أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرٍ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، قَالَ: فَاسْتَأْذَنْتُ أَتَعَجَّلُ، قُلْتُ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ، قَالَ:" ثَيِّبًا أَمْ بِكْرًا؟"، قَالَ: قُلْتُ: ثَيِّبًا، قَالَ:" فَأَلَّا كَانَتْ بِكْرًا تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ؟"، قَالَ:" انْطَلِقْ وَاعْمَلْ عَمَلًا كَيِّسًا"، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَعْنِي لَا تَطْرُقْهُنَّ لَيْلًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی غزوے میں تھے میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جلدی جانے کی اجازت مانگی اور عرض کیا: کہ میری شادی ہو گئی ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ کنواری سے یا شوہر دیدہ سے میں نے عرض کیا: شوہر دیدہ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ کنواری سے نکاح کیوں نہ کیا کہ تم اس سے کھیلتے؟ اور وہ تم سے کھیلتی پھر فرمایا کہ جاؤ اور اپنی بیوی سے قربت کر و۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14896]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، وانظر: 14132 و 14184
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، وانظر: 14132 و 14184