نے تک بچوں کو روک کر رکھا کر یں اور اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص بائیں ہاتھ سے کھانا نہ کھائے ایک جوتی پہن کر چلے نہ ایک کپڑے میں جسم لپیٹے یا گوٹ مار کر بیٹھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14899]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2099
الحكم: إسناده صحيح، م: 2099
حدیث نمبر: 14900 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ ، عَطَاءٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَلَمَّا طُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اجْعَلُوهَا عُمْرَةً، إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ"، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ طَافُوا وَلَمْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چار ذی الحجہ کو مکہ مکر مہ پہنچے جب ہم بیت اللہ کا طواف اور سعی کر چکے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے عمرہ کا احرام قرار دے کر حلال ہو جائیں البتہ جن کے پاس ہدی کا جانور ہو وہ ایسا نہ کر یں جب آٹھ ذی الحجہ ہوئی تو لوگوں نے حج کا احرام باندھ لیا اور دس ذی الحجہ کو صرف طواف زیارت کیا صفامروہ کے درمیان سعی نہیں کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14900]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، والأسانيد التى جاء فيها: أن النبى صلى الله عليه و آله وسلم طاف طوافين، أصح وأثبت، وانظر: 14943
الحكم: إسناده صحيح، والأسانيد التى جاء فيها: أن النبى صلى الله عليه وسلم طاف طوافين، أصح وأثبت، وانظر: 14943
حدیث نمبر: 14901 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَعَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَدِّدُوا، وَقَارِبُوا، وَلَنْ يُنْجِيَ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ"، قُلْنَا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ:" وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قریب قریب رہا کر و اور صحیح بات کیا کر و کیونکہ تم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں ہے جسے اس کے اعمال بچاسکیں صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ کو بھی نہیں فرمایا کہ مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت میں ڈھانپ لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14901]
حکم دارالسلام
إسناد أبى هريرة صحيح، وإسناد جابر قوي، م: 2817
الحكم: إسناد أبى هريرة صحيح، وإسناد جابر قوي، م: 2817
حدیث نمبر: 14902 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: ذَبَحْنَا يَوْمَ خَيْبَرَ الْخَيْلَ، وَالْبِغَالَ، وَالْحَمِيرَ" فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِغَالِ وَالْحَمِيرِ، وَلَمْ يَنْهَ عَنِ الْخَيْلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے غزوہ خیبر کے زمانے میں گھوڑوں خچروں اور گدھوں کا گوشت کھایا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خچروں اور پالتو گدھوں سے منع فرمایا ہے لیکن گھوڑوں سے منع نہیں فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14902]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14903 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِجَابِرٍ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، قَالَ: وَقَدْ أَعْيَا بَعِيرِي، فَقَالَ:" مَا شَأْنُكَ يَا جَابِرُ؟"، فَقُلْتُ: بَعِيرِي قَدْ رَزَمَ، قَالَ: فَأَتَاهُ مِنْ قِبَلِ عَجُزِهِ، وَقَالَ عَفَّانُ: وَعَجُزُهُ سَوَاءٌ، فَدَعَا وَزَجَرَهُ، قَالَ: فَلَمْ يَزَلْ يَقْدُمُ الْإِبِلَ، قَالَ: فَأَتَى عَلَيْهِ، فَقَالَ:" مَا فَعَلَ الْبَعِيرُ؟"، قُلْتُ: مَا زَالَ يَقْدُمُهَا، قَالَ:" بِكَمْ أَخَذْتَهُ؟"، فَقُلْتُ: بِثَلَاثَةَ عَشَرَ دِينَارًا، قَالَ:" فَبِعْنِي بِالثَّمَنِ، وَلَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ"، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، خَطَمْتُهُ، ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْطَانِي الثَّمَنَ، وَأَعْطَانِي الْبَعِيرَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا اونٹ بیٹھ گیا اور اس نے انہیں تھکا دیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وہاں سے گزر ہوا تو پوچھا: جابر رضی اللہ عنہ کیا ہوا تمہیں انہوں نے ساراماجرا ذکر کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتر کر اونٹ کے پاس آ گئے اور اس اونٹ کو اپنے پاؤں سے ٹھوکر ماری اور اونٹ اچھل کر کھڑا ہو گیا پھر وہ سب سے آگے ہی رہا بعد میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ کہ اونٹ کا کیا بنا انہوں نے عرض کیا: کہ سب سے آگے رہا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ تم نے وہ کتنے کا لیا تھا میں نے عرض کیا: تیرہ دینار کا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اتنی قیمت کے عوض یہ مجھے بیچ دو تمہیں مدینہ تک سوار ہو نے کی اجازت ہے میں نے کہا بہت اچھا مدینہ منورہ پہنچ کر میں نے اس کے منہ میں لگام ڈالی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لے آیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے قیمت بھی دیدی اور اونٹ بھی دے دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14903]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد التيمي، لكنه توبع عند المصنف برقم: 15004 ، وجزمه فى هذه الرواية بأن القصة وقعت فى غزوة تبوك خطأ، والصواب أنها وقعت فى غزوة ذات الرقاع كما برقم: 15026، وانظر التفصيل فى الفتح: 5/ 320، 321
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد التيمي، لكنه توبع عند المصنف برقم: 15004 ، وجزمه فى هذه الرواية بأن القصة وقعت فى غزوة تبوك خطأ، والصواب أنها وقعت فى غزوة ذات الرقاع كما برقم: 15026، وانظر
حدیث نمبر: 14904 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ مکر مہ میں داخل ہوئے تو آپ نے سیاہ عمامہ باندھ رکھا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14904]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر، م: 1358، وسلف عن أنس برقم: 12068 أن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم دخل يوم الفتح مكة وعليه المغفر، وهو متفق عليه، وانظر الفتح: 61/4
