بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 32 از 60
حدیث نمبر: 14732 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَنَّ جَابِرًا أخْبَرَهُ: أَنَّهُمْ غَزَوْا غَزْوَةً بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، فَهَاجَتْ عَلَيْهِمْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهَا لِمَوْتِ مُنَافِقٍ"، فَرَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ، فَوَجَدْنَا مُنَافِقًا عَظِيمَ النِّفَاقِ قَدْ مَاتَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مکہ اور مدینہ کے درمیان صحابہ کسی جہاد میں شریک تھے اچانک تیز آندھی آئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ منافق موت کی علامت ہے چنانچہ جب ہم مدینہ منورہ پہنچے تو پتا چلا تو واقعی بہت بڑا منافق مرگیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14732]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2782، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة
الحكم: حديث صحيح، م: 2782، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14733 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا فُتِحَتْ حُنَيْنٌ بَعَثَ سَرَايَا، فَأَتَوْا بِالْإِبِلِ وَالشَّاءِ، فَقَسَموهَا فِي قُرَيْشٍ، قَالَ: فَوَجَدْنَا أَيُّهَا الْأَنْصَارُ عَلَيْهِ، فَبَلَغَهُ ذَلِكَ فَجَمَعَنَا فَخَطَبَنَا، فَقَالَ:" أَلَا تَرْضَوْنَ أَنَّكُمْ أُعْطِيتُمْ رَسُولَ اللَّهِ؟ فَوَاللَّهِ لَوْ سَلَكَتِ النَّاسُ وَادِيًا، وَسَلَكْتُمْ شِعْبًا، لَاتَّبَعْتُ شِعْبَكُمْ"، قَالُوا: رَضِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب حنین میں فتح حاصل کر لی تو آپ نے مختلف دستے روانہ فرمائے وہ اونٹ اور بکریاں لے کر آئے جنہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قریش میں تقسیم کر دیا ہم انصار نے اس بات کو اپنے دل میں محسوس کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پتا چلا تو آپ نے ہمیں جمع کر کے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تمہیں اللہ کے رسول مل جائے واللہ اگر لوگ ایک راستے پر چل رہے ہوں اور تم دوسری گھاٹی میں ہو تو میں تمہاری گھاٹی کو اختیار کر وں گا اس پر وہ کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! ہم راضی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14733]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، يشهد له حديث أنس السالف برقم: 12608
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، يشهد له حديث أنس السالف برقم: 12608
حدیث نمبر: 14734 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الْعَقَبَةِ، قَالَ: شَهِدَهَا سَبْعُونَ، فَوَافَقَهُمِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ آخِذٌ بِيَدِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ أَخَذْتُ وَأَعْطَيْتُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے بیعت عقبہ کے متعلق پوچھا: تو انہوں نے بتایا کہ اس موقع پر ستر آدمی شریک تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اس حال میں تشریف لائے تھے کہ سیدنا عباس نے ان کا ہاتھ تھاما ہوا تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے بیعت لے لی اور وعدہ دے دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14734]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14735 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" سَيَخْرُجُ أَهْلُ مَكَّةَ مِنْهَا، ثُمَّ لَا يَعْمُرُوهَا، أَوْ لَا تُعْمَرُ إِلَّا قَلِيلًا، ثُمَّ تُعْمَرُ، وَتَمْتَلِئُ، وَتُبْنَى، ثُمَّ يَخْرُجُونَ مِنْهَا، فَلَا يَعُودُونَ إِلَيْهَا أَبَدًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے بحوالہ سیدنا عمر سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اہل مکہ (وہاں مکہ) سے نکل جائیں گے پھر دوبارہ اسے آباد نہ کر سکیں گے یا بہت کم آباد کر سکیں گے تو پھر وہاں عمارتیں تعمیر ہو جائیں گے پھر وہ اس سے نکلے گے تو کبھی دوبارہ نہ آسکیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14735]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14736 مسند احمد
