مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْدَى إِلَيْهِ رَاهِبٌ مِنَ الشَّامِ جُبَّةً مِنْ سُنْدُسٍ، فَلَبِسَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَتَى الْبَيْتَ فَوَضَعَهَا، وَأُخْبِرَ بِوَفْدٍ يَأْتِيهِ، فَأَمَرَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَنْ يَلْبَسَ الْجُبَّةَ لِقُدُومِ الْوَفْدِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَصْلُحُ لَنَا لِبَاسُهَا فِي الدُّنْيَا، وَيَصْلُحُ لَنَا لِبَاسُهَا فِي الْآخِرَةِ، وَلَكِنْ خُذْهَا يَا عُمَرُ"، فَقَالَ: أَتَكْرَهُهَا وَآخُذُهَا؟!، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَا آمُرُكَ أَنْ تَلْبَسَهَا، وَلَكِنْ تُرْسِلُ بِهَا إِلَى أَرْضِ فَارِسَ، فَتُصِيبُ بِهَا مَالًا"، فَأَبَى عُمَرُ، فَأَرْسَلَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّجَاشِيِّ، وَكَانَ قَدْ أَحْسَنَ إِلَى مَنْ فَرَّ إِلَيْهِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک راہب نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی جبہ ہدیہ کے طور پر بھیجا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس وقت تو اسے پہن لیا لیکن گھر آ کر اتار دیا پھر کسی وفد کی آمد کا علم ہوا تو سیدنا عمرنے درخواست کی کہ وہ جبہ زیب تن فرمالیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا میں ہمارے لئے ریشمی لباس مناسب نہیں ہے یہ آخرت میں ہمارے لئے مناسب ہو گا البتہ عمر تم اسے لے لو سیدنا عمر کہنے لگے کہ آپ تو اسے ناپسند کر یں اور میں اسے لے لوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں اسے پہننے کا حکم نہیں دے رہا بلکہ اس لئے دے رہاہوں کہ تم اسے سر زمین ایران کی طرف بھیج دو اور اس کے ذریعے مال حاصل کر لو پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود ہی وہ جبہ شاہ نجاشی کو بھجوادیا جس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مہاجر صحابہ کو پناہ دے رکھی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14738]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة
الحكم: إسناده ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة