مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، بَنَّةَ الْجُهَنِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَنَّ بَنَّةَ الْجُهَنِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى قَوْمٍ فِي الْمَسْجِدِ، أَوْ فِي الْمَجْلِسِ، يَسُلُّونَ سَيْفًا بَيْنَهُمْ، يَتَعَاطَوْنَهُ بَيْنَهُمْ غَيْرَ مَغْمُودٍ، فَقَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ مَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ، أَوَ لَمْ أَزْجُرْكُمْ عَنْ هَذَا؟ فَإِذَا سَلَلْتُمْ السَّيْفَ، فَلْيَغْمِدْهُ الرَّجُلُ، ثُمَّ لِيُعْطِهِ كَذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے بحوالہ بنہ جہنی مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ما مسجد میں ایک جماعت پر گزر ہوا جنہوں نے تلواریں سونت رکھیں تھیں اور ایک دوسرے سے انہیں نیام میں ڈالے بغیر ہی تبادلہ کر رہے تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو ایسا کرتا ہے اس پر اللہ کی لعنت ہو تی ہے کیا میں نے تمہیں ایسا کرنے سے سختی سے منع نہیں کیا تھا جب تم تلواریں سونتے ہوئے ہو تو نیام میں ڈال کر ایک دوسرے کو دیا کر و۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14742]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، وابن لهيعة- وإن كان سيئ الحفظ - لكن روي عنه هذا الحديث عبدالله بن وهب عند ابن عبدالبر فى الاستيعاب: 1/ 183، 182، وروايته عنه صالحة
الحكم: إسناده حسن، وابن لهيعة- وإن كان سيئ الحفظ - لكن روي عنه هذا الحديث عبدالله بن وهب عند ابن عبدالبر فى الاستيعاب: 1/ 183، 182، وروايته عنه صالحة