مُوسَى ، وَقُتَيْبَةُ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، وَقُتَيْبَةُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَيَسِيرَنَّ رَاكِبٌ فِي جِهَةِ الْمَدِينَةِ"، قَالَ قُتَيْبَةُ: فِي جَانِبِ الْمَدِينَةِ، فَلِيَقُولَنَّ: لَقَدْ كَانَ فِي هَذِهِ مَرَّةً حَاضِرٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ كَثِيرٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک وقت ایسا ضرور آئے گا جب ایک سوار وادی مدینہ کے ایک پہلو میں چل رہا ہو گا اور کہے گا کبھی یہاں بھی بہت سے مومن آباد ہوا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14736]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14737 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَنَّ جَابِرًا ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يَحْمِلُ فِيهَا السِّلَاحَ لِقِتَالٍ"، فَقَالَ قُتَيْبَةُ: يَعْنِي الْمَدِينَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مدینہ منورہ میں کسی کے لئے قتال کی نیت سے اسلحہ اٹھاناجائز اور حلال نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14737]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، م: 1356، لكن جعله في مكة وليس في المدينة
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، م: 1356، لكن جعله في مكة وليس في المدينة
حدیث نمبر: 14738 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْدَى إِلَيْهِ رَاهِبٌ مِنَ الشَّامِ جُبَّةً مِنْ سُنْدُسٍ، فَلَبِسَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَتَى الْبَيْتَ فَوَضَعَهَا، وَأُخْبِرَ بِوَفْدٍ يَأْتِيهِ، فَأَمَرَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَنْ يَلْبَسَ الْجُبَّةَ لِقُدُومِ الْوَفْدِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَصْلُحُ لَنَا لِبَاسُهَا فِي الدُّنْيَا، وَيَصْلُحُ لَنَا لِبَاسُهَا فِي الْآخِرَةِ، وَلَكِنْ خُذْهَا يَا عُمَرُ"، فَقَالَ: أَتَكْرَهُهَا وَآخُذُهَا؟!، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَا آمُرُكَ أَنْ تَلْبَسَهَا، وَلَكِنْ تُرْسِلُ بِهَا إِلَى أَرْضِ فَارِسَ، فَتُصِيبُ بِهَا مَالًا"، فَأَبَى عُمَرُ، فَأَرْسَلَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّجَاشِيِّ، وَكَانَ قَدْ أَحْسَنَ إِلَى مَنْ فَرَّ إِلَيْهِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک راہب نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی جبہ ہدیہ کے طور پر بھیجا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس وقت تو اسے پہن لیا لیکن گھر آ کر اتار دیا پھر کسی وفد کی آمد کا علم ہوا تو سیدنا عمرنے درخواست کی کہ وہ جبہ زیب تن فرمالیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا میں ہمارے لئے ریشمی لباس مناسب نہیں ہے یہ آخرت میں ہمارے لئے مناسب ہو گا البتہ عمر تم اسے لے لو سیدنا عمر کہنے لگے کہ آپ تو اسے ناپسند کر یں اور میں اسے لے لوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں اسے پہننے کا حکم نہیں دے رہا بلکہ اس لئے دے رہاہوں کہ تم اسے سر زمین ایران کی طرف بھیج دو اور اس کے ذریعے مال حاصل کر لو پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود ہی وہ جبہ شاہ نجاشی کو بھجوادیا جس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مہاجر صحابہ کو پناہ دے رکھی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14738]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة
الحكم: إسناده ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14739 مسند احمد
مُوسَى ، وَحَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، وَحَسَنٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ حَسَنٌ فِي حَدِيثِهِ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، وَقَالَ ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرًا عَنْ مِيثَرَةِ الْأُرْجُوَانِ، فَقَالَ جَابِرٌ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا أَرْكَبُهَا، وَلَا أَلْبَسُ قَمِيصًا مَكْفُوفًا بِحَرِيرٍ، وَلَا أَلْبَسُ الْقَسِّيَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سرخ کجاوے کے بارے میں پوچھا: تو انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں اس پر سوار نہیں ہوتا اور میں ایسی قمیض نہیں پہنتا جس کے کف ریشمی ہوں اور نہ ہی ریشمی لباس پہنتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14739]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14740 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ الْبَهْزِيَّةِ أُمِّ مَالِكٍ، كَانَتْ تُهْدِي فِي عُكَّةٍ لَهَا سَمْنًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَيْنَمَا بَنُوهَا يَسْأَلُونَهَا عَنْ إِدَامٍ، وَلَيْسَ عِنْدَهَا شَيْءٌ، فَعَمَدَتْ إِلَى نِحْيِهَا الَّذِي كَانَتْ تُهْدِي فِيهِ السَّمْنَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدَتْ فِيهِ سَمْنًا، فَمَا زَالَ يُقِيمُ لَهَا إِدَامَ بَنِيهَا حَتَّى عَصَرَتْهُ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَعَصَرْتِيهِ؟"، فَقَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ:" لَوْ تَرَكْتِيهِ مَا زَالَ ذَلِكَ مُقِيمًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ام مالک البہزیہ یہ ایک بالٹی میں گھی رکھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ بھیجا کر تی تھی ایک دفعہ اس بچوں نے اس سے سالن مانگا اس وقت اس کے پاس کچھ نہ تھا وہ اٹھ کر اس بالٹی کے پاس گئی جس میں وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گھی بھیجا کر تی تھی دیکھا تو اس میں گھی موجود تھا چنانچہ وہ کافی عرصے تک اپنے بچوں کو دیتی رہی سالن کے طور پر حتی کے ایک دن اسے اس نے نچوڑ لیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آ کر سارا واقعہ بیان کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا تم نے اسے نچوڑ لیا اس نے کہا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم اسے یونہی رہنے دیتیں تو اس میں ہمشیہ گھی رہتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14740]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، قاله أحمد شاكر، م: 2280، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وقد توبع
الحكم: إسناده حسن، قاله أحمد شاكر، م: 2280، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 14741 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ أَتَاهُ رَجُلٌ يَسْتَطْعِمُهُ، فَأَطْعَمَهُ شَطْرَ وَسْقِ شَعِيرٍ، فَمَا زَالَ الرَّجُلُ يَأْكُلُ مِنْهُ هُوَ وَامْرَأَتُهُ وَوَصِيفٌ لَهُمْ، حَتَّى كَالُوهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ لَمْ تَكِيلُوهُ، لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ، وَلَقَامَ لَكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں غلہ طلب کرنے کے لئے حاضر ہوا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے نصف وسق جو عطاء فرمادیئے اس کے بعد وہ آدمی اس کی بیوی اور ان کا ایک بچہ اس میں سے مستقل کھاتے رہے حتی کے ایک دن انہوں نے اسے ناپ لیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم اسے نہ ماپتے تو تم اس سے نکال نکال کر کھاتے رہتے اور یہ تمہارے ساتھ رہتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14741]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، قاله أحمد شاكر، م: 2281، وهذا إسناد ضعيف من أجل أبن لهيعة، وقد توبع
الحكم: إسناده حسن، قاله أحمد شاكر، م: 2281، وهذا إسناد ضعيف من أجل أبن لهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 14742 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، بَنَّةَ الْجُهَنِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَنَّ بَنَّةَ الْجُهَنِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى قَوْمٍ فِي الْمَسْجِدِ، أَوْ فِي الْمَجْلِسِ، يَسُلُّونَ سَيْفًا بَيْنَهُمْ، يَتَعَاطَوْنَهُ بَيْنَهُمْ غَيْرَ مَغْمُودٍ، فَقَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ مَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ، أَوَ لَمْ أَزْجُرْكُمْ عَنْ هَذَا؟ فَإِذَا سَلَلْتُمْ السَّيْفَ، فَلْيَغْمِدْهُ الرَّجُلُ، ثُمَّ لِيُعْطِهِ كَذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے بحوالہ بنہ جہنی مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ما مسجد میں ایک جماعت پر گزر ہوا جنہوں نے تلواریں سونت رکھیں تھیں اور ایک دوسرے سے انہیں نیام میں ڈالے بغیر ہی تبادلہ کر رہے تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو ایسا کرتا ہے اس پر اللہ کی لعنت ہو تی ہے کیا میں نے تمہیں ایسا کرنے سے سختی سے منع نہیں کیا تھا جب تم تلواریں سونتے ہوئے ہو تو نیام میں ڈال کر ایک دوسرے کو دیا کر و۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14742]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، وابن لهيعة- وإن كان سيئ الحفظ - لكن روي عنه هذا الحديث عبدالله بن وهب عند ابن عبدالبر فى الاستيعاب: 1/ 183، 182، وروايته عنه صالحة