الحكم: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر، م: 1358، وسلف عن أنس برقم: 12068 أن رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل يوم الفتح مكة وعليه المغفر، وهو متفق عليه، وانظر الفتح: 61/4
حدیث نمبر: 14905 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَوَى سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ مِنْ رَمْيَتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا سعد بن معاذ کے بازو کی رگ میں ایک تیر لگ گیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں داغ دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14905]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر: 14343
الحكم: إسناده صحيح، وانظر: 14343
حدیث نمبر: 14906 مسند احمد
عَفَّانُ ، يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ، فَقَالَ:" أَصَلَّيْتَ الرَّكْعَتَيْنِ؟"، فَقَالَ: لَا، قَالَ:" فَصَلِّهِمَا"، قَالَ: وَكَانَ جَابِرٌ، يَقُولُ: إِنْ صَلَّى فِي بَيْتِهِ، يُعْجِبُهُ إِذَا دَخَلَ أَنْ يُصَلِّيَهُمَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خطبہ دے رہے تھے اسی دوران ایک آدمی آیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تم نے دو رکعتیں پڑھ لی ہیں اس نے کہا نہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر دو رکعتیں پڑھ لو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے کسی گھر میں یہ دو رکعتیں پڑھ لی ہوں تب بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بات پسند تھی کہ مسجد میں آنے کے بعد بھی یہ دو رکعتیں پڑھ جائیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14906]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 930، م: 875
الحكم: إسناده صحيح، خ: 930، م: 875
حدیث نمبر: 14907 مسند احمد
عَفَّانُ ، يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ، قَالَ: فَجَاءَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ، قَالَ: فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَسَكَتَ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَسَكَتَ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَسَكَتَ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ لَمَّا فَرَغَ:" إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ، إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي"، قَالَ: فَصَلَّى حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بنو مصطلق کی طرف جاتے ہوئے مجھے کسی کام سے بھیجا میں واپس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے میں نے بات کرنا چاہی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا دو مرتبہ اس طرح ہوا پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو قرأت کرتے ہوئے سنا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے سر سے اشارہ فرما رہے تھے نماز سے فراغت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے جس کام کے لئے تمہیں بھیجا تھا اس کا کیا بنا میں نے جواب اس لئے نہیں دیا تھا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14907]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1217، م: 540
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1217، م: 540
حدیث نمبر: 14908 مسند احمد
عَفَّانُ ، يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ مِنْ وَثْءٍ كَانَ بِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حالت احرام میں اپنے کو ل ہے کی ہڈی یا کمر میں موچ آنے کی وجہ سے سینگی لگوائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14908]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، أبو الزبير لم يصرح بسماعه من جابر، وانظر: 14280
الحكم: صحيح لغيره، أبو الزبير لم يصرح بسماعه من جابر، وانظر: 14280
حدیث نمبر: 14909 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَقَقْتُ الْبَابَ، فَقَالَ:" مَنْ هَذَا؟" قُلْتُ: أَنَا، قَالَ:" أَنَا، أَنَا!" كَأَنَّهُ كَرِهَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دروازے پر دستک دے کر میں نے اجازت طلب کی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: کون ہے میں نے کہا میں ہوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں میں لگا رکھی ہے گویا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے ناپسند کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14909]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2250، م: 2155
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2250، م: 2155
حدیث نمبر: 14910 مسند احمد
عَفَّانُ ، سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى عَلَى أَصْحَمَةَ النَّجَاشِيِّ، فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شاہ حبشہ نجاشی اصمحہ کی نماز جنازہ پڑھی اور اس پر چارتکبریں کہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14910]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1334، م: 952
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1334، م: 952
حدیث نمبر: 14911 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، مَطَرٌ ، الْحَسَنَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا مَطَرٌ ، عَنْ رَجُلٍ أَحْسَبُهُ الْحَسَنَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا أُعْفِي مَنْ قَتَلَ بَعْدَ أَخْذِهِ الدِّيَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں اس شخص کو معاف نہیں کر وں گا جو دیت لینے کے بعد بھی قاتل کو قتل کر دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14911]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الحسن البصري لم يسمع من جابر، فهو منقطع، ومطر الوراق ضعفه غير واحد
الحكم: إسناده ضعيف، الحسن البصري لم يسمع من جابر، فهو منقطع، ومطر الوراق ضعفه غير واحد