يُونُسُ ، فُلَيْحٌ ، سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ أَوْ ابْنِ أَبِي الْحَارِثِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ أَوْ ابْنِ أَبِي الْحَارِثِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي حَائِطٍ، وَهُوَ يُحَوِّلُ الْمَاءَ، فَقَالَ:" هَلْ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فِي شَنٍّ؟ وَإِلَّا كَرَعْنَا"، قَالَ: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى الْعَرِيشِ، فَحَلَبَ لَهُ شَاةً، ثُمَّ صَبَّ عَلَيْهِ مَاءً بَاتَ فِي شَنٍّ، فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَقَى صَاحِبَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ کسی انصاری کے گھر تشریف لائے اور جا کر سلام کیا اور فرمایا: اگر تمہارے پاس اس برتن میں رات کا بچا ہوا پانی موجود ہے تو ٹھیک ہے ورنہ ہم منہ لگا کر پی لیتے ہیں اس وقت وہ آدمی اپنے باغ کو پانی لگارہا تھا وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہنے لگا کہ میرے پاس رات کا بچا ہوا پانی ہے اور ان دونوں کو لے کر اپنے خیمے کی طرف چل پڑا وہاں پہنچ کر ایک پیالے میں پانی ڈالا اور اس پر بکری کا دودھ دوہا جسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نوش فرمایا: اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد آپ کے ساتھ آنے والے صاحب نے اسے پی لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14825]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5613، وهذا إسناد حسن من أجل فليح بن سليمان الخزاعي
الحكم: حديث صحيح، خ: 5613، وهذا إسناد حسن من أجل فليح بن سليمان الخزاعي