الحكم: إسناده حسن، وابن لهيعة- وإن كان سيئ الحفظ - لكن روي عنه هذا الحديث عبدالله بن وهب عند ابن عبدالبر فى الاستيعاب: 1/ 183، 182، وروايته عنه صالحة
حدیث نمبر: 14743 مسند احمد
مُوسَى ، وَحَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، وَحَسَنٌ ، وَاللَّفْظُ لَفْظُ حَسَنٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا : هَلْ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الرَّجُلُ فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرَ الصَّلَاةَ؟"، قَالَ: انْتَظَرْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً لِصَلَاةِ الْعَتَمَةِ، فَاحْتَبَسَ عَلَيْنَا، حَتَّى كَانَ قَرِيبًا مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ، أَوْ بَلَغَ ذَلِكَ، ثُمَّ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّيْنَا، ثُمَّ قَالَ:" اجْلِسُوا"، فَخَطَبَنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَرَقَدُوا، وَأَنْتُمْ لَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمْ الصَّلَاةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انسان جب تک نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے نماز میں ہی شمار ہوتا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ ہم نے نماز عشاء کے لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا انتظار کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نا آئے یہاں تک کہ رات کا ایک حصہ بیت گیا پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے تو ہم نے نماز پڑھی پھر فرمایا کہ بیٹھ جاؤ اور ہمارے سامنے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ لوگوں نے نماز پڑھی اور سوگئے اور تم مسلسل نماز میں ہی رہے یعنی جتنی دیر تم نے نماز کا انتظار کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14743]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14744 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَابِرٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا أَحَدُكُمْ أَعْجَبَتْهُ الْمَرْأَةُ، فَوَقَعَتْ فِي نَفْسِهِ، فَلْيَعْمِدْ إِلَى امْرَأَتِهِ فَلْيُوَاقِعْهَا، فَإِنَّ ذَلِكَ يَرُدُّ مِنْ نَفْسِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کو دیکھے اور وہ اسے اچھی لگے تو اسے چاہئے کہ وہ اپنی بیوی کے پاس چلا جائے کیونکہ اس طرح اسکے دل میں جو خیالات آئیں گے وہ دور ہو جائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14744]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، م: 1403، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن الهيعة، وانظر: 14537
الحكم: صحيح لغيره، م: 1403، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن الهيعة، وانظر: 14537
حدیث نمبر: 14745 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا، عَنِ الرَّجُلِ يُوتِرُ عِشَاءً ثُمَّ يَرْقُدُ، قَالَ جَابِرٌ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ خَافَ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَقُومَ مِنَ اللَّيْلِ، فَلْيُوتِرْ ثُمَّ لِيَرْقُدْ، وَمَنْ طَمِعَ مِنْكُم الْقِيَامَ، فَلْيُوتِرْ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، فَإِنَّ قِرَاءَةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَحْضُورَةٌ، وَذَلِكَ أَفْضَلُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے جس شخص کا غالب گمان یہ ہو کہ رات کے آخری حصے میں بیدار نہ ہو سکے گا تو اسے رات کے اول حصے میں ہی وتر پڑھ لینے چاہئے اور جسے آخر رات میں جاگنے کا غالب گمان ہو تو اسے آخر میں ہی وتر پڑھنے چاہئے کیونکہ رات کے آخری حصے میں نماز کے وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ افضل طریقہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14745]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 755، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
الحكم: حديث صحيح، م: 755، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14746 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ مِنَ اللَّيْلِ سَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ، يَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا، إِلَّا أَعْطَاهُ، وَهِيَ كُلَّ لَيْلَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: روزانہ رات میں ایک ایسی گھڑی ضرور آتی ہے جو اگر کسی بندہ مسلمان کو مل جائے تو وہ اس میں اللہ سے جو دعاء بھی مانگے گا وہ دعاء ضرور قبول ہو گی اور ایسارات میں ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14746]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 757، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة وقد توبع، وفيه عنعنة أبى الزبير وقد توبع أيضا
