بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 36 از 60
حدیث نمبر: 14812 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مِقْسَمٍ ، جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مِقْسَمٍ ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرَّتْ بِنَا جَنَازَةٌ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقُمْنَا مَعَهُ، فَذَهَبْنَا لِنَحْمِلَهَا، إِذَا هِيَ جَنَازَةُ يَهُودِيَّةٍ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا جَنَازَةُ يَهُودِيَّةٍ!، قَالَ:" إِنَّ لِلْمَوْتِ فَزَعًا، فَإِذَا رَأَيْتُمِ الْجِنَازَةَ، فَقُومُوا لَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب سے ایک جنازہ گزرا تو آپ کھڑے ہو گئے ہم بھی کھڑے ہو گئے جب ہم اسے کندھا دینے کے لئے گئے تو پتہ چلا کہ یہ تو ایک یہو دی عورت کا جنازہ ہے اس پر ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو ایک یہو دی عورت کا جنازہ ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: موت کی ایک پریشانی ہو تی ہے لہذاجب تم جنازہ دیکھا کر و تو کھڑے ہو جایا کر و۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14812]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر: 14427
الحكم: إسناده صحيح، وانظر: 14427
حدیث نمبر: 14813 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، عَطَاءٌ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ ، وَقَالَ ابْنُ مُصْعَبٍ: عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كَانَتْ لِرِجَالٍ فُضُولُ أَرَضِينَ، فَكَانُوا يُؤَاجِرُونَهَا عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالنِّصْفِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُمْسِكْ أَرْضَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگوں کے پاس ضرورت سے زائد زمینیں تھیں وہ انہیں تہائی، چوتھائی اور نصف پیدوار کے عوض کرائے پردے دیتے تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کے پاس کوئی زمین ہواسے چاہیے کہ وہ خود اس میں کھیتی باڑی کر ے یا اپنے بھائی کو ہدیہ کے طور پر دیدے ورنہ اپنی زمین اپنے پاس سنبھال کر رکھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14813]
حکم دارالسلام
إسناده من جهة أبى المغيرة الخولاني صحيح، خ: 2340، م: 1536، وأما متابعة محمد بن مصعب القرقساني، فحسن فى المتابعات والشواهد
الحكم: إسناده من جهة أبى المغيرة الخولاني صحيح، خ: 2340، م: 1536، وأما متابعة محمد بن مصعب القرقساني، فحسن فى المتابعات والشواهد
حدیث نمبر: 14814 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، صَفْوَانُ ، مَاعِزٌ التَّمِيمِيُّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، حَدَّثَنَا مَاعِزٌ التَّمِيمِيُّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَرْشُ إِبْلِيسَ عَلَى الْبَحْرِ، يَبْعَثُ سَرَايَاهُ فِي كُلِّ يَوْمٍ يَفْتِنُونَ النَّاسَ، فَأَعْظَمُهُمْ عِنْدَهُ مَنْزِلَةً، أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً لِلنَّاسِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ابلیس پانی پر اپنا تخت بچھاتا ہے پھر اپنے لشکر روانہ کرتا ہے ان میں سب سے زیادہ قرب شیطانی وہ پاتا ہے جو سب سے بڑا فتنہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14814]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2813، وهذا إسناد ضعيف لجهالة ماعز التميمي
الحكم: حديث صحيح، م: 2813، وهذا إسناد ضعيف لجهالة ماعز التميمي
حدیث نمبر: 14815 مسند احمد
الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، مَاعِزٍ التَّمِيمِيِّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ مَاعِزٍ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَأْكُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ؟، قَالَ:" نَعَمْ، وَيَشْرَبُونَ، وَلَا يَبُولُونَ فِيهَا وَلَا يَتَغَوَّطُونَ، وَلَا يَتَنَخَّمُونَ، إِنَّمَا يَكُونُ ذَلِكَ جُشَاءً، وَرَشْحًا كَرَشْحِ الْمِسْكِ، وَيُلْهَمُونَ التَّسْبِيحَ وَالتَّحْمِيدَ كَمَا تُلْهَمُونَ النَّفَسَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جنت میں اہل جنت کھائیں گے لیکن پاخانہ پیشاب کر یں اور نہ ہی ناک صاف کر یں گے یا تھوک پھینکیں گے ان کا کھانا ایک ڈکار سے ہضم ہو جائے اور ان کا پسینہ مشک کی مہک کی طرح ہو گا اور وہ اس طرح تسبیح وتحمید کرتے ہوں گے جیسے بےاختیار سانس لیتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14815]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2835، وهذا إسناد ضعيف لجهالة ماعز التميمي
الحكم: حديث صحيح، م: 2835، وهذا إسناد ضعيف لجهالة ماعز التميمي
حدیث نمبر: 14816 مسند احمد
أَبُو الْيَمَانِ ، صَفْوَانُ ، مَاعِزٍ التَّمِيمِيِّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، عَنْ مَاعِزٍ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ يَئِسَ أَنْ يَعْبُدَهُ الْمُصَلُّونَ، وَلَكِنْ فِي التَّحْرِيشِ بَيْنَهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: شیطان اس بات سے مایوس ہو گیا ہے کہ اب دوبارہ نماز اس کی پوجا کر سکیں گے البتہ وہ ان کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کے درپے ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14816]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2812، وهذا إسناد ضعيف لجهالة ماعز التميمي، وانظر: 14366
الحكم: حديث صحيح، م: 2812، وهذا إسناد ضعيف لجهالة ماعز التميمي، وانظر: 14366
حدیث نمبر: 14817 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ: اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي أَنْتَ وَعَدْتَهُ، إِلَّا حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص مؤذن کی اذان سننے کے بعد یہ دعا کر ے کہ اے اللہ اے اس کامل دعوت اور قائم ہو نے والی نماز کے رب محمد کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما اور انہیں اس مقام تک پہنچادے جس کا تو نے ان سے وعدہ فرمایا: ہوا ہے تو قیامت کے دن اس کے لئے میری شفاعت واجب ہو گئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14817]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 614
الحكم: إسناده صحيح، خ: 614
حدیث نمبر: 14818 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَمِيرًا مِنْ أُمَرَاءِ الْفِتْنَةِ قَدِمَ الْمَدِينَةَ، وَكَانَ قَدْ ذَهَبَ بَصَرُ جَابِرٍ، فَقِيلَ لِجَابِرٍ: لَوْ تَنَحَّيْتَ عَنْهُ، فَخَرَجَ يَمْشِي بَيْنَ ابْنَيْهِ فَنُكِّبَ، فَقَالَ: تَعِسَ مَنْ أَخَافَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ابْنَاهُ، أَوْ أَحَدُهُمَا يَا أَبَتِ، وَكَيْفَ أَخَافَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ مَاتَ؟، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ أَخَافَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ، فَقَدْ أَخَافَ مَا بَيْنَ جَنْبَيَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زید بن اسلم کہتے ہیں کہ ایام فتنہ میں کوئی گورنر مدینہ منورہ آیا اس وقت تک سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی بینائی ختم ہو چکی تھی کسی نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اگر آپ ایک طرف کو ہو جائیں تو اچھا ہے اس پر وہ اپنے دو بیٹوں کے سہارے چلتے ہوئے باہر آئے اور فرمایا: وہ شخص تباہ ہو جائے جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خوفزدہ کرتا ہے ان کے کسی بیٹے نے پوچھا: اباجان نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تو وصال فرما چکے اب انہیں کوئی کیسے ڈرا سکتا ہے انہوں نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو اہل مدینہ کو خوفزدہ کرتا ہے وہ میرے دونوں پہلوؤں کے درمیان کی چیز کو خوفزدہ کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14818]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وفي هذا الإسناد انقطاع، فإن زيد بن أسلم لم يسمع من جابر
الحكم: حديث صحيح، وفي هذا الإسناد انقطاع، فإن زيد بن أسلم لم يسمع من جابر
حدیث نمبر: 14819 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ: بَصَرَ عَيْنِي، وَسَمِعَ أُذُنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعْرَانَةِ، وَفِي ثَوْبِ بِلَالٍ فِضَّةٌ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْبِضُهَا لِلنَّاسِ يُعْطِيهِمْ، فَقَالَ رَجُلٌ: اعْدِلْ، قَالَ:" وَيْلَكَ، وَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَكُنْ أَعْدِلُ"، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دَعْنِي أَقْتُلْ هَذَا الْمُنَافِقَ الْخَبِيثَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ يَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنِّي أَقْتُلُ أَصْحَابِي، إِنَّ هَذَا وَأَصْحَابَهُ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جعرانہ کے سال میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھا آپ اس وقت لوگوں میں چاندی تقسیم کر رہے تھے جو سیدنا بلال کے کپڑے میں پڑی ہوئی تھی ایک آدمی کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! عدل کیجیے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تجھ پر افسوس، اگر میں ہی عدل نہ کر وں گا تو اور کون کر ے گا اگر میں عدل نہ کر وں تو خسارے میں پڑجاؤں سیدنا عمر کہنے لگے یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیجیے کہ اس منافق کی گردن اڑا دوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں کہ لوگ باتیں کرنے لگیں کہ میں اپنے ساتھیوں کو قتل کر وا دیتا ہوں اور یہ اس کے ساتھی قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق کے نیچے سے نہیں اترے گا اور یہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14819]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3138، م: 1063، وهذا إسناد حسن من أجل إسماعيل بن عياش، وانظر ما بعده
الحكم: حديث صحيح، خ: 3138، م: 1063، وهذا إسناد حسن من أجل إسماعيل بن عياش، وانظر ما بعده
حدیث نمبر: 14820 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: لَمَّا قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَ هَوَازِنَ بَيْنَ النَّاسِ بِالْجِعْرَانَةِ، قَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، فَقَالَ: اعْدِلْ يَا مُحَمَّدُ، فَقَالَ:" وَيْلَكَ وَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ؟! لَقَدْ خِبْتُ وَخَسِرْتُ إِنْ لَمْ أَعْدِلْ"، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أَقُومُ فَأَقْتُلَ هَذَا الْمُنَافِقَ؟، قَالَ:" مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ تَتَسَامَعَ الْأُمَمُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ"، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ هَذَا وَأَصْحَابًا لَهُ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ الْمِرْمَاةُ مِنَ الرَّمِيَّةِ"، قَالَ مُعَاذٌ: فَقَالَ لِي أَبُو الزُّبَيْرِ: فَعَرَضْتُ هَذَا الْحَدِيثَ عَلَى الزُّهْرِيِّ، فَمَا خَالَفَنِي، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: النَّضِيَّ، قُلْتُ: الْقِدْحُ؟، فَقَالَ: أَلَسْتَ بِرَجُلٍ عَرَبِيٍّ؟!.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جعرانہ کے سال میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھا آپ اس وقت لوگوں میں چاندی تقسیم کر رہے تھے جو سیدنا بلال کے کپڑے میں پڑی ہوئی تھی ایک آدمی کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! عدل کیجیے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تجھ پر افسوس، اگر میں ہی عدل نہ کر وں گا تو اور کون کر ے گا اگر میں عدل نہ کر وں تو خسارے میں پڑجاؤں سیدنا عمر کہنے لگے یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیجیے کہ اس منافق کی گردن اڑا دوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں کہ لوگ باتیں کرنے لگیں کہ میں اپنے ساتھیوں کو قتل کر وا دیتا ہوں اور یہ اس کے ساتھی قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق کے نیچے سے نہیں اترے گا اور یہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14820]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3138، م: 1063، وهذا إسناد حسن من أجل معاذ بن رفاعة، وانظر ما قبله
الحكم: حديث صحيح، خ: 3138، م: 1063، وهذا إسناد حسن من أجل معاذ بن رفاعة، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 14821 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، الزُّبَيْدِيُّ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَمْرِو بْنِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أُرِيَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ صَالِحٌ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ نِيطَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنِيطَ عُمَرُ بِأَبِي بَكْرٍ، وَنِيطَ عُثْمَانُ بِعُمَرَ"، قَالَ جَابِرٌ: فَلَمَّا قُمْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْنَا: أَمَّا الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَّا ذِكْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَوْطِ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ، فَهُمْ وُلَاةُ هَذَا الْأَمْرِ الَّذِي بَعَثَ اللَّهُ بِهِ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا کہ آج رات ایک نیک آدمی نے خواب میں دیکھا کہ سیدنا ابوبکر کا وزن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کیا گیا پھر سیدنا عمر کا وزن سیدنا ابوبکر کے ساتھ کیا گیا پھر سیدنا عثمان کا سیدنا عمر کے ساتھ، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سے اٹھ کر چلے گئے تو ہم آپس میں یہ کہہ رہے تھے کہ اس نیک آدمی سے مراد تو خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں اور جہاں تک وزن کا معاملہ ہے سو اس سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اس دین کے معاملے کے ذمہ دار ہوں گے جو اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دے کر بھیجا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14821]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر
الحكم: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر
حدیث نمبر: 14822 مسند احمد
هَاشِمٌ ، شُعْبَةُ ، سَيَّارٌ أَبُو الْحَكَمِ ، الشَّعْبِيَّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا سَيَّارٌ أَبُو الْحَكَمِ ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يُحَدِّث، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ لَيْلًا، فَلَا يَأْتِ أَهْلَهُ طُرُوقًا، كَيْ تَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ، وَتَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: جب تم رات کے وقت شہر میں داخل ہو تو بلا اطلاع اپنے گھر مت جاؤ تاکہ شوہر کی غیر موجودگی والی عورت اپنے جسم سے بال صاف کر لے اور پراگندہ حال عورت بناؤ سنگھار کر لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14822]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5246، م: 715
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5246، م: 715
حدیث نمبر: 14823 مسند احمد
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَحُجَيْنٌ قَالَا: حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ، فَبَايَعْنَاهُ، وَعُمَرُ آخِذُ بِيَدِهِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ، وَهِيَ سَمُرَةٌ، وَقَالَ: بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ، وَلَمْ نُبَايِعْهُ عَلَى الْمَوْتِ
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم چودہ سو افراد نے صلح حدیبیہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ببول کے درخت کے نیچے اس بات پر بیعت کی تھی کہ ہم میدان جنگ سے راہ فرار اختیار نہیں کر یں گے موت پر بیعت نہیں کی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14823]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1856
الحكم: إسناده صحيح، م: 1856
حدیث نمبر: 14824 مسند احمد
يُونُسُ ، صَالِحُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ رُومَانَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ رُومَانَ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَوْ أَنَّ رَجُلًا أَعْطَى امْرَأَةً صَدَاقًا مِلْءَ يَدَيْهِ طَعَامًا، كَانَتْ لَهُ حَلَالًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر کوئی آدمی کسی عورت کو دونوں ہاتھ بھر کر آٹا ہی بطور مہر کے دیدے تو وہ اس کے لئے حلال ہو جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14824]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف صالح بن مسلم بن رومان
الحكم: إسناده ضعيف لضعف صالح بن مسلم بن رومان
حدیث نمبر: 14825 مسند احمد
يُونُسُ ، فُلَيْحٌ ، سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ أَوْ ابْنِ أَبِي الْحَارِثِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ أَوْ ابْنِ أَبِي الْحَارِثِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي حَائِطٍ، وَهُوَ يُحَوِّلُ الْمَاءَ، فَقَالَ:" هَلْ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فِي شَنٍّ؟ وَإِلَّا كَرَعْنَا"، قَالَ: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى الْعَرِيشِ، فَحَلَبَ لَهُ شَاةً، ثُمَّ صَبَّ عَلَيْهِ مَاءً بَاتَ فِي شَنٍّ، فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَقَى صَاحِبَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ کسی انصاری کے گھر تشریف لائے اور جا کر سلام کیا اور فرمایا: اگر تمہارے پاس اس برتن میں رات کا بچا ہوا پانی موجود ہے تو ٹھیک ہے ورنہ ہم منہ لگا کر پی لیتے ہیں اس وقت وہ آدمی اپنے باغ کو پانی لگارہا تھا وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہنے لگا کہ میرے پاس رات کا بچا ہوا پانی ہے اور ان دونوں کو لے کر اپنے خیمے کی طرف چل پڑا وہاں پہنچ کر ایک پیالے میں پانی ڈالا اور اس پر بکری کا دودھ دوہا جسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نوش فرمایا: اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد آپ کے ساتھ آنے والے صاحب نے اسے پی لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14825]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5613، وهذا إسناد حسن من أجل فليح بن سليمان الخزاعي
الحكم: حديث صحيح، خ: 5613، وهذا إسناد حسن من أجل فليح بن سليمان الخزاعي