الحكم: حديث صحيح، م: 757، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة وقد توبع، وفيه عنعنة أبى الزبير وقد توبع أيضا
حدیث نمبر: 14747 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ نُعْمَانَ بْنَ قَوْقَلٍ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" أَرَأَيْتَ إِذَا صَلَّيْتُ الْمَكْتُوبَاتِ، وَصُمْتُ رَمَضَانَ، وَحَرَّمْتُ الْحَرَامَ، وَأَحْلَلْتُ الْحَلَالَ، وَلَمْ أَزِدْ عَلَى ذَلِكَ شَيْئًا، أَفَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ؟، قَالَ:" نَعَمْ"، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا أَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ شَيْئًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نعمان بن قوقل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! اگر میں حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھوں اور فرض نمازیں پڑھ لیا کر وں رمضان کے روزے رکھ لیا کر وں اس سے زائد کچھ نہ کر وں تو کیا میں جنت میں داخل ہو سکتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں تو انہوں نے کہا کہ واللہ میں اپنی طرف سے اس میں کچھ اضافہ نہ کر وں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14747]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 15، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، لكنه متابع، وأبو الزبير لم يصرح بالتحديث، وقد توبع هو أيضا
الحكم: حديث صحيح، م: 15، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، لكنه متابع، وأبو الزبير لم يصرح بالتحديث، وقد توبع هو أيضا
حدیث نمبر: 14748 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ أَشَدَّ النَّاسِ تَخْفِيفًا فِي الصَّلَاةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سب سے ہلکی نماز نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہو تی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14748]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14749 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا :" هَلْ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ؟"، قَالَ: نَعَمْ، زَمَانَ غَزْوِنَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز مغرب اور عشاء کو جمع کیا تھا؟ انہوں نے فرمایا: ہاں جس زمانے میں ہم نے بنو مصطلق سے جہاد کیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14749]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وأنظر: 14274
الحكم: إسناده ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وأنظر: 14274
حدیث نمبر: 14750 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرًا عَنِ التَّصْفِيقِ وَالتَّسْبِيحِ، قَالَ جَابِرٌ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ فِي الصَّلَاةِ، وَالتَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالزبیر نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے تسبیح اور تصفیق کا مسئلہ پوچھا: تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نماز میں سبحان اللہ کہنے کا حکم مردوں کے لئے ہے اور ہلکی آواز میں تالی بجانے کا حکم خواتین کے لئے ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14750]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14751 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ مِرَارٍ قَبْلَ صَلَاةِ الْخَوْفِ، وَكَانَتْ صَلَاةُ الْخَوْفِ فِي السَّنَةِ السَّابِعَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز خوف کا حکم نازل ہو نے سے قبل چھ مرتبہ جہاد کیا تھا نماز خوف کا حکم ساتویں سال میں نازل ہوا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14751]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وفي البخاري: 9125 أن النبى صلى بأصحابه فى الخوف فى غزوة السابعة ، غزوة ذات الرقاع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وفي البخاري: 9125 أن النبى صلى بأصحابه فى الخوف فى غزوة السابعة ، غزوة ذات الرقاع