حدیث نمبر: 14826 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، أَيُّوبَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ، جَعَلَ يَقُولُ بِيَدِهِ:" السَّكِينَةَ عِبَادَ اللَّهِ، السَّكِينَةَ عِبَادَ اللَّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب عرفات سے روانہ ہوئے تو اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے فرماتے جارہے تھے اللہ کے بندوں اطمینان سے چلو اللہ کے بندو اطمینان سے چلو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14826]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر: 14553
الحكم: إسناده صحيح، وانظر: 14553
حدیث نمبر: 14827 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَيُّوبَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى عَلَى النَّجَاشِيِّ وَصَفَفْنَا خَلْفَهُ صَفَّيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھائی اور ہم نے ان کے پیچھے صفیں باندھ لیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14827]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1320، م: 952، أبو الزبير لم يصرح بسماعه، لكنه متابع
الحكم: حديث صحيح، خ: 1320، م: 952، أبو الزبير لم يصرح بسماعه، لكنه متابع
حدیث نمبر: 14828 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، قَيْسُ بْنُ سُلَيْمٍ الْعَنْبَرِيُّ ، يَزِيدُ الْفَقِيرُ ، جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ سُلَيْمٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ الْفَقِيرُ ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ قَوْمًا يَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ يَحْتَرِقُونَ فِيهَا إِلَّا دَارَاتِ، وُجُوهِهِمْ حَتَّى يَدْخُلُوا الْجَنَّةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جہنم سے ایک ایسی جماعت نکلے گی جس کے چہرے کی گولائی کے علاوہ سب کچھ جل چکا ہو گا حتی کہ وہ لوگ جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14828]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 191
الحكم: إسناده صحيح، م: 191
حدیث نمبر: 14829 مسند احمد
يُونُسُ ، لَيْثٌ ، يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" غَطُّوا الْإِنَاءَ، وَأَوْكِئُوا السِّقَاءَ، فَإِنَّ فِي السَّنَةِ لَيْلَةً، يَنْزِلُ فِيهَا وَبَاءٌ، لَا يَمُرُّ بِإِنَاءٍ لَمْ يُغَطَّ، وَلَا سِقَاءٍ لَمْ يُوكَ، إِلَّا وَقَعَ فِيهِ مِنْ ذَلِكَ الْوَبَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے برتن ڈھانپ دیا کر و اور مشکیزوں کے منہ باندھ دیا کر و کیونکہ سال میں ایک رات ایسی بھی آتی ہے جس میں وہ بلائیں اترتی ہیں وہ ایسے برتن پر جسے ڈھانپا نہ گیا ہو یا وہ مشکیزہ جس کا منہ باندھا گیا گزرتی ہیں اس میں داخل ہو جاتی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14829]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2014، وانظر: 14434
الحكم: إسناده صحيح، م: 2014، وانظر: 14434
حدیث نمبر: 14830 مسند احمد
يُونُسُ ، لَيْثٌ ، يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ، عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، لَيْثٌ ، يَزِيدُ ، شُرَحْبِيلُ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، أَنَّهُ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَقِلُّوا الْخُرُوجَ بَعْدَ هَدْأَةٍ، فَإِنَّ لِلَّهِ خَلْقًا يَبُثُّهُمْ، فَإِذَا سَمِعْتُمْ نُبَاحَ الْكَلْبِ، أَوْ نُهَاقَ الْحَميرِ، فَاسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ"، وَقَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: قَالَ يَزِيدُ ، وَحَدَّثَنِي هَذَا الْحَدِيثَ شُرَحْبِيلُ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: إِنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب رات ڈھل جائے تو گھر سے کم نکلا کر و کیونکہ رات کے وقت اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو پھیلا دیتا ہے اور جب تم کتے بھونکنے کی آواز یا گدھے کی چلانے کی آواز سنو تو شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ میں آجایا کر و [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14830]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، أما من جهة عمر بن على بن الحسين فمعضل، وأما من جهة شرحبيل بن سعد فضعيف لضعف شرحبيل
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، أما من جهة عمر بن على بن الحسين فمعضل، وأما من جهة شرحبيل بن سعد فضعيف لضعف شرحبيل
حدیث نمبر: 14831 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي الْأَحْمَرَ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي الْأَحْمَرَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ٹھیکر ی کی کنکر یوں سے رمی فرمائی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14831]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1299، وهذا إسناد قوي
الحكم: حديث صحيح، م: 1299، وهذا إسناد